اقتصادی راہداری: خواہشات و توقعات

196

پاکستان اور چین کی قیادت اقتصادی راہداری بیانیے کی سحر انگیز ی کے بعد اب حتمی طور پر اس کے حقیقت پسندانہ  مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔اگرچہ اس عمل کے نتائج مستقبل میں ہی ثمر آور ہو سکیں گے تاہم ہر دوممالک ایک دوسرے سے وابستہ توقعات کو حقیقت پسندانہ بنانے کے عمل کا آغازکرچکے ہیں۔

اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہِ چین پر پاکستان میں بہت سے لوگ چین کی جانب  سے بڑے معاشی پیکج یا کم از کم6 ارب ڈالر کے پیکج کی پیش گوئی کررہے تھے۔ان توقعات کی وجہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت کے علاوہ چین کے پاکستان سے جڑے اقتصادی راہداری خواب کی تعبیر بھی تھی جس کے ذریعے چین پاکستان کے راستے اپنی تجارت کو عالمی معیشت سے جوڑنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔جیسا کہ اب محسوس بھی ہورہا ہے کہ چین اس منصوبے کی جد از جلدتکمیل میں انتہائی دلچسپی لے رہا ہے۔شاید چین کو2013 میں اس منصوبے کے افتتاح کے وقت ایسی بے یقینی کی توقع نہ تھی۔

درحقیقت اس وقت دونوں حکومتیں خطے کی تقدیر بدل دینے جیسے نعروں کے سحر میں مبتلا تھیں۔اب دونوں حکومتیں اس خواب سے باہر آئی ہیں اور اقتصادی راہداری کے علاوہ بھی بڑے پیمانے پر باہمی تعاون کی راہیں تلاش کرنے لگی ہیں۔اقتصادی راہداری منصوبہ اس وقت متعارف کروایا گیا جب پاکستانی معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی اور پاک امریکہ تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر تھے۔ان حالات میں  پاکستان نے چین اور اس سے متعلقہ اس منصوبے کو ایک کایاپلٹ  معاشی و دفاعی منصوبےکے طور پر دیکھنا  شروع کردیا  جبکہ چین  پاکستان کے لیے امریکہ کا متبادل بننے کی بجائے پاکستان کے  علاقائی  اقتصادی تعاون کے ذریعے اپنے ایک خطہ ۔ ایک راہداری منصوبے کی کامیابی پر نگاہ مرکوز رکھے ہوئے تھا۔درحقیقت ابتدائی مرحلے میں  اس منصوبے سے متعلق دونوں ممالک کے مختلف تحرکات کا منطقی جائزہ لیا گیا تھا نہ ہی دونوں ممالک کو اس حوالے سے در پیش مشکلات کا اندازہ تھا۔چین کے لیے یہ منصوبہ عالمی رابطے کا ذریعہ جبکہ پاکستان کے لیے اس کی حیثیت پاکستان کے علاقائی، معاشی اور تزویراتی مسائل کے تریاق کی سی تھی۔

پاکستان نے داخلی طور پر چین دوست ماحول پیدا کیا  یہاں تک کہ پاکستانی حکومت اور افسر شاہی نے دیگر علاقائی ممالک سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی جانب سےپاکستان  میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی۔ابتداً چینی کمپنیوں کے لیے یہ صورتِ حال حوصلہ افزا تھی  مگران معاہدوں کو عام کرنے اور ان میں شفافیت کے  لیے پڑنے والے دباؤ نے  جلد ہی انہیں ناراض کردیا۔علاوہ ازیں علاقائی اور تزویراتی معاملات میں پاکستان کا چین پر انحصار بڑھنا شروع گیا۔

ایک مبصر نے ان حالات پر بہت دلچسپ پیرائے میں تبصرہ کیا ہے کہ  چین کو علاقائی اقتصادی عزائم کی تکمیل کے لیے ایک شراکت دار چاہیے  جبکہ پاکستان ایک امریکہ کی تلاش میں ہے۔پاکستان اپنی تزویراتی ضرورتوں کے تحت خارجہ پالیسی کی مرکزیت بشمول چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی افزائش  کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی تناظر میں چین کے اپنے خواب ہیں   جن  میں چین عالمی قوتوں کے رہنما کے طور پرخود کو دیکھتا ہے۔ایک خطہ۔ ایک راہداری چین کے خوابوں کی تعبیر کی کنجی ہے۔علاقائی  رابطے کےاس منصوبے کے ذریعے چین  اپنی پر امن اور دوستانہ  تاثر پیش کرنے میں کامیاب رہے گا جس سے چین کو  علاقائی تزویرات وسیاست سے متعلقہ مفادات  کی آبیاری کا موقع میسر ہو جائے گا۔

ایک پر امن طاقت کے لیے نرم تاثر پیش کرنا ضروری ہوتا ہے اور ایک آمرانہ حکومت ایسا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔چین اپنی بنیادی اقدار پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر  عالمی معیارات و اخلاقیات سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔معروف ماہرِ معاشیات دمبیسا مویو اپنی کتاب Edge of Chaos: Why Democracy is Failing to Deliver Economic Growth — and How to Fix It میں  رقم طراز ہیں کہ  شخصی آزادیوں پر کئی طرح کی قدغنوں کے باوجود  چین جیسے نظام دنیا پر رائج ہو سکتے ہیں۔

چین کی اقتصادی ترقی اور غربت میں خاطر خواہ  کمی پاکستان سمیت کئی دیگر قوموں کے لیے کشش رکھتی ہے۔یہی دو خوبیاں چین کا نرم تاثر قائم رکھنے میں مددگار ہیں۔ اور اس تاثر کو برقرار رکھنے کے لیے علاقائی یا عالمی سطح پر  کسی بھی تنازعے کو فروغ دینے سے خود کو در رکھنا ہو گا۔جہاں تک چین امریکہ اقتصادی  جنگ کی بات ہے تو  بیش تر مبصرین کا یقین ہے کہ یہ زیادہ دیر تک باقی نہیں رہے گی گیوں کہ ہر دو ممالک کو بڑے پیمانے پر اس تناؤکے مضر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چین اپنے قریبی ہمسایوں   کے ساتھ تناؤ کو کم کرتے ہوئے جغرافیائی و علاقائی سطح پرتعلقات کو ازسرِ نو منظم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔جاپان کے ساتھ اس کے تعلقات بہتری کیا جانب مائل ہیں اور دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون باہ می تعلقات کو مضبوط تر کررہا ہے۔ جاپانی وزیرِ اعظم شن زوایب کے حالیہ  چینی دورے میں دونوں ممالک نے باہمی تنازعات کو اعلیٰ سطحی تعمیری مکالمے کے ذریعے حل کرنے   پر اتفاق کیا ہے۔

چین اور بحیرہ چین جنوبی تنازعے کے دیگر فریقین  باہمی تناؤ کو کم کر رہے ہیں اور چین خطے  میں تجارتی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔چین اور فلپائن کے درمیان حالیہ معاہدے میں معاشی تعاون  پر اتفاق کیا گیا ہے اور چین نے ملکی ڈھانچے کی تعمیر اور  اقتصادیات کی مد میں ۷۳ ملین ڈالر کی خطیر رقم  فلپائن کو فراہم کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔

چین جنوبی ایشیا میں بھی اسی طور آگے بڑھ رہا ہے اور بھارت سے اپنے تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔چینی وزیرِ داخلہ وانگ یی کے الفاظ میں ’’ چین بھارت تعاون کی تزویراتی اہمیت اپنا آپ بولے گی اور دنیا اس کے ثمرات دیکھے گی۔‘‘

پاکستان کے لیے چینی حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے دیرینہ و روایتی تزویراتی موقف پر سمجھوتہ کیےبغیر مطابقت پیدا کرنا مسئلہ بنا ہوا ہے۔چین اپنے حریف ممالک کو اپنا دشمن ظاہر نہیں کرسکتا  تاکہ وہ  اپنے تزویراتی و معاشی فوائد حاصل کرنے میں کسی مشکل سے دوچار نہ ہو۔پاکستان کے لیے  مسئلہ اس لیےبنتا ہےکہ ایک طرف  وہ خو د کو   محض ایک حاشیہ نشین  ریاست  کے طور پر پیش کرنے  سے گریزاں ہے تو دوسری جانب وہ اپنے دفاعی،  معاشی اور سفارتی تعلقات میں تنوع لانے سے بھی احتراز برت رہا ہے۔

بتدریج ریاض ، بیجنگ ،استنبول اور کسی حد تک ماسکو پاکستان کے عالمی طاقتوں کے ساتھ روابط  اور کابل، تہران اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں توازن کے لیے  انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

ممکن ہے پاکستان کو چین سے کچھ زیادہ معاشی توقعات وابستہ نہ ہوں تاہم چین کو پاکستان سے ضرور توقعات ہیں۔یہ توقعات چینی کمپنیوں کو مراعات کی فراہمی سے  لے کرچین کے خطے میں کردار  تک جیسے مسائل کا احاطہ کرتی ہیں۔ چین اپنے گرد و نواح، مشرقی و جنوبی یا وسطی ایشیا  میں کہیں بھی تناؤ میں شدت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔یہ تناؤ دہشت گردی یا انتہا پسندی  سے متعلق ہو یاسرحدی تنازعات کے حوالے سے، یہ تنازعات عالمی توجہ حاصل کر لیتے ہیں اور یہ صورتِ حال پاک چین  اقتصادی راہداری  اور ایک خطہ۔ایک راہداری منصوبے کے لیے زہرِ قاتل  ہے۔

معیشت اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات  پاکستان کا بنیادی مسئلہ رہیں گے۔ اگر اربابِ اقتدار  بے حسی کی دبیز چادر اتار پھینکیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مسائل حل نہ ہو پائیں۔

(ترجمہ: حزیفہ مسعود،بشکریہ: ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...