مدینہ  پراجیکٹ

عافیہ ضیاء

166

پاکستان اپنی تاریخ میں ایک بار پھر مذہب اور سیاست کے درمیان تجرباتی مراحل سے گزر رہا ہے ۔ اپنے پہلے سو دن میں پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت نے صرف ایک مرحلے پر مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ کسی بھی غلط یا پریشانی میں وزیر اعظم عمران خان اپنے مبہم مگر عظیم منصوبے کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ریاست ِ مدینہ کی طرز پر بدل دیں  گے ۔  وہ یہ جملہ ایک سہارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ، بجائے اس کے کہ وہ اس مملکت ِ خداداد کے آئینی اور انتظامی بندوبست کی خصوصیات پر توجہ دیں ۔ اس سے تو صاف ظاہر  ہوتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ریاست اور مذہب کے تعلق کی تجربہ گاہ بننے جا رہا ہے ۔

آسیہ بی بی کی رہائی کا سن کر تشدد پر اتر آنے والوں کو انعام یا کفارہ ادا کرنے کے لئے وزیر اعظم صاحب نے  اپنی متصورہ ریاست مدینہ کی نقشہ نویسی کے لئے انہی ” علمائے کرام” کی معاونت چاہی ہے ۔ المیہ تو یہ ہے کہ پچھلے اکہتر سالوں میں پاکستان کی جھنجھلائی ہوئی”ملائیت ” نے نہ تو علمی و معاشی اور نہ ہی کسی  طرح کی سیاسی اقدار میں کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دیا بلکہ یہ تو اپنے آپ میں ریاستِ مدینہ کے تصور کے متعلق ہی منقسم نظر آتے ہیں ۔

یہ بھی ایک پہیلی کی سی ہی صورت ہے کہ ” غیر منتخب ملائیت ”  کو ریاست کی انتظامی صورت گری کی تشکیل نو کا کام ذمے لگا کر خان صاحب اپنے ہی کیے ہوئے اس وعدے سے پھر رہے ہیں جس میں انہو ں نے پاکستان کو  قائد اعظم کا پاکستان بنانے کا عہد کیا تھا ۔ اگرچہ انہیں اپنے مزاج اور بیا ن کو بدلنے کا حق حاصل ہے تاہم یہ خیال انتہائی احمقانہ ہوگا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ”ملاؤں” کے ساتھ روا رکھا گیا میٹھا رویہ محض ایک وقتی طرز کی میٹھی گولی ہے اور اس کا کوئی زیادہ دیرپا اثر نہیں ہوگا ۔

نوے کی دہائی میں عمران خان کو اپنی ” روحانی کمزوریوں” کا احساس ہوا جو ان کے خیال میں روشن فکر مغربی تصورات پر قائم ان کے رویئے کے سبب پیدا ہوئی تھیں ۔ دنیاوی لذات سے کنارہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی ذات کی تسکین مذہب ، تقویٰ اور خیراتی سرگرمیوں میں تلاش کرنا شروع کی ۔ تقویٰ کے اظہار کا یہ خود ساختہ رویہ  موجودہ دور کے مسلم معاشروں کا عمومی چلن ہے ۔ اگرچہ ذاتی طور پر محض اپنے اندر اس طرح کی انقلابی تبدیلی  کوئی اچھی چیز ہوسکتی ہے تاہم ایک نظریاتی ریاست کو اس طرح غسل دلا کر پاک پاکیزہ کرنے کی کوشش کرنا اور اسے ایک تقدس  مآب تصور دینے کی کوشش کرنا ،کیاایک دانش مندانہ امر ہوگا؟

حالیہ عہد کے تصورات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مغرب کی آزادانہ روش حیات اسلام کی دشمن ہے ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ عمران خان مغرب کی معاشی طور پر آزادانہ روش کو لذت پسندی پر قائم مغربی طرز حیات سے خلط ملط کررہے ہیں جسے وہ خود کم تر جان کر ٹھوکر لگا چکے ہیں ۔ موجودہ عہد کی عالمگیر دنیا میں آزادانہ افکار پر قائم طرز حیات کو مسترد کردینے کا ایسا عمل جس میں معاشی سطح پر کوئی بنیادی طرز کی تعمیر نو کا منصوبہ نہ بنایا گیا ہو ، ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے  جہاں سماجی قدامت پسندی اور اکثریت پسندی کا چلن عام ہوجاتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ” روشن خیال تصورات” کا وہ تنازعہ ہے جس نے امریکہ ،یورپ  ااور بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس کے ذریعے اس تصور کو بھی چوٹ لگتی ہے کہ روشن خیال صرف مغرب کا  ہی وراثتی خاصہ ہے ۔

2011 کی” عرب بہار ” کے بعد جس کے دوران آزادانہ طرز حیات کو مذہب پسند ہونے کی آزادی سے بدلا گیا ہے ، اس کے نتیجے میں سماجی قدامت پسندی کی اقدار مضبوط ہوئی ہیں ۔ انتہاء پسندانہ حب الوطنی ، قبائلیت  ، نسل پرستی ، تعصب اور زن دشمنی، عالمی سطح کے بڑے چیلنجز ہیں لیکن غیر آزادانہ آمریتوں کے تلے ان رویوں کو منصفانہ سمجھ کر ان کی پذیرائی کی جاتی ہے ۔  بلکہ بعض  جگہوں پر تو انہیں تاریخ میں واقعات کا بدلہ کہہ کر ان کی تحسین کی جاتی ہے  ۔

عاطف میاں کو معاشی مشاورت کی کمیٹی سے احمدی ہونے کی بناء پر نکالا جانا ہو  یا افغان اور بنگالی مہاجرین کو شہریت دینے کے وعدے کی خلاف ورزی ہو ، آسیہ بی بی کی رہائی کے نتیجے میں گلیوں میں برپا تشدد سے خوفزدہ ہو کر تحریک لبیک سے امن معاہدہ ہو یا عالمی سطح کی غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیوں کا تسلسل ہو ، موجودہ حکومت اپنے بہت سے اقدامات سے اپنے آپ کو نو قدامت پسند ثابت کرتے ہوئے  ” خونی لبرلز” کا دشمن ظاہر کرچکی ہے ۔

پاکستانی لبرلز ریاست سے کسی بھی طرح سے مذہبی اقلیتوں کے لئے یا عورتوں کے لئے   مہربانیوں ، خیرات یا چند ےکی کوئی درخواست نہیں کرتے بلکہ  وہ ایک اجتماعی آئین کے تحت برابری کے حقوق کی فراہمی چاہتے ہیں ۔ حال یہ ہے کہ اس کے برعکس وہ تصورات کی سطح تک محدود تنازعات کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں چاہے وہ اسلام اور مغرب کا متضاد تصور ہو یا روایت اور جدیدیت کا موازنہ ہو یا آزاد پسند اور مذہب پسند کا تقابلہ ہو ۔ ہر طرح کے سیاسی گروہوں نے ان تصورات پر مبنی تنازعات کو اپنے مفادات میں استعمال کیا ہے ۔

خواتین کی مثال لیجئے ۔ پہلے جنرل مشرف نے  ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا  پھر مذہب پسندوں نے ان کے معاملے کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا ۔ تحریک انصاف نے تو جماعت اسلامی کی طرز پر ان کی  ذات کو ووٹ کے حصول کے لئے  موجودہ انتخابات میں ایک نعرے کے طور پر استعمال کیا ۔

عدالت سے بے گناہی ثابت ہونے پر آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد اسے امریکی عدالت سے سزایافتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی  کے بدلے میں تبادلہ کر نے  کی مشاورت ، کفارے ، ہرجانے یا جرمانے پر قائم قبائلی تصور انصاف  کی ہی کوئی صورت کہلائی جا سکتی ہے جس میں عورت کو امن کی خاطر ایک چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔ یہ آزادانہ  بنیادوں پر حقوق  کی فراہمی کے تصورات کو اسلامی طرز کے متاثرہ زدہ تصورات کے مقابلے میں لا کر اس تقسیم کو مزید مضبوط کرنے جیسا کوئی عمل تو ہوسکتا ہے اسے آپ غیر مشروط طور پر بلا رد و کد انصاف کی فراہمی کا عمل ہرگز قرار نہیں دے سکتے ۔ آسیہ بی بی کی رہائی وزیر اعظم کے لئے ایک موقع تھی کہ  وہ اس کو اسلامی ریاست میں انصاف کی فراہمی کا عملی نمونہ قرار دیتے لیکن اس کے لئے شرط یہ تھی کہ انہیں  اپنے اس تصورکا ، کہ وہ ریاست مدینہ قائم کرنے والے ہیں ، کا ذرہ بھر بھی علم ہوتا ۔

پاکستان میں غیر سرکاری تنظیمو ں کا دائرہ کار عالمی سطح کے نولبرل معاشی نظام کا حصہ ہے جس نے جائز حقوق کی فراہمی میں سرگرم کردار  ادا کرنا شروع کیا ہے ۔ اس کے ذریعے ملازمتوں کے موا قع پیدا ہوئے ہیں ، سیاسی شمولیت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ، شعور میں اضافہ ہو ا ہے، اور حقوق انسانی کی فراہمی کے لئے تخلیقی انداز اپنائے گئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کی زچگی کے دوران صحت کے حوالے سے شعور بیدارہوا ہے ۔

حقوق انسانی کے معاملات کوئی کھیل پہ لگی رقم  کے  سکوں کی مانند  نہیں کہ انہیں جب چاہا مذہبی نوعیت کے  حب الوطن  پاپولر بیانئے کو خوش کرنے کی خاطر قربان کردیا یا ان کے ذریعے خطے  کی سیاسی لڑائی میں کوئی پوائنٹ سکور کر لیا گیا ۔ تحریک انصاف کی حکومت کو  یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ان حقوق  کی فراہمی اور تحفظ پر تیار ہے یا اس نے انسانی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کو یکسر نظر انداز و مسترد کردینا ہے  اور سماج میں تمام تر جگہیں غیر آزاد بیانئے کو وقف کر دینی ہیں ۔

عہد قدیم کے مدینہ میں ایک مذہب اتفاق رائے تھا کیونکہ شناخت کی بنیاد ایک مذہبی تقدس پر قائم تھی ۔ تاہم آج کے پاکستان میں یا جدید دور کی کسی بھی قومی ریاست میں بنیادی اصول و ضوابط کی وضاحت  کے مطابق  تفریق ، آزادی ، تشکیک  اور جمہوریت ، وہ بنیادی تصورات ہیں جو کسی بھی قبائلی  یا شخصی آمریت و ملائیت کے خلاف سینہ سپر ہوتے ہیں ۔

پاکستان کو عہد قدیم کی مذہبی ریاست بنانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے حقیقی طرز کی مضبوط جمہوریت بنانے کی ضرورت ہے جہاں حقوق کی یکساں فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ علمائے کرام نے آزادی کی اس تحریک جس  کے نتیجے میں پاکستان حاصل ہوا تھا  ،  کے ساتھی  نہیں تھے اور اس طرح انہیں یہ حق نہیں وہ اس ریاست کے شہریوں کے لئے آزادیوں کی حدود مقرر کریں ۔

(مترجم : شوذب عسکری، بشکریہ دی نیوز)

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...