عالم اسلام اور عرب بہار

53

ڈاکٹر خالد مسعود کا شمار دنیا میں اسلامی فقہ کے چند بڑے ماہرین میں ہوتا ہے۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلا م آباد کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرجنرل اور ہالینڈ کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف اسلام کے ڈائریکٹر بھی رہے۔عدالتِ عظمی ٰ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے ایڈہاک ممبر بھی ہیں۔ڈاکٹر خالد مسعود سہ ماہی تجزیات اور تجزیات آن لائن میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ان کا حالیہ مفصل تجزیہ عرب بہار کے آٹھ سال بعد کی صورتِ حال کا احاطہ کرتا ہے اس کی اہمیت ا س لحاظ سے بھی دو چند ہے کہ عرب بہار کے بعد عالم اسلام آج کہاں کھڑا ہے اور جہاں پر موجود ہے وہاں پر عرب بہار سے اٹھنے والی تحریکوں کا کتنا عمل دخل ہے، یہ تمام زاویئے اس تفصیلی مقالے میں زیر بحث لائے گئے ہیں۔ مدیر

اکیسویں صدی کی دوسری دہا ئی سے دنیا میں تبدیلی کی ایک نئی لہرچلی جو اب تک جاری ہے۔۔ 2010ء سے2012ء تک عرب دنیا میں دھرنوں، جلسوں، احتجاجی مظاہروں کی سونامی آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عرب دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ تبدیلی کی اس لہر کو عرب بہار کا نام دیا گیا۔ عرب بہار کے بعد یہ لہر دوسرے ملکوں تک بھی پہنچی۔ پورے عالم اسلام میں تبدیلی آئی۔ اس کی نوعیت اور وسعت مختلف رہی لیکن سماجی، معاشی، فکری اور سیاسی طور پر سارے ہی ملک متاثر ہوئے۔ اس لہر کو اب آٹھ برس ہوتے ہیں۔ اس دوران ماہرین مختلف پہلووں سے اس کے تجزیے پیش کرتے رہے ہیں۔ ہمارا تجزیہ2012ء میں شائع ہوا تھا۔ لیکن اب آٹھ برس بعد اس کے ازسر نو تجزیے کی ضرورت ہے۔ موجودہ تحریر میں چند حالیہ علمی تجزیات کا جائزہ پیش ہے۔ تبدیلی کو انقلاب کا درجہ دینے سے جو توقعات وابستہ کی جارہی ہیں اور ان کے پورا نہ ہونے پر مایوسی کے جس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے وہ صورت حال کا محدود ادراک ہے۔ امید ہے تبدیلی کی اس لہر کی نوعیت سمجھنے سے اندیشوں کی اذیت میں کمی آئے گی۔
احتجاج کا آغاز18دسمبر2010ء کوتونس میں ہوا، 24 دسمبر کو الجزائر میں،14 جنوری2011ء کو اردن،17 جنوری کو عمان، 25 جنوری کو مصر، 27 جنوری کو یمن، 28جنوری کو جبوتی اور صومالیہ، 30 جنوری کو سوڈان، 14 فروری کو بحرین،17 فروری کو لیبیا،19فروری کویت، 20 فروری کو مراکو، 27 فروری لبنان،11مارچ کو سعودی عرب،15مارچ کو شام، 15 اپریل کو ایران،15 مئی کو مقبوضہ فلسطین (اسرائیل)،4 ستمبر2012ء کوفلسطین اور23دسمبر کو عراق میں بڑے پیمانے پرعوامی احتجاج ہوے۔ اس لہر کے نتیجے میں14 جنوری2011ء کو تونس کے زین العابدین بن علی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔11 فروری کو حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا گیااور23 اگست کو لیبیا کے معمر قذافی مارے گئے اور27 فروری2012ء کو یمن کے علی عبداللہ صالح ملک دست بردارہو گئے۔تونس، مصر، لیبیا اور یمن میں آمریت کا خاتمہ ہوا۔مصر میں احتجاج کے نتیجے میں حکمران پارٹی کی تحلیل کے بعد13سالہ ہنگامی حالت ختم ہوئی۔
اس لہر میں آمریت کے بڑے بڑے بت اتنی جلد اور اتنی تیزی سے گرے کہ اکثر لوگوں نے یہ سمجھا کہ تبدیلی مکمل ہوگئی اور تحریک کو کامیابی حاصل ہو گئی۔ لیکن جب اکثر ملکوں میں آمریت واپس آگئی تو مایوسی بھی پھیلی۔ حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی کی یہ لہر ختم نہیں ہوئی، جاری ہے۔ یہ دھاندلی، رشوت ستانی، بدعنوانی، جابرانہ اوراستحصالی نظام حکومت کے خلاف عوامی احتجاج ہے جس میں نوجوان نسل پیش پیش ہے۔ تبدیلی کی یہ تحریک عالمی تحریک ہے۔ یہ دوسرے ملکوں میں بھی پھیل رہی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں بھی اسی انداز کی تحریک وال سٹریٹ پر قبضے کے نام سے جاری ہے۔یہ لہر پاکستان میں بھی آئی ہوئی ہے۔ اس تحریک کا خصوصی پہلو سوشل میڈیا اور عوامی سیاست ہے۔ گلیوں اور سڑکوں پر دھرنے ہیں، بنیادی طورپر یہ پر امن احتجاج ہے جس میں کہیں کہیں تشدد کا عنصر اس وقت شامل ہو جاتا ہے جب حکومتیں اسے روکنے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ ابھی تک جہاں حکومتوں نے تشدد سے احتراز کیا ہے وہاں احتجاج پر امن رہے۔ اور خون خرابے کے بغیر تبدیلی آئی۔ چند ملکوں میں یہ تحریکیں اپنا اصل ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ جن حکومتوں نے سختی سے دبانا چاہا وہاں خانہ جنگی اور بعد میں بیرونی مداخلت سے مزید تباہی آئی۔
تجزیہ کاروں نے ان تحریکوں کا مختلف زاویوں سے مطالعہ کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ سب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ عالمی سیاست میں ایک نیا رجحان ہے جس میں انقلاب کی بجائے محدود تبدیلی کی بات ہو رہی ہے اور اس کے لئے پر امن احتجاج کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے نظام کے خاتمہ کے لئے انقلاب کی اصطلاح رائج تھی اور اکثر مسلح ہوتا تھا۔ اٹھارہویں صدی سے بیسویں صدی تک انقلاب زیادہ تر خونی تھے، دائیں بازو کے ہوں یا بائیں بازو کے۔ تاہم بعد میں انقلاب کا تصور بائیں بازو اور نظریاتی تحریکوں سے منسوب کیا جانے لگا۔ اسلامی سیاسی تحریکوں نے بھی انقلاب اور نظریہ کی اصطلاحیں اور بائیں بازو کی عسکری حکمت عملی، اور تنظیمی طریق کار اپنائے۔ لیکن ان کو وہ کامیابیاں شاذ شاذ مل سکیں جو بائیں بازو کی تحریکوں کو ملیں۔ انقلاب سے تبدیلی کا سفر حالیہ تجزیہ کاروں اور محققین کی نظر میں بہت اہم ہے۔ اس اہمیت کی بنا پر کئی زاویوں سے سوال اٹھائے گئے۔ عرب بہار کی کامیابی کو شروع میں جمہوریت کی فتح بتایا گیا۔ اس تجزیے میں دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تجزیہ کاروں کی نظر میں اسلامی فکر اور روایت جمہوریت کی تائید نہیں کرتے۔ خاص طور پر اس لئے کہ ان کے نزدیک جمہوریت اور سیکولرزم لازم وملزوم ہیں۔ آمریت کا خاتمہ ہی جمہوریت کہلایا۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں عرب بہار منظم اور نظریاتی تحریک نہیں تھی ا س لئے انہیں کسی انقلاب کی توقع نہیں تھی۔ ان کے خیال میں عرب بہار اسی لئے بہت جلد عرب خزاں میں تبدیل ہو کر ختم ہو گئی۔ بعض کہتے ہیں کہ عرب بہار نیو لبرلزم کی تحریک ہے جس کا دائیں یا بائیں کسی بازو سے تعلق نہیں۔ بعض کے نزدیک یہ مغربی طاقتوں کی اسلام اور عرب ملکوں کے خلاف سازش ہے۔ اس کا مقصد عرب ملکوں کو کمزور کرنا تھا تاکہ مغربی طاقتوں کو مداخلت کا موقع ملے۔
مندرجہ ذیل جائزے سے پتا چلتا ہے کہ عرب بہار پر علمی دنیا کیا سوچ رہی ہے۔ اس جائزے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم مختلف پہلووں سے سوچتے ہیں، اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس میں اختلاف بھی ہوتا ہے لیکن یہ لوگ نہ منقسم ہوتے ہیں، نہ مارنے دوڑتے ہیں۔ اختلاف کی قدر کرتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی سے گھٹن میں کمی آتی ہے، اختلاف سامنے آتا ہے تو انسان خود بھی سوچنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی ہمت کرتا ہے۔ آج کا میڈیا، اخبارات، ٹی وی، انٹرنیٹ سب ہر طرح کی معلومات مہیا کر رہے ہیں۔ اس میں یہ فیصلے کہ کیا قابل اعتبار ہے اور کیا مفید؟ قارئین اور ناظرین نے کرنا ہیں۔ ہم نے ذیل میں ان سب مختلف بلکہ متضاد آرا کو یکجا کر دیا ہے۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ لیکن اپنی رائے اپنے تک نہ رکھیں۔ بات سے بات نکلتی ہے اور پھر دیکھیے کہاں تک پہنچتی ہے۔
عرب بہار
احتجاج کی اس تحریک کو مغربی میڈیا نے عرب سپرنگ یا عرب بہار کا نام دیا۔ بہار کا استعارہ یورپی تاریخ میں 1848ء میں یورپ میں انقلابی لہر کے لئے استعمال ہوا تھا۔ یہ لہر فرانس سے شروع ہوئی اور پورے یورپ میں پھیل گئی۔ اسے مختلف ناموں سے یاد کیا گیا، عوام کا موسم بہار، اقوام کا موسم بہار۔ بہار کا استعارہ عوام پر جبر کے دور کے خاتمے اور عوامی قوت کے اظہار کے معنوں میں استعمال ہوا۔ بعض کے نزدیک یہ بادشاہت کے زوال کے بعد قومی ریاستوں کے قیام کی جانب اشارہ تھا۔ عرب بہار کے نام سے مغربی مبصرین کے ہاں ان سارے حوالوں کی یادوں اور خواہشوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ جب بھی مشرق وسطیٰ میں کوئی سیاسی تبدیلی آئے تو وہ اسے آزادی، انقلاب، جمہوریت کی آمد قرار دے کر بہار کا نام دے ڈالتے ہیں۔اس خواہش کی بے تابی کا اظہار عراق میں سیاسی تبدیلی پر بھی ہوا جب امریکی حملے کے نتیجے میں نئی حکومت کو عرب سپرنگ کا نام دیا گیا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے تونس اور مصر میں سیاسی تبدیلیوں کے لئے عرب سپرنگ کا نام سب سے پہلے2012ء میں امریکی رسالے فارن پالیسی میں چھپے ایک مقالے میں لیا گیا۔الجزیرہ کے بقول یہ اصطلاح امریکہ کی خارجہ حکمت عملی اور مشرق وسطیٰ میں سیاسی تبدیلی کے اہداف کے منصوبے کا نام ہے۔اس سے مراد امریکی طرز کی جمہوریت کا قیام ہے۔ اسلامی ممالک میں انتخابات کی گہما گہمی کے لئے بھی اسلامی بہار کی اصطلاح مقبول رہی۔ جب اسلامی پارٹیوں نے کامیاب ہوکر حکومتیں بنائیں اور کچھ ہی عرصے فوجی اقتدار نے انہیں نکال باہر کیا تو بعض صحا فیوں نے اس پر اسلامی خزاں کی پھبتی بھی کسی۔
عرب دنیا میں نام کا انتخاب زیادہ بہتر رہا۔ تیونس میں اسے ثورۃ الکرامہ یعنی انسانی وقار کا انقلاب کا نام دیا گیا۔ کیونکہ بو العزیزی کا احتجاج بلدیہ، پولیس اور شہر کے ناظم کے ہاتھوں تذلیل اور تحقیر آمیز سلوک کے خلاف تھا اس تحریک کو جاسمین انقلاب بھی کہا گیا کیونکہ چنبیلی تیونس کا قومی پھول ہے جس کی بھینی بھینی خوشبو بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ تاہم مقبول نعرہ الشعب یرید اسقاط النظام (عوام کا عزم ،موجودہ نظام کا خاتمہ) تھا۔ کیونکہ یہ احتجاج اس جبر کے نظام کو بدلنا چاہتا تھا۔ اسے النہضہ یا بیداری کا نام بھی دیا گیا۔ یہ احتجاجی مظاہرے زیادہ تر جمعہ کے دن ہوتے تھے اس لئے عرب اخبارات میں جمعہ کو یوم الغیظ یعنی غم وغصہ کا دن بھی کہا جاتا تھا۔ عربی میں اسے الربیع العربی بھی کہا گیا۔مشرق اور مغرب میں وجہ تسمیہ کی یہ رنگا رنگی احساسات اور تجربات میں فرق کی آئینہ دار بھی ہے اور ان کی خواہشات اور توقعات میں تفاوت کی مثال بھی۔
عرب بہار کے تجزیات میں مبصرین میں بھی بہت تفاوت پایا جاتا ہے۔اکثر کے خیال میں یہ جمہوریت کی تحریک تھی۔ لیکن جب اس کے نتیجے میں نہ استبدادی نظام کا خاتمہ ہوا اور نہ حالات قابو میں رہے تو دوسرے نقطہ ہائے نظر پیش کئے جانے لگے۔ مسلم مبصرین میں مقبول تجزیہ امریکہ اور مغرب کا دنیائے اسلام پر مغربی تہذیب کے غلبے کا منصوبہ تھا۔ اسے مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی فروغ دیا اور اسلام کو خطرہ قرار دینے والے گرو ہوں نے بھی۔ اسی اثنا متوازن تجزیے بھی سامنے آئے۔ محققین کے نزدیک یہ انقلاب کی بجائے مطلق العنان حکمرانی اور استبدادی نظام میں عام آدمی کی تذلیل کے خلاف احتجاج کی تحریک تھی۔اس کے عوامل میں قانون کی عدم حکمرانی، معاشی استحصال، غربت، بیکاری اور بنیادی حقوق کی پامالی شامل تھے۔ لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ بات برسر اقتدار طبقے کی عوامی مسائل و مشکلات سے بے اعتنائی تھی۔ جس نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ یہ مزاحمت کا اظہار تھا جو2000ء سے مزدوروں، سول سوسائٹی کے مظاہروں اور ادیبوں اور شاعروں کے لبوں پر آیا۔ تاہم اس کی پشت پر کوئی منصوبہ سازی نہ ہونے کی وجہ سے اسے انقلاب کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
سوال یہ ہے کہ استبدادی نظام کیوں ختم نہیں ہو سکا؟ ذیل میں پیش چند حالیہ تجزیات اس کا جواب پیش کرتے ہیں۔

تاریخ، خبرنگاری اور سوشل میڈیا
سوال کا واضح جواب نہ ملنے کی ایک وجہ میڈیا اور عرب بہار کے واقعات کی خبر نگاری میں مشکلات بھی تھیں۔ کئی وجوہات کی بنا پرمیڈیا کے لئے یہ کام بے حد مشکل تھا۔ ایک تو حالات بہت پیچیدہ تھے۔ پھر واقعات کے بارے میں نقظہ نظر بھی مختلف تھے اور آراء بھی متضاد۔ ہر تجزیہ کار اس بات پر مصرتھا کہ حقیقت وہی ہے جو اس نے بیان کی۔ فیصلہ کیسے ہو کہ کونسی رائے معتبر ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں پہلے کی نسبت بہت زیادہ تنوع تھا۔ اس مرتبہ موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال بہت تھا۔ یہ کہنا مشکل تھا کہ کونسی خبر کتنی اہم ہے اس کا فیصلہ کیسے اور کون کرے۔ ان تمام باتو ں کو دیکھتے ہوئے اور عرب بہار کے واقعات کی اہمیت کے پیش نظر بی بی سی نے جون 2011ء میں فیصلہ کیا کہ بی بی سی کی خبر نگاری کے بارے میں غیر جانبدارانہ تجزیہ کرایا جائے۔ یہ ذمہ داری سالزبرگ گلوبل سیمینار کے وائس پریذیڈنٹ ایڈورڈ مارٹایمر کو سونپی گئی جو مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ہیں۔
سالزبرگ رپورٹ جون2012ء میں مکمل ہوئی جوخبروں کی131 رپورٹوں، متعد د لوگوں سے بات چیت اور خبروں کے ذرائع کی تفصیلی چھان پھٹک کے بعد تیا ر ہوئی ۔اس رپورٹ میںیوں تو عمومی طور پر بی بی سی کی کارکردگی پر اطمینا ن کا اظہار کیا گیا۔ لیکن موضوع کی اہمیت اور حساسیت کو سامنے رکھتے ہوے ہم صرف ان خامیوں اور تنبیہات کا ذکر کریں گے جو اس تجزئیے میں بیان کی گئی ہیں۔ اس تجزیے کے مطابق حسنی مبارک کے زوال کے بعد بی بی سی کی مصر کے بارے میں دلچسپی تقریباً ختم ہو گئی اور خبروں میں مصر پر توجہ نہیں رہی۔۔ ایسے لگتا تھا کہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے یا کیا ہونے والا ہے اب اس کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ بی بی سی کی ساری توجہ اب لیبیا کی طرف تھی۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ برطانوی افواج کی شرکت، برطانیہ میں کرنل قذافی کی شخصیت کا متنازعہ ہونا یا لیبیا میں جنگ کی ڈرا مائی نوعیت جوزیادہ خبریت کی حامل تھی۔ تاہم لیبیا میں باغی قوتوں نے انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں کیں ان خبروں کو ثانوی حیثیت حاصل دی گئی۔ بحرین کے بارے میں خبروں میں تسلسل نہیں رہا۔ یہ بات کہ بحرین میں سنی اقلیت کو خطرہ تھا کہ بحرین ایران کے زیر اثر نہ آجائے خبر نگاری پر چھائی رہی۔ شام کی خبروں میں کوتاہیاں اور بھی زیادہ تھیں۔ حکومت کے مخالفین اور ان کی قوت کے بارے میں صحیح تجزیے سامنے نہیں آئے۔اقلیتوں کے بارے میں اور علاقائی صورت حال پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی۔ یمن، الجزائر، مراکو اور ایران کے بارے میں خبریں غائب ہو گئیں۔ سعودی عرب سے خبریں اور تجزیے بالکل ہی کم اور عراق کا ذکر تو تقریباً ختم ہو گیا۔ مشرق وسطی ٰکے بارے میں دوسرے ملکوں کے ردعمل کی بجائے ساری توجہ اس پر رہی کہ برطانیہ، فرانس اور امریکہ کیا سوچ رہے ہیں یا کیا کر رہے ہیں۔ روس، چین، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ میں کیا سوچا جا رہا تھا اس کی بھی کوئی خبر نہیں تھی۔
بی بی سی کے شعبہ ادارت نے ان خبروں کو بے ربط اور بے سمت چلنے دیا۔ نہ ان کی درستی کے بارے میں کوئی حکمت عملی اختیار کی، نہ نامہ نگاروں کی رہنمائی کی اور نہ ہی ان خبروں کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لئے کوئی قدم اٹھایا۔ رپورٹ نے اس زمانے کی74فیصد خبروں کو مشکوک قرار دیا۔ قارئین اور ناظرین کی اکثریت بھی ان خبروں کی صحت اور غیر جانبداری پر مطمئن نہیں تھی۔ ناظرین کا سب سے بڑا گلہ یہ تھا کہ نامہ نگار موقع پر موجود نہیں تھے۔ موبائل کے ذریعے خبریں اکٹھی کی گئیں۔ برقی ابلاغ اور روز کے اخبار میں زیادہ فرق نہیں رہا۔ شام میں خاص طور پر صورت حال بہت نازک تھی۔ لیکن یہ بات بی بی سی کی خبر نگاری میں نظر نہیں آتی تھی۔ شام میں بی بی سی کی نمائندہ ملک کی شہری ہونے کی وجہ سے دباؤ میں رہیں اور زیادہ تر خبریں ملک سے باہر سے آئیں۔
انٹرنیٹ پر دستیاب مواد
اینتھونی الیساندرینی (2016) نے اپنی رپورٹ ’’ عرب بہار کا وا قعہ ہوا ہی نہیں‘‘ میں تجزیات نگاری میں بدلتے رجحانات کو ایک نئے اور دلچسپ پہلو سے دیکھا ہے۔ اس نے گوگل پر مختلف برسوں میں سر فہرست تحقیقی مقالات کا تجزیہ کیا اور بتایا کہ ان سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہی نہیں۔2010ء سے2012ء تک کے مقالات میں مسرت اور سرخوشی کا اظہار پایا جاتا ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ انہی دنوں یورپ اور امریکہ میں ’’وال سٹریٹ پر قبضے‘‘ کی ایک امن پسند تحریک بھی چل رہی تھی۔ اس تحریک نے عرب بہار کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوے یہ بیان دیا کہ ہم عرب بہار کی انقلابی حکمت عملی کا بہت دلچسپی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ہم بھی امن پسندانہ احتجاج کے قائل ہیں تاکہ زندگی کو خطرے میں ڈالے بغیر احتجاج کو رواج دیا جائے۔ ہم اس طریقہ کار کو اپنے مقاصد کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ سرخوشی2012ء کے بعد کے مقالات میں نظر نہیں آتی۔
2012ء کے بعد پریس میں گفتگو اس انقلاب کی کامیابی یا ناکامی پر شروع ہوگئی۔ گویا یہ طے ہو گیا تھا کہ یہ انقلاب ختم ہو چکا۔ اب اس کے اسباب اور نتائج پر بات ہوسکتی ہے۔2012-2014ء کے دوران بی بی سی پر اس سوال پر بحث رہی کہ عرب بہار میں کون جیتا اور کون ہارا؟ اکانومسٹ نے سوال اٹھایا کہ کیا عرب بہار ناکام رہی؟ گارڈین میں مباحثے کا عنوان تھا: عرب بہار پانچ سال بعد، یہ سب غلط ہوا۔ سی این این میں عرب بہار پر گفتگو کے لئے یہ عنوان چنا گیا:عرب بہار کے بعد: بدعنوانی، رشوت ستانی میں اضافہ۔ اس رجحان کے پیچھے امریکہ میں نئی اقتصادی حکمت عملی کا آغاز تھا جس میں امریکہ اور اس کے اقتصادی ایک نئی لبرل تشکیل کی مفاہمت اور باہمی تعاون کے معاہدے پر اس زاویے سے غور کر رہے تھے کہ مشرق وسطیٰ میں انقلاب مخالف عناصر کی کیسے مدد کی جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تعاون کا ذکر انگریزی پریس اور میڈیا میں نہیں آیا۔ بائیں بازو کے دانشور بھی خاموش رہے۔اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد کہ عرب بہار ختم ہو گئی تو نئی حکمت عملی کے تحت ایک جانب تو یمن پر حملوں اور اس علاقے میں تشدد، اور قتل و غارت کی تائید کی جانے لگی کہ اب مزید عرب بہارکی ضرورت نہیں، دوسری جانب شام، عراق اور عرب دنیا میں جنگی صورت حال کے سبب آبادی کا انخلا شروع ہوا تو اس کی مخالفت شروع کی گئی۔ جب ان مہاجرین نے یورپ اور امریکا کا رخ کیا تو امریکہ اور حلیف ملکوں نے مل کر پناہ گزین مخالف حکمت عملی اپنائی۔
2014ء میں دانشوروں نے عرب دنیا اور اسلام کے بارے میں ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا جو مغرب میں جاری پرانے استشراقی بیانیے سے مختلف تھا جس کے مطابق عرب بہار کی لہرنے جس دہشت گردی کو جنم دیا تھا وہ ختم نہیں ہوئی، جاری رہے گی۔ یاد رہے کہ استشراق کو صرف اسلام مخالف قرار دے کر بہت سے مسلم دانشور نے مغرب اور مشرق کی تقسیم کے اس بیانیے کو ایمان کا حصہ بنا لیا جو یورپی استعمار اور مستشرقین نے اپنی تہذیبی برتری کے جواز کے لئے وضع کیا تھا۔ استشراق کا نیا بیانیہ بہت سادہ تھا۔ جس میں دہشت گرد اور پناہ گزین دو ہی کردار تھے۔ دہشت گرد برائیوں کی جڑ اور پناہ گزین ان کا شکارہیں۔ دہشت گردوں کا خاتمہ اور پناہ گزینوں سے احتیاط اس کے دو اصول تھے، یہ نیا استشراقی بیانیہ ان کا جواز مہیا کرتا ہے۔ دہشت گردوں سے نفرت اور انتقام اور مہاجروں سے ہمدردی کی ضرورت ہے۔ تاہم مہاجرین کے بارے میں سخت احتیاط درکار ہے کیونکہ ان کے ساتھ یا ان کے بھیس میں دہشت گرد مغربی ملکوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس نئے استشراق میں مشرق اور مغرب میں ثقافتی سے زیادہ مذہبی تفریق پر زور دیا گیا۔ اس کی نظریاتی توجیح یوں کی گئی کہ عرب بہار کی تحریک عدم تشدد کی تحریک تھی جو سوشل میڈیا تک محدود رہی اور ٹی وی سیریز کی طرح جلد ختم ہو گئی۔ عرب بہار کے بعد یہ تحریک دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جا چکی ہے جو اسلامی ریاست کے نام سے تباہی پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان سب کا خاتمہ ضروری ہے۔الیساندرینی نے اپنے انداز میں اس نتیجے کو یوں بیان کیا ہے کہ امریکہ اپنے اقتصادی حلیفوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ عرب بہار کا واقعہ حقیقی نہیں تھا۔ فکر نہ کریں حالات ہمارے قابو میں ہیں۔ ہم جب چاہیں انقلابات برپا کر سکتے ہیں اور جب چاہیں ان کو اسی طرح روک سکتے ہیں۔ یہ بیا نیہ مثبت اور منفی دونوں معنوں میں عرب اور اسلامی دنیا میں بہت مقبول ہوا۔
ایران میں بھروز غماری تبریزی نے2016ء میں ’ایران میں فوکو‘ کے عنوان سے ان بیانیوں کا تجزیہ کرتے ہوے لکھا کہ عرب بہار کی تحریک اب ایسے مرحلے سے گذر رہی ہے جب اسے سب کام چھوڑ کراس انقلاب کے مقصد کی حفاظت کرنا ہے تاکہ اس تحریک کو اس کے بعد کے اثرات سے بچایا جائے۔
سوال یہ ہے کہ عرب بہار کے وقت سیکولر اور متوسط طبقے اور نوجوان کیوں آگے آئے؟ عرب بہار کے آخری دور میں حزب مخالف اور اسلامی پارٹیاں کیوں پیش پیش نظر آئیں ؟
متوسط طبقے اور نوجوانوں کے آگے آنے کا بڑا سبب غربت کی شرح میں اضافہ، اقرباپروری، رشوت اور بڑھتی ہوئی بے کاری تھے۔ ان کا اثر براہ راست انہی طبقات پرپڑتا تھا۔ مطلق العنان حکمرانی کے طویل دور میں ظلم اور جبر اور سیاسی جوڑ توڑ کی فضا میں انصاف اور اہلیت کی قدر نہ رہی۔ حکومتی اخراجات میں اضافہ سے مہنگائی قابو سے باہر ہوگئی۔ اس سے غریب طبقہ تو متاثر ہوا لیکن با اثر طبقات پرجو حزبِ مخالف اور اسلامی پارٹیوں کا حصہ تھے زیادہ اثر نہیں پڑا۔
عرب دنیا کی اوسط آمدنی میں آزادی کے بعد 50فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ لیکن1980ء سے اوسط آمدنی کی شرح گرنے لگی۔1990ء میں یہ شرح 25 فیصد رہ گئی۔ زرعی شعبے میں ریاست کی طرف سے رعایات ختم کرنے سے غربت بڑھنے لگی۔ مصر، اردن، مراکو اور تونس میں روٹی کے مسئلے پر احتجاجی مظاہرے اسی زمانے میں ہوئے۔1980ء سے پہلے قدامت پسند اور عوامی دونوں قسم کی حکومتوں نے رفاہی اداروں کو ترقی دی تھی۔ اس لئے غربت کی شرح بہت کم رہی۔2005ء میں غربت کی شرح مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ دونوں میں 7فیصد تھی۔ جب کہ مشرقی ایشیا میں39 فیصد، جنوبی ایشیا میں 74 فیصد اور افریقہ میں 73 فیصد تھی۔ زوال کی ابتدا2000ء سے ہوئی۔ لاطینی افریقہ اور افریقہ میں 1990ء میں سیاسی انقلابات شروع ہو گئے لیکن مشرق وسطیٰ محفوظ رہا۔ مشرق وسطیٰ میں سیاسی آزادی پہلے ہی محدود تھی۔ انقلابات کے خوف کی وجہ سے 1980ء کے بعد سیاسی آزادی پر مزید پابندیاں لگیِ۔2010ء میں سیاسی آزادی کا تناسب کم ترین درجے پر آگیا۔تاہم بیرونی طاقتور ریاستوں کی پشت پناہی کی وجہ سے آمریت کا اقتدار طویل ہوتا گیا۔
2005ء میں158 ملکوں کی فہرست میں مصر رشوت ستانی میں 70ویں نمبر پرتھا اور تیونس34 ویں نمبر پر۔2008ء میں 180 ملکوں کی فہرست میں مصر115ویں اور تونس 26ویں نمبر پر آگیا۔ خاندانی سرمایہ داری کو عروج ملااور چند خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہوگئی۔ آزادی کے بعد حکومت کا حصہ زیادہ تر متوسط طبقہ کے لوگ تھے جس میں ماہرین تعلیم، ڈاکٹراور انجنیئرتھے۔ حکومت اور ریاست سے الگ ان کی واضح سوچ نہیں تھی۔1990ء میں اقتصادی تبدیلی سے غربت میں اور زیادہ اضافہ ہونے سے ایک جانب ریاست کی خود مختاری کمزور ہوئی۔ مارکیٹ اکانومی سے کاروبار متاثرہوا۔ متو سط طبقہ جو صنعت میں حصہ لینے لگا تھا اس کی زد میں آگیا۔
سوشل میڈیا، نوجوان نسل
لنڈا ہریرا (2014ء) نے اپنی کتاب ’’ برقی تاروں سے جڑے شہری، تعلیم اورسیاست میں سرگرم عمل نوجوان نسل‘‘ عرب بہار اور اس کے بعد کے دور میں نوجوانوں کے کردار کو بہت اہم قرار دیا ہے۔ ان کے بقول مشرق وسطیٰ کے بارے میں اعلیٰ درجے کی تحقیق میں نئی نسل کی بڑی تعداد شامل ہے اور ان میں خواتین پیش پیش ہیں۔ یہ سب عملی جدو جہد میں حصہ لے رہے ہیں۔ عرب دنیا، ایران، ترکی، پاکستان اور جنوبی یورپ میں گذشتہ دو دہائیوں میں ریاست اور شہریوں کے مابین عمرانی معاہدہ بہت تیزی سے شکست و ریخت کا شکار ہوا ہے۔ بارہ سے تیس برس کی عمر کی نوجوان نسل کی بہت بڑی تعداد موجود صورت حال کے خلاف احتجاج میں شامل ہے۔ اس کے لئے انہوں نے نئے علمی افق، نئے معاشی ذرائع، نئی سیا سی سرگرمیاں، نئے سماجی میدان، اور نئے مجازی علاقے دریافت کئے ہیں۔ وہ اب سائیبرکی دنیا میں بھی نئے موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں، جن میں تعلیم کے بارے میں انقلابی نظریات، مواصلات کے عمرانی پہلو، نئی سماجی تحریکیں، اور نوجوانوں کے بارے میں مطالعات کے نئے مناہج شامل ہیں۔
نئی نسل ایک طرح سے عرب بہار ہی کی پیداوار ہے۔ یہ نوجوان باہم متحد اور مماثل اکائی تو نہیں جسے صنفی، مذہبی، طبقاتی یا علاقے سے منسوب کیا جائے۔ تاہم انہیں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی دنیا سے مربوط ہونے کی وجہ سے ’’برقی تاروں سے جڑی نسل ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ان کے عالمی رابطے زیادہ تیز اور وسیع ہیں۔ ابھی ان کے بارے میں تحقیق بہت محدود ہے۔ محققین کی زیادہ تر توجہ انٹرنیٹ میں نوجوانوں کے باہمی رابطوں پر ہے اور سیاسی پلیٹ فارموں اور افقی رابطوں کے بارے میں ہی اعداد و شمار جمع ہوے ہیں۔ انٹر نیٹ پر بھی لیڈر کے بغیر سیاسی تحریک اور عمل پر بہت لکھا گیا ہے۔ لیکن زیادہ تفصیلی تجزیوں کی ضرورت ہے۔
لنڈا ھریرا کی کتاب میں شامل فوزیہ رحمن کا مقالہ ’’ہم سب ملالہ نہیں‘‘ پاکستان میں نیو لبرلزم پر کڑی تنقید ہے۔ انہوں نے ملالہ یوسف زئی کی کہانی کے پس منظر میں بہت سے پاکستانی، برطانوی، اور امریکی اداروں کے روابط تلاش کئے ہیں۔ لیکن اس سوال پر توجہ نہیں دی کہ آیا سوشل میڈیا نے صرف ٹیکنالوجی فراہم کی ہے یا ٹیکنالوجی نظریاتی طور پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔امریکہ کے انتخابات میں فیس بک کے کردار کے بارے میں یورپ اور امریکہ میں عدالتوں نے بھی یہ سوال اٹھائے ہیں۔
سوشل میڈیا نے نئے الفاظ بھی دیے ہیں اورمروجہ اصطلاحات کو نئے معانی بھی پہنائے ہیں۔ انٹرنیٹ کی تاروں اور لہروں سے جڑی اس نئی ریاست کے شہریوں نے کئی نئے عمرانی معاہدے تحریر کئے اور بہت سی نئی شرائط پر دستخط کئے ہیں۔ عرب بہار کے بعد ان نئے شہریوں نے ایران میں سبز تحریک (2009ء) اور ترکی میں تکسیم چوراہے (2012ء ) کے نام سے نئے احتجاج کی بنا ڈالی ہے اور نئی مجازی سلطنتیں قائم کی ہیں۔
تاریخی تجزیات
جدید دور میں تاریخ نگاری وقائع نویسی نہیں رہی، نظریاتی سمجھی جاتی ہے۔ دو قطبی دور میں تاریخ نگاری کے دو نظریے تصادم اور جدلیاتی فلسفہ تاریخ کے طور پر غالب رہے۔ اس کشمکش کے اثرات ایران کے انقلاب کے مطالعات میں بھی دیکھنے میں آئے اور اب عرب بہار کی تاریخ میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ عرب بہار کے بعد جدلیاتی فلسفے میں دو نئے زاویے ما بعد استعماری اور مابعد اسلامی کے نام سے سامنے آئے ہیں۔ ابھی یہ بحث جاری ہے کہ یہ دونوں نظریے مابعد جدیدیت کی طرح جدیدیت پر تنقید قبل از جدیدیت روایت پرستی اور عقل بیزاری کے احیا کا نام ہے یا استعماریت اور سیاسی اسلام کی نئی تشکیل ہیں۔
یورپی استعمار کے بعد متعدد سیاسی نظام اقتدار میں آئے ان کا بیانیہ یہی تھا کہ یورپی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور اب استعمار کے بعد قومی حاکمیت کا زمانہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں نظریات کی بنیاد پر متعدد نئے اقتدار وجود میں آئے جو بتدریج آمریت میں تبدیل ہو گئے۔ معمر قذافی نے عمر مختار کی جگہ لی تو حسنی مبارک نے جمال عبد الناصر کی۔ اس عہد میں تین قسم کے نظریات سامنے آئے۔ تیسری دنیا کا سوشلسٹ نظریہ، استعمار مخالف قومیت اور عسکری اسلامی سیاست۔ ان تینوں نظریات نے علمی تصور کے لحاظ سے عروج اور زوال کی منزلیں بہت جلد طے کرلیں۔ اب جو حکومتیں اقتدار میں آئیں گی ان کا واسطہ اس قسم کے علمی تصورات اور نظریات سے نہیں ہوگا۔ آصف بایات نے ان کے لئے مابعد اسلام کی صحیح اصطلاح انتخاب کی ہے۔ ہم اس کے لئے مابعد نظریات کی اصطلاح بہتر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ معاملہ صرف اسلام کا نہیں تمام نظریات کا ہے۔ یہ سب اب تاریخ کا حصہ ہو چکے۔ یہ علمیات میں بہت اہم تاریخی موڑ ہے جس میں اسلام اور مغرب کی دوئی اب مابعد استشراق میں گم ہو گئی ہے۔ مغرب اور مشرق میں تفریق بے معنی ہو چکی ہے۔ بلکہ اب مغرب کا نظریاتی وجود باقی نہیں رہا۔ عالمی سرمایے اور دنیا بھر سے محنت کشوں کی مہاجرت نے نئی قسم کی عالمی معیشت اور سلطنت قائم کی ہے۔
حمید دباشی (عرب بہار، مابعد استعمارکا اختتام،2012ء) کی رائے میں عرب بہار اصل میں نظریاتی تشکیل کے عہد کا اختتام ہے جسے ہم مابعد استعمار کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ عالم اسلام ہی نہیں پوری دنیا ایسے انقلابات کے خواب دیکھ رہی تھی۔ فرانس میں 1789ء، یورپ میں1848ء، روس میں کے انقلابات نے1917ء اور1948ء میں برطانیہ کی برصغیر سے واپسی، اور اس کے بعد الجزائر سے فرانس کی اور لیبیا سے اٹلی کی واپسی کے بعد سے عرب بہار جیسے انقلاب کا انتظار تھا۔عربی زبان میں اس کے لئے نعرہ تھا: الحریہ، العدالۃ الاجتماعیہ، و الکرامہ (آزادی، سماجی انصاف اور وقار)۔ ایسے انقلاب کے لئے عوام بھی تیار تھے اور حالات بھی سازگار تھے۔ کمی تھی تو سیاسی اور سماجی یکجہتی کی۔ یہ کمی نقصان دہ تو تھی لیکن اس سے احتجاج کا دائرہ پھیل گیا۔ یہ پھیلاؤنظریاتی وحدت کے لئے تو مددگار نہیں تھا لیکن اس کے دروازے سب کے لئے کھلے تھے۔ اس لئے اس میں تمام تنظیمیں شامل ہوتی گئیں۔ یہ صورت حال جمہوری ریاست کے لئے مفید تھی کیونکہ اس میں عوامی طاقت کے لئے میدان موجود تھا۔معاشی قوتوں اور انقلاب مخالف تنظیموں کے مقابلے کے لئے عوام کی شرکت ضروری تھی۔
ایم ای میکملن (2016ء) نے بھی اپنی کتاب ’’ پہلی عالمگیر جنگ سے عرب بہار تک، مشرق وسطیٰ میں دراصل ہوا کیا ؟‘‘ میں عرب بہار کے حالیہ سیاسی خلفشار کے ڈانڈے بیسویں صدی میں یورپی ملکوں کی باہمی جنگوں میں دریافت کئے ہیں جو ان استعماری طاقتوں نے اپنے جھگڑے چکانے کے لئے مشرق وسطیٰ میں لڑیں۔ عرب خلفشار کے اسباب بھی اندرونی سے زیادہ بیرونی ہیں۔ اس میں یورپ کی روایتی طاقتوں کا بڑاہاتھ ہے۔المیہ یہ ہے کہ جنگیں کسی نظریے کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اپنے اپنے مفادات کے لئے لڑی جاتی ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ پرانی روایتی جنگیں بھی استعماری تھیں۔ برطانیہ نے مصر میں، فرانس نے الجزائر میں اور جرمنی نے ترکی میں ایک دوسرے کے خلاف اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے محاذ کھولے۔ انہی کی وجہ سے یہ ممالک کمزور ہوئے۔ عثمانی سلطنت کی شکست و ریخت سے پورا مشرق وسطیٰ یورپ کے استعمار کا میدان بن گیا۔ مشرق وسطیٰ کا جغرافیہ غیر فطری حد بندیوں میں تبدیل ہو گیا۔ قبائلی طاقت پر مبنی استحکام اور سماجی اور سیاسی نظام درہم بر ہم ہوگئے، نئی سماجی تشکیل میں مذہبی فرقہ واریت کو غلبہ ملا۔ نئی نسلی قومیتیں ابھریں۔ برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ملکوں نے باہمی معاہدوں سے مشرق وسطی ٰکے ٹکڑے کئے اور غیر منطقی نقشے بنا کر علاقے کو نہ ختم ہونے والی جنگوں میں الجھا دیا۔ فلسطین جو یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں سب کی مقدس سرزمین تھا انہی طاقتوں کی بندر بانٹ کی وجہ سے مسلسل تشدد اور قتل و غارت کا میدان بن گیا۔
میکملن کے مطابق اکثر استعماری مؤرخین نے عرب اور اسلام کی تاریخ کے بارے میکانکی نظریہ اپنایا جس کی رو سے تاریخ کا دھاراایک متعین اور مقرر قاعدے سے چلتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ، عرب دنیا اور اسلام کی تاریخ کو اسی میکانکی نظریہ سے جانچا جاتا ہے۔ اسے استشراق کا نام بھی دیا گیا ہے۔ نے جدید تاریخ نگاروں کے اس استشراقی میکانکی نظریے کو رد کیا ہے کہ عالمی تاریخ میں عرب دنیا کی حیثیت استثنائی ہے۔ یہاں ہر واقعہ تاریخ کے عمومی قاعدے سے ہٹ کر وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر نے عرب بہار کو بھی ایک غیر متوقع حادثہ بتایا ہے۔ ان کے نزدیک عرب دنیا ایک ایسی کمزور عمارت کی طرح ہے جسے معمولی سا حادثہ بھی زمیں بوس کر ڈالتا ہے۔ یہ مؤرخین یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ساری دنیا میں جمہوریت آ سکتی ہے لیکن عرب دنیا میں آمریت اور استبداد کے خاتمے اور جمہوریت کے رواج کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کہنا کہ عرب میں جمہوریت مذہب اور عرب ثقافت کی وجہ سے نہیں پنپی صحیح نہیں۔ یہ کہتے ہوئے عالمی سیاست اور عالمی اقتصادیات کے اہم کردار کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
میکملن کا اس کے برعکس یہ استدلال ہے کہ عرب تاریخ استثنائی نہیں بلکہ مسلسل ہے۔ مصر میں اموی ملوکیت سے لے کر جمال ناصر تک عسکری قوت اور تہذیبی روایت نے تسلسل اور استحکام دیا۔آمریت اور جابرانہ طرز حکومت نے جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔ قرآنی اصولوں کی بجائے موروثی حکمرانی اور اقتدار کی قوت سے حکومتیں قائم کی گئیں۔ اس لحاظ سے عرب اور اسلامی تاریخ مغربی تاریخ سے مختلف نہیں۔ نوجوانوں کا احتجاج اسی جبر کے خلاف تھا۔ مشرق وسطی ٰمیں آج بھی سوال یہی ہے کہ اسلام کا ترجمان کون ہے؟ سعودی عرب میں اس سوال کا جواب سعودی اور وہابی تعاون میں تلاش کیا گیا۔ ایران میں ولایت فقیہ اور مصر میں سیاسی اسلام کو آزمایا گیا جوحزب اختلاف کے بغیر ایک جماعت کی حکمرانی کا قائل ہے۔ عمومی زاویے میں بہت سے اندرونی عوامل جیسے رشوت ستانی اور بدعنوانی نظر انداز ہوتے ہیں۔ عرب بہار کے بعد کے دنوں میں سیاسی اسلام کا کردار بھی اہم ہے، اسی طرح عرب دنیا میں بعد از استعمار بھی اختلافات ہیں۔
میکملن نے آخر میں لکھا کہ انسان اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ سمجھتا ہے کہ تاریخ کا جبر عارضی ہے۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لئے سماجی نظام پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو ثقافتی روایت پر بنیاد کی وجہ سے غیر متبدل لگتا ہے۔
بسام حداد (شام میں بغاوت کے چھ سال2016ء) کا کہنا ہے کہ چھ سال پہلے شام میں جو بغاوت شروع ہوئی تھی اب آمریت کے خلاف جمہوری احتجاج سے علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں اصل فریق بین الاقوامی طاقتیں اپنے پیادوں کی پشت پر لڑ رہی ہیں۔ یہ مختلف طاقتیں مسلسل اس کو شش میں ہیں کہ اس علاقے کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ بدل ڈالیں۔ تاریخ کا یہ نقطہ نظر کہ تاریخ غلبے اور طاقت کی کہانی کا نام ہے ابھی غلط ثابت نہیں ہوا۔ صرف اس کی توجیحات بدلتی رہتی ہیں۔
آصف بایات(2017ء) تاریخ کا مطالعہ جدلیاتی زاویے سے کرتے ہیں انہوں نے عرب بہار کو ’’انقلابیوں کے بغیر انقلاب ‘‘ کا نام دیا ہے۔ انہوں نے عرب بہار کے تجزیے کے لئے ایران کے انقلاب کو تقابل کا نمونہ بنایا ہے۔ ان کے خیال میں دونوں واقعات مختلف تاریخی سیاق سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1970ء ۔2010ء دو مختلف انقلابی لہریں تھیں۔ ایران انقلاب کی اور عرب بہار احتجاج کے ذریعے تبدیلی کی تحریک تھی۔ تبدیلی اور انقلاب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انقلاب مکمل اور بنیادی تشکیل نو کا مطالبہ کرتا ہے اور تبدیلی جزوی ہوتی ہے۔ انقلاب کے لئے نظریاتی کارکن درکار ہیں اور ان کی جد و جہد بہت کٹھن عمل کا نام ہے۔ تبدیلی احتجاجی تحریک ہے جس میں تفریح، رقص اور گیت سے بھی کام لیا جاتا ہے تاکہ نوجوانوں کو پر امن رکھاجا سکے۔
دراصل تبدیلی کی تحریکیں نئے لبرلزم میں سیاسی عمل کا تصور ہے جو تشدد کی راہ پسند نہیں کرتا۔ انقلابی تحریکیں زیادہ منظم اور ان کے اہداف زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ 1970ء کے انقلابات کے مسائل میں سامراج کے خلاف بغاوت، معاشی ناہمواری اور عدم مساوات کو مٹانا اور دولت کی مساویانہ تقسیم شامل تھے۔ نئی لبرل تحریکوں کا احتجاج سیاسی احتساب، جمہوریت کے قیام، بنیادی انسانی حقوق، اور اقتدار میں عوام کی شرکت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی سے پتا چلتا ہے کہ ان چالیس سالوں میں عالمی سیاست کتنی بدل گئی ہے۔ آلین بادیو قاہرہ کے میدان تحریر کا نقشہ کھینچتے ہوے راستے کی بندشوں، کارکنوں کی پولیس اور فوج سے جھڑپوں، گولیوں ،زخمیوں اور ان کی دیکھ بھال کے خیموں اور کھانوں کا ذکر کرتا ہے۔ جس میں کسی قدر اشتراکی انقلابیت سے مماثلت ملتی ہے۔ لیکن یہ خونی انقلاب نہیں بلکہ استبدادی ریاست کے خلاف رسمی لبرل جمہوریت کے مطالبے کی تحریک کا نقشہ ہے۔ سلاو زبزک کے الفاظ میں عرب بہار ایسے عالمی سیاسی واقعات کا نام تھا جو نہ کسی قبضے کا مطالبہ کرنے والی تنظیم کا کارنامہ تھے، نہ کسی کرشماتی شخصیت کا اثر تھے، اورنہ کسی عوامی سیاسی قیادت کا کام تھے۔ ان سب میں جو عوامی خواہش کارفرما تھی وہ ایسی سچی اور سادہ جمہوریت کا تصور تھا جو اس منظم اور آہنی سرمایہ داری نظام کو بے نقاب کر سکے جو عوام سے ان کا منہ کا نوالہ چھین رہا تھا۔
یورپ اور امریکہ کو یقین تھا کہ بات اس سے آگے نہیں بڑھے گی، لیکن جب بات آگے بڑھنے لگی اور ان کے اقتصادی حلیفوں نے دیکھا کہ احتجاج ہاتھ سے نکلا جارہا ہے تو پرانے نظام کی واپسی کا راستہ ہموار کرنے میں لگ گئے۔ فوج، پولیس، عدالتی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ پرانی سیاسی پارٹیوں کے تانے اسی طرح قائم تھے۔ تجارتی ادارے اسی طرح جاری تھے۔ پرانے نظام کی واپسی میں کوئی دقت پیش نہ آئی، 2012ء میں مصر میں فوج کا قبضہ ہوگیا۔
2012ء کے بعد سے احتجاجی بھی مایوس ہوکر واپس جانے لگے۔ ایک احتجاجی نے کتبہ اٹھایا ہوا تھا؛ آدھا انقلاب، انقلاب کے منافی ہے آصف بایات کے مطابق عرب بہار انقلاب کی تحریک نہیں تھی۔ لیبیا اور شام میں احتجاج خانہ جنگی میں بدل گیا۔ بیرونی فوجی مداخلت سے جنگ اور بھی طویل ہو گئی۔ دو قطبی دور بھی واپس آگیا۔ بعض عرب ملکوں نے امریکہ سے اور بعض نے روس سے رشتے بحال کئے۔ عرب بہار کا اپنا کوئی نظریاتی ایجنڈا نہیں تھا۔ سیاست اور معیشت میں فرق کا ادراک بھی نہیں تھا۔ نتائج میں کامیابی بھی مشکوک تھی۔ تونس، مصر اور یمن میں آمروں کا زوال جلد آنے سے اسی زوال کو کامیابی سمجھا گیا۔ یہ یقین ہو گیا کی تحریک انجام کو پہنچی۔ اہم بات یہ تھی کہ نئی سیاسی دنیا میں مساوات، رفاہی ریاست اور انقلاب کی بجائے ہدف ذات، انفرادی آزادی،آزادمعیشت اور ریاست کی جگہ سول سوسائٹی منزل تھے، یہ خواب تبدیلی کے خواہش مندوں اور قدامت پسندوں دونوں کو یکساں پسند تھے۔
سیاسی تجزیات
سیاسی تجزیات میں نظریاتی زاویے سے زیادہ ریاست کی اداراتی تشکیل مرکز توجہ رہی ہے۔ اس زاویے سے عرب بہار اور تبدیلی کی لہر کا جائزہ ریاست سے تصادم اور بغاوت کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ہم لائیڈن یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں2015ء میں پیش کئے تحقیقی مقالے کا ذکر کرتے ہیں جس میں عرب بہار کا مطالعہ ریاست کے ساتھ تصادم اور تعاون کے سیاق و سباق میں کیا گیا۔ لاوریس آرنوت کرستیان فان دیر پول نے اس احتجاجی تحریک کو ریاست کے خلاف بغاوت کے تناظر میں دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ یہ بغاوت مصرمیں کامیاب اور الجزائر میں ناکام کیوں ہوئی؟ اس نے اس دور میں احتجاج اور بغاوت کی مختلف تحریکوں کے جائزے میں عرب ملکوں کے علاوہ ترکی، کریمیا، وینزویلا، تھائی لینڈ اور امریکہ میں وال سٹریٹ پر قبضہ تحریک کا نام لیا ہے۔ یہ تحریکیں بعض ملکوں میں کامیاب لیکن اکثر ناکام رہیں۔ محقق کے خیال میں مصر کے بعد الجزائر میں اس کی ناکامی کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مصر میں انقلاب سے پڑوسی ملک اسرائیل کو یہ خطرہ ہو گیا تھا کہ یہ انقلاب اسرائیل پر اثر انداز نہ ہوجائے۔ اس لئے عالمی برادری نے اسے دوسرے ملکوں میں روکنے کی کوشش کی۔
مقالہ نگار کے مطابق عرب بہار اچانک نہیں آئی۔ عرب ملکوں میں2000ء کے بعد سے ہوش ربا گرانی خصوصاً اشیائے خوردو نوش کی مہنگائی میں اضافہ عوامی بے چینی کا سبب بننے لگا۔2007ء میں روٹی کے بارے میں فسادات ہوے اور2008ء میں عالمی مہنگائی سے معاشی بدحالی بڑھنے لگی۔ احتجاج پر امن تھے لیکن سختی سے روکنے کی کوشش میں عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوتا گیا۔ معاشی صورت حال کی بہتری کے لئے عالمی برادری نے مصری حکومت کو نجکاری کا مشورہ دیا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ حکومت نے ایمرجنسی نافذ کی تو امریکہ نے2010ء میں مداخلت کی تو معاشی حالات مزید خراب ہو گئے۔ مقالے میں بغاوت کے اسباب اور اس کو روکنے اور قابو پانا تحقیق کا مرکزی موضوع ہے۔ اور اسی زاویے سے مصر اور الجزائرکا موازنہ کیا گیا ہے۔مقالہ نگار کے مطابق علم سیاسیات میں بغاوت کے اسباب کے تجزیے کے دو طریقے رائج ہیں۔ ایک ریاست کی طاقت کے ڈھانچے پر توجہ دیتا ہے اور دوسرے میں بغاوت کے پھیلاؤ کی نوعیت کے نقطہ نظر سے غور کیا جاتا ہے۔ ریاستی طاقت میں آمریت کے طرز حکومت کو زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے لیکن آمریت میں بھی بغاوت فرو کرنے کے لئے ریاست کی مضبوطی کا دارومدار سیاسی جماعت پر ہے اور وہ تبھی ہے جب اس طاقت کی جڑیں عوام میں ہوں۔ اس کی حمایت منقسم نہ ہو۔
اس موضوع پر جدید سیاسی ماہرین میں مختلف رائیں پائی جاتی ہیں۔ لوکان وے کے مطابق حکومت کو طاقت ریاست کی نظریاتی بنیادوں پر تشکیل سے ملتی ہے۔ سکاٹ راڈنٹز کی رائے میں حکومت کی طاقت کا دارو مدارمستحکم معیشت اور اس پر آمر کا مکمل اقتدار ہے۔ سکاٹ ولیمسن کے بقول حکومت کی طاقت سے مراد بغاوت کو دبانے اور روکنے کی صلاحیت ہے۔ ولیمسن یہ کام وفادار فوج اور والیری بنس کے نزدیک مؤثر مواصلاتی رابطوں سے ممکن ہے۔ مقالہ نگار نے ان تمام قواعد کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق عوامی بغاوت کی کامیابی یا ناکامی میں1۔ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ۔2۔ با اثر طبقات کی حمایت۔ اور 3۔ عوام کی تربیت۔بہت اہم ہیں۔
مقالہ نگار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مصر میں ریاست کا ڈھانچہ کمزور ہو گیا تھا اور با اثر طبقات نے حکومت کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ لہٰذا بغاوت کامیاب ہوئی۔ الجزائر میں بااثر طبقات کی حمایت حاصل رہی اور ریاست کا ڈھانچہ قائم رہا اس لئے بغاوت ناکام ہوئی۔ تیونس میں معیشت مضبوط تھی۔ لیکن حکومت کی ساکھ کمزورتھی۔ تاہم بغاوت کی کامیابی کا بڑا سبب عوام کی تربیت تھی۔ حکومت کی جانب سے بار بار تشدد کی کاروائیوں سے عوام مزاحمت کے طریقے سیکھ چکے تھے اور دوسری جانب ان کے عوامی رابطے بہت مضبوط تھے اس لئے تیونس میں بغاوت کامیاب رہی۔
ریمانڈ ہنے بش (2015، عرب بہار سے عرب خزاں تک) کے مطابق سب کا خیال تھا کہ عرب بہار کے بعد جمہوریت آئے گی۔ چار سال بعد جمہوریت سرے سے منظر سے ہٹ گئی۔ آمریت صرف بحال ہی نہیں ہوئی وہ پہلے سے زیادہ جابر بن کر واپس آئی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس فرق کا باقاعدہ تجزیہ کیا جائے تاکہ پھر سے جمہوریت کی طرف سفر شروع ہو۔
بعض تجزیہ نگاروں نے کہا کہ بغاوت کے وقت ریاستوں کی تشکیل ایسی تھی کہ سب نے اپنے استحکام کے لئے نئے راستے تلاش کرنا شروع کر دئے۔ کسی کے پاس تو اختیار ہو۔ بغاوت کے فوراً بعد ہر ریاست نے اپنے اندر باہم مخالف سماجی قوتوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً مصر اورتیونس میں حکومت مخالف اور فوج کے اداروں میں صدر کی معزولی پر اتفاق حاصل کیا گیا تاکہ ریاست کو بچایا جائے۔ اور یوں بہت پر امن طریقے سے اقتدار منتقل کیا جائے۔ شام میں صدر نے فوج کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے کر اقتدر کی منتقلی کا راستہ روک دیا۔ مصر اورتیونس میں ثقافتی وحدت نے بھی ریاست کی ناکامی سے پیدا ہونے والے ممکن انتشار کے آگے بن باندھ دیا۔ البتہ تیونس میں مفاہمت کی روایت کی وجہ سے سیاست دانوں نے عین وقت پر نئے کھیل کے نئے قواعد باہمی رضامندی سے طے کر لئے۔ مصر میں ایسا نہ ہوسکا اور سیاست دانوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ مصر اور شام میں خارجی مداخلت کو موقع ملا اور ان کے ہاں جو توازن پیدا ہوا تھا وہ جلد ہی کمزور پڑگیا۔تیونس میں صنعت اور محنت کشوں کی تنظیموں میں مصالحت نے خارجی مداخلت کی ضرورت اور مداخلت کا موقع پیدا نہیں ہونے دیا۔ تیونس میں امن پسند فوجی اداروں، معتدل سیاسی اسلام، اور مضبوط ٹریڈ یونین نے اختیارات میں توازن قائم رکھا۔ مصر میں طاقتور فوجی ادارے کی سیاست میں دخل اندازی نے انقلابی تبدیلی کا دھارا الٹ دیا۔ شام میں مضبوط فوج اور انتہا پسند سیاسی اسلام نے مسائل کے عسکری حل کو رواج دیا اور ریاست مختلف علاقوں اور گروہوں میں بٹ کر رہ گئی۔ بالآخر تیونس تو غیر ملکی مداخلت سے بچا رہا لیکن شام اور مصر جنگی معیشت کا حصہ بنتے گئے۔
آئینی اور قانونی پہلو
نمر سلطانی (2017ء ) نے اپنی کتاب ’’قانون اور انقلاب میں عرب بہار کے بعد قانون کی حکمرانی‘‘ کا جائزہ لیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ تحقیق انقلابات اور ان کے درمیان سماجی تغیرات میں قانون اور آئین کے کردار پر بات کرتی ہے۔ عرب بہار نے سیاسی ہی نہیں فکری بحران بھی پیدا کیا۔ اس تحریک کے دوران بہت سے نظریات کی اصل حقیقت سامنے آئی۔ اس تحقیق میں خاص طور پر چار تصورات یعنی قانونی جواز،انقلاب، قانونی حیثیت، اور آئینی نوعیت بہت متاثر ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر قانونی جواز اور انصاف دو مختلف تصورات ہیں۔ انقلاب کسی قانونی جواز کے سقم کی بنا پر برپا ہو سکتا ہے لیکن انقلاب اس سقم کے تصور میں خرابی کا حل فراہم نہیں کرسکتا۔ چنانچہ انقلاب کی موجود صورت حال کو غیر قانونی ثابت کرنے اور اس کی جگہ نئے نظام کو جائز کرنے جواز کے دوسرے طریقوں کو غیر مستحکم یا غیر منظقی قرار دینا پڑتا ہے۔ نمر سلطانی نے ان تمام مباحث اور نکات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خود ان مباحث نے کئی نئے آئینی اور قانونی تصورات کا دروازہ کھولا ہے۔ ان میں ایک بڑا موضوع انسانی حقوق کا ہے۔
عرب بہار اور انسانی حقوق
ادارہ برائے مطالعات انسانی حقوق کی رپورٹ میں عرب بہار کے حوالے سے انقلاب کے اثرات میں احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کے رواج اور عروج اورجمہوریت کی بنا پر انسانی حقوق میں پیش رفت کا اعتراف کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام کی حکمرانوں سے باز پرس کے لئے تحریک کو کامیابی ملی ہے۔ اس اس رپورٹ میں اس انکشاف کو بھی حیران کن بتایا ہے کہ عرب معاشرت میں ثقافتی اور مذہبی تنوع موجود ہے۔ مصر، تیونس، لیبیا اور یمن میں پہلی مرتبہ سیاسی تکثیریت کا پتا چلا ہے۔ تاہم نئے سیاسی نظام کے بارے میں غیر یقینی صورت حال تشویش ناک ہے۔ استبداد اور جبر کی روایت جاری رہنے اور سیاسی اسلام کے کردار پر بھی بحث کی ہے۔ ہمیں ادارے کی حیرانی پر حیرانی ہے۔ لیکن اس بات کی خوشی ہے کہ اپنے سوا ساری دنیا کو ایک خانے میں ڈالنے کارجحان بدل رہا ہے اور تنوع کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے بارے میں ابھی تک پرانی سوچ کار فرما ہے۔ مذہبی اور غیر مذہبی ریاست، شریعت، طالبان اور اسلام کے خوف سے باہر نہیں نکل رہے۔ مغربی دنیا میں بھی قدامت پسند، متشدد، اور عسکریت پسندی کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ عرب بہار نے دونوں جانب کے مثبت اور منفی رجحانات کو بے نقاب کیا ہے۔ عرب دنیا میں تبدیلی کے رجحانات کے مقابلے میں امریکہ، اسرائیل، آسٹریلیا اور بعض یورپی ممالک میں بڑھتی ہوئی قدامت پسندی نئی عالمی صورت حال کے لئے خطرناک ہے۔
معاشی تجزیات
مشرق وسطیٰ میں جدلیہ ادارے نے معاشی تجزیات پر مبنی ملانی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں مارکیٹ اکانومی کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اس کے زیر اثر فلاحی ریاست کے تصور اور کارکردگی ختم ہوتی جارہی ہے۔ سرمایہ کاری کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔ خاندانی سرمایہ کاروں کے عروج نے نئی معاشی صورتوں کو جنم دیا ہے جو سرمایہ کاری سے زیادہ وفاداری کے اصول کی پابند ہیں۔ مطلق العنان گروہ سیاست پر چھا جانے سے متوسط طبقے کا عمل دخل ختم ہوتا جارہا ہے۔ ان تبدیلیوں سے معاشی میدان میں ریاست پیچھے ہٹتی جارہی ہے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ حکمران طبقے کی نئی تشکیل اور ترتیب میں سرمایہ کاری کے نئے میدان بن گئے ہیں۔ جو عوام کی فلاح کی بجائے سرمایہ کار خاندانوں کی فلاح کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اقربائی سرمایہ کاری رشوت ستانی اور بدعنوانی کو اتنے بڑے پیمانے پر لے گئی ہے کہ مروج قانون اور معاشیات کے اصول اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔
رپورٹ میں سوال یہ اٹھایا ہے کہ یہ تبدیلی2010ء میں ہی کیوں؟
1990ء تک عرب دنیا معاشی لحاظ سے بہتر تھی۔2010ء میں فلاحی منصوبے ختم ہونا شروع ہوے تو کیوں؟
آزادی کے بعد عرب دنیا میں ریاست، آئین اور قانون کی حکمرانی کے تصور نے معاشیات کو بہتر بنایا۔ عوام کی فلاح کے منصوبے اسی دور میں شروع ہوے۔1980ء سے فلاحی پروگراموں میں کمی شروع ہوی۔ لیکن یہ تبدیلی کا عامل نہیں بنی کیونکہ اس سے فوری طور پر معیشت متاثر نہیں ہوئی۔2000ء تک معاشی طور پر حالات بہتر تھے اس لئے معاشی مسئلہ مشکلات کا باعث نہیں سمجھا جاتا تھا۔ فلاحی معیشت ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ یہ درست ہے کہ معاشی طورپر عرب دنیا سب سے آگے نہیں تھی۔ تاہم یہاں حالت دوسرے ملکوں سے بہتر تھی۔ معاشی بد حالی اتنی نہیں تھی۔2008ء میں عالمی کساد بازاری کے اور اشیائے خوراک اورتیل کی قیمتیں بڑھنے، اور بین الاقوامی افراط زر کے اثرات عرب ممالک پر بھی پڑے۔ توانائی کے شعبے میں رعایتوں سے تنخواہوں اور دوسرے عوامی فائدے کے اخراجات بہت متاثر ہوے۔ متاثر۔ تاہم2009ء تک دیگر بہت زیادہ منفی عوامل ساتھ مل گئے تو 2010ء میں معاشی بد عنوانی بھی ان بڑے عوامل میں گنی جانے لگی جو تبدیلی کے مطالبے کی بنیاد بنے۔
سیاسی اسلام
عرب بہار میں سیاسی اسلام کا کردار بھی کھل کر سامنے آیا۔ کہیں واضح برتری کہیں کم لیکن ہر ملک میں سیاسی اسلام کی اہمیت مسلّم تھی۔ متوسط طبقے کی حکمران طبقہ سے علیحدگی میں سیاسی اسلام کے کردار کے دو رجحانات بہت واضح نظر آتے ہیں۔ایک کا تعلق سیاسی نظریات سے تھا اور دوسرے کا سماجی مسائل سے۔
سیاسی نظریات: 1990ء کے بعد اخوان المسلمون کے سیاسی نظریات اور سرگرمیوں میں بتدریج ایک تبدیلی بہت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہ تبدیلی اہل قتدار کے لئے بظاہرکم خطرناک لگتی ہے۔2004ء میں اخوان نے اعلان کیا کہ وہ آئین اور جمہوریت کے پابند ہیں۔ انتخابات میں بھر پورحصہ لیں گے۔ فکری آزادی کی مکمل حمایت کریں گے۔ ترکی میں اے کے پی اور تیونس میں النہضہ کے نظریات اور اقدامات میں بھی بدلاؤآ رہا تھا۔ حکومت کی جانب سے بھی مخالفین کے ساتھ تعلقات اور رویے میں بدلاؤ دکھائی دیا۔ شہری حقوق اور خواتین کے کردار اور خارجہ پالیسی کے مسئلے میں باہم مخالف فریق ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ انتہا اورشدت پسندی میں کمی آئی۔ تاہم عوامی رائے کے جائزے سے ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ عرب دنیا میں عوامی رائے اور سیاسی اسلام دونوں میں جمہوریت کے بارے میں مکمل اتفاق نہیں تھا۔ عوام اکثریت کی ترجیح کو جمہوریت سے تعبیر کرتے تھے جبکہ سیاسی اسلام جمہوریت کی اس تعریف کے خلاف تھے۔2000ء کے ایک جائزے کے مطابق سیکولر افراد کی اکثریت جمہوریت کے حق میں تھی۔ سیاسی اسلام کے ماننے والوں میں جمہوریت پسندوں کا تناسب سیکولر کے مقابلے میں کم تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی اسلام کے اقتدار کے خوف سے لوگ حکمرانوں کے جبر کو قبول کرنے پر مجبور تھے۔ اسی وجہ سے آمریت کو استحکام ملتا تھا۔ عرب بہار کے بعد سیاسی اسلام کا خوف کم ہوا تو عوام کی جانب سے مطلق العنان رویوں کی مخالفت میں بھی شدت آئی۔
سماجی مسائل: سیاسی اسلام نے رشوت کے انسداد اور سماجی انصاف کا نعرہ بلند کیا تو متوسط طبقے میں مقبولیت بڑھی۔ عرب ملکوں میں آرا ء کے جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندانی سرمایہ کاری کے عروج کے دور میں سیاسی اسلام کی خاموشی یا اور ان مسائل میں پرزور حمایت نہ کرنے کی وجہ سے متوسط طبقہ ان سے بد ظن تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ غریب کے لئے سیاسی اسلام روایت پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ رائے شماری میں عام رائے سیاسی اسلام کے حق میں تھی۔ 2008ء کے بعد رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ متوسط طبقہ میں تعلیم میں اضافہ کے زیر اثر روایت پسندی پر تنقید شروع ہوئی تو سیاسی اسلام پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے۔
جدلیہ کے تجزیات کے مطابق1980ء میں عرب حکمرانوں نے ریاست کا کردار سمیٹنا شروع کیا لیکن آمریت نے جمہوریت کو راستہ نہیں دیا۔ اشرافیہ کے ایک حصے کو اور سرمایہ داروں کو اس سے بہت فائدہ پہنچا۔ انفرادی تعلقات بڑھے۔فوج اور پولیس سے روابط میں اضافہ ہوا۔ اس گٹھ جوڑ نے جبری نظام کو مستحکم کرنا شروع کیا۔ ریاست اور تجارت کے اداروں میں باہمی تعاون تو بڑھا لیکن کوئی کامیاب صنعتی حکمت عملی سامنے نہ آئی۔ تمام عرب ملکوں میں خاندانی اور اقربا پرور سرمایہ کاری ہی پروان چڑھی۔
جدلیہ کے تجزیات میں اس دور میں سیاسی اسلام کی کمزوری کی بڑی وجہ یہ تھی کہ سیاسی اسلامی نظریات کی بنیاد قرون وسطیٰ میں تشکیل پر رہی۔ نظریاتی ڈھانچہ بھی روایتی رہا۔ سیاسی اسلام پارٹیاں زیادہ تر 1920ء سے1940ء میں استعمار کے دور میں ابھریں۔ مضبوط قومی ریاست کا نظریہ ہیگل کے ریاست کے جامع اور مکمل اقتدار پر مبنی تھا جو یورپ کی بعض ریاستوں میں فاشزم کی شکل اختیار کر گیا۔ سیاسی اسلام میں بھی ریاست کے جامع اور مکمل اقتدار کا تصور حاکمیت الٰہیہ اور اور قانون کی جامعیت اور شمول کے نظریات پر مبنی تھا۔ ریاست کے اقتدار اور قانون سازی میں عوام کی شرکت حکمیت اور قانون کی حکمرانی کی نفی کے مترادف تھی۔ اسلامی جمہوریت آمریت اور ملوکیت کے منافی تھی اور شوریٰ اور مشاورت کے اصول پر قائم تھی۔ لیکن شوریٰ کے عمل میں آخری فیصلے کا رہی تھی۔ سیاسی اسلام میں ان اضطراری صورتوں کو اصول سے متصادم گردانتے ہوے ایک مثالی اور غیر حقیقی ریاست کا تصور پیش کیا۔ اس طرح جمہوریت اور قانون کی حکمرانی میں شبہات بڑھتے گئے۔ تنظیم اور نظم و ضبط پر زورکی وجہ سے انفرادی کی جگہ اجتماعی کردارکو زیادہ اہم قرار دیا گیا۔ اس سے فرد کی اہمیت کم ہوئی۔ امارت جمہوریت کی بجائے آمریت کے تصور سے قریب ہوتی گئی۔
اسلامی تاریخ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ صدر اسلام میں اجماع کا مطلب اتفاق رائے کی وہ صورت تھی جس میں سب لوگ یا اس دور کی اصطلاح کے مطابق امت کی اکثریت شامل ہو۔ فقہ اسلامی میں بھی اجتہاد اور اجماع میں رائے عامہ کی اہمیت تھی۔ بتدریج اجماع کی تعریف فقہا اور علما تک محدود ہوگئی۔ عوام اس میں شامل نہیں رہے۔ اس پیش رفت میں اجتہاد کا تصور بھی متاثر ہوا۔ عامی کے لئے تقلید ضروری ہوگئی کیونکہ وہ اجتہاد کا اہل نہیں تھا۔ صدر اسلام میں خلیفہ کے لئے مجتہد ہونے کی شرط تھی، لیکن امتداد زمانہ سے یہ اہلیت نایاب ہوئی تو مفتی اور قاضی کے لئے بھی مجتہد کی شرط ختم ہوگئی۔ اہل علم صورت حالات سے سمجھوتہ تو کرتے رہے۔ لیکن ان تبدیلیوں کو استثنائی اور اضطراری قرار دے کر وہ ہنگامی اور وقتی حل تلاش کرتے گئے۔ عملی طور پر یہ ہوا کہ یہ ہنگامی حل عملی طورپر قاعدے کی شکل اختیار کرتے گئے لیکن قانونی طور پر ان کو استثنا ہی سمجھا گیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ بنیادی حکمرانی کا تصور اصولی نظریات کی بحث میں غیر ضروری ہو گیا۔ حاکمیت الٰہیہ کی بحثوں میں عوام کی بنیادی نظریات، ان کے حقوق کی حفاظت، تعلیم، صحت، رہائش جیسی بنیادی ضرورتیں نظر انداز رہیں۔ آج کا احتجاج بد عنوانی کے خلاف ہے اور کم از کم اور بنیادی حقوق کا طالب ہے۔ یہ انقلاب کی تحریک نہیں، حکمرانوں اور اشرافیہ کی بے حسی نئی نسل کی چیخ و پکار ہے۔
ہمارے خیال میں عرب بہار نہ بہار ہے نہ عرب۔ اس کا تعلق نہ بائیں بازو سے ہے نہ دائیں بازو سے۔ یہ احتجاج ہے استحصالی حکمرانی کے خلاف۔ اس میں متوسط طبقہ اور نوجوان اس لئے پیش پیش ہیں کہ تیسری دنیا میں نوجوان آبادی پرانی نسل کے برعکس ملک کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھ کران کے بارے میں سوچتی ہے اور تبدیلی چاہتی ہے۔ وہ پرانی نسل کی طرح مایوسی کا شکار نہیں۔ دوسری جانب اس بات سے بھی مدد مل رہی ہے کہ یورپ اور امریکہ میں اوسط عمر میں اضا فے کی وجہ سے بڑی عمر کے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اس اضافے نے مغربی ملکوں میں قدامت پسندی کو مستحکم کیا ہے۔ تیسری دنیا کی آبادی میں اضافہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے جو کسی بڑے نظریاتی انقلاب کی نہیں بنیادی حکمرانی کو بہتر بنانے کی مطالبہ کر رہی ہے۔ قدامت پسند قوتیں اپنے اقتدار کی طولات کے لئے نوجونوں کو ہمیشہ پرانی ڈگر سے ہٹ کر نیا قدم اٹھانے سے منع کرتی ہیں۔ غلطیوں سے ڈراتی ہیں۔ مایوسی پیدا کرتی ہیں۔ آج بھی عالم اسلام میں روایت پسند طبقات اس تبدیلی کی تحریک کو انقلاب کا نام دے کر بلند توقعات اور مایوسی سے خوف زدہ کر رہے ہیں۔ توقعات اور مایوسی کے خوف پر ہی روایت کی دیواریں کھڑی کی جاتی ہیں۔ اور اسی خوف کے چکر میں مبتلا رکھ کر قدامت پسندی کا سیاسی اقتدار قائم رہتا ہے۔
مآخذ
Mansoor Moaddel, ‘‘Trends, Values, and Arab Spring’’, 2012.
Hamid Dabashi, The Arab Spring: The End of Post۔Colonialism. 2012.
BBC Trust, A BBC Trust report on the Impartiality and Accuracy of the BBC’s Coverage of Events Known as ‘‘Arab Spring’’, June 2012.
Toby Dodge, ‘‘After the Arab Spring: Power Shift in The Middle East’’, report, International Journal of Press/Politics, 2013.
Melani Cammett and Ishaq Diwan, Political Economy of the Middle East, Jadaliyya, 26 December 2013.
Husain Haqqani, Islamists and Arab Spring ‘‘Islamists and Democracy: cautions from Pakistan’’, Journal of Democracy, April 2013, 24: 2, 5۔14.
Sadiq al۔Azm, ‘‘Arab Spring and Political Islam’’, 2013.
Gadi Wolfsfeld et als, ‘‘Social media and the Arab Spring: Politics Comes First’’, The International Journal of Press/Politics, 2013.
Alfred Stepan and Juan J. Linz, ‘‘Democratization Theory and the ‘‘Arab Spring’’, Journal of Democracy, April 2013, 24:2, 15۔30.
Steven Hedemann, Tracking the Arab Spring, ‘‘Syria and the Future of Authoritarianism, Journal of Democracy, October 2013, 24: 4, 59۔73.
Linda Herrera, Wired Citizenship: Youth Learning and Activism in the Middles East, 2014.
?Fauzia Rahman, “We Are Not All Malala’: Children and Citizenship in
the Age of Internet and Drones”, in Linda Herrera 2014.
Anthony Alessandrini, The Arab Spring Never Happened, 2014.
Raymond Hinnebusch, editor, From Arab Spring to Arab Winter: Explaining the Limits of Post۔ Uprising Democratization, special issue of Democratization 22.2 (2015).
Laures Aernout Christiاan van der Poel, Unveiling the Arab Spring: How did uprising affect regime stability in Algeria and Egypt, 2015.
M.E. McMillan, From the First World War to the Arab Spring: What is really going on in the Middle East? 2016.
Bassam Haddad, The Syrian Uprising Six Years on: Causes, Dynamics, Prospects. 2016.
Behrooz Ghamari, Foucault in Iran, 2016.
Nimer Sultany, Law and Revolution: Legitimacy And Constitutionalism after the Arab Spring, 2017
Asef Bayat, Revolution without Revolutions, making Sense of the Arab Spring, 2017.

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...