سی پیک پر حملہ

173

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جمعۃ المبارک کے دن کراچی میں چینی قونصل خانے پرحملہ اور لوئر اورکزئی ایجنسی  میں مدرسے کے گیٹ پر خود کش حملہ ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گرد اور عسکریت پسند گروپ ابھی تک بڑے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخواہ صوبے میں دہشت گرد حملے کے لیے جمعہ کا دن منتخب کرتے ہیں تاکہ حملے کی شدت اور نقصان کو بڑھایا جا سکے۔ جمعہ کے اجتماعات میں سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں‘ قبائلی زعما اور دیگر مسلک کے افراد کو نشانہ بنانا تحریک طالبان پاکستان‘ جماعت الاحرار ‘ لشکر جھنگوی اور داعش جیسے گروپوں کا وطیرہ رہا ہے۔ ان میں سے بیشتر گروپ افغانستان میں اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں اور ان کے حملوں کا وقفے وقفے سے جاری رہنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کو سکیورٹی اور سرحدی معاملات میں تعاون کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان امن اور استحکام کے ایکشن پلان پر اتفاق کے باوجود دو طرفہ معاملات میں تعاون زیادہ آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ اگلے ماہ چین، پاکستان اور افغانستان کا سہ فریقی فورم کا اجلاس ہونے جا رہا ہے اور اس اجلاس کی ایک خاص بات یہ ہو گی کہ افغانستان سی پیک میں شمولیت کے لیے ٹھوس تجاویز لے کر آئے گا۔ یہ تجاویز کیا ہونگی اور ان پر اتفاق کس حد تک ممکن ہو گا، اس سے قطع نظر چین کی سہ فریقی مذاکرات اور تعاون میں دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ وہ خطے میں امن اور معاشی تعاون میں کس قدر دلچسپی رکھتا ہے۔ ظاہر ہے یہ افغانستان اور پاکستان میں باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ سی پیک پر حملہ ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی کی طرف سے جو پیغامات جاری کیے گئے ہیں، ان سے بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری پر شدید ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اسے بلوچستان کے وسائل کے استحصال کا منصوبہ سمجھتے ہیں۔

بی ایل اے بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں ملوث ایک متحرک گروپ ہے۔ جو اس سال بائیس ایسے حملے کر چکا ہے۔ زیادہ تر حملے کوئٹہ ،مستونگ اور نصیر آباد کے گردو نواح میں کیے جس میں اس گروپ نے سکیورٹی کے اداروں، سرکاری عمارتوں اور ریلوے ٹریکس اور ٹرینوں کو نشانہ بنایا ۔ اس گروپ نے اس سال پہلی مرتبہ خودکش حملوں کا آغاز کیا۔ اس سال دالبندین میں اگست میں چینی انجینئرز کی بس پر حملہ کسی بھی قوم پرست عسکری گروپ کی طرف سے پہلا خودکش حملہ تھا۔ جسے بڑی حیرت سے دیکھا گیا۔لیکن بی ایل اے کے دالبندین اور کراچی قونصلیٹ حملے نے اس تصور کو زک پہنچائی ہے۔ اگرچہ حالیہ تاریخ میں قوم پرست اور علیحدگی پسند ایسے حملے کرتے رہے ہیں جیسا کہ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز اس حوالے سے معروف رہے ہیں۔ لیکن بی ایل اے کا معاملہ اس لیے مختلف ہے کہ اس نے خودکش جیکٹ کا استعمال شروع کیا ہے جو واضح طور پر لگتا ہے کہ اس نے یہ مذہبی محرک رکھنے والے دہشتگرد گروہوں سے سیکھا ہے۔ اس بارے میں ابھی اختلافات ہیں کہ بی ایل اے کا داعش، القاعدہ ، ٹی ٹی پی یا لشکر جھنگوی سے کسی قسم کا الحاق یا تعاون ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ دہشت گرد گروپ ایک دوسرے کی تکنیک سے سیکھتے ہیں۔ یہ چیز سکیورٹی کے چیلنج کو زیادہ گھمبیر بنا دیتی ہے اور سکیورٹی اداروں کو خطرے کے امکانات کو وسیع کرنا پڑتا ہے۔ بی ایل اے کا دوسرا فدائی طرز کا حملہ اور وہ بھی بلوچستان سے باہر یقیناً سکیورٹی اداروں کے لیے تشویش ناک ہے۔ یہ گروپ بلوچستان کے مخصوص علاقوں تک محدود رہا ہے اور سکیورٹی کے اداروں کے لیے اس کے خلاف آپریشن کرنا قدرے آسان تھا۔ لیکن کراچی میں اس گروپ کی موجودگی خطرے کے پھیلاؤ کا اشارہ دیتی ہے اور ایران کے سکیورٹی گارڈز کے اغوا میں اس کا امکانی ہاتھ یا جند اللہ جیسے گروپ سے تعاون کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں بی ایل اے سی پیک کے خلاف سب سے بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ اس کی پشت پناہی پر کئی بیرونی ہاتھوں کے واضح نشانات ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس گروپ کی تمام کی تمام قیادت پاکستان یا افغانستان میں ہے، دیگر بلوچ عسکری قوم پرست گروپوں کے مقابلے میں یہ گروپ بلوچ شہری علاقوں میں بھی اپنا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم کے اس بیان کا تعلق ہے کہ چینی قونصلیٹ خانے پر حملہ ان کے چین کے دورے کا ردعمل ہے تو اسے ان کی سادگی پر ہی محمول کیا جا سکتا ہے۔ بی ایل اے جیسے گروپ پاکستان میں ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں اور ان کے دورہ سے قبل بھی یہ گروپ چینی مفادات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ البتہ یہ حملے پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکے اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔ اس سال کے شروع میں جب اس قسم کے رابطوں سے متعلق ’’فنانشل ٹائمز‘‘ میں انکشاف ہوا تھا تو چین نے سرکاری رابطوں کی نفی کی تھی لیکن نجی سطح پر کمپنیوں نے ایسے روابط قائم کیے ہیں۔ ان کمپنیوں کے پاس اپنی سکیورٹی کا نظام بھی ہے جنہیں تجزیے کیلئے سابق سکیورٹی اہلکاروں کی معاونت بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ ایسے اقدامات انہی کے مشورے پر کرتی ہیں۔

چینی قونصلیٹ پر حملے کے دو پہلو بہت اہم ہیں جنہیں حکومت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ پہلا اس حملے کے بعد سی پیک سکیورٹی کے انتظامات پر نظرثانی کی جائے گی۔ یہ نظر ثانی ضروری ہے لیکن اس نظر ثانی کے عمل میں سکیورٹی اخراجات نہیں بڑھنے چاہئیں کیونکہ سی پیک سکیورٹی کے لیے قائم ڈویژن کے پاس خاصے وسائل ہیں اور اخراجات کی وجہ سے سی پیک منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا بوجھ براہ راست عام آدمی پر بھی منتقل ہوتا ہے۔ دوسرا اہم پہلو اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ بلوچستان کی پس ماندگی کے لیے کوئی جامع منصوبہ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ بلوچستان کے لیے پاک فوج نے کئی قابل تحسین اقدامات کیے ہیں اور سویلین حکومتوں کے اقدامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان کا قومی مالیاتی ایوارڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر روزگار کے لیے ایک جامع پانچ سال سے دس سالہ منصوبے کی ضرورت ہے اور عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع کو خصوصی ترقیاتی زونز میں شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا احساس محرومی دور ہو۔

سی پیک کے منصوبوں میں بلوچستان کے مفادات خصوصاً روزگار کو مدنظررکھا جانا ضروری ہے۔ فوجی قوت سے دہشت گردی کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن اس کی چنگاری کو بجھایا نہیں جا سکتا اس کے لیے جامع ترقیاتی منصوبے کیساتھ ساتھ سیاسی مشاورت کے عمل کو بھی تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ چند ایک ناراض بلوچ رہنما پاکستان آئے ہیں لیکن اس عمل کو بھی باقاعدہ ایک ہدف اور منصوبے کے ساتھ آگے لیکر جانے کی ضرورت ہے۔ سی پیک سے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں یہ تاثر ہرگز نہیں جانا چاہیے کہ اس سے انکی پس ماندگی ختم نہیں ہو گی اور انکے وسائل کا استحصال ہو گا بلکہ سی پیک ایک قومی ہم آہنگی اور وسائل کی مساوی تقسیم کا منصوبہ بننا چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...