عمران خان قومی ہم آہنگی کونسل کا اعلان کریں

363

کنونشن سنٹر اسلام آباد میں 20اور 21نومبر کو دوروزہ انٹرنیشنل سیرت کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے ۔کانفرنس میں کئی ممالک سے وفود شرکت کریں گے ۔جبکہ پاکستان بھر سے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کو بھی شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے ۔یہ کانفرنس ہر سال بارہ ربیع الاوّل کے موقع پر ہوتی ہے جس کا اہتما م وزارتِ مذہبی امور کرتی ہے ۔ اس بار وزارت کے منصب پرپیر سید ڈاکٹر نورالحق قادری متمکن ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں ملک و قوم کو نازک ترین صورتِ حال سے نکال کر اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا لیا ہے ۔ ایک موقع پر جب ہالینڈ میں خاکوں کے مقابلے کے پیشِ نظر ایک گروپ اسلام آباد پر چڑھائی کی غرض سے آن پہنچا تھا تو اس پیرِ کامل نے اپنے لیڈر کے ساتھ مل کر ایسا حل نکالا کہ یہ مقابلہ ہی منسوخ ہو گیا ۔پہلی بار ایسا ہوا کہ مغرب نے ہمارا یہ مؤقف تسلیم کیا کہ آزادی اظہار الگ معاملہ ہے اور اس کی آڑ لے کر کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے مذہبی رواداری کو نقصان پہنچتا ہے ۔دوسری بار جب آسیہ کیس کے مسئلے پر ملک کے اندر زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔قریب تھا کہ حالات کنٹرول سے نکل جاتے مگر اس مردِ درویش نے اس نازک معاملے کو بھی خوش اسلوبی سے سلجھا دیا ۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کی یہ وزارت اب صرف مذہبی امور نہیں بلکہ ا س کے ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی بھی کہلاتی ہے ۔ ڈاکٹر نور الحق قادری خود تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اصل چیلنج بین المذاہب نہیں بین المسالک ہم آہنگی میں درپیش ہے ۔گو کہ پاکستان کی تقریباً 96فیصد آبادی مسلمان ہے اور اقلیتیں محض چار فیصد ہیں مگر یہ 96فیصدآبادی فقہی تقسیم کا شکار ہے ۔فقہ کی تقسیم باقی مسلم دنیا میں بھی موجود ہے مگر پاکستان میں اس بنا پر خاصا خون خرابہ ہوتا آیا ہے بالخصوص 1980ء کے بعد فقہی اختلافات پر تکفیر کے فتووں کی بہتات ہوئی ہے ۔جب اس خطہ میں بعض سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں تو فقہی مسائل شدید سے شدید تر بن کر سامنے آئے ۔موجودہ حکومت کے لئے جہاں مسلکی تشدد ایک چیلنج ہے وہیں پر ایک نیا چیلنج ان مذہبی قوتوں کو ظہور ہے جو سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کر رہی ہیں ۔ختمِ نبوت کا معاملہ ہو یا اسلامی شعائر کی توہین کے حوالے سے قانون کے نفاذ یااطلاق کا معاملہ ، کچھ گروہوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہیں گے ۔شاید اسی پس منظر میں اس بار حکومت نے اس دورزہ سیرت کانفرنس کا عنوان ’’رحمت العالمین ،ختمِ نبوت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں ‘‘رکھا ہے ۔یقیناًکسی مسلمان کا ایمان ا س وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ حضرت محمد ؐ کوآخری نبی نہیں مانتا ۔ آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد ہمیں اس سے کہیں آگے بڑھ کر سوچنا تھا مگر ہم ابھی تک ایک دوسرے کو یہ یقین دہانیاں کرا رہے ہیں کہ ہم ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں ہمارے نبیؐ کا جوپیغام تھا وہ ہم نے پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ہم رسول ؐ کے نام پر مر مٹنے کو تیار ہیں مگر ان کی ماننے کو تیار نہیں ۔ہماری نشاۃ الثانیہ کی ا س وقت تک تجدید نہیں ہو سکتی جب تک ہم اپنی فکر کی اصلاح نہیں کرتے ۔ہمیں اپنی مذہبی فکر کی تشکیلِ نو کی ضرورت ہے ۔اسلام جو پیغام لے کر آیا تھا آج ہمارے عمل اور کردار اس کے متضاد چل رہے ہیں اور جو کوئی یہ کہتا ہے کہ دو اسلام ہیں ایک وہ جس کی ترویج نبی کریم ؐ نے کی اور دوسرا وہ جس کی تبلیغ ہمارے ہاں محراب و منبر سے ہو رہی ہے ،اسے ہم باآسانی خارج از اسلام قرار دے دیتے ہیں۔ اس الزام کا رخ اب حکومتی زعما کی طرف بھی ہو چکا ہے ۔ایک طرف کچھ لوگ ان کے ایمان و اعتقاد پر سوال اٹھا رہے ہیں تودوسری جانب وہی لوگ اسلام کے حقیقی خادم بن کر سامنے آ رہے ہیں ۔
کنونشن سنٹر میں ہونے والی اس دورزہ کانفرنس میں ملک بھر اور دنیا سے تقریباً ساڑھ چارہزار افراد شریک ہو رہے ہیں جن کے قیام و طعام پر دو کروڑ اسی لاکھ کے اخراجات متوقع ہیں ۔جبکہ اسی کانفرنس کے انعقاد پر ماضی کی حکومتیں چودہ چودہ کروڑ صرف کرتی آئی ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان خود اس کی نگرانی کر رہے ہیں ۔وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر نورالحق قادری کے ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور سنیٹر فیصل جاوید بھی معاونت کر رہے ہیں ۔جمعہ کے روز جب فیصل جاوید ، ڈاکٹر نورلحق قادری کو بتا رہے تھے کہ عمران خان سٹیج پر نہیں بیٹھنا چاہتے ،یہ آقا ؐ کی محفل ہے اور ا س محفل میں وہ سٹیج سے نیچے عام نشستوں پر بیٹھنا چاہتے ہیں تو میں سوچ رہا تھا کہ کیسا درویش وزیر اعظم ہے جو مدینے جاتا ہے تو جوتے نہیں پہنتا اور جب آقا ؐ کی محفل میں آتا ہے تو سٹیج پر نہیں بیٹھتا ۔
مشرف دور میں حکومت کو خیال آیا کہ ردِ انتہا پسندی کے لئے صوفی کونسل بنائی جائے ۔چنانچہ ایک مغربی ملک نے اس نیک کام کے لئے چالیس کروڑ دیئے ۔وہ چالیس کروڑ اس وقت کی حکومت نے صرف تین مہینے میں صاف کر دیئے ۔چنانچہ انتہا پسندی آج بھی اپنے پر پھیلائے ہوئے ہے ۔عمران خان حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔میڈیا کی توجہ صرف معاشی چیلنج پر ہے جبکہ درحقیقت اصل چیلنج فکری میدان ہے ۔قوم فکری مغالطوں میں گھری ہوئی ہے ۔جدید تاریخ ثابت کرتی ہے کہ معاشی میدان بھی انہیں قوموں کے ہاتھ میں ہوتا ہے جن کے پاس غور و فکر کی قوت ہوتی ہے ،فتویٰ نہیں استدلال ہوتا ہے ،جبر نہیں استقلال ہوتا ہے ۔عمران خان نے قومی معاشی کونسل تو بنا دی ہے کیا ہی اچھا جو وہ سیرت کانفرنس کے موقع پر قومی ہم آہنگی کونسل کے قیام کا بھی اعلان کریں کیونکہ جس قوم میں ہم آہنگی اور برداشت نہ ہووہ کسی بھی میدا ن میں آگے نہیں جا سکتی ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...