سہ ماہی اجتہاد پر ایک نظر

295

1973کے آئین کی روشنی میں پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد تمام ملکی قوانین کو کو قرآن و سنت کی روشنی میں ترتیب دیا جانا ہے۔ یہ ادارہ اپنے قیام کے وقت سے اس اہم قومی معاملے پر ریاستی معاونت کرتا چلا آیا ہے۔ سال 2007 میں کونسل نے ایک سہ ماہی رسالہ ’’ اجتہاد ‘‘ جاری کیا جس کا مقصد قارئین کو مسلم دنیا میں جاری دانشوارانہ مباحث سے آگاہ کرنا، اسلامی قوانین کی تیاری اور نفاذ میں جاری موجودہ پیش رفت سے واقف بنانا اور کونسل کی سرگرمیوں کی تفصیلات مہیا کرنا تھا۔ کونسل اس مجلے کے اجراء کے بعد اب تک متعدد شمارے شائع کرچکی ہے۔ زیر نظر شمارہ نمبر 11 ہے اور یہ دسمبر 2017 میں شائع ہوا۔ اس شمارے سے قبل کونسل 10 شمارے شائع کرچکی ہے جنہیں ارباب اہل علم و دانش سے تحسین موصول ہوئی ہے۔
اس شمارے کے آغاز میں مدیر اعلیٰ اجتہاد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز کی تقدیم درج ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ اجتہاد اسلامی فکر و عمل کی زندہ جاوید روایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ کا کوئی گوشہ اس روایت سے خالی نہیں رہا ہے۔ فقہائے اسلام نے ہر زمانے میں نت نئے تحدیدات کا سامنا کرتے ہوئے اجتہاد کی روایت کو زندہ رکھا ہے اور یہ روایت آج بھی جاری و سار ی ہے۔ اس کے بعد وہ اسلامی دنیا کو درپیش جدید تحدیدات میں مابعد جدیدیت، مابعد عالمگیریت، مسلم دنیا اور دیگر معاشروں کے باہمی تعلقات اور بقائے باہمی جیسے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مقدمے کا اختتام ان جملوں میں کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل چونکہ تمام مکاتب فکر کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے اس لئے رسالہ اجتہاد میں تمام نقطہ ہائے نظر کو صحت مندانہ اور تعمیری اظہار خیا ل کا حق حاصل ہے۔
چونکہ کونسل سہ ماہی اجتہاد میں ہمیشہ ایک خاص موضوع کے مطابق مضامین و مقالہ جات شامل کرتی ہے جسے وہ ایک خاص نمبر کے عنوان سے جاری کرتی ہے تو اس شمارے میں اسی مناسبت سے علامہ اقبال اور اسلامی تعمیر نو، اسلام اور مغرب، عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد اور جدید فقہی مسائل کے موضوعات پر اہل علم کی تحریر یں پیش کی گئی ہیں۔ اقبال اور تعمیر نو کے موضوع پر ڈاکٹر حافظ اکرام الحق مدیر اجتہاد نے علامہ اقبال کے تصور اجتہاد کی روشنی میں وطن عزیز پاکستان میں اسلامی تعمیر نو کے حوالے سے قائم ہونے والے اداروں کا تاریخی جائزہ پیش کیا ہے۔ ساجد شہباز خان نے اپنے مضمون’’اسلام اور مغرب : توافق اور تصادم ‘‘میں استشراق، الحاد جدید اور علمیات کے حوالے سے اسلام اور مغرب کے مابین تصادم اور موافقیت کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ جبکہ مفتی یاسر احمد زیرک نے اپنے مضمون میں اجتماعی اجتہاد کی تاریخ اور دور حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے حوالے سے عالم اسلام کے نمایاں اداروں کا ذکر کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے اپنے مضمون ’’مسانید سیرت اور استحکام پاکستان‘‘میں ملک عزیز میں سیرت النبیؐ پر ہونے والی علمی تحقیقات اور استحکام پاکستان کے حوالے سے جامعات میں قائم مسانید سیرت کی خدمات و اثرات پر روشنی ڈالی ہے ۔تاریخی دستاویزات کے ضمن میں زیر نظر شمارہ میں پاکستان میں نفاذ شریعت کے حوالے سے علامہ محمد اسد کی مرکزی حکومت کو ارسال کردہ یاداشت اگست 1948 کااردو ترجمہ پیش کیا گیا ہے جوکہ پاکستان میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے حوالے سے اہم دستاویز ہے ۔
علاوہ از یں اس شمارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، سرگرمیوں اور مطبوعات کی ایک جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...