وسطی پنجاب میں  بازیگروں کا کام کیسے معدوم ہو رہا ہے؟

امل غنی

103

بہار علی  پانچ سال کا تھا جب اس کے باپ اور چچا نے اسے گلی محلے کے بازیگر بننے کی تربیت دینا شروع کی ۔ لاہور کے جنوب میں واقع ملتان روڈ پر کچی بستی میں ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے وہ کہتا ہے

”وہ میرے جسم پر تیل کی مالش کرتے اور مجھ سے مختلف ورزشیں کرواتے تاکہ میرے جسم میں زیادہ لچک آ سکے”۔

اس نے ابھی ابھی ایک تماشہ ختم کیا ہے۔ اس کی سفید قمیص پسینے سے نچڑ رہی ہے۔ اس کی آواز بمشکل سنی جا سکتی ہے۔ وہ اس قدر تھک چکا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ گھر جائے اور سو جائے۔

” جب آپ بوڑھے ہو جاتے ہو تو آپ کا دل چاہتا ہے کہ سب کچھ آسانی سے ہو جائے۔”اس نے ہانپتے ہوئے بتایا۔

دوسری جانب جو تماشہ اس نے ابھی کیا ہے وہ  بھی خاصا محنت طلب تھا۔ بہار علی  جو اپنی عمر کے ساٹھ سالپورے کرچکا ہے، اسے ایک ایسا تماشہ کرنا تھا جو اس نے پچھلے پندرہ سال میں  نہیں کیا تھا ۔ اپنے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ، اس نے کوشش کی کہ وہ ایک  لوہے کے لگ بھگ  ایک فٹ قطر کے دائرے سے گزر کے دکھائے لیکن یہ تماشہ آسان نہیں تھا۔ بازی گر اس دوران  اس  اسٹیل کے دائرے میں پھنس کے  رہ گئے اور انہیں  تماش بینوں نے بمشکل کھینچ کر نکالا۔

بہار علی (درمیان میں) اسٹیل کے دائرے سے گزرنے کی کوشش کرتے ہوئے۔(یہ تماشہ لاہور میں ملتان روڈ کے پاس ایک کچی بستی میں ہو رہا تھا)

بہار علی کے خانہ بدوش قبیلے (جنہیں قلندر اور بازی گر بھی کہا جاتا ہے) میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے  کہ تین افراد کا اسٹیل کے گول دائرے سے گزرنے والا کرتب سب سے مشکل ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر کسی بھی تماشے کا آخری کرتب ہوتا ہے۔ باقی سب کرتب اس کے لئے ماحول تیار کرتے ہیں۔

تاہم یہ کرتب ان سینکڑوں غیر معمولی کرتبوں میں سے ایک ہے جو ان کے آبا و اجداد صدیوں سے انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ مثلاً بہت سارے لوگوں کا مل کر انسانی مینار بنانا وغیرہ۔

اپنے اجداد کی مانند تربیت اور طاقت کے فقدان کے سبب اب ان میں سے بہت سے بازیگروں نے گلی اور محلے کے تماشے کے لئے بکروں اور بندروں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

بہار علی نے بھی ایسا ہی کیا تھا تاہم پچھلے تین سالوں میں اس کے تینوں بندر مر گئے۔ اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خود  ہی کرتب  کرکےدکھائے۔ تاہم اُس وقت تک اس کے دونوں بڑے لڑکے جسمانی کرتب سیکھنے کی عمر سے گزر چکے تھے۔ لہذا اس نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے احمد علی کو تربیت دینا شروع کی تا کہ وہ اس کے ساتھ کرتب دکھا سکے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ بہت تکلیف دہ تھا کیونکہ اسے اپنے بیٹے کوسکول سے اٹھانا پڑا۔   لیکن  اسے خاندان کی خاطر یہ قربانی دینا پڑی۔ بہار علی یہ بتاتے ہوئے اپنے بیٹے کی جانب افسردگی سے دیکھ رہا تھا۔

(بہار علی ایک کرتب سر انجام دیتے ہوئے)

احمد علی  کی تربیت میں تین سال لگے۔ اب اسے کرتب دکھاتے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں۔ اس کا پسندیدہ کرتب  جس پر اسے سب سے زیادہ داد ملتی ہے ۔ وہ  یہ ہے کہ جس کے دوران وہ لوہے کے دو اسٹولوں پر چڑھتا ہے ۔ اپنی کمر کو پچھلی سمت موڑتے ہوئے اور ایک سپرنگ کی مانند زمین کی سمت جھکتا چلا جاتا ہے اور پھر اپنے منہ سے زمین پر پڑا ہوا دس روپے کا نوٹ اٹھاتا ہے۔اس  کرتب کی تربیت بہت مشکل اور وقت طلب تھی۔

جب احمد علی چھوٹا تھا تب اس کا باپ اسے چارپائی پہ کھڑا کر کے کمر کے بل جھکایا کرتا تھا جب وہ کچھ سیکھ گیا   تب اینٹوں پر کھڑا کر کے عقبی سمت جھکانے کی تربیت دی گئی۔  جب وہ مکمل سیکھ گیا تو لوہے کے اسٹولوں کی باری آئی۔

باپ بیٹےکی  یہ جوڑی کرتب دکھانے سے پہلے اپنے تماش بینوں میں خوب اشتیاق بھرتے ہیں۔  اس کرتب کو دکھانے سے پہلے بہار علی تماش بینوں میں سے احمد علی کی عمر اور قد کا ایک لڑکا اپنے پاس بلاتا ہے اور انہیں ان سٹولوں پر کھڑا ہونے کا کہتا ہے۔  بچہ کوشش کرتا ہے مگر توازن برقر ارکھ نہیں پاتا کیونکہ لوہے کہ یہ اسٹول ناہموار زمین پر دھرے ہوتے ہیں۔ بہار علی اس بچے سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ زمین پر پڑے ہوئے دس روپے کے نوٹ کو منہ کے بل اٹھا سکتا ہے۔ بچہ جواب میں کہتا ہے۔ نہیں!

اس پر بہار علی کہتا ہے ۔

”ہاں! یہ واقعی مشکل کام ہے”۔

پھر وہ احمدعلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے  دیکھو یہ لڑکا اس کام  کو کر کے دکھائے گا۔

(احمد علی ایک آہنی راڈ کو گردن کے بل پر گھماتے ہوئے)

احمد علی فوراََ اسٹول پر چڑھ جاتا ہے ۔

”تم یہ دس روپے کا نوٹ زمین سے کیسے اٹھاؤ گے ؟

”اپنے ہاتھوں سے یا اپنے منہ سے ”؟

وہ بیٹے سے پوچھتا ہے۔

”اپنے منہ کے ساتھ ۔”

بیٹا جواب دیتا ہے ۔

” یہ ایک مشکل کام ہوگا ۔”

باپ اسے خبر دار کرتا ہے ۔

” میں اسے کرسکتا ہوں۔”

بیٹا مجمع کی جانب ایک خاص نگاہ سے دیکھتے ہوئے  پُر اعتماد انداز میں جواب دیتا ہے ۔

احمد علی نے اپنے کندھوں کو گھمایا اور خود کو اس کرتب کے لئے تیار کیا۔ جیسے  ہی ڈھولچی نے ڈھول  پیٹنا شروع کیا ۔ احمد علی اسٹول کے اوپر چڑھ گیا اور کمر کے عقبی جانب جھکنے لگا ۔ وہ جھکتا گیا اور جھکتا چلا گیا ۔ لیکن وہ اس پہلی کوشش میں زمین تک نہ پہنچ سکا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔

” میں نے کہا تھا ناں کہ یہ ایک مشکل کام ہے ”۔

بہار علی اسے ایک بار پھر خبردار کرتا ہے ۔

” اگر یہ مشکل ہے تو اسے دوبارہ کرنے کی کوشش بہت مزےدار ہوگی۔”

احمد علی دوسری بار کوشش سے پہلے چہکنے کے انداز میں کہتا ہے ۔

(احمد علی کمر کی عقبی جانب جھک کر آنکھوں سے ماچس کی تیلیاں اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔)

ڈھولچی نے ایک بار ڈھول بجانا شروع کیا  ۔ تماش بینوں کے منہ کھلنے لگتے ہیں  اور ان کی آنکھیں اس نوجوان بازی گر پر ٹھہر جاتی ہیں ۔ لڑکا اپنے جسم کو عقبی جانب موڑنے لگتا ہے ۔ اس کی پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگتا ہے  ۔ اس کے چہرے کی رگیں پھولنے لگتی ہیں اور سخت ہو جاتی ہیں ۔ اور دیکھئے  وہ زمین تک پہنچ گیا اور اب اس نے نوٹ اپنے منہ سے اٹھا لیا اور لمحہ لمحہ رکتے ہوئے واپس اسٹولوں پہ سیدھا کھڑا ہوگیا ۔

تماش بین اندھا دھند تالیاں پیٹنے لگے اور زمین پہ نوٹ  پھینکنے لگے ۔ ڈھولچی نے ڈھول چھوڑ کر پیسے اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔جب احمد علی نے پہلی دفعہ یہ کرتب ایک میلے پہ دکھانے کی کوشش کی  جو کہ فیصل آباد کے نواح میں واقع قصبے جڑانوالہ  میں ہورہا تھا  تو وہ اپنا توازن سنبھال نہیں پایا تھا ۔ وہ گر گیا تھا اور اس کا سر زخمی ہوگیا تھا ۔ مگر اب وہ اس کرتب سے لطف اندوز ہونے لگا  ہے ۔”

میرے لئے یہ بہت مزے کی چیز ہے ۔ مجھے اس سے راحت ملتی ہے۔”

اس نے دھیمی سی مسکراہٹ سے بتایا ۔

جڑانوالہ کا میلہ ہر سال بہار کے مہینے میں لگتا ہے ۔ بہار علی نے اپنے کیلنڈر پہ اس کی تاریخوں کو نشان لگا رکھے ہیں۔ پنجاب بھر کے مداری ، بازیگر اور تماشہ گر یہاں اکٹھے ہوتے ہیں ۔ اپنے تجربات او ر مہارتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

” وہاں پینے اور نہانے کے لئے پانی وافر مل جاتا ہے ۔”

احمد علی نے اس میلے میں اپنی پسندیدہ نعمت  کے متعلق بتایا ۔

(بچے تماشہ دیکھ کر خوش ہورہے ہیں ۔)

آج کل بھی قلندر اور بازی گر پنجاب بھر میں گھومتے پھرتے ہیں ۔ کھلی جگہوں پہ خیمے لگا لیتے ہیں ۔ اور اپنی مہارتوں والے مختلف کرتب دکھاتے ہیں ۔ جمناسٹک کرتے ہیں ۔ منہ سے آگ کی پھونکیں مارتے ہیں ۔ نظر کے دھوکے دیتے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے لوگ اب شہروں میں آباد ہوچکے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں ۔

مانانوالہ شیخوپورہ کے پاس واقع ایک قصبہ ہے جہاں قلندروں کی ایک بہت بڑی بستی آباد ہے جو اب اپنی خانہ بدوش زندگی کو خیرباد کہہ چکے ہیں ۔ ان میں سے کچھ نے  کپڑے اور بانس کی عارضی جھونپڑیاں بنا رکھی ہیں اور جنہوں نے بھلے وقتوں میں چند پیسے جوڑ لئے تھے ان کے پکے مکان ہیں ۔

(احمد علی اپنے منہ سے زمین پر پڑے دس روپے اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔)

رجب علی اور اس کا خاندان دوسرے گروہ میں شامل ہے ۔ اس کا کسرتی بدن یہ  بتاتا ہے کہ وہ بھرپور ورزشی نوجوان ہے ۔ وہ باآسانی اپنے ہاتھوں کے بل زمین پہ چل لیتا ہے اس دوران اس کے دونوں پاؤں ہوا میں بلند ہوتے ہیں ۔ وہ ایک شخص کو اپنے سر پر دوسرے کو اپنے کندھوں پر اور تیسرے کو اپنی رانوں پہ سوار کرکے باآسانی اپنا توازن برقرار رکھ لیتا  ہے ۔

”ہم اپنے اجداد کی نسبت بہت کم خطرناک کرتب دکھاتے ہیں  ۔”

لگ بھگ تیس سالہ رقیب علی نے بتایا ۔ مشکل کرتب دکھانے کے لئے جس خوراک کی ضرورت ہوتی ہے وہ اب میسر نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ نوجوان بازیگر وں میں اب وہ صلاحیتیں بھی نہیں رہیں جو ہمارے باپ دادا نے صدیوں تک انجام دی ہیں ۔

 ”ہمیں تو یہ علم بھی نہیں کہ انہیں کرنے کا طریقہ کیا تھا ؟”

رقیب علی افسردہ لہجے میں کہتا ہے ۔

کچھ اور کرتب بھی ہیں جو ہم زیادہ جگہ نہ ہونے کے سبب نہیں کرسکتے ۔ آگ میں جلتے ہوئے لوہے کے دائروں  کے اندر سے ہوا میں چھلانگ لگاتے ہوئے کود جانا یا ایک تنی ہوئی رسی پہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک چلنا ۔ یہ ایسے کرتب ہیں جنہیں سرانجام دینے کے لئے بڑی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے  لیکن دیہاتوں میں فصلوں اور قصبوں میں بازاروں اور سڑکوں کے  جگہ گھیر لینے کےسبب ایسے کرتبوں کے لئے اب کوئی جگہ نہیں بچی ۔

(بہار علی اپنے کرتب کے آغاز میں پلاسٹک کی تین گیندوں کو بیک وقت ہوا میں اچھال کر سنبھالنے کا فن دکھا رکھا ہے )

رقیب علی کا خاندان جو پہلے اپنا ایک چھوٹا سا سرکس چلاتا تھا اب لگ بھگ ایک دہائی پہلے اسے بند کرچکا ہے ۔ اس کے  بھائی لاہور منتقل ہوگئے ہیں اور انہوں نے یہاں مزدوری کا کام شروع کردیا ہے ۔ وہ خود بھی ساراایک سال اسی طرح کے چھوٹے موٹے کام کرتا رہتا ہے ۔ صرف سکولوں  یا میلوں میں ہی اب و ہ کرتب دکھاتا ہے وہ بھی تب جب اسے وہاں دعوت دی جاتی ہے ۔ اس کے مطابق ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال بھی سرکس کے دروازے بند ہوجانے کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ  ہے ۔

”ہمیں بھی اکثر اوقات امن کے لئے خطرہ تصور کیا جاتا  ہے  ۔”

مانانوالہ کے ایک اور بازیگر خالد حسین  نے کہا ۔

”چاہے آپ کسی بڑے سیاستدان کے ڈیرے پہ سفارش کے لئے ہی کیوں نہ چلے جائیں ۔ اس کی کوئی گارنٹی ہیں کہ اگر وہ سفارش کربھی  دے تو انتظامیہ آپ کو کرتب دکھانے کی اجازت دے گی ”۔

حسنین جو اپنی عمر کی تیسری دہائی میں ہوگا ان چند قلندروں میں سے ایک ہے جنہوں نے اپنا آبائی پیشہ ترک نہیں کیا ۔ وہ اب بھی اپنے بیٹے کے ساتھ گاؤں گاؤں اور میلہ میلہ سفرکرتا ہے اور لوگوں کو کرتب دکھاتا  ہے ۔

(ایک نوجوان بازی گر ایک پہیئے کی سائیکل چلانے کا مظاہر ہ کررہا ہے )

ایسے سفروں پہ اس کا بیٹا ہمیشہ پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کے خوف میں مبتلا رہتا ہے ۔  ایک بار میرا باپ اس جرم میں پکڑا گیا کہ وہ اپنے پوتے سے چائلڈ لیبر کروا رہا ہے ۔ اس لئے جب بھی میرا بیٹا کسی پولیس والے کو دیکھتا ہے تو وہ خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ کہیں پولیس والے اس کے باپ کو بھی گرفتار نہ کرلیں ۔

اس کا ماننا ہے کہ گلی گلی گھومنے والے سرکس کو بند کرنا، اس پر مذہبی و انتظامی نوعیت کے بہانے بنا کر پابندیاں لگانا  وہ بڑی وجوہات ہیں جس کے سبب سرکس کا پیشہ زوال کا شکار ہے  ۔

بہار علی ایک اور وجہ کے متعلق بتا تا ہے  جو  کہ جدید ٹیکنالوجی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ موبائل فون اور کیبل ٹیلی ویژن نے لوگوں کے لئے تفریح کا تصور بدل کے رکھ دیا ہے ۔ اب لوگ تفریح کی خاطر باہر نہیں آتے انہیں اپنے آرام دہ کمروں میں ہی تفریح مہیا ہوجاتی ہے  ۔ اور تو اور اب  وہ جب اور جہاں چاہیں اپنے ہاتھ میں پکڑے  فون سے جس طرح کی اور جہاں مرضی چاہیں تفریح اٹھا سکتے ہیں ۔

لیکن بہار علی پر عزم ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھے گا ۔ ہم اس وقت تک اپنے کرتب دکھاتے رہیں گے جب تک ان پر تالیاں بجانے والے موجود ہیں ۔

(یہ فیچر رپورٹ ہیرالڈ کے انگریزی شمارے میں شائع ہوئی جسے تجزیات آن لائن کے لئے شوذب عسکری نے اردو ترجمہ کیا)

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...