سقوط ڈھاکہ، حقیقت کتنی افسانہ کتنا

مصنف : میاں افراسیاب مہدی قریشی

151

میاں افراسیاب مہد ی نے 1984 میں پاکستان فارن سروس میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے واشنگٹن، نیو دہلی، بیجنگ اور ویانا میں پاکستانی سفارتخانوں میں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی نیو دہلی میں تعیناتی دو بار ہوئی جہاں ا نہوں نے سال 2006 تا 2009 پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کی حیثیت سے کام کیا۔ بعدازاں، انہیں وزارت خارجہ اسلام آباد میں ڈائرایکٹر جنرل جنوبی ایشیا ء کے طور پر تعینات کیا گیا۔ 2011 میں انہیں بنگلہ دیش میں پاکستان کا ہائی کمشنر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے تین سال ڈھاکہ میں کام کیا۔ 2014 کے اواخر میں انہیں وزارت خارجہ میں ایڈیشنل فارن سیکرٹری کے طور پر تعیات کیا گیا۔
یہ کتاب میاں افراسیاب کی نگریزی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے جس کا چوتھا ایڈیشن 2016 میں شائع ہوا۔
یہ کتاب بنیادی طور پر مشرقی پاکستان کے سانحہ کے متعلق مصنف کے احساسات و جذبات کی ترجمانی ہے جسے انہوں نے حقائق کی روشنی بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اس سانحے کے لئے بنیادی طور پر بھارت کی پالیسیوں اور اس دور میں بھارتی حکومت کو وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق انہوں نے یہ کتاب اپنے بنگلہ دیشی دوستوں کے اصرار پہ لکھی ہے تاکہ قارئین کو 1971 کے واقعات کی سچائی کا علم ہوسکے۔ ان کی رائے میں پاکستانی طالبعلموں کو مشرقی پاکستان کے سانحے کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ مزید یہ بھی کہ بنگلہ دیشی عوام میں پاکستان کے لئے ملے جلے جذبات موجود ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو پاکستان کو پسند کرتے ہیں اور اس کی مثال پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان کرکٹ میچز کے دوران بنگلہ دیشی عوام کا پاکستانی ٹیم کی حمایت کرنا ہے۔ اس کے برعکس صورت بھی موجود ہے کہ لوگ 1971 کے واقعات میں پاکستان کو دشمن اور ظالم کے طور پر تصور کرتے ہیں۔
انہوں نے مختلف کتابوں کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کی لڑائی کے دوران مرنے والے بنگالی لوگوں کی اموات کی تعداد مبالغہ آرائی کی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہے۔ اسی طرح انہوں نیاس کتاب میں خواتین کی آبرو ریزی کے حوالے سے یہ حقائق پیش کئے ہیں کہ اجتماعی عصمت دری کے ان واقعات میں عمومی طور پر بنگالی قوم پرست لڑاکے جن کا تعلق مکتی باہنی تنظیم سے تھا وہ ملوث تھے۔
یہ کتاب چونکہ یہ ایک خاص بیانیہ کو ملحوظ خاطر رکھ کر تحریر کی گئی ہے لہٰذا اس کے مطالعے کے دوران قاری کو یہ احساس رہتا ہے کہ وہ کو ئی معروضی تجزیہ نہیں بلکہ کوئی جذباتی بیانیہ پڑھ رہا ہے۔
اس کتاب کے اوائل میں درج فہرست عنوانات کے مطابق پیش لفظ میں بنگلہ دیش کا مختصر تعارف بیان کیا گیا ہے۔ بعد ازاں کتاب کو کل چھے ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جس میں پہلا 1971 میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں انتہائی مبالغے کا معروضی جائزہ ہے جس میں مصنف مختلف مورخین کی تحاریر اور 1971 کے عینی شاہدین کے ذاتی مشاہدات کے تناظر میں اس تعداد کے درست اعدادو شمار جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسرے باب میں اردو بولنے والے ان پاکستانیوں کے قتل عام کا احوال درج کیا گیا ہے جسے دیگر مورخین نے بھی اس واقعہ کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ وہ ان واقعات کو جزیات کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور یہاں وہ ثابت کرتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے سانحہ دوران مرنے والوں کی بڑی تعداد اردو بولنے والی تھی جسے بنگلہ دیشی قوم پرست مکتی باہنی کے مسلح عسکریت پسندوں نے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ تیسرے باب میں انہوں نے 1971 میں ہتھیار ڈالنے والے پاکستانی فوجیوں کی تعداد میں مبالغہ آرائی اور مشرقی پاکستان کے خلاف امتیازی رویہ رکھے جانے کی روداد کا جائزہ لیا ہے۔ چوتھے باب میں مصنف نے واقعات و دلائل کے حوالے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قیام پاکستان کے فوراََ بعد سے ہی ہندوستان نے پاکستان توڑنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے عالمی امور کے ماہرین کی رائے اور سقوط ڈھا کہ کے مختلف کرداروں کے بیانات نقل کئے ہیں۔ پانچویں باب میں جسے دیگر متعلقہ تاثرات کا نام دیا گیا ہے اس میں 1971 کے واقعات اور اس سے متعلقہ موضوعات پہ اہم عالمی شخصیات کے مشاہدات کو ایک جگہ اکٹھا کیا گیا ہے۔ باب ششم میں جسے عمومی جائزہ کا نام دیا گیا میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسے کیوں بنایا گیا تھا۔ غرضیکہ مملکت خدادا کے اغراض و مقاصد سے لے کر حالیہ تاریخ تک کے اہم ملکی و قومی واقعات کا مصنف کی نظر سے جائزہ بیان کیا گیا ہے۔ آخری ڈیڑھ سو صفحات میں اہم قومی رہنماؤں کی تقاریر اور اہم معاہدو ں کے متن درج کئے گئے ہیں جن کا مطالعہ تاریخ پاکستان کے شائقین قارئین کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔
یہ کتاب خورشید پرنٹرز اسلام آباد نے شا ئع کی ہے۔ اسے مصنف نے انگریزی زبان میں تحریر کیا تھا۔ اردوزبان میں اس کتاب کا ترجمہ نذرحسین کاظمی نے کیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...