گلگت بلتستان کے بچھڑے خاندان ایک انسانی المیہ

567

گلگت بلتستان کی تاریخی، سماجی ، معاشی اور معاشرتی صورت ِحال پر نظر دوڑاتے ہیں تو انسانی حقوق کی پائمالی اور محرومیوں کی طویل داستان کے اوراق جا بجا بکھرئے ملتے ہیں ۔کامیاب جنگ ِآزادی لڑنے اور اس جنگ میں ایک ریاست کی منظم فوج کو شکست دینے کے بعد بھی یہاں کے لوگوں کو وہ  شہری حقوق نہیں مل سکے جو کسی بھی آزاد خطے کے شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں ۔ گلگت بلتستان کو موجودہ سٹیٹس میں رکھے جانے کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کو قرار دیتے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر کو ذک پہنچنے سے بچانے کے لئے گلگت بلتستان کو علیحدہ سٹیٹس میں رکھا ۔لیکن امر یہ تاریخی حقائق کی رو سے سب پر عیاں ہے کہ گلگت  بلتستان متنازعہ  ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں لیکن وقت کی ضرورت کے پیش نظر اس خطے کی آئینی حیثیت کے تعین  کے مسئلے کو مسئلہ کشمیر  سے منسلک کئے رکھا ہے ۔ گلگت بلتستان کے باسیوں کو وہ جمہوری حقوق نہیں مل سکے ہیں جو پاکستان کےدیگر شہروں کے لوگوں کو حاصل ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا  ہوتا ہے کہ جس مسئلہ کشمیر کے باعث گلگت بلتستان کے لوگوں کو پاکستان  کے قومی دھارے سے باہر رکھا  گیاہے تو اِن کو کیا وہ حقوق حاصل ہیں جو آزاد جموں کشمیر کے لوگوں کو حاصل ہیں ؟جیسا  کہ اُوپر ذکر کیا زیر نظر مضمون میں سیاسی و جمہوری حقوق کی تفصیلات میں نہیں جاتے محض اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے دیگر فریقین کو مسئلہ کشمیر کے مستقل حل تک جو حقوق اور مراعات حاصل ہیں وہ کیا گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی حاصل ہیں کہ نہیں؟بالخصوص یہ کہ  گلگت بلتستان کے لوگوں کو جمہوری حقوق سے محروم رکھنے کے لئے  اقوام متحدہ  کی ریاست جموں و کشمیر سے متعلق جن قرارداوں کا(بلاجواز )استعمال  کرتے ہیں اُنہی قراردادوں میں استصوابِ رائے تک کے لئے متنازعہ خطوں کے باسیوں کے لئے جن مراعات کے دئے جانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے کیا وہ گلگت بلتستان کےلوگوں کو حاصل ہیں ؟اقوام متحدہ کی قراردادوں  میں متنازعہ خطے کے باسیوں کے لئے کئی ایک مرعات کا ذکر موجود ہے۔ جن میں سے ایک لائن آف کنٹرل کے دونوں اطراف رہنے والے کشمیریوں کو آزادانہ طور پر باہم ملنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس نکتے پر ماضی میں اگر چہ بہت زیادہ کام نہیں ہوا۔ لیکن جنرل مشرف کے دور حکومت میں انہوں نےمسئلہ کشمیر کے حل کے لئے چار نکاتی فارمولا  دیا تھا۔ جن  میں سے ایک نکتہ سافٹ بارڈر کا تصور تھا۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بسننے والے کشمیریوں کو آسانی سے آنے جانے دیا جائے اور ان کو باہم ملے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد پھر جنرل مشرف حکومت نے انہی خطوط پربھارت کے ساتھ مزاکرات کے کئی دور چلائے ۔باہمی اعتماد سازی کی کوششوں    (Confidence building Measures)کے نام سے اسی نوعیت کے اقدامات کواور اگے بڑھایا اور کوششیں تیز  ہوئیں۔ اسی اثنا میں انٹرا کشمیر ڈائلا گ کے نام سے مسئلہ کشمیر کےموجود تمام فریقین کے اجلاس کبھی بھارت اور کبھی پاکستان کے مختلف شہروں  میں ہوتے رہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں کشمیریوں کو باہم ملنے کے مواقع فراہم کرنے کےلئے واہگہ بارڈر کے علاوہ سری نگر، مظفر آباد روڈ کو کھول کر7 اپریل 2005 کو افتتاح کیا گیا۔پھر 20جون 2000   کوپونچھ راولا کوٹ روڈ کو کھولا گیا۔

21مئی     2008   کو پاکستان اور بھارت کے وزرائےخارجہ کی میٹنگ میں کشمیریوں کو مزید قریب لانے کے لئے کئی اقدامات تجویز کئے گئے۔ سری نگر مظفر آباد اور پونچھ راوالاکوٹ  بس سروس کو بڑھانے  اورباہمی تجارت بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کئی مقامات سے ریلوے لائن کھولنے کی بھی بات ہوتی رہی۔ یوں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بسنے  والے کشمیریوں کو باہم ملنے کے مواقع فراہم کئے گئے ۔ لیکن گلگت بلتستان کے لوگ جو تاریخی اعتبار سے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ  بھی نہیں ان کو محض استتصواب رائے میں شامل ہونے کے لئے موجودہ پوزیشن میں رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی بات کی جائے تو ان علاقوں میں تقسیم برصغیر کے نتیجے میں منقسم ہوکر رہ جانے  والے خاندان کے افراد بستے ہیں۔ لیکن گلگت بلتستان میں دیکھا جائے تو یہاں دو عہد کے بچھڑے خاندان موجود ہیں۔ ایک وہ جو جنگ آزادی گلگت بلتستان اور جنگ بندی کے بعد لائن آف کنٹرول کی صورت میں درمیان میں لکیر کھینچ جانے کے نتیجے میں منقسم ہو کر رہ گئے۔ دوسری 1971کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے پاکستان کی حدود میں بلتستان کےکئی علاقوں پر ناجائز قبضہ کر لیا جن کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان عارضی لائن آف کنٹرول کے باعث منقسم ہو کر رہ گئے۔ یوں 1947 کے بعد اب 1971 میں بلتستان کے سینکڑوں  افراد پھر بھارتی جنگی جنون کے باعث اب تک اپنے گھروں سے بے گھر اور در بہ در ہیں ۔اور اپنے عزیزوں سے دور ہیں ۔ 1947 اور 1971 کے بعد   اب تک کوئی بھی موقع ایسا نہیں آیا کہ ان منقسم خاندانوں کے افراد کو باہم ملنے کے مواقع دیے گئے ہوں۔ بغیر سوچے سمجھے گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دینے والوں کو سینکڑوں گھرانوں پر مشتمل یہ منقسم خاندان کیوں  نظر نہیں آئے ۔ جو نصف حصوں سے زیادہ عرصے سے اپنے عزیزوں کی صورت دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔ یہاں کے باسیوں  کے ساتھ ستم یہ ہے کہ  جب  ان کو حقوق دینے کی باری آتی ہے تو یہ لوگ متنازعہ قرار پاتے ہیں اور حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں اورجب لائن آف ہے تو یہ لوگ متنازعہ قرار پاتے ہیں اور جب لائن آف کنٹرول دونوں اطراف کے متنازعہ خطے کے لوگوں کو باہمی مزاکرات کے لئے ٹیبل پر بٹھانے کا مرحلہ آتا ہے تو گلگت بلتستان کے لوگوں کے لئے وہ فورم بھی شجر ممنوعہ بن جاتا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کے لئے سی بی ایم ایس کے نام سے مراعات ملتی ہیں تو گلگت بلتستان  کے لوگ ان سے بھی محروم  ہیں ۔بالخصوص یہ بچھڑے خاندان جن کو  گذشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے  اپنے عزیزوں سے ملاقات کرنے کے حق سے بھی محروم ہیں۔ ایسے میں ایل او سی کے دونوں اطراف کے یہ افراد اکہتر سال  کرب اور اذیت میں گزارنے کے بعد اب ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ یہ انسانی المیہ کی ایک تاریخ بن چکی ہے۔ گذشتہ ستر سالوں سے یہ لوگ سکردو کرگل روڈ کھولنے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں مگر  کسی بھی فورم پر ان کی کوئی نمائندگی نہ ہونے کے ناطے ان کے یہ مطالبات اب تک صدا بہ صحرا ثابت ہورہے ہیں۔ جس کے باعث ان بچھڑے خاندانوں کے کرب و اضطراب میں اورزیادہ اضافہ ہورہا ہے۔ یہ بچھڑے خاندان ایک دوسرے کی یاد میں اس طرح تڑپ رہے ہیں اور کرب و اضطراب کے باعث  معاشرے میں ایسے درد ناک واقعات جنم  لے رہے ہیں جو  انسانیت سوز ہیں ۔ سیاسی و  دیگر معاملات اپنی جگہ لیکن اس مسلئے کو خاص طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھے جانے کی ضرورت ہے ۔ سکردو کرگل روڈ کھلنے کی صورت میں آدھ گھنٹے کا سفر طے کر کے یہ لوگ اپنے عزیزوں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ لیکن واہگہ بارڈر سے جانے کے لئے ہر کسی کو ویزا نہیں مل سکتا اور نہ ہی سفر کے اخراجات کو برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات ہے ۔ کئی بار ایسا ہوا کہ طویل وقت طے کر کے کوئی عزیز بھارت سے بلتستان پہنچا ہو تو گویا یہ بس  اسی ملاقات کے   منتظر تھے ۔ملاقات کے چند روز کے اندر باپ  بیٹے میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا۔ ایک کرب ناک  واقعہ یوں پیش آیا کہ 1971 جنگ کےدوران  ایک شخص کسی  طرح بلتستان پہنچ گیا جبکہ اس کی فیملی بھارت میں رہ گئی۔ یہ خاندان اس جیسے دوسرے درجنوں خاندانوں کی طرح ایک دوسرے کی یاد میں کھوئے رہتے تھے۔ مذکورہ شخص عزیزوں کی جدائی سے متعلق لوگ گیت گایا کرتا تھا۔ کسی دن اس شخص کی آواز میں یہ لوگ گیت ریڈیو سکردو سے نشر ہوا اس کی بیوی اتفاق سے بھارت میں ریڈیو سن رہی تھی ۔ میاں کی آواز میں جدائی سے متعلق گیت نے اتنا اس خاتون کو متاثر کیا وہ خاتون پھر اپنے آپ کو نہ سنبھال سکی اور دریائے شبوک میں کود گئی کئی روز بعد اُس خاتون کی میت دریا کنارئے سکردو میں ملی ۔ اس خاتون کے پاس  اپنے عزیزوں تک پہنچنے کا بس یہی ایک ذریعہ تھا ۔ یوں یہ میاں بیوی زندگی میں تو نہ مل سکے لیکن اس خونی ایل او سی کے باعث ان کی ملاقات آخری دیدار کی صورت میں ہوئی۔

کرگل سکردو روڈ کھولنے کا معاملہ  کئی با ر پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے مابین ہونے والی  میٹنگوں  میں ایجنڈئے پر بھی رہا لیکن یہ آج تک عمل در آمد کے مرحلے تک نہ پہنچ سکا ۔ اب ان بچھڑے خاندانوں  کا کہنا ہے کہ سری نگر ، مظفر آباد ، پونچھ ، راولاکوٹ کے لوگوں کے ملنے سے مسئلہ کشمیر متاثر ہوا نہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ  ہوئے اس لئےدونوں حکومتیں باہمی مذاکرات کے نتیجے میں ایل او سی پر ہی کسی پوائنٹ پر اتفاق کریں جہاں  بچھڑئے خاندانوں کے ان  افراد کی ملاقات  ہو سکے ۔کیونکہ بچھڑئے خاندان کے ان افراد کے سینوں میں بھی دل ہیں جو  انسانی جذبات سے  بھی بھر پور ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...