فنون لطیفہ :بے کاری کا مشغلہ یا تخلیقیت کا اظہار!

162

مشہور شاعر اور ادیب آسکر وائلڈ نے اپنے واحد ناول ’ ڈورین گرے کی تصویر[1]‘ کے دیپاچے میں ایک جملہ لکھا کہ ’تمام آرٹ تقریبا بے کار ہے‘[2]۔  اس ایک جملے نے آرٹ کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں بڑا سوال کھڑا کردیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے 1891 میں آسکر کو خط لکھ کر پوچھا کہ کیا اس کے اس خیال کہ تمام آرٹ تقریبا بےکار ہے کی تفصیل اس کی کسی کتاب میں مل سکتی ہے؟ آسکر نے جواب میں کوئی حوالہ دینے کی بجائے اپنی رائے ظاہر کی کہ ’ آرٹ اس لئے بے کار ہے کہ اس کا مقصد صرف ایک موڈ پیدا کرنا ہے۔ یہ نہ تو آپ کو کوئی تعلیم دیتا ہے اور نہ آپ کو عمل پر ابھارتا ہے۔ یہ بانجھ کردیتا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے لطف کا ضمیمہ بانجھ پن ہے‘۔

ایک اعلی سطح کے ادیب اور شاعر کی طرف سے آرٹ کی ایسی مذمت آرٹ کے مداحوں کو تعجب اور صدمے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔ دوسری طرف جرمن فلاسفر فریڈرک نطشے نے کہیں کہا تھا کہ ’ہمارے پاس آرٹ اس لیے ہے کہ کہیں ہم سچائی سے مر نہ جائیں‘۔ نطشے نے وائلڈ کی طرح آرٹ کو بانجھ تو قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کی مذمت کی لیکن اس کے جملے سے بھی واضح ہے کہ وہ آرٹ کو سچائی کی تلخیوں سے تھوڑی دیر نظریں چرا لینے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے ورنہ سچ اتنا کڑوا ہے کہ اگر آرٹ سچائی کے سامنے ایک ڈھال نہ بن جائے تو اس تلخی کو برداشت نہیں جا سکتا۔

دوسری طرف ہمارے ہاں بھی فنون لطیفہ کا معاملہ خلط مبحث کا شکار ہے۔ اکثر فنون لطیفہ خاص طور پر موسیقی اور مصوری کو بے کاری، فارغ البالی، وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ  بدنظری، بولہوسی، شہوت پسندی، فحاشی اور بے دینی سے کسی نہ کسی طور منسلک کر کے دیکھا جانے لگا ہے۔ اسی تصور کے سبب اکثر شرفا کے ہاں ان فنون سے اپنی فطرت کے خلاف ایک خاص طرح کی بے زاری اور تنفر پیدا ہوچکا ہے۔

تاہم یہ بھی ایک عام مشاہدہ ہے کہ ادب و فن سے تنفر  نے عمومی طور پر انسان کی حس جمال اور حس لطافت کو بری طرح مجروح کیا ہے اور نتیجے میں کہا جاسکتا ہے کہ ایک طرح کی تنگ دلی، توحش، کرختگی، عدم برداشت جنم لے چکی ہے۔ جیسا کہ غالب نے کہا تھا کہ ’ہر بولہوس نے حسن پرستی شعار کی؛ اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی۔

سوال اب یہ ہے کہ فنون لطیفہ سے اعراض اور ان پر اعتراض کی وجہ کیا ہے؟ کیا فنون لطیفہ پر فحاشی اور بے حیائی کی ترغیب اور بے کاری کا الزام درست ہے؟ کیا آسکر وائلڈ اور نطشے جس آرٹ کی بات کر رہے ہیں وہ آرٹ کی کسی ایک شکل جیسے مصوری وغیرہ کی بات کرتے ہیں یا وہ تمام فنون لطیفہ کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں، یا ان کی اس بات کا کوئی خاص پس منظر اور سیاق و سباق ہے جس کو سمجھے بغیر اس بارے میں کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا؟ خصوصی طور پر ان دو مصنفوں کے آرٹ کے بارے میں نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے تو خاصی تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم ہم اپنے طور پر یہ سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ  کیا فنون لطیفہ اظہارجمال، تحسین جمال، آرائش جمال  اور لطف جمال سے بڑھ کر بھی کچھ ہے یا شعر و ادب اور رقص و موسیقی کی دنیا میں محو ہوجانا  زندگی کے حقیقی چیلنجز سے آنکھیں موند لینے کے مترادف ہے؟

یہاں ایک دلچسپ واقعہ یاد آیا کہ جب برطانیہ میں جانوروں کی لڑائی کے کھیل پر پابندی کا قانون پیش کیا گیا تو اس وقت مشہور برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اور مسیحیوں کے مذہبی رہنما پوپ  دونوں نے اس بل کی حمایت کی۔ میڈیا کے لیے یہ ایک انوکھا واقعہ تھا کیونکہ رسل ایک ملحد اور سیکولر خیالات کے حامی اور پرچارک تھے اور پوپ کے ساتھ کسی بات پر ان کے اتفاق کو ناممکن خیال کیا جاتا تھا۔ ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں کی اس بل کی حمایت کی وجوہات بالکل مختلف ہیں۔ میں اس لیے اس بل کی حمایت کررہا ہوں کہ میں جانوروں کو کھیل کی خاطر لڑانے اور ان کا خون بہانے کے خلاف ہوں، کیونکہ یہ ظلم ہے۔ جبکہ پوپ اس بل کی حمایت اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ انسانوں کے لیے کسی بھی شکل میں خوشی اور انبساط حاصل کرنے کے خلاف ہیں اور چونکہ اس کھیل سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں تو اس لیے انہیں یہ برداشت نہیں۔

فنون لطیفہ کےضمن میں یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ ان فنون کا تعلق بھی ایسے تخلیقی اظہار جمال سے ہے جو بنیادی طور پر انسانوں کے لیے خوشی اور انبساط کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور جہاں تک فحاشی اور بے حیائی کی ترغیب کی بات ہے تو ہمارے خیال میں سوچنے کی ضرورت یہ ہے کہیں اس کا تعلق فنون لطیفہ سے زیادہ اس گھٹن، پابندی، جبر اور عدم تحفظ سے نہ ہو جس کا ہمارے معاشرے میں راج ہے!

درحقیقت تخلیقی اظہارات اور اور احساس جمال سے مزین معاشرے کے لیے فنون لطیفہ کی بہتر تفہیم اور سماجی تبدیلی میں اس کے کردار کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔

[1] The Picture of Dorian Grey by Oscar Wilde

[2] “All art is quite useless”.

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...