ضلع دیامر میں مذہبی تشدد کیسے پھیلا ؟

غلام دستگیر

437

ضلع دیامر دوردراز اور پہاڑوں میں گھرا ہوا ضلع ہے جس میں تنگیر اور داریل کی دو مشہور وادیاں ہیں ۔حالیہ سالوں میں دیامر بھاشا ڈیم اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی وجہ سے اس ضلع کی تزویراتی اہمیت دو چند ہو چکی ہے مگر یہاں گزشتہ اگست میں ایک ہی رات میں چودہ سکول جلا دیئے گئے ۔یہ ایسا واقعہ تھا جس سے پورا پاکستان لرز گیا ۔ایسا کیوں ہوا ؟بظاہر یہ سمجھا گیا کہ اس کے پیچھے کوئی غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے مگر ہیرالڈ کے حالیہ شمارے میں غلام دستگیر خان نے اس سانحہ کی تمام پرتیں کھول کر رکھ دی ہیں جن میں مذہبی انتہا پسندی بڑے عنصر کے طور پر یہاں گزشتہ چھ دہائیوں سے پنپ رہی ہے۔ یہاں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی ایک پوری تاریخ موجود ہے مگر ریاستی ادارے ابھی تک مسئلے کواس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی بجائے روایتی انداز اپنائے ہوئے ہیں ،حیران کن بات ہے کہ یہاں قاتلوں نے دستانے نہیں پہنے ہوئے بلکہ انہیں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے مگر کوئی ادارہ ان پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہیں کرتا ۔ہیرالڈ کے شکریئے کے ساتھ اس کا ترجمہ و تلخیص قارئینِ تجزیات کے لئے پیش کی جاتا ہے ۔مدیر

اریل بلند و بالا پہاڑوں میں گھری ہوئی ایک تنگ وادی ہے ،ا س میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو کسی بھی پہاڑی مقام کا خاصا ہوتی ہیں ۔سردیوں میں برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں ،سرسبز چراگاہیں ،گرمیوں میں کھیتوں کے بیچ سے گزرتی گنگناتی ندیاں نالے ،یہ کوئی دوردراز کا مقام نہیں کہ جس کی خوبصورتی کے بارے میں لوگ جانتے نہیں ہیں ۔دیامرکا ضلع قومی شاہراہ N-35پر واقع ہے جس کے ایک طرف خیبر پختونخواہ کا ضلع کوہستان اور دوسری جانب گلگت بلتستان واقع ہیں ۔چند ہفتے قبل داریل، اخبارات کی شہ سرخیوں میں آیا تھا جس کی وجہ مذہبی شدت پسندی تھی ۔
اگست کے اوائل میں چند نامعلوم افراد نے داریل، اس کے نواحی علاقے تنگیراور چلاس میں 14سکول جلا دیئے تھے ان میں سے زیادہ تر لڑکیوں کے سکول تھے کچھ ایسے بھی تھے جو حال ہی میں مکمل کئے گئے اور ان میں ابھی لڑکیوں کی کلاسیں بھی شروع نہیں ہوئی تھیں ۔اصل داد ،ان حملوں کا چشم دید گواہ ہے وہ داریل میں نئے بننے والے آرمی پبلک سکول برائے طلباء میں رات ایک بجے چوکیداری کر رہا تھایہ دو گست کا واقعہ ہے جب پچاس سے زائد مسلح افراد جنہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے انہوں نے چوکیدار کو ایک کمرے میں بند کر دیا اور ایک گھنٹہ تک سکول میں کارروائی کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں غائب ہو گئے اس کے فوراً بعد اصل داد نے عمارت سے شعلے اٹھتے دیکھے جس پر ا س نے فوراً عمارت کے ٹھیکیدار کو فون کر کے صورتحال سے آگاہ کیا۔وہ نزدیک ہی رہ رہا تھا اس لئے فوراً پہنچ گیا اور چوکیدار کو لے کر پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ درج کروائی ۔اصل داد نے کہا کہ پولیس دوسرے دن آئی جب عمارت جل چکی تھی ۔تقریباً علاقے میں تمام جلائے جانے والے سکولوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا ۔ماسوائے تنگیر کے ایک سکول کے جہاں پر گارڈ نے حملہ آوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے وہ چند دروازے اور کھڑکیاں توڑنے کے بعد فرار ہو گئے ۔
تنگیرکے قبائلی ملک شفاعت الرحمٰن کے لئے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں اس کے بقول ایسی بزدلانہ کارروائیاں وہ پورے پاکستان میں ہی ہوتی آئی ہیں ۔دیامر میں سکولوں کے خلاف مہم عرصے سے چل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں دس سے پندرہ سال کے لڑکوں میں خواندگی کا تناسب46فیصد ہے جو کہ پورے گلگت بلتستان میں سب سے کم ہے جہاں مجموعی طور پریہ شرح 66فیصد ہے ۔دیامر ضلع میں لڑکیوں میں یہ شرح محض12فیصد ہے جبکہ مجموعی طور پر گلگت بلتستان میں یہ شرح 42فیصد ہے ۔شفاعت الرحمٰن کے نزدیک حالیہ واقعات میں غیر معمولی بات صرف یہ ہے کہ یہ ضلع کے تین مختلف علاقوں میں ہوئے انہوں نے یہ حملے ایک ہی رات میں کئے اس لئے ان کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ۔انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے دیامر، گلگت بلتستان تک پہنچنے کا دروازہ ہے اس لئے ان واقعات کاہدف مقامی کے ساتھ قومی بھی ہے کیونکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری بھی یہاں سے گزر رہی ہے اور دیامر بھاشا ڈیم بھی اسی علاقے میں بننے جا رہا ہے جو کہ دیامر اور کوہستان اضلاع کی سرحد پر واقع ہے ۔
عارف حسین جن کا تعلق ایک نامی گرامی خانوادے سے تھا وہ تنگیر پولیس سٹیشن میں کانسٹیبل تھے جس پولیس ٹیم نے سکول جلائے جانے کے دو روز بعد 4اگست کورم کی وادی میں سرچ آپریشن کیا وہ اس ٹیم کا حصہ تھے ۔جب عارف حسین نے شفیق الرحمٰن کے دروازے پر دستک دی تو اندر سے آواز آئی کون ؟ اس نے جواب دیا شفیق الرحمٰن گھر پر ہے ؟عارف حسین نے اپنا تعارف بھی کرایا اور کہا کہ وہ اور دوسرے پولیس والے گھر کی تلاشی لینا چاہتے ہیں ۔جس پر شفیق الرحمٰن نے درخواست کی کہ کچھ وقت دیں تاکہ وہ گھر میں موجود خواتین کو کہیں باہر بھیج دے ۔چند منٹ باہر اس نے فائر کھول دیا جس سے عارف حسین شہید اور ایک پولیس والا زخمی ہوگیا۔ شفیق الرحمٰن کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہو گی اس کا تعلق جرائم پیشہ افراد سے بھی نہیں تھا ۔اس کے باپ کا نام مولوی شہزاد خان ہے جو کہ تنگیر کے نواح میں مذہبی انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ فائرنگ کے فوراً بعد شفیق الرحمٰن فرار ہو گیا۔ جب ا س واقعے کی اطلاع اے ایس پی تنگیرکامران عامر کو ملی تو انہوں نے فوری کارروائی کااعلان کیا اور کہا کہ ا س کا بدلہ پولیس والوں کو دفنانے سے پہلے لیا جائے گا ۔عارف حسین کا قبیلہ بھی اس کارروائی میں پولیس کے شانہ بشانہ شامل ہو گیا۔صبح چار بجے شفیق الرحمٰن کو اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب وہ قریبی پہاڑوں میں فرار ہو رہا تھا ۔اس کی ہلاکت کا ردِ عمل پولیس کے اندازوں سے کہیں زیادہ شدید تھا ۔تنگیر وادی کو کوہستان سے ملانے والے پل کے اطراف پہاڑوں پر 70کے قریب مسلح افراد نے پوزیشنیں سنبھال لیں ۔اس طرح خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کو ملانے والی شاہراہ بند ہوکر رہ گئی ۔
شفاعت الرحمٰن نے بتایا کہ انہوں نے گیارہ روز تک کسی حکومتی اہلکار بشمول پولیس کو علاقے میں داخل نہیں ہونے دیایہ محاصرہ اس وقت تک جاری رہا جب تک مقامی قبائل نے جرگے کے ذریعے دخل اندازی نہیں کی ۔اسی طرح کی ایک دوسری واردات 11اگست کو ہوئی جب مسلح افراد نے کارگاہ وادی میں پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں تین پولیس والے شہید اور دو زخمی ہو گئے پولیس کی فائرنگ سے ایک حملہ آور خلیل الرحمٰن ہلاک ہو گیا ۔چالیس سالہ خلیل الرحمٰن کا تعلق داریل سے تھا اور اس کی شہرت بھی دہشت گرد کی تھی حکومت نے اس کی زندہ گرفتاری یا ہلاکت پر تیس لاکھ روپے کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔
خان سنگین ستمبر کے آغاز میں ایک ہجرے کی چارپائی پر تشریف فرما تھے انہیں اپنے علاقے میں مختیارِ کل سمجھا جاتا ہے ۔ان کے پاس آٹھ دیگر لوگ بھی تشریف فرما تھے جن میں ایک دبلا پتلا نوجوان سراج الحق بھی تھا۔وہ ایک قدامت پرست مولوی مہتر جان کے مدرسے میں پڑھتا ہے ۔سراج الحق بھی ان درجنوں مشتبہ افراد میں سے ہے جن کے بارے میں پولیس کا خیال ہے کہ وہ سکولوں کو جلانے میں ملوث ہیں ۔وہ یہاں اپنے باپ کے ساتھ ا س لئے آیا ہے تاکہ سنگین خان کے ذریعے پولیس کو گرفتاری دے۔ سنگین خان نے پولیس کو فون کیا کہ وہ آکر سراج الحق کو گرفتار کر لیں ۔ایک گھنٹہ کے بعد سادہ کپڑوں میں ملبوث کلاشنکوف سے مسلح پولیس والا آیا اور اپنے ساتھ اس نوجوان کو لے گیا ۔
خان سنگین قبائلی جرگے کا ممبر ہے جس نے شفیق الرحمٰن کی ہلاکت کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سرچ آپریشنز اور مشتبہ افراد کی گرفتاریوں سے باز رکھا۔ پولیس نے جرگے کے حوالے ایک فہرست کی جس میں تمام مشتبہ افراد کے نام تھے تاکہ وہ ان کو پولیس کے حوالے کریں تاکہ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ان سے تفتیش کر سکے ۔ستمبر کے دوسرے ہفتے تک جرگے کے ذریعے 68مشتبہ افراد گرفتار ہوئے جن سے تفتیش کی گئی ۔ان میں سے کئی اب کلین چٹ لئے اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں ۔
کامران عامر نے بتایا کہ مشتبہ افراد کو تین خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔جن میں سفید، خاکستری اور کالے، خانوں والے شامل ہیں ۔سفید خانے میں درج افراد کو ابتدائی تفتیش میں ہی بے قصور سمجھ کر چھوڑ دیا گیا خاکستری کو مزید تفتیش کے لئے گرفتار رکھا گیا اور کالے درجے والوں کے بارے میں پولیس کو یقین ہو چکا ہے کہ یہ سکول جلانے کے واقعہ میں ملوث ہیں ۔مشتبہ افراد کی فہرست اس انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں مرتب کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ افراد تنگیر کی مشہور مذہبی شخصیت مولوی راج ڈار سے متاثر ہیں اور جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف مسلسل مہم چلا تے ہیں ۔اپنے ایک حالیہ وعظ میں انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم بے حیائی پھیلانے کا ذریعہ ہے اور تم لوگوں کو اس برائی کے خلاف جہاد کرنا چاہئے ۔اس کے علاوہ اس مولوی نے 17سے20سال کے درجنوں نوجوانوں میں پانچ ہزار روپیہ فی کس تقسیم کیا اور انہیں سکول جلانے پر راغب کیا ۔انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ مولوی نے اس مقصد کے لئے ان نوجوانوں کو چند دن بعد مزید1500روپے فی کس دیئے۔راج ڈار کی شادی شہزادہ خان کی بیٹی سے ہوئی ہے اور ا س حوالے سے شفیق الرحمٰن رشتے میں اس کا سالا ہے۔
گلگت بلتستان کے سابق چیف انجینئر 77سالہ کرامت اللہ اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس کے آبائی علاقے کے لوگ صوفیا ء کے مزاروں پر باقاعدگی سے جاتے تھے ان میں سے کچھ بونیر میں پندرہویں صدی کے ایک صوفی سید علی ترمزی کے مزار پر پیدل جایا کرتے تھے یہ صوفی پیر بابا کے نام سے جانے جاتے تھے ۔تب لوگ شادی بیاہ بھی دھوم دھام اور گانے باجے کے ساتھ کرتے تھے ۔مگر گزشتہ ساٹھ سالوں میں چلاس میں مخصوص مذہبی عقائد اور عبادات کی تحریک چلائی گئی جس کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچے ۔یہاں شیخ غلامون نصیر جنہیں لوگ چلاسی بابا بھی کہتے ہیں،انہوں نے روایتی عقائد کے خلاف مسلسل تبلیغ کی اور انہیں بدعت قرار دیتے رہے۔ چلاسی بابا نے اپنی دینی تعلیم بٹ گرام اور کوہستان کے ان مدارس سے حاصل کی تھی جن کے اساتذہ بھارت کے دیو بند مدرسے سے فارغ التحصیل تھے ۔وہ چلاس میں 1950ء میں واپس آئے ۔اردو ،عربی، پشتو اور فارسی میں کئی کتابیں لکھیں جن میں لوگوں کو بدعت کے بارے میں بتایا گیا جن میں صوفیا کی مزاروں پر جانا ،شادی بیاہ میں نمود و نمائش اور موسیقی بھی شامل تھی۔
81سالہ چلاسی بابا کہتے ہیں کہ میں نے قبروں کی پوجا اور موسیقی کے خلاف آواز اٹھائی جس پر لوگوں نے لبیک کہامجھے ا س کامیابی پر فخر ہے ۔ان کی کتابیں شاعری اور نثر دونوں صورتوں میں ہیں اور وہ انہیں ہر اس فرد کو فراخ دلی کے ساتھ پیش کرتے ہیں جو ان کو ملنے کے لئے آتے ہیں۔نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوث ،سفید چادر اوڑھے وہ دوسروں کو سننے کی بجائے اپنی سنانے کی عادت سے مالا مال ہیں ۔وہ اسی کی دہائی کے وسط میں ایبٹ آباد کے علاقے جھنگی سیداں میں منتقل ہو گئے تھے۔ تنگیر اور دیامر کے اضلاع کے علماء سے ان سے بہت متاثر ہیں ۔دیامر کے مذہبی افراد زیادہ تر ان علماکے زیر اثر ہیں جنہوں نے 1960-70میں راولپنڈی کے اس مدرسے سے تعلیم حاصل کی تھی جس کو غلام اللہ خان چلاتے تھے جو شیعوں کے خلاف تھے۔جب وہ واپس اپنے اپنے علاقوں میں آئے تو انہوں نے موسیقی اور صوفیاء کے درباروں پر جانے کے خلاف مہم چلائی جس پر انہیں تنگیر اور چلاس شہر میں بہت پزیرائی ملی۔شہزادہ خان اور مہتر جان 1970کے اواخر میں اس مہم کی صف اوّل میں شامل تھے ۔وہ دارلقران پنج پیر جو کہ صوابی میں ایک مشہور مدرسہ ہے اس سے متاثر تھے اس مدرسے کی بنیا د محمد طاہر نے رکھی تھی(ان کے بیٹے میجر عامر نے1980ء میں آئی ایس آئی میں روس کے خلاف افغان مجاہدین کے حوالے سے بڑی شہرت پائی )۔
محمدطاہر نے بھی اپنی ایک مذہبی تنظیم بنائی جس کا نام’’ اشاعت التوحید ‘‘تھا اس نے حنفی فقہ کا انتہا پسندانہ مؤقف اجاگر کیا اور اس کی تبلیغ کی ۔مسلمانوں میں صدیوں سے جاری رسوم و رواج اور شیعوں کے خلاف مہم چلائی گئی انہوں نے یہ جدوجہد پاکستان میں اسلامی ریاست اور معاشرے کے قیام کے نام پر کی ۔شہزادہ خان اورمہترجان نے دیامر میں اس تنظیم کی مقامی شاخ کی بنیاد رکھی ۔مہتر جان کے ا باؤاجداد ضلع کوہستان کے علاقے کولائی پلاس سے ہجرت کر کے تنگیر آئے تھے ۔انہوں نے اپنے گاؤں ’’رم‘‘ میں روس کے خلاف جہاد کرنے کے لئے ایک تربیتی کیمپ بھی بنایا تھا ۔بعد میں انہوں نے ایک مدرسے کی بنیاد بھی رکھی جس کا بنیادی کام شہزادہ خان کے تربیتی کیمپ کے لئے فراد مہیا کرنا تھا۔1980ء میں ایک موقع پر 500افراد اس تربیتی کیمپ میں ٹریننگ پا رہے تھے ۔اسی سے نوے سال کی درمیان کی عمر کے حاجی امیر جان نے بتایا کہ کیسے مہتر جان کے مدرسے میں لوگوں کو افغان جہاد کے لئے تیار کیا جاتا تھا انہیں بتایا جاتا تھا کہ یہ جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے ۔بعد میں انہوں نے یہی مؤقف بھارت کے خلاف کشمیر کے مسئلے پر اپنایا۔آئی بی کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے خلاف لڑتے ہوئے تنگیر کے بیس نوجوان اپنی جانوں سے گئے ۔یہ تربیتی کیمپ دو دہائیوں تک چلتے رہے تاوقتیکہ کہ انہیں 2000ء کے اوائل میں بند کردیا گیا۔حاجی امیر جان جو کہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ کیمپ کیسے بند ہوئے یہ اب کوئی خفیہ راز نہیں کیونکہ امریکہ میں گیارہ ستمبر اور دسمبر2011ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملوں کے بعد مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ بڑھ گیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ایسے کیمپوں کے خلاف کارروائی کرے ۔مشرف نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کے قریب افراد کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی جن میں حاجی امیر جان بھی شامل تھے۔ اس میٹنگ میں جو کچھ طے ہوا اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’مشرف نے کہا کہ افغانستان نے 1947ء میں کیسے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ۔اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ کیسے پاکستان نے روس کی مداخلت کے بعد پچاس لاکھ افغان مجاہدین کو پناہ دی ہم نے یہ کوشش بھی کی کہ روس کے انخلا کے بعد افغانستان کے مختلف مجاہد گروپوں میں اتحاد قائم رہے ہم نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو بتایا کہ وہ دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اچھا بنائیں مگر انہوں نے ہماری نہیں مانی ۔انہوں نے میٹنگ کے شرکاء کو بتایا کہ اب ہم عالمی دباؤکو مزید برداشت نہیں کر سکتے اور عسکری تربیتی مراکز کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ان کیمپوں میں سے ایک شہزاد خان کا تنگیر میں موجود کیمپ بھی تھا جسے بم سے اڑا دیا گیا ‘‘۔
چلاس سے تعلق رکھنے والا درمیانی عمر کا شخص عبد الوکیل جنوری2012ء میں اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ گلگت جا رہا تھا جب وہ شہرمیں شیعہ اکثریتی علاقے نگارل میں پہنچے توکچھ مسلح افراد نے وین کو روکا، وکیل اور اس کے بیٹے کو نیچے اتار لیا ۔جب انہیں شناختی کارڈ کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ چلاس سے آرہا ہے تو انہوں نے اس کوبیٹے کے سامنے گولی مار دی ۔اس قتل کا چلا س میں شدید رد عمل آیا، قبائلیوں نے قراقرم ہائی وے کو چار دن تک بند کئے رکھا ۔کچھ نامعلوم افراد اسی سال 28فروری کو کوہستان کے علاقے ہربان میں 18شیعہ افراد کے قتل کا بدلہ لینا چاہتے تھے جن کو روالپنڈی سے گلگت جاتے ہوئے بسوں سے اتار کر گولیاں مار دی گئی تھیں۔حکام کو یقین تھا کہ حملہ آوار تنگیر اور داریل کی وادیوں سے آئے تھے ۔پولیس نے جو پہلی ایف آئی آر رجسٹر کی اس میں چھ مشتبہ افراد کے نام شامل تھے جن میں مہتر جان بھی تھے تاہم نے انہوں نے کبھی بھی خود کو حکام کے حوالے نہیں کیا وہ 2013ء میں طبی موت مرے ۔
کوہستان کے سانحہ کے چند ہفتوں بعد سنی مظاہرین گلگت میں اکھٹے ہوئے تاکہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عطااللہ ثاقب کو جوشیعوں کے خلاف گلگت بلتستان میں تنظیم اہل سنت والجماعت چلا رہے تھے انہیں رہا کرے ۔جب مظاہرین ایک چوراہے پر پہنچے تو ان پر گرنیڈ سے حملہ کر دیا گیا ۔اس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہو گئے ۔جب یہ خبر کچھ مبالغوں کے ساتھ چلاس پہنچی کہ اس میں گلگت کے سنی رہنما ناصر احمد بھی مارے گئے ہیں تو اس کایہاں پر بہت سفاکانہ رد عمل ہوا ۔ایک مشتعل گروہ نے راولپنڈی سے آنے والی 25بسوں کا قافلہ روک لیا اور ان میں سے شیعہ مسافروں کو اتار لیا۔یہ واقعہ دن ڈیڑھ بجے پیش آیا جب دس افراد کو پتھر مار کر مار دیا گیا ۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ اسی سال 17اگست کو ہوا جب راولپنڈی سے گلگت جانے والی چار بسوں کو روک کر ان میں سے 19شیعہ افراد کوشناخت کے ذریعے اتار کر انہیں سو دوسرے مسافروں کے سامنے ہلاک کر دیا گیا یہ سانحہ مانسہرہ کے ضلع میں بابو سر ٹاپ کے نزدیک ہوا ۔ان حملوں میں جو بھی ملوث تھا ان کو گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔
خان سنگین جس کی عمر اب 70سال ہے اسے مئی1988ء میں اپنے کئے پر کوئی رنج نہیں ۔وہ اپنے ہجرہ میں لمبے اور گھنے درختوں کی چھاؤں تلے بہت پرسکون انداز میں بیٹھا ہے یہ منظر تین دہائیاں پہلے کے اس منظر سے قطعی مختلف ہے جب دیامر میں شیعوں کے خلاف ہلاکت خیز ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور ہر طرف ’’کافر کافر شیعہ کافر ،جو نہ مانے وہ بھی کافر‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے ۔یہ نعرے درختوں اور پہاڑوں پر لکھے ہوئے تھے جس سے لگتا تھا کہ علاقہ فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے ۔سنگین بتاتا ہے کہ کیسے کوہستان سے تعلق رکھنے والاایک مسلح لشکریا قبائلی فوج دیامر سے گزر رہی تھی۔ یہ لشکر اتنے تب و تاب میں تھا کہ کسی میں جرات نہ ہوئی کہ ا س کو روک سکے یا اس کی مخالفت کر سکے اور نہ ہی تنگیر میں کوئی ایسا کرنا چاہتا تھا۔
مقامی علما ء کی جانب سے دہائیوں سے جاری شیعہ مخالف تقریروں نے ایسا ماحول بنا دیا تھا جس میں نہ صرف لشکروں کے حوصلہ افزائی ہو رہی تھی بلکہ لوگ ان میں شامل بھی ہو رہے تھے ۔دیامر کے لوگ ان لشکروں پر اپنا تن من دھن سب کچھ وار رہے تھے تاکہ یہ گلگت میں شیعوں پرحملے کر سکیں ۔تب احمد حسین کی عمر 28سال تھی اس نے اس وقت لشکر کا نام سنا جب وہ گلگت شہر سے 20کلومیٹر جنوب میں چھموگڑھ کے نزدیک پہنچا تھا اس کے شہر جلال آباد کا بھی گلگت سے اتنا ہی فاصلہ تھا مگر یہ مشرق میں تھا۔جب انہیں معلوم ہوا کہ لشکر جلد ان تک بھی پہنچ جائے گا ۔ان میں سے کچھ لوگ سیکورٹی اداروں میں کام کر چکے تھے اس لئے وہ جانتے تھے کہ پٹرول بم کیسے بنایا جاتا ہے ،انہوں نے جتنے زیادہ بم جلدی میں بنائے جا سکے تھے بنا لئے ۔اس کے علاوہ گاؤں میں جتنا اسلحہ موجود تھا جن میں زیادہ تر شکار کے لئے پرانی بندوقیں تھیں وہ بھی اکھٹی کر لی گئیں ۔حسنین بتاتا ہے کہ جب حملہ آور جلال آباد کے نزدیک پہنچے تو دیہاتیوں نے لشکر پر بم پھینکے اور پہاڑوں سے پتھر لڑھکاکر ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لشکر والے سمجھے کہ ان کے پاس بھاری ہتھیار ہیں جس کی وجہ سے وہ تین دن تک آگے نہیں بڑھ سکے ۔جب لشکر نے دیکھا کہ وہ آگے نہیں بڑھ سکتے تو انہوں نے ایک دوسرے گاؤں بتکورجانے کا فیصلہ کیا جو کہ جلال آباد سے پہاڑی کی دوسری جانب تھا۔جب حسین اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے بتکور سے شعلے بلند ہوتے دیکھے تو انہیں یقین ہو گیا کہ ایک روز ان کے گاؤں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا ۔یہ سب کچھ ہوتا رہا مگر دیہاتیوں کی مدد کو قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ نہیں آیا ۔جب جلال آباد میں چند پولیس والے پہنچے بھی تو انہوں نے گاؤں والوں کو مشورہ دیا کہ وہ چند روز کے لئے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں ۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ماسوائے چند بزرگوں کے باقی سب لوگ نزدیکی گاؤں اوشی خنداس اور دینور چلے گئے جہاں پولیس کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک ڈی آئی جی کی سربراہی میں موجود تھی اس لئے ان کو قدرے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔حملہ آور ا س دوران جلال آباد میں داخل ہو گئے اور انہوں نے وہاں تقریباً آٹھ سو گھر جلا دیئے ۔حسین تین روز بعد گاؤں واپس آیا تاکہ وہ اپنے بڑے بھائی فدا حسین کی میت اٹھا سکے جو حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا تھا۔
مگر اس کا جسم جلا ہوا تھاصرف ایک ہاتھ بچا تھا جس سے شناخت ممکن ہوئی ۔اسی طرح کی دہشت ناک کہانیاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں ۔غلام مصطفی سکردو میں گاڑیوں کا مکینک تھاجب اسے معلوم ہوا کہ لشکر اس کے گاؤں شتو جو کہ ہرموش وادی میں ہے اس کی جانب بڑھ رہا ہے وہ فوراًگاؤں پہنچ گیا کیونکہ بہت ڈر خوف تھا۔تب اس کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہو گی ا س نے دیکھا کہ لشکر عالم پل کے پاس ٹھہرا ہوا ہے یہ پل دریائے سندھ پر بنا ہوا ہے جو سکردو اور گلگت کو ملاتا ہے ۔اس نے دیکھا کہ اس کے گاؤں والے اپنی پرانی بندوقو ں کے ساتھ شدید خوف کے عالم میں مقابلے کی تیاری کر رہے ہیں ۔انہیں جلدی احساس ہو گیا کہ ان کے پا س کوئی چارہ نہیں کہ وہ کسی قریبی محفوظ مقام کی طرف منتقل ہو جائیں ۔جب وہ ایک ماہ بعد اپنے گھروں کو لوٹے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے گھروں کومسمار کر دیا گیا ہے ان کے مویشی بھی ہلاک کر دیئے گئے حتیٰ کہ فروٹ کے درخت بھی اکھاڑ دیئے گئے ۔
احمد محمود گلگت میں ڈپٹی کمشنر تھے جب وہاں لشکر کشی ہو رہی تھی ۔انہوں نے 20پولیس والوں کے ساتھ لشکر کاراستہ ساری رات روکے رکھا تاکہ وہ شہر میں داخل نہ ہو سکیں ۔جب صبح ہوئی تولشکر دوسرے راستے سے شہر میں داخل ہو گیا انہوں نے راستے میں ایک پورا گاؤں سکوار جلا کر راکھ میں تبدیل کر دیا۔محمود تب گلگت میں کمشنر کے دفتر گیاتاکہ وہ جلال آباد جانے کی اجازت لے کر اس کی حفاظت کر سکے مگر اسے اس کی اجازت نہ ملی ۔محمود کی عمر اب اسی سال ہے مگر وہ اپنے بے باکانہ انداز میں کہتا ہے کہ اسے یقین ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آوروں کے ساتھ ملی بھگت میں شریک تھے ۔’’دیامر پولیس کو بھی شیعوں کے خلاف لشکر کی طرح اکسایا گیا تھا وہ بھی گلگت آئے تو یونیفارم میں ملبوث حملہ آوروں کی طرح تھے گلگت شہر کے نواح سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس آفسر نے لشکر کی مہمان نوازی کے لئے اپنی دو گائیں زبح کیں ۔‘‘
محمود کے بقول لشکر کشیاں بند ہونے تک 222لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے تھے ۔شیر باز برچھا جو گلگت سٹی میں رہنے ولا ایک تاریخ دان ہے وہ بتاتا ہے کہ جب لشکر گلگت کے نواح میں غارت گری جاری رکھے ہوئے تھا تب اس وقت کے گلگت کے چیف سیکرٹری نے ایک میٹنگ بلائی ۔برچھا کہتا ہے کہ میٹنگ میں محکمہ مال کے ایک سنی افسر عبدالخالق تاج نے ایک گلگت کے ایک سنی کا کیس بطور ثبوت پیش کیا کہ اسے پولیس نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک سنی مسجد میں بم نصب کر رہا تھا تاکہ دھماکے کا الزام شیعوں پر لگا کر فساد برپا کیا جائے ۔گرفتار شخص کو ایک رات تھانے میں رکھنے کے بعد اگلی صبح گھر بھیج دیا گیا۔یہ حکومت ہے جو کہ اپنے مخصوص عزائم کے لئے شیعہ اور سنیوں کے درمیان فساد کھڑا کر رہی تھی ۔
گلگت بلتستان کے وہ لوگ جوسنی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں وہ شاید اس سے اتفاق نہ کریں وہ کہتے ہیں کہ وہ ماحول جس میں لشکر بنے تھے اس کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی جب 1971ء میں ایک شیعہ مذہبی رہنما نے گلگت میں ایک متعصبانہ تقریر کی تھی۔ جبکہ دوسری جانب مقامی شیعہ رہنما اس کا الزام ضیاء الحق پر عائد کرتے ہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ضیاء نے 1988ء کے اوائل میں امریکی سفیر آرنلڈ لیوس رافیل کے ہمراہ گلگت کا دورہ کیا تھاتب یہاں پر امریکہ مخالف ایک بہت بھرپور مظاہرہ ہوا تھا۔مسئلہ یہ ہے کہ ا س دعوے کے حق میں کوئی تحریری مواد دستیاب نہیں ہے ۔اس دورے اور مظاہرے کے بارے میں کوئی شواہد دستیاب نہیں مگر شیعہ دعوی ٰ کرتے ہیں کہ ایسا ہوا تھا اور اس کے جواب میں ہی انتقامی طور پر لشکر بنے تھے ۔اس سلسلے میں سب سے مصدقہ بات یہ ہے کہ پاکستان بھر کی طرح گلگت بلتستان کے شیعہ بھی رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں۔ 1988ء میں یہ مئی کے دوسرے ہفتے میں آیا تھا۔یہ مظاہرین عموماً امریکہ کے خلاف بھی نعرے بازی کرتے ہیں شاید اس وقت اس مظاہرے نے ضیاء مخالف مظاہرے کی شکل بھی اختیار کر لی ہو کیونکہ اس وقت ضیاء امریکہ کے قریبی اتحادی تھے ۔ایسی خبریں بھی سننے کو ملیں کہ مظاہرین کی ایک وین کو اس وقت آگ لگا دی گئی جب وہ اپنے گھروں کو واپسی پر سنی علاقے سے گزر رہے تھے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ا س واقعہ میں ایک پولیس افسر بھی زخمی ہوا تھا ۔گلگت شہر کے ایک حکومتی اہلکار حامد حسین کا استدلال یہ ہے :17مئی1988ء رمضان المبارک کا آخری روزہ تھا مگر شیعہ اس روز عید منا رہے تھے ۔کچھ شیعہ ان علاقوں میں جو سنی اکثریتی تھے وہاں جا کر سرعام کھا پی رہے تھے جس پر سنیوں نے شیعوں پر فائر کھول دیا ،حامد نے کہا کہ یہ سارا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا۔جب یہ خبر علاقے میں پھیلی تو سنیوں میں اضطراب پیدا ہواشاید یہ آگے جا کر لشکروں کے بننے کی وجہ بنی ۔
بارچہ 1971ء میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا جب کچھ مشتعل لوگوں نے اس کے سکول کو آگ لگا دی اور طلبا کو کہا کہ کلاسوں سے نکل جائیں۔اس کے بعد انہوں نے گلگت بازار کا رخ کیا جہاں انہوں نے پنجابی فوجی آفیسر کے بیٹے کی دوکان کو لوٹ لیا ۔مظاہرین کو معلوم ہوا تھا کہ ا س آفیسر کی بیوی نے اپنی بیٹی کے فیل ہونے پر سکول کی پرنسپل صاحبہ کے ساتھ تلخ کلامی کی تھی ۔پرنسپل نہ صرف یہ کہ سنی تھی بلکہ اس نے ایک مقامی بارسوخ شخص جوہر علی جو کہ شیعہ تھاسے کہا کہ ا س طرح کے ماحول میں وہ اپنی نوکری جاری نہیں رکھ سکتی۔اس کے بعد مظاہرین بدلہ لینے کے لئے اکھٹے ہو گئے۔بارچہ کے بقول ’’یہ مظاہرہ ایسا واقعہ تھا جو فوجی طاقت کے آگے فرقہ وارانہ تقسیم سے بالا تر تھا۔جو آگے چل کر گلگت اوربلتستان میں ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ جیسی پالیسی کی بنیاد بن گیا۔‘‘گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کے اطلاعات کے مشیر شمس میربھی اس سے متفق نظر آتے ہیں کہ علاقے میں امن وامان کے خراب ڈھانچے کی وجہ سے یہ ضرورت بن گئی تھی کہ ’’اسے تشدد کی زد میں رکھا جائے‘‘۔تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی ضرورت کیوں تھی اور ہدف کیا تھا۔صاحب خان جو حال ہی میں گلگت بلتستان کی چیف کورٹ سے بطور چیف جسٹس ریٹائر ہوئے ہیں ،بھی علاقے میں شیعہ اور سنی ہم آہنگی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔یہ تب کی بات ہے جب علاقے میں لشکر کشی جاری تھی ۔تب وہ ناردرن ایریا کونسل جو کہ گلگت بلتستان میں سب سے بڑا مشاورتی ادارہ تھا اس کے ممبر تھے ۔مئی1988ء میں جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے آبائی ضلع استور (جو کہ دیامر اور گلگت کے درمیان سنی اکثریت کا علاقہ ہے )کے بونجی گاؤں میں لشکر نے شیعوں کے کچھ گھروں کو آگ لگا دی ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لئے انہیں کچھ کرنا ہو گا۔جس پر انہوں نے اسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں سرکردہ شیعہ اور سنی رہنماؤں کا ایک اجلاس منعقد کیا۔تفصیلی غوروغوض کے بعد شرکاء چھ نکاتی معاہدے پر پہنچ گئے جس کا لب لباب یہ تھا کہ اگر لشکر نے استور کی شیعہ کمیونٹی پر حملہ کیاتو شیعہ اور سنی دونوں اپنے علاقوں کی حفاظت مشترکہ طور پر کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ استور میں شیعہ اور سنی صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں ان کی باہم شادیاں بھی ہوتی ہیں اس کے اپنے چچا زاداور خاندان کے کئی قریبی افراد شیعہ ہیں کیونکہ ہم ایک دوسرے کے عقیدے کو سمجھتے ہیںیہی وجہ ہے کہ صدیوں سے ہم بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق پر امن طور پر رہتے آ رہے ہیں۔
تاہم گلگت بلتستان میں طویل عرصے سے جاری تشدد کے حوالے سے اس نقطہ نظر کی اہمیت کم ہی ہے ۔جیسا کہ برطانوی دور کے ایک افسر کرنل جان بدالفJohn Biddulfنے اپنی کتاب Tribes of Hindoo Kooshجو کہ 1880ء میں شائع ہوئی اس میں لکھتے ہیں کہ ’’چلاس کے لوگ اپنے ہمسایہ علاقوں کی نسبت کم اطاعت گزار ہیں ۔وہ اکثر یہ بات فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے علاقے سے مسافر اور تاجر تو گزر سکتے ہیں مگر کوئی شیعہ ان کے ہاتھوں بچ نہیں سکتا۔چلاس کے باشندوں کے بارے میں وہ مزید لکھتا ہے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کہ وجہ سے پورے علاقے میں مشہور ہیں کہ وہ لوٹ مار کرتے ہیں مردوں ،عورتوں اور بچوں کو غلام بناتے ہیں۔
پاکستان کی نئی بننے والی حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لئے گلگت بلتستان میں ایک سفاکانہ قانون ایف سی آر لاگو کیا۔ا س قانون کے تحت جس قبیلے کا ایک فرد بھی کوئی جرم کرے گا تو ا س کی سزا پورے قبیلے کو بھگتنی پڑے گی۔اس جابرانہ طرز حکومت کی وجہ سے چلاس کے قبائل اپنا رجحان لوٹ مار اور تشدد سے ہٹانے پر مجبور ہو گئے ۔یہ قانون 1972ء تک لاگو رہا جس کی وجہ سے دو دہائیوں تک شیعہ سنی کوئی فساد نہیں ہوا ۔بارچہ کے بقول ایف سی آر کے خاتمے اور مساجد میں لاؤڈ سپیکروں کے آنے سے گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ عداوت در آئی ۔بارچہ کے بقول ’’گلگت میں شیعہ سنی تقسیم پہلی بار اس وقت نظر آئی جب پاکستان سے پہلوانوں کی ایک ٹیم گلگت آئی ۔ان میں سے ایک شیعہ تھاجب وہ مخالف پر وار کرتا تو شیعہ تماشائی فرقہ وارانہ نعرے لگاتے اور جب اس کے مقابلے پر سنی پہلوان ایسا کرتا تو سنی تماشائی بھی ایسا ہی کرتے ‘‘۔
اسی وقت ایک اور اہم بات یہ ہوئی کہ سفری سہولیات کی وجہ سے لوگ سعودی عرب، ایران اور عراق میں واقع مقدس مقامات میں حج اور زیارات کے لئے آنا جانا شروع ہو گئے کیونکہ اب سفر آسان ہو چکا تھا۔بارچہ کے بقول سنی سعودی عرب سے اور شیعہ ایران سے انتہا پسندانہ نظریات کے ساتھ لوٹے ۔انہی ادوار یعنی1979ء میں ایران میں امریکی حمایت یافتہ بادشاہ کے خلاف اسلامی انقلاب آ گیا اور افغانستان میں جہاد شروع ہو گیا ۔سعودی عرب اور امریکہ سے نظریاتی اور مادی مدد آنے لگی اور پاکستان نے ان کو فوجی تربیت اور جگہ دی ۔دونوں فقوں کے لوگ علاقائی اور عالمی تنازعات میں الگ الگ مقامات پر کھڑے ہو گئے جس سے ان کے درمیان پہلے سے جو فالٹ لائنز موجود تھیں وہ بھی حرکت میں آگئیں ۔جس کی وجہ سے آنے والے سالوں میں فرقہ وارانہ تقسیم گہری ہوتی چلی گئی اگر آپ سنی ہیں تو آپ کو نہ صرف شیعہ سے نفرت کرنی ہے بلکہ آپ اپنی فرقہ وارانہ شناخت کو برقرار رکھنے کی جدو جہد بھی کرنی ہے ۔اسی طرح اگر آپ شیعہ ہیں تونہ صرف یہ کہ اپنی کمیونٹی پر ہونے والے حملوں کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اپنی فرقہ وارانہ شناخت کو بھی ابھارنا ہے ۔عوام میں پنپنے والے اس زہر کو ایک دن سامنے آنا تھا اور لاوا پھٹنا تھا۔ایسا سب سے پہلے 1988ء اور بعد ازاں جنوری 2005ء میں ہوا جب گلگت میں ایک مشہور شیعہ رہنماآغا ضیا الدین کو قتل کر دیا گیا۔اس قتل کے نتیجے میں شیعہ سنی فسادات میں 15افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔
یہ ستمبر کے اوائل کی بات ہے ایک فوجی داریل اور کوہستان کوملانے والے پل پر پہرہ دے رہا ہے جس کا مقصدسکولوں کے جلائے جانے والے واقعے کے بعدلوگوں کے آنے جانے پر نظر رکھنا ہے ۔جو کوئی بھی داریل جانا چاہتا ہے ا س کی سیکورٹی چیکنگ ہوتی ہے جو لوگ دوسرے علاقوں سے آتے ہیں وہ چیک پوائینٹ پر اپنا شناختی کارڈ جمع کراتے ہیں جو واپسی پر ان کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں ۔ایسے اقدامات سے بظاہر وادی میں امن دکھائی دیتا ہے کیونکہ ابھی تک یہاں پر مذہبی انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کی صحیح جانکاری کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔عوام کے سماجی اور مذہبی رویئے اسی طرح سخت گیر ہیں جیسے پہلے کبھی تھے ۔مثال کے طور پر داریل سے تعلق رکھنے والا مولوی سکندر کسی بھی ایسے شخص سے ملاقات نہیں کرتا جس کی داڑھی نہیں ہے ۔حفیظ اللہ جس کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہے اور جو مسلسل سیگریٹ کے کش لگاتا رہتا ہے اس نے بتایا کہ اس مولوی نے محض اس لئے اپنے سگے بھتیجے کا جنازہ نہیں پڑھایا کیونکہ اس نے داڑھی نہیں رکھی تھی ۔حفیظ اللہ بھی مولوی سکندر کا بھتیجا ہے۔سکندر کا نام بھی سکول جلانے کے واقعہ میں ملوث افراد کی مشتبہ فہرست میں درج ہے۔ ا س نے بھی باضابطہ طور پر خود کو حکام کے حوالے کیالیکن جوائنٹ انسٹی گیشن ٹیم نے اسے رہا کر دیا گیا۔سکندر علاقے میں عسکری تربیتی کیمپ چلانے کے حوالے سے بھی مشہور ہے ۔حفیظ اللہ کہتا ہے کہ نوے کی دہائی میں اس کے چچا کے ہاں گھنی داڑھیوں والے پر اسرار قسم کے تیس کے قریب افراد مسلسل آتے جاتے تھے۔ دراز اور مضبوط قد کاٹھ کا یہ مولوی مسلسل اپنے کندھے کے ساتھ کلاشنکوف لگائے رکھتا ہے اور صرف اسی وقت اس کو اتارتا ہے جب اس نے نماز پڑھنی ہوتی ہے ۔اس کی آنکھوں میں موجود سرخی اس کے اندر جنم لینے والے مد و جزر کی خبر دیتی ہے ۔وہ شکل سے پنجابی لگتا ہے مگر داریل میں کوئی نہیں جانتا کہ ا س کا تعلق کہا ں سے ہے ۔ہر کوئی اسے شاہ صاحب کہہ کر پکارتا ہے ۔
مولوی شہزادہ خان، شاہ صاحب کو 1990ء کے اوائل میں تنگیر ویلی میں لے کر آیا تھامگر جلد ہی دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔ شاہ صاحب نے اپنا الگ ٹریننگ کیمپ داریل وادی میں کھول لیا ۔لیکن ایک سال بعد اسے اس لئے اپنا کیمپ بند کرنا پڑا تھا کیونکہ اس نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ چھوٹی عمر کی لڑکیاں بھی گھروں سے باہر نہیں نکل سکتیں جس پر مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد اسے وقتی طور پر علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔
تنگیر میں مقامی جرگے کے ممبر فاروق اعظم جو کہ ایک وقت میں شاہ صاحب کے قریبی افراد میں شمار کئے جاتے تھے انہوں نے بتایا کہ
’’1994ء میں ایک نوجوان جس کا نام بنیامین تھا اس نے داریل سے جاکر خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ کے علاقے بٹراسی میں قائم عسکری تربیتی کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی ۔(ایک سال بعد اس نے علاقے میں سکولوں کے جلانے پر ایک جرگے میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا)۔1998-99میں وہ اپنے ساتھ 20کے قریب لوگ لے آیا۔شاہ صاحب بھی ا س کے ساتھیوں میں شامل تھے وہ جلد ہی تنگیر وادی کے شمال میں اٹ کے علاقے میں منتقل ہو گئے ۔چند ماہ بعد شاہ صاحب اور بنیامین نے نیچے اتر کر جولی گاؤں میں ایک عسکری کیمپ بنا لیا۔مقامی لوگ شاہ صاحب کو مجاہد قرار دے کر ان کی بڑی عزت و تکریم کرتے تھے اس تربیتی کیمپ میں پنجابی، پٹھان اور گلگت کے لوگ شامل تھے۔
شاہ صاحب کا 2001ء میں مولوی عبد الرحمت کے ساتھ تنازعہ ہو گیا ۔مولوی عبد الرحمت داریل سے ضلع کونسل کا ممبر اور مولوی سکندر کا بھائی ہے ۔دونوں بھائیوں نے اس کی شکایت قاضی نثار احمد سے کی جو کہ جماعت اہل سنت والجماعت گلگت کے سینئر رہنما ہیں ۔قاضی صاحب داریل آئے اور انہوں نے شاہ صاحب کو سمجھایا کہ وہ قبائل کے بڑوں اور مقامی علماء کے ساتھ بنا کر رکھیں مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔جس کی وجہ سے قاضی صاحب نے شاہ صاحب کے تربیتی کیمپ کی حمایت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔انہوں نے اپنے لوگوں سے جو کہ کیمپ میں اکثریت میں تھے انہیں حکم دیا کہ وہ گلگت واپس چلے جائیں جس کے بعد یہ کیمپ بند ہو گیا۔کوئی نہیں جانتا کہ ا س کے بعد شاہ صاحب کہاں چلے گئے ۔شاہ فیصل جس پر سکول جلانے کے واقعہ میں ملوث ہونے کا سب سے زیادہ شبہ ہے وہ اور خلیل الرحمٰن جو بعدازاں پولیس کے ساتھ گلگت میں ایک جھڑپ میں مارا گیا وہ دونوں اسی کیمپ سے تربیت یافتہ تھے ۔یہ دونوں 2004ء تک داریل میں غیر رسمی طور پر نوجوانوں کا ایک تربیتی کیمپ بھی چلاتے رہے ۔انہوں نے پاگچھ گاؤں میں 25کے قریب نوجوان جمع کئے اور انہیں جسمانی مشقیں اور جدید ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت فراہم کرتے رہے ۔
29مارچ2013ء کواس وقت پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی جب وہ ڈی ایس پی عطاء اللہ کی زیر نگرانی تنگیر میں معمول کے گشت پر تھی ۔عطااللہ اور ا س کا گارڈ موقع پر جانبحق ہو گئے ۔اسی سال 7اگست کو چلاس میں سیکورٹی اداروں کے ایک قافلے پر حملہ ہواجس کے نتیجے میں فوج کے دو افسران کرنل غلام مصطفی اور کیپٹن اشفاق عزیزاور ان کے ساتھ پولیس کے ایس پی ہلال احمد جانبحق ہو گئے ۔یہ تینوں ان 9غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تفتیش میں شامل تھے جنہیں23جون 2013ء کو نانگا پربت کے بیس کیمپ میں قتل کر دیا گیا تھا۔مقتول کوہ پیماؤں میں سے پانچ کا تعلق یوکرین ،تین کا چین اور ایک کا روس سے تھا۔خلیل الرحمٰن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کوہ پیماؤں اور سیکورٹی حکام کے قتل میں ملوث تھا۔
محمد نوید یہاں ایس پی تھاجس دوران دیامر شیعہ مخالف تشدد کی لپیٹ میں اور خلیل الرحمٰن جیسے عسکریت پسندوں کے نرغے میں تھا ۔انہوں نے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ وہی گروپ جو کوہستان اور چلاس میں شیعوں پر حملوں میں ملوث تھا وہی کوہ پیماؤں اور سیکورٹی حکام پر حملوں کا ذمہ دار ہے ۔مگر کسی کو ان حملوں کے بعد بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ دیامر میں مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردانہ تشدد کے خلاف آپریشن کی ضرورت ہے ۔ریاست نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ وہ مقامی قبائل کے بڑوں کی منشا کے بغیر پر تشددعناصر کے خلاف کوئی کارروائی کرے یہی بڑے بھی اس گھناؤنی مذہبی انتہا پسندی کا اسی طرح حصہ ہیں جس طرح کہ عسکریت پسند ہیں جس کا ثبوت حالیہ مجرمانہ واقعات ہیں ۔
اپریل2015ء میں وہی گروپ جو یہاں پر شیعہ ،ریاست مخالف اور غیر ملکیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں ملوث تھا اس نے تنگیر وادی کی جنوبی گزرگاہ میں فوج کے ادارے سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن سے وابستہ دو انجنیئروں کو اغواء کر لیا۔اغواء کار انہیں شمال میں موجود پہاڑوں میں لے گئے جب حکومت اپنے طور پر ان کی رہائی کی کوششوں میں ناکام ہو گئی تواس نے قبائلی جرگے سے مداخلت کی درخواست کی جس پر عسکریت پسندوں نے اس شرط پر رہائی میں آمادگی ظاہر کی کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا ۔اب سکولوں پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے بھی جرگہ اسی پیرائے میں کام کر رہا ہے ۔مشتبہ افراد کو ایک طرح کا تحفظ حاصل ہے اور حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی کیونکہ جرگے کے ممبران انہیں پولیس کے حوالے کر نے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔
جب داریل وادی کے داخلی راستے پر ایک چیک پوسٹ پر مجھ سے یہاں آنے کی وجہ پو چھی گئی تو میں نے کہا کہ مجھے اشتیاق داریلی سے ملنا ہے اس نے فوراً جواب دیا کہ وہی جس کا تعلق ڈی ایس ایف سے ہے ۔میں نے بغیر جانے کہ ڈی ایس ایف کیا ہے ’’ہاں ‘‘ کہہ دی ۔جب میں پاگوچ گاؤں جہاں اشتیاق داریلی رہتا ہے جا رہا تھا تو میں سوچ رہا تھا کہ کیا ڈی ایس ایف سے مراد ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن ہے جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں کافی متحرک تھی ۔اگر ایسا ہے تو بائیں بازو کی ایک تنظیم داریل کے ایک کٹر مذہبی اور قبائلی ماحول میں کیسے اپنا آپ برقرار رکھے ہوئے ہے ۔جب میں اشتیاق داریلی سے ملا تو یہ مشکل حل ہو گئی ۔کلین شیو اشتیاق داریلی نے 2008ء سے داریل کے گاؤں گماری سے میٹرک کرنے کے بعد اس وقت ڈی ایس ایف کی بنیاد رکھی جب وہ کراچی میں پڑھنے کے لئے گیا۔اس کا ابتدائی مقصد کراچی میں رہنے والے داریل کے غریب افراد کی مدد تھا۔لیکن جب اشتیاق نے 2013ء میں کراچی میں اپنی تعلیم ابلاغِ عامہ میں ماسٹر کرنے کے بعدمکمل کی تو ا س نے گاؤں واپس آ کر اٹ میں ایک سپورٹس فیسٹول منعقد کیا اب یہ فیسٹول مسلسل چار سال 2014ء سے 2017ء تک ہر سال اگست میں یوم آزادی کے موقع پر ہوتا آرہا ہے جس میں کرکٹ اور پولو کے ساتھ دوسری ثقافتی سرگرمیاں جن میں موسیقی بھی شامل ہے وہ شامل ہو تی ہیں ۔مگر اس سال فیسٹول نہیں ہو سکا کیونکہ سکولوں پر حملوں کے بعد حالات سازگار نہیں تھے ۔ان حملوں نے اشتیاق داریلی کی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ۔2015ء میں اشتیاق اور اس کے ڈی ایس ایف سے وابستہ دیگر ساتھیوں نے کئی مذہبی رہنماؤں کو قائل کر لیا کہ اسلام لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہے ۔اسی سال سینٹرل ایشیا انسٹی ٹیوٹ جوگلگت میں قائم ایک غیر سرکاری ادارہ ہے اس نے پا گوچ میں لڑکیوں کا ایک پرائمری سکول قائم کیا۔سکول میں کلاسیں فوری طور پر شروع نہیں ہو سکیں کیونکہ لڑکیوں کو پڑھانے کے لئے خواتین اساتذہ دستیاب نہیں تھیں۔اس کا ایک حل مقامی مذہبی رہنما نے ایک فتوی ٰ جاری کر کے دیا کہ لڑکیاں آٹھویں جماعت تک مرد اساتذہ سے پڑھ سکتی ہیں ۔اب سنٹرل ایشیا انسٹی ٹیوٹ کی امداد سے اس علاقے میں تین سکول چل رہے ہیں جن میں تین مختلف دیہات میں 210لڑکیاں زیر تعلیم ہیں ۔ان کی تعداد بڑھتی ہے یا کم ہوتی ہے ا س کاانحصار اب ریاست اور معاشرے پر ہے کہ وہ ان دونوں مسائل جن کا تعلق داریل اور پورے دیامر میں انتہا پسندی اور تشدد سے ہے ،سے کیسے نمٹتے ہیں ۔

تلخیص و ترجمہ: سجاد اظہر
بشکریہ ہیرالڈ شمارہ اکتوبر2018

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...