احسان اللہ احسان کو لانے میں درپردہ کون شریک تھا ؟

807

مولانا عصمت اللہ معاویہ جو پنجابی طالبان کے سربراہ رہ چکے ہیں ، نے احسان اللہ احسان کی واپسی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔مولانا عصمت اللہ معاویہ نے ایم آئی کے کہنے پر احسان اللہ احسان کے ساتھ رابطہ کیا تھا

لیاقت علی المعروف احسان اللہ احسان کی واپسی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی اس یقین دہانی کے بعد ممکن ہوئی ہے جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف دہشت گردی کی بنا پر کوئی کیس نہیں چلایا جائے گا بلکہ پہلے سے ان کے خلاف جو کیس درج ہیں ان پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عصمت اللہ معاویہ جو پنجابی طالبان کے سربراہ رہ چکے ہیں ، نے احسان اللہ احسان کی واپسی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔مولانا عصمت اللہ معاویہ نے ایم آئی کے کہنے پر احسان اللہ احسان کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔مولانا عصمت اللہ معاویہ اعلی ٰ سطح کے وہ پہلے کمانڈر تھے جو شمالی وزیرستان میں  تحریک طالبان کوخیر آباد کہہ کر 2014 میں پاکستان واپس  آ گئے تھے ان کی واپسی بھی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی ایسی ہی یقین دہانیوں کے بعد ممکن ہوئی تھی ۔ایک ذریعہ جو اس سارے معاملے میں شریک رہا اس نے بتایا کہ احسان اللہ احسان ، مولانا عصمت اللہ معاویہ کا قریبی دوست ہے دونوں کے درمیان اس سلسلے میں 2015 سے بات چیت چل رہی تھی جس میں  آخر کار عصمت اللہ معاویہ تحریک طالبان چھوڑنے کی وجوہات پر احسان اللہ احسان کو قائل کر نے میں کامیاب ہو گئے ۔عصمت اللہ معاویہ نے اپنے سوشل میڈیا پر اس کی کچھ تفصیلات بھی دی ہیں اور کہا ہے کہ وہ احسان اللہ احسان سے اس وقت سے رابطے میں تھے جب انہیں تحریک طالبان پاکستان کا ترجمان نامزد کیا گیا تھا۔لیکن جب بیس ماہ پہلے  ایک معاہدے کے تحت میری واپسی ہوئی تو ہمارے درمیان پھر رابطے بحال ہوئے جو بالآخر احسان اللہ احسان کی واپسی پر منتج ہوئے ۔ جب احسان اللہ احسان نے واپسی کا عندیہ دیا تو یہ عصمت اللہ معاویہ ہی تھے جنہوں نے  جنہوں نے ایم آئی کے ذریعے احسان اللہ احسان کی واپسی کا راستہ نکالا۔ان رابطوں کو ایم آئی کے سربراہ عاصم منیر کی آشیر باد حاصل تھی جن میں بعد ازاں کچھ دیگر افسران نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان نے 6 فروری کو پاک افغان سرحد پر چمن کے نزدیک خود کو اپنی بیوی اور بچے کے ہمراہ  حکام کے حوالے کیا۔لیکن اس کا اعلان 17اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کیا گیا۔اس اعلان میں تاخیر کی وجہ ان سے حاصل کردہ کچھ خاص معلومات کی بنا  پر  کئے گئے کچھ آپریشنز تھے ۔تاہم اس کی تفصیلات کو ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے  کہ انٹیلی جنس ادارے ان سے کیا کچھ اگلوانے میں کامیاب ہوئے اور آیا یہ معلومات کسی ایکشن پر منتج ہوئیں بھی یا نہیں ۔

جس روز سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ اعلان کیا اس کے بعد تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور ہر روز ایک بیان جاری کر رہے ہیں ۔ان کا یہ کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان  کو دیگر دو افراد کے ساتھ افغانستان کے صوبہ پکتیا سے گرفتار کیا گیا تاہم انہوں نے دیگر دو افراد کی تفصیلات نہیں بتائیں۔درحقیقت احسان اللہ احسان نے جب خود کو حکام کے حوالے کیا تو اس وقت ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بچہ تھا۔

لیاقت علی المعروف احسان اللہ احسان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے ۔انہوں نے تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کی جانب سے کئی وحشیانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی جن میں سے ایک حملہ پشتو کے شاعر پر بھی شامل تھا ۔احسان اللہ احسان خود بھی شاعری کرتے رہے ایک بار انہوں نے مجھے از خود یہ بات بتائی تھی کہ وہ انہوں نے مشہور رومانوی  شاعر احمد فراز کی شاعری کا پشتو میں ترجمہ بھی کیا تھا۔

احسان اللہ احسان کو صرف عدالتی چارہ جوئی  نہ کرنے کی ضمانت ہی نہیں دی گئی بلکہ ان کے قیام و  طعام کی بھی ذمہ داری اٹھائی گئی ہے ۔تاہم یہ نہیں معلوم کہ انہیں یہ سہولیات کتنے عرصے تک مہیا کی جائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کے کیا انتظامات کئے گئے ہیں۔

دوسری جانب جب عصمت اللہ معاویہ نے ستمبر  2014 میں تحریک طالبان چھوڑی تو انہیں انصار المجاہدین کی جانب سے  آئی ایس آئی کا یجنٹ کہا گیا ۔یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب عصمت اللہ معاویہ نے ایک وڈیو پیغام کے ذریعے اپنی علیحدگی کا اعلان کیا تو کہا تھا کہ اس کے طالبان کا دھڑا افغانستان میں نیٹو اور ایساف فورسز کےخلاف کارروائیاں جاری رکھے ۔انہوں نے طالبان گروہوں پر زور دیا کہ وہ تشدد ترک کرکے حکومت کے ساتھ امن کے لئے کام کریں ۔

مولانا عصمت اللہ معاویہ کا تعلق وہاڑی سے ہے لیکن آج کل وہ بھاری سیکورٹی میں پشاور میں قیام پزیر ہیں تاہم ان کے معمولات کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔احسان اللہ احسان کے ساتھ بھی شاید یہی کچھ ہو گا۔عصمت اللہ معاویہ کی سوچ رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ نتائج آپریشن ضرب ِ عضب یا آپریشن رد الفساد کی وجہ سے بر آمد نہیں ہو ئے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ 85 لوگ جن میں حکیم اللہ محسود کے حقیقی بھائی ،چچااور حکیم اللہ محسود کے قریبی دوست شیخ عبد الرحمٰن بھی شامل ہیں انہوں نے اس سے پہلے ہی ریاست کے سامنے ہتھیارڈال دیئے تھے ۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے توآپریشن ضرب عضب یا آپریشن رد الفساد میں ابھی تک کوئی بڑا طالبان رہنما ہلاک نہیں ہوا البتہ ڈرون حملوں میں ضرور مارے گئے ہیں اس کے مقابلے پر عصمت اللہ معاویہ کے بعد احسان اللہ احسان کی واپسی ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے ۔

کچھ لوگ اس نئی صورتحال پر سوال اٹھا رہے ہیں جن میں وہ لوگ  بھی شامل ہیں جن کے رشتہ دار عسکری حملوںمیں مارے گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ‘‘ وہ اپنے دشمن احسان اللہ احسان کو کیسے بخش دیں جو ان کے پیاروں کا قاتل ہے  ریاست پہلے ان لوگوں سے پوچھے جن کے پیارے اس جنگ میں ان جیسے لوگوں کی وجہ سے  مارے گئے ۔ جا کر آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کی ماؤں سے پوچھو’’یہ باتیں چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے اس نمائندے سے کیں ۔

احسان اللہ احسان پر 19ستمبر2011 کو کراچی میں چوہدری اسلم کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے ۔چوہدری اسلم بعد ازاں ایک اور حملے میں 9 جنوری2014 کو ایک خود کش حملے میں شہید کر دیئے گئے تھے ۔وہ عسکریت پسندکے خلاف اپنی بہادری کی وجہ سے خاصے جانے گئے ۔پنجاب پولیس کے سابق آئی جی شوکت جاوید نے مجھے بتایا کہ احسان اللہ احسان کو تحریک طالبان کی صف اوّل کی قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا اس لئے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا تھا کہ خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔تاہم ان کے ذریعے سیکورٹی فورسز طالبان کے ہتکھنڈوں کے بارے میں  مزیدجانکاری حاصل کر سکتی ہیں ۔تاہم وفاقی حکومت اس وقت تک اندرونی اور بیرونی طور پر سوالات کی زد میں رہے گی جب تک وہ اچھے اور برے طالبان کے بارے میں اپنی پالیسی اگر کوئی ہے تو اس کو واضح نہیں کرتی یا پھر وہ عسکریت کے بحالی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں کوئی پالیسی لائے ۔

(انگریزی سے ترجمہ :سجاد اظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...