ترقی پسند، قوم پرست سیاست کا المیہ

102

بد قسمتی سے مملکت عزیز میں ترقی پسند اور قوم پرست سیاست کو ہمیشہ سے مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ برطانوی نو آبادیاتی دور میں ترقی پسند سیاست کافی موثر رہاہے اور اسی تحریک سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنوں کی جدوجہد کے نتیجے میں نہ صرف سابق برطانوی حکمران ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے بلکہ جنگ عظیم اول کے بعد ان حکمرانوں نے برصغیر میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات پر کام شروع کیا تھا۔ حتیٰ کہ اس خطے میں جمہوری اداروں کے قیام کا صلہ بھی ان برطانوی حکمرانوں کے حصے میں آیا ہے۔ تاہم 1947میں برصغیر کے تقسیم کے بعد رفتہ رفتہ دونوں ہمسایہ ممالک یعنی پاکستان اور ہندوستان میں مترقی اور قوم پرست سیاست کو وہ پزیرائی حاصل نہ ہوئی جو ہونی چاہیے تھی۔ بغاوت میں مترقی سیاست پریقین رکھنے والوں نے کسی نہ کسی طریقے سے اپنے آپ کو پارلیمانی سیاست میں زندہ اور متحرک رکھا ہے مگر پاکستان میں مترقی ذہن رکھنے والے نہ صرف منتشر ہیں بلکہ ان کی آپس کے اختلافات کے باعث آج کل ان کی کوئی بھی تنظیم سیاسی جماعت نہیں ہے۔

آزادی کے بعد چند ایک ایسی سیاسی جماعتیں تھی جن میں مترقی ذہن رکھنے والے کارکن اہم عہدوں پر کام کررہے تھے۔ ان جماعتوں میں مرحوم خان عبدالعفار خان کی خدائی خدمتگار تحریک سرفہرست تھا مگر آزادی کے فوراََ بعد سول ، ملٹری انتظامیہ جیسے حرف عام میں نوکری شاہی کیا جاتاتھا نے سیاسی عمل اور پارلیمانی نظام کو غیر مستحکم بنانے پر توجہ دی۔ اور اسی بنیاد پر آئین ، پارلیمان ، قانون اور عوامی حقوق کی آواز اٹھانے والے سیاسی جماعتوں اورکارکنوں کو دیوار سے لگوادیاگیا۔ 1958 میں باقاعدہ طورپر مارشل لاء کے نظام سے اگر ایک طرف ملک میں صدارتی نظام نافذ کردیا گیا تو دوسری طرف قائد اعظم محمدعلی جناح کی مسلم لیگ کو بھی کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیاگیا۔ اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں سے منسلک متحرک کارکنوں اور عہدیداروں کو بزور شمشیر یا لالچ دیگر حکمران جماعت میں شامل کروادیاگیا۔

1970کے انتخابات نے ملکی سیاست کو ایک اہم کروٹ نصیب کردیا جبکہ مرحوم وزیراعظم شہید ذولفقارعلی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی بھی مترقی ذہن رکھنے والوں کیلئے ایک اہم منزل ثابت ہوا۔ ملک بھر کے چیدہ چیدہ مترقی ذہن رکھنے والے کارکن نہ صرف پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے بلکہ ان میں سے کئی ایک کو پارٹی اور سرکاری عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔ مگر عید کی یہ خوشیاں بھی انتہائی کم اور محدود مدت کیلئے تھی۔ مرحوم ذولفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی پر بھی نوکر شاہی نے اپنی گرفت مضبوط کر ڈالا۔ بالاخر جولائی 1977 میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ملک بھر کے مترقی یعنی سوشلسٹ نظریات رکھنے والوں نے نیشنل پروگرسیو پارٹی کے نام سے ایک نیا سیاسی جماعت بناڈالا۔ا س جماعت کے تشکیل سے قبل مترقی اور سوشلسٹ نظریات رکھنے والے بعض سیاسی جماعتوں سے منسلک تھے۔ ان جماعتوں میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور مزدور کسان پارٹی نمایاں تھے۔ بعد میں نیشنل پروگرسیوں پارٹی کے زیادہ تر رہنمااور عہدیداروں نے میر غوث بحش بزنجو کی جماعت نیشنل پارٹی میں شمولیت احتیار کی۔

1985 میں چار مختلف سیاسی جماعتوں نے ملکر عوامی نیشنل پارٹی بناڈالا۔ ان جماعتوں میں نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی ، پاکستان مزدورکسان پارٹی (افضل بنگش) ، سندھ عوامی تحریک اور نیشنل پارٹی کے پختون رہنمااور کارکن شامل تھے۔ جبکہ اس دوران بلوچستان کے پختون قوم پرست نیپ پختونخوا اور مزدورکسان پارٹی شیر علی باچا نے ملکر پختونخوا ملی عوامی پارٹی تشکیل دیاتھا۔ تاہم ایک مخصوص مدت کیلئے قو م پرست اور مترقی ذہن رکھنے والوں کے ملاپ نے تو فوجی آمر ضیاء الحق اور ان کی حمایت اور وفاداری کرنے والوں کو حیران وپریشان کردیاتھا۔ مگر پڑوسی ملک افغانستان میں سابق سوویت یونین کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کی جنگ کی وجہ سے اے این پی میں شامل جماعتوں اور عہدیداروں کو رفتہ رفتہ علیحٰدگی احتیار کی۔ نیشنل پارٹی کے جس دھڑے نے اے این پی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ بھی مئی 1990 کو قومی انقلابی پارٹی کے شکل میں ایک اور جماعت کے طورپر نمودار ہوا مگر قومی انقلابی پارٹی بالاخر 1992 میں اس وقت ختم ہوئی جب اس میں شامل عہدیداروں اور رہنماؤں نے مرحوم قوم پرست سیاستدان محمد افضل خان عرف خان لالا سے ملکر پختونخوا قومی پارٹی تشکیل دیا۔ بعد میں یہ جماعت بھی دوحصوں میں بٹ گیا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنا ایک علیحٰدہ حیثیت پختون قوم پرست نعرے کے شکل میں قائم رکھا۔

1999 میں پرویز مشرف کے برسراقتدار آنے کے فوراََ بعد عوامی نیشنل پارٹی کے برے دن شروع ہوگئے۔ اس کے سابق سربراہ اور مرحوم خان عبدالولی خان کے بااعتماد ساتھی مرحوم اجمل خٹک بھی پرویز مشرف کے نام نہاد روشن خیالی کے نعرے کے معترف ہوگئے۔ اور یوں اُنہوں نے 1975 میں کالعدم ہونے والی نیشنل عوامی پارٹی کو نیشنل عوامی پارٹی پاکستان کے نام سے قیام کا اعلان کیا۔

مگر 2002 کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد ومتحدہ مجلس عمل کے کامیابی نے ایک بار عوامی نیشنل پارٹی سے علیحٰدگی احتیار کرنیوالوں کو دوبارہ پارٹی میں آنے پر مجبور کردیا۔ اگر ایک طرف واپس آنے والوں کو غلطی کا احساس ہوگیا تھا تو دوسری طرف اندرونی اور بیرونی طورپر مذہبی انتہاپسندی نے نہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کو حیران و پریشان کردیاتھا لہذٰا پاکستان کی نوکر شاہی کو 2008 کے عام انتخابات میں خاموشی تماشاہی کا کردار مجبوراََ ادا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی بلکہ قوم پرست نظریات میں عوامی نیشنل پارٹی کو کامیابی نصیب ہوئی۔ اور ان جماعتوں نے ملکر اپریل 2010 میں1973 کے آئین کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے بحال کردیا جس سے سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ایک بار ناکامی یا مشکلات سامنے آنے کا احساس ہوا اور ابھی تک آئین اور پارلیمانی کی بالادستی کیلئے کاوشیں جاری ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ کو کامیابی اور ناکامی سے دوچار کرنے میں کو ن کیا کردار ادا کرتاہے۔ کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ مترقی ، قوم پرست اور جمہوری ذہن رکھنے والے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمااور کارکن آئین اور پارلیمان کی بالادستی پریقین رکھنے والوں کے کردار کوکسی بھی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس مہینے کے ادائل میں عوامی نیشنل پارٹی نے پارٹی ڈسپلن کے خلاف ورزی کے الزام میں سابق سیکرٹری جنرل اور ان کے ساتھی کی ممبر شپ معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ جس پر ملک بھر میں بیان بازی اور بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہے۔ درحقیقت افراسیاب خٹک ، بشریٰ گوہر اور ان کے بعض ساتھیوں پر یہ الزام لگوایا جارہا ہے کہ وہ جنوری، فروری 2018 میں حادثاتی طور پر بننے والے پختون تحفظ تحریک میں سرگرم ہیں۔ اسی تنظیم سے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف جو مہم چلایا جارہا ہے وہ کسی بھی طور پر سیاسی نہیں ہے۔ حالانکہ ان ریاستی اداروں کے حکمت عملی اور پالیسی پر عوامی نیشنل پارٹی کا موقف عرصہ دراز سے بالکل واضح ہیں۔ افراسیاب خٹک کی اے این پی سے ساتھیوں سمیت علیٰحدہ ہونا کوئی معمولی واقع نہیں ہے بلکہ اس سے ایک بارپھر قوم پرست سیاست کو سخت دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔ جو کسی بھی طور پر پختونوں کیلئے بالخصوص اور ملک کے دیگر چھوٹی قومیتوں کیلئے بالعموم مفید نہیں ہے۔ مترقی ذہن رکھنے والوں کے پے درپے کھلابازیوں سے اگر کسی کو فائدہ ہوا ہے تو وہ مرکزیت کے نام پر چھوٹے صوبوں اور قومیتوں کے حقوق کو عضب کرنے والوں کو ہوا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...