نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی یا۔۔۔

484

یہ بہت عجیب نظرآتا ہے کہ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ وہ ملک میں کم نرخوں پر50لاکھ افراد کوسرچھپانے کیلئے مکان دے گی اور دوسری طرف زمین سے لوگوں کوبے دخل کررہی ہے۔ اس کارخیرمیں حکومت کی مددسپریم کورٹ بھی کررہاہے۔ کئی ایک جگہ سے قبضہ ختم کرانے کے نام پرعوام کوبے دخل کیاجارہاہے۔ یہی نہیں بلکہ حکومت کامنصوبہ ہے کہ سرکاری اراضی، گیسٹ ہاوسزوغیرہ کوفروخت کرکے ملک کودرکار رقم کا بندوبست کیاجائے۔ یوں ریاست ایک بالکل ہی متضاد قسم کے منصوبے پرعمل پیرا نظرآتی ہے۔

10اکتوبرکووزیراعظم عمران خان نے اپنے منشورکے مطابق نیاپاکستان ہاوسنگ اتھارٹی کے تحت پچاس لاکھ مکانات کی تعمیرکااعلان کیا۔ منصوبہ  اگلے پانچ سالوں   میں تکمیل تک پہنچے گا ۔ پاکستان میں سرچھپانے کیلئے خاص کربڑے شہروں میں رہائشی مکانات کی قلت ہے۔ پاکستان کی آبادی 2.4فی صد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اوربڑے شہروں کے مسائل یوں بڑھ جاتے ہیں کہ یہاں دیہات سے مسلسل نقل مکانی ہورہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ سات لاکھ مکانوں کی ضرورت ہے۔ ا س وقت ملک میں دس ملین مکانات کی کمی ہے اوروقت کے ساتھ اس کی طلب میں مزیداضافہ ہورہاہے۔ اس کے حل کیلئے حکومت کے منصوبہ پر تنقید ہورہی ہے۔ کیونکہ ایک طرف کہاجارہاہے کہ ملک کے اقتصادی حالات ٹھیک نہیں اوردوسری طرف ہاؤسنگ منصوبہ شروع کیاجارہاہے، جس پر180بلین ڈالرز یا جی ڈی پی کا 60فی صد خرچ کرنے کاتخمینہ لگایاگیاہے۔ پاکستان میں اتنی رقم کی موجودگی اورسرمایہ کاری پرسوال اٹھائے جارہے ہیں کیونکہ تمام بینکوں کے پاس کل12.7 ٹریلین روپے یا 95بلین ڈالرزڈپازٹ ہیں۔ حکومت کی طرف سے کہاجارہاہے کہ سرکارصرف زمین دے گی۔ حکومت نے اس امرکی نفی کی ہے کہ ایک گھرکی قیمت 15تا25 لاکھ ہوگی۔ پاکستان میں تعمیراتی اداروں کی انجمن  کہتی ہے کہ اس منصوبہ پر40تا50لاکھ بلین ڈالرز خرچ ہوں گے۔

پی ٹی آئی حکومت نے 24ہزارسے زائد سرکاری املاک کی نشاندھی کی ہے جس کوبیچ کرحکومت مالیاتی پوزیشن بہتربنائے گی۔ یہ جائیدادیں  پنجاب، خیبرپختونخوا اوروفاق کے تحت آتی ہیں۔ شہروں میں واقع جائیدادیں سب سے زیادہ قیمتی گردانی گئی ہیں۔ شہروں کے اہم مراکزاوراس کے قرب وجوارمیں واقع جائیدادوں کونجکاری کمیشن کے حوالے کردیاجائے گاتاکہ وہ اس کے فروخت کابندوبست کرے۔ حکومت کاخیال ہے کہ یہ املاک سرکاری خزانہ پربوجھ ہیں۔ حکومت نےان املاک کوتین درجات میں تقسیم کیاہے ایک وہ جن کی نجکاری کرنی ہے، دوئم وہ جن کوکمرشل مقاصدکیلئے استعمال کرناہے اورسوئم وہ جنہیں  لیزپردیا جاسکتا ہے۔ پرفضامقامات وسیاحتی مراکز پرواقع عمارتوں کوسرمایہ کاروں کو ٹورازم انڈسٹری کوفروغ دینے کیلئے دیاجائے گا۔

پاکستان میں کسنٹرکشن سیکٹرکی شرح نموسب سے زیادہ ہے۔ 2016میں اسکی شرح نمو14.6فی صدتھی جبکہ گزشتہ سال 9فی صد رہی۔ حکومت کاخیال ہے کہ ہاوسنگ اسکیم کے منصوبہ سے اس صنعت اوراس سے محلقہ صنعتوں کی ترقی ہوگی اوراس سے ہزاروں افراد برسرروزگارہوں گے۔ یہ ایک حقیقیت ہے کہ رئِیل اسٹیٹ اورزمینوں کے کاروبارملحقہ صنعتوں سے وابستہ افراد بہت تیزی سے مالدارترین اورطاقتورافرادکے طورپرابھرے ہیں۔ بحریہ ٹاون اوراس کے مالک، ملک ریاض ان میں سے ایک ہیں۔فنانشنل ٹائمز کے ایک مضمون میں اس طرف اشارہ کیاگیاہےکہ برطانیہ میں 2007کے معاشی  بحران کے بعد سے تعمیراتی فرمزکوبحران سے نکالنے کیلئے سرکاری زمنیں دی جارہی ہیں۔ پی ٹی آئی میں تعمیرات کے شعبہ سے وابستہ افرادشامل ہیں یہ ناصرف پارٹی میں اہم عہدوں پرہیں بلکہ یہ اسمبلی اراکین ہیں اوروزارتوں پربراجمان ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے بڑے تعمیراتی فرمز جیسے بحریہ ٹاون کے مالک، ملک ریاض سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ ایسالگتاہے کہ شہروں اورملک بھرمیں اہم مقامات کی سرکاری عمارتیں اوراملاک کی نیلامی حکومت کی پالیسی میں اہمیت کی حامل ہے۔ اسی لیے حکومت نے تمام مالی مشکلات اورتنقید سے صرف نظرکرتے ہوئے اس ہاؤسنگ منصوبہ کو شروع کرنے کااعلان کیاہے۔ یہ ایک پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ منصوبہ ہے۔ فوج بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہے اوراس حوالے سے حکومت کوباقاعدہ بریفنگ دی جاچکی ہے۔

کراچی میں گارڈن کے علاقے سے متصل پاکستان کوارٹرز کوخالی کرنے کیلئے عدالت کے حکم پرکارروائی کی گئی۔ اس سال جولائی میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پاکستان کوارٹرز، مارٹن کوارٹرز، جمشید کوارٹرز، کلفٹن کوارٹرز، فیڈرل کیپیٹل ایریا اور وفاقی حکومت کے ملازمین کی دیگر علاقوں میں مکانات خالی کروائے جائیں۔  یہ کوئی 335ایکڑزپرواقع ہیں۔ یہاں 13ہزارخاندان یا 90ہزارآبادی رہتی ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی گئی تھی جس میں بتایاگیاتھاکہ کراچی میں 4168 سرکاری کواٹرزہیں۔ یہ زیادہ ترقیام پاکستان اوربعدازاں سرکاری ملازمین کیلئے بنائے گئے تھے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کواپنی رپورٹ میں بتایاکہ ‘مارٹن کوارٹرز میں 639 اور پٹیل پاڑہ میں 301 مکانوں پر قبضہ ہے، اسی طرح گارڈن اور پاکستان کوارٹرز میں 49 مکانوں پر قبضہ ہے جبکہ باتھ آئی لینڈ سے قبضہ ختم کرالیا گیا ہے۔ فاروق ستارکاکہناہے کہ ‘بلڈر مافیا اور وزارت ہاؤسنگ کے افسران کی ملی بھگت سے یہ سب ہورہا ہے کیونکہ وہ یہاں اربوں روپے کی ہاؤسنگ اسکیمیں بنانا چاہتے ہیں، جبھی یہ کوارٹرز خالی کرانا چاہتے ہیں۔’ عارف حسن کہتاہے کہ جمشیدکوارٹرز، مارٹن ایسٹ، مارٹن ویسٹ اورجہانگیرکوارٹرز یہ سب پاکستان کوارٹرزکاحصہ ہیں۔ جہاں یہ کوارٹرز تعمیرہیں اب یہ زمین اہمیت اخیتارکرگئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہ شہرکے مرکزی کاروباری مرکزسے قریب ترہیں اوردوسرایہ کہ یہ گرین لائن رپیڈبس سروس کے روٹ کے بھی قریب واقع ہیں۔

اسلام آباد میں 197 سرکاری گھر خالی کروالیے گئے ہیں جبکہ 180 گھر خالی کروائے جارہے ہیں۔ حکومت کاکہناہے کہ صرف لاہورشہرمیں 31000کنال  سے زائد زمین پرقبضہ ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات کا280 ایکڑز، پرانے شہرمیں آٹھ پلاٹ، اورایل ڈے اے کے 606کنال زمین اور32پلاٹ، جس کی مالیت 2بلین روپے بنتے ہیں، قابضین سے واگزارکراناہے۔ اس کیلئے باقاعدہ کاروائی کی گئی۔

یہاں کم آمدنی والے مکانات اورفلیٹس یا گراونڈپلس دومنزلہ عمارات تعمیرکئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح کوئی موجودہ 27 ہزارکے ساتھ اضافی40ہزارمکانات حاصل کئے جاسکتے ہیں۔  موجودہ کم آمدنی کے مکانات کے ساتھ مڈل انکم کیلئے 27ہزارمکانات کی سہولت مہیاہوسکتی ہے۔ رہائشیوں سے پندرہ سالہ دورانیہ میں قسطوں میں رقم وصول کی جاسکتی ہے۔ عارف حسن کہتاہے کہ وزیراعظم عمران خان کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ اس کوعملی جامہ پہنائے۔ لیکن ظاہرہےحکومت اوراس کے ماہرین کے نزدیک اس طرح کاکوئی منصوبہ قابل قبول نہیں۔

حکومت اورسپریم کورٹ ایک بالکل ہی متضاد پالیسی پرعمل پیرا نظرآتے ہیں۔ ایک طرف نچلے طبقے کے افراد سے سرکاری زمین اورعمارتیں واگزارکرائی جارہی ہے اوردوسری طرف بحریہ ٹاؤن خلاف کیس میں سپریم کورٹ نے ملیرڈیولپ منٹ اتھارٹی کی قبضہ شدہ زمین کوایک بڑی رقم کےعوض دینے کی پیش کش کی  ہے۔ اس طرح دیکھاجائے توحکومت کااقدام بڑے کاروباریوں کونوازناہے عام لوگوں کوبسانانہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...