مذہب اور ہمارا عمومی رویہ

324

صاحبزادہ امانت رسول درس نظامی کے ساتھ یورپ سے اعلی ٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔وہ لاہور میں ایک ادارہ فکر جدید کے نام سے چلا رہے ہیں یہی ادارہ ماہنامہ ’’روحِ بلند ‘‘ بھی شائع کرتا ہے ۔صاحبزادہ امانت رسول ’’تجزیات‘‘ کے مستقل لکھاری ہیں ۔ان کی ان فکری مسائل پر گہری نظر ہے جن کا سامنا اسلام اور مسلمانوں دونوں کو ہے ۔مندرجہ ذیل مضمون میں بھی وہ مذہبے کے بارے میں ہمارے رویئے کو آشکار کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلام اور نبی کریم ؐ سے عشق و محبت اور علم و عمل کے مابین عدمِ مطابقت کیوں ہے ۔گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں جہاں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی نسبت صرف عقیدت کو ہی کافی سمجھ لیا گیا ہے ۔یہ مضمون اسی پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ مدیر

مذہب سے متعلق مذہب کے ماننے والوں کا عمومی رویہ اکثر طور پر جذبات پر مبنی ہوتا ہے۔ مذہب کی خاطر، وہ سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن اس پہ عمل کرنے کی رغبت کم ہی رکھتے ہیں۔کہتے ہیں مذہب کے لیے لوگوں سے جان مانگو جان دیں گے۔ مال مانگومال دیں گے۔ وقت مانگو، وقت نہیں دیں گے کیونکہ وقت دینا ہی عمل و پیروی کا پہلا قدم ہوتا ہے۔
’’جذبات پہ عقل کا پہرا ہو اور عقل پہ دین کا پہرا ہوتو وابستگی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے ورنہ یہ صرف ایک ’’عزت کا مسئلہ ‘‘بن کر رہ جاتی ہے۔ ‘‘مولانا محمود الحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ گفتگو کئی بار پڑھنے کے قابل ہے۔مولانا سید مناظر احسن گیلانی اپنے استاد حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کے درس کا ایک واقعہ سناتے ہیں:
بخاری شریف کا سبق ہو رہا تھا، مشہور حدیث گزری کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے مال، بال بچے اور سارے انسانوں سے زیادہ میں اس کے لیے محبوب نہ ہو جاؤں۔ فقیر نے عرض کیا کہ بحمد اللہ عام مسلمان بھی سرکارِ کائنات ؐکے متعلق محبت کی اس دولت سے سرفراز ہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ ماں باپ کی توہین کو تو ایک حد تک مسلمان برداشت کر لیتا ہے لیکن رسالت مآب کی ہلکی سی سبکی بھی مسلمانوں کو اس حد تک مشتعل کر دیتی ہے کہ ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ جان پر لوگ کھیل گئے ہیں۔
یہ سن کر حضرت نے فرمایا:’’ہوتا بے شک یہی ہے جو تم نے کہا۔ لیکن کیوں ہوتا ہے؟ تہہ تک تمھاری نظر نہیں پہنچی، محبت کا اقتضا یہ ہے کہ محبوب کی مرضی کے آگے ہر چیز قربان کی جائے، لیکن عام مسلمانوں کا جو برتاؤ آنحضرتؐ کی مرضیِ مبارک کے ساتھ ہے وہ بھی ہمارے تمھارے سامنے ہے۔ پیغمبر ؐنے ہم سے کیا چاہا تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں، اس سے کون ناواقف ہے؟ پھر سبکی آپ کی جو مسلمانوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے اس کی وجہ محبت تو نہیں ہو سکتی۔
خاکسار نے عرض کیا کہ تو آپ ہی فرمائیں، اس کی صحیح وجہ کیا ہے؟
نفسیاتِ انسانی کے اس مبصرِ حاذق نے فرمایا کہ: سوچو گے تو درحقیقت آنحضرت ؐکی سبکی میں اپنی سبکی کا غیر شعوری احساس پوشیدہ ہو تا ہے۔ مسلمانوں کی خودی اور انا مجروح ہوتی ہے۔ ہم جسے اپنا پیغمبر اور رسول مانتے ہیں تم اس کی اہانت نہیں کر سکتے۔ چوٹ درحقیقت اپنی اسی انانیت پر پڑتی ہے لیکن مغالطہ ہوتا ہے کہ پیغمبر ؐکی محبت نے ان کو انتقام پر آمادہ کیا ہے یہ نفس کا دھوکہ ہے محبوب کی مرضی کی جسے پروا نہ ہو، اذان ہو رہی ہے اور لایعنی اور لاحاصل گپوں سے بھی جو اپنے آپ کو جدا کرکے مؤذن کی پکار پر نہیں دوڑتا، اسے انصاف سے کام لینا چاہیے کہ محبت کا دعوی ٰاس کے منہ پہ کس حد تک پھبتا ہے۔’’احاطِ دارالعلوم دیوبندمیں بیتے ہوئے دن‘‘، صفحہ 153-154))‘‘
یہ وہ وابستگی ہے جس کا تعلق ’’عصبیت ‘‘سے ہے یا پھر ’’ملکیت ‘‘سے ہے۔ یہ جملہ کثرت سے سننے کو ملتا ہے’’ اگر کوئی تمہارے ماں باپ کو گالی دے تو تم کیا کرو گے‘‘؟ واضح بات ہے کہ اگر کوئی ’’ میرے ماں باپ‘‘ کو گالی دے گا تو مجھے غصہ آئے گا کیونکہ وہ ’’ میرے ماں باپ‘‘ ہیں۔ مذہب سے وابستگی میں بھی اس کے ماننے والوں کی یہی سوچ کار فرما ہوتی ہے کہ’’ میرے مذہب‘‘ کو برا بھلا کہا گیا ہے ’’ میرے مذہب‘‘ کے خلاف لکھا گیا ہے یعنی اصرار و زور ’’ میرے ‘‘ پہ ہوتا ہے۔ اگر مذہب سے میرا تعلق شعوری ہوتا تو اس کی تعلیمات کا رنگ میرے عمل ،کردار اور معاملات میں ضرور دکھائی دیتا ۔
اسی طرح شورش کاشمیری نے اختر شیرانی کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔:
’’شورش کاشمیری لکھتے ہیں:اختر شیرانی ایک بلانوش شرابی، محبت کا سخنور اور رومان کا تاجور تھا۔ لاہور کے ایک مشہور ہوٹل میں چند کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے ،اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ وہ شراب کی دو بوتلیں اپنے حلق میں انڈیل کر ہوش و حواس کھو چکے تھے ،تمام بدن پر رعشہ طاری تھا۔ حتیٰ کہ دمِ گفتار الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زباں سے نکل رہے تھے۔ادھر اختر شیرانی کی انا کا شروع ہی سے یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو مانتے نہیں تھے۔ شاعر وہ شائدہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھے، انہیں بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔
کمیونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا، طرح دے گئے۔
جوش کے متعلق پوچھا، کہا : وہ ناظم ہے ۔
سردار جعفری کا نام لیا تو مسکرا دیئے۔
فراق کا ذکر چھیڑا تو ہوں ہاں کر کے چپ ہو گئے۔
ساحر لدھیانوی کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا، فرمایا : مشق کرنے دو۔
ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا : نام سنا ہے۔
احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا : میرا شاگرد ہے۔
ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا گیا،موڈ میں تھے۔ فرمایا: اجی! یہ پوچھو کہ ہم کون ہیں؟
یہ ارسطو ،افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیا غرض کہ ہم ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔آنکھیں مستی میں سرخ ہو رہی تھیں، نشے میں چور تھے، زباں پر قابو نہیں تھا۔ لڑکھڑاتی آواز سے شہ پا کر ایک ظالم کمیونسٹ نے چبھتا ہوا سوال کیا :
آپ کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
اللہ اللہ! نشے میں چور ،ایک شرابی۔ جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔
اور کہا : بدبخت اک عاصی سے سوال کرتا ہے ۔
اک روسیاہ سے پوچھتا ہے۔
اک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے ؟
غصے سے تمام بدن کانپ رہا تھا،اچانک رونا شروع کر دیا۔ حتی کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔
کہا : ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا ؟
تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟
گستاخ ! بے ادب۔
باخدا دیوانہ باش بامحمدؐہوشیار
اِس شریر سوال پہ توبہ کرو ۔میں تمہارے خبث باطن کو سمجھتا ہوں۔خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے۔ اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا، مگر اختر کہاں سنتے تھے۔ اسے محفل سے نکال دیا۔ پھر خود بھی اٹھ کر چل دیئے ۔
ساری رات روتے رہے ۔کہتے تھے، یہ لوگ اتنے بے باک ہو گئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔ ‘‘
ایسے واقعات اس وقت نقل کیے جاتے ہیں جب دنیا میں گستاخانہ خاکوں اور توہین مذہب کی ہوا چلتی ہے یا اسلامی دنیا میں کسی پہ توہین مذہب کا الزام لگتا ہے ۔اگر ہم اس واقعے کا تجزیہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اختر شیرانی صاحب شراب پیتے تھے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا اس واقعہ کے بعد انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی تھی؟ ایسے واقعات سے یہ پیغام پہنچتا ہے کہ ہم اپنے رسول اور اپنے مذہب کی پیروی تو نہیں کریں گے……….. چونکہ آپﷺ ’’ہمارے رسول ‘‘ہیں۔ اگر کسی نے خدانخواستہ ’’ہمارے رسول ‘‘کی گستاخی کی ہم اس کی جان لے لیں گے۔
اسلام ایک سچائی ہے ‘اس پہ جو عمل کرے وہ اُسے پالیتا ہے۔ اسلام کوئی جنسِ بازار تونہیں ہے کہ اسے آپ خرید لیں یا اس کی ملکیت حاصل کر لیں۔ آج وہ لوگ اسلام کے زیادہ قریب ہیں جن کے آباؤ اجداد مسلمان نہیں تھے۔ وہ پہلی نسل ہے جس نے اسلام قبول کیا۔ وہ اسلام کے زیادہ قریب اس لیے ہیں کہ وہ اخلاق و کردار میں اسلام کی تعلیمات کے قریب ہیں۔ ’’میرا‘‘ یا ‘‘ہمارا‘‘ جیسے الفاظ ہمارے خاندانی مسلمان ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جیسے خاندانی مکان ،خاندانی پراپرٹی اور خاندانی کاروبار ہوتا ہے۔
یہ بات بھی تو جہ طلب ہے کہ اسلامی تاریخ میں فقہائے کرام، علمائے کرام اور اسلاف وصالحین کی ایک بہت بڑی جماعت ہے جس نے علم و عمل سے محبت رسولؐ کی تعلیم دی۔ انہوں نے بتایاکہ اسلام سر اسر علم و عمل کا دین ہے۔ محبت رسولؐ بھی یقیناً ایک جذبہ ہے جو مسلمان کواخلاق کی اعلیٰ صفات سے متصف کرتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہم اِن تمام بزرگوں کے حوالے دینے کی بجائے اِن اشخاص کا حوالہ دیتے ہیں جنہوں نے فقط مخصوص حالات میں اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اس کے بعد جذبات کے برعکس زندگی بسر کرتے رہے۔ اگر اِن واقعات کے بیان کا مقصد اپنی بے عملی سے آنکھیں بند کرنا اور جذبات کو ہی کافی سمجھنا ہے تو یہ صرف اور صرف دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
سال ہا سال سے یہ فکر اور طرز عمل ہمارے ماحول میں پختہ ہو چکے ہیں کہ’’ روحِ محمدؐ کو ہمارے بدن سے نکالنے کی سازش کی جا رہی ہے‘‘ جبکہ روحِ محمدؐ ،ابتاعِ محمدؐ اور اطاعتِ محمدؐ کا نام ہے اور اس سلسلے میں کسی غیر کو سازش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ بحیثیت امت ہمارا زوال ونکبت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر ہم محبت اور عشق کو عمل واتباع سے علیحدہ کرتے ہیں تو اب اِس جذبے کو دنیا جس نظر سے دیکھتی ہے تو وہ سازش ہی دکھائی دیتی ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ محبت و عشق ہم میں حصول تعلیم ،اپنے معاشروں میں اصلاح، اور اعلیٰ کردار و اخلاق کا جذبہ پیدا کیوں نہ کر سکی۔ احمد جاوید کہتے ہیں کہ ’ہم تو برے ہیں مگر ہمارا دین اچھا ہے۔‘ یہ چالاکی اب نہیں چلے گی۔ ہمیں اپنی ذات سے، اپنے معاشرے سے اور اپنی ریاست سے دنیا کو دکھانا ہوگا کہ یہ ہیں اسلام کی برکتیں جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔عشق و محبت اور علم و عمل کے مابین عدمِ مطابقت …….. یہ ہم مسلمانوں کا المیہ بھی ہے اور ایک بڑا سوال بھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...