پاکستان افغان کشیدگی ، باہمی تجارت کیلئے نقصان دہ

103

پوری دنیا کے ماہرین معاشیات اس بات پر متفق ہیں  کہ جس قدر کسی ملک کی برآمدات زیادہ ہوں گی اس ملک کی ترقی کی رفتار بھی اتنی ہی تیزہوگی۔ دوسری جانب جس قدر برآمدات میں اضافہ ہوگا اسی قدر ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور ملک ترقی کرےگا۔
لیکن پاکستا ن کی معیشت روز بروز زوال پذیر ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ نیچے جارہی ہے۔ اگر چہ پاکستان کو دسمبر 2013 میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملاتھا جس کی بنیاد پر  یہ طے ہوا تھا کہ پاکستان کو یورپی یونین ممالک کی مارکیٹ میں بغیر کسی ٹیکس کے ایک ارب ڈالر کے مصنوعات برآمد کرنے  کی اجازت ہوگی۔ لیکن اس  طرح کے مواقع کے باوجود اگر پاکستان کی برآمدات کا جائزہ لیا جائے تو نواز شریف کی حکومت میں برآمدات کا حجم کم ہوا ہے اور درآمدات بڑھی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورحکومت کے اختتام پر پاکستان کا برآمدات کا حجم ساڑھے چوبیس ہزار ملین ڈالر تھا جو کم ہوکر نواز شریف کے دورحکومت کے اختتام پر 21 ہزار ملین ڈالر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف اسی دوران پاکستان کی درآمد ات کا حجم 45ہزار ملین ڈالر سے بڑھ کر 53 ہزار ملین ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔
افغانستان  تجارت کے حوالے سے پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھی جاتی تھی ، لیکن پاکستان اور افغانستان کے سیاسی و سفارتی تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران پیدا ہونے والے تناؤ کی وجہ سے دونوں ملکوں کی باہمی تجارت پر بہت منفی اثر پڑا ہے اور حالیہ برسوں کے دوران پاک افغان باہمی تجارت میں 1.2 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی اے جے سی سی آئی) کی رپورٹ کے مطابق 2014کے دوران پاک افغان دوطرفہ تجارت کا حجم 2.4 ارب ڈالر تھا جس میں تین سال کے قلیل عرصہ کے دوران 1.2 ارب ڈالر کی کمی ہوئی  ہے جبکہ 2014میں ایک اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے پانچ سال کے دوران دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کیا تھا۔ لیکن ان دعوؤں کے برعکس دونوں ممالک کی باہمی تجارت کو کافی نقصان ہوا ہے اور باہمی تجارت میں فروغ کی بجائے زوال آیا ہے۔ان مشکلات کی وجہ سے جہاں پاکستانی تاجر اپنا سامان دیگر ممالک لے جانے پر مجبورہوئے  ہیں وہاں افغان تاجر بھی دیگر ممالک میں اپنے لیے منڈیاں تلاش کررہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت میں کمی کی وجہ سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ٹرانسپورٹ،کلیرنس ایجنٹس اور مزدوری کرنے والے افراد کو بے روزگاری کا سامنا ہے۔
سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر زاہد اللہ شنواری دونوں پڑوسی ممالک کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت میں بہتری لانے کے حوالے سے مذاکرات میں ڈیڈلاک ہے جس کی وجہ سے  دونوں ممالک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ زاہد اللہ کہتے ہیں کہ حکومتی پالیسیوں کو دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے حکمران نہیں چاہتے کہ باہمی تجارت کو فروغ ملے، یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک جانب پاکستان نے پاک افغان سرحد طورخم سے گزرنے والی گاڑیوں پر متعدد قسم کے ٹیکس لگائے ہیں تو دوسری جانب افغان حکومت نے بھی ٹیکسوں میں اضافہ کردیا ہے، جس کے باعث تاجر متبادل منڈیاں تلاش کررہے ہیں، اگر یہ اقدامات واپس نہ لئے گئے تو اس سے اسمگلنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا سب سے زیادہ نقصان قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا کے عوام کو ہورہا ہے  کیونکہ افغانستان کے ساتھ تجارت کرنے والے سرمایہ داروں میں پچانوے فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کے لیے پانچ مختلف راستے ہیں ان میں سے خیبر ایجنسی میں طورخم کے راستے سب سے زیادہ تجارت ہوا کرتی تھی۔ تاہم گزشتہ ایک سال کے عرصے سے طورخم سرحد پر کسٹم، وزارت تجارت اور دیگر سرکاری اہلکاروں نے کئی مشکلات پیدا کر رکھی ہیں جس نے دونوں ممالک کے مابین تجارت کو تقریبا ََختم کردیا ہے۔
عبدالطیف کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ گزشتہ 16 سال سے پشاور کے شعبہ بازار میں قالین کا کاروبار کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسرے کاروبار کے طرح قالین کا کاروبار بھی بری طرح متاثرہوا ہے۔ پشاورایک زمانے تک  کابل سے آنے والے قالین کی بہت بڑی مارکیٹ  ہوا کرتا تھا  اور دیگر ممالک  کے علاوہ پورے پاکستان میں بھی یہیں  سے سپلائی ہوتی تھی لیکن اب دوسرے علاقوں سے بہت کم خریدار  یہاں آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر تقریباََ 1300 کے قریب کاریگرکام کرتے تھے جو کم ہو کر 600 تک رہ گئے ہیں۔

طورخم میں ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماحاجی عظیم کہتے ہیں کہ سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کی وجہ سے ایک گاڑی کی کلیرنس میں آدھ گھنٹے کی بجائے اب پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ٹرمینل نہیں ہیں اور عملے کے لیے سہولیات بھی نہیں ہیں۔ نئے سسٹم کی وجہ سے روزگار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
خیبر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی شاکر آفریدی نے کہا کہ پاکستانی گاڑی سے افغانستان میں کلیرنس کے  لئے پانچ ہزار روپے  ٹیکس لیا جاتا تھا لیکن جب  سے افغان حکومت نے ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے تب سے باڈرکے اس طرف واپسی پر کنٹینر کی کلیرنس پر کئی کئی ہفتے لگ جاتے ہیں جس کہ وجہ سے ٹرانسپوٹرز کراچی میں لاجسٹک کمپنیوں کو ہزاروں روپے جرمانے کی مد میں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ افغان حکام بارڈر پر کنٹینر کو جلدی کلیر کرنے کیلئے فی کنٹینر 50 سے 60 ہزار روپے تک رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں  ۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریبا 21 سو کنٹینرز بارڈرکے اس پار کلیرنس کیلئے تین ہفتوں سے کھڑے ہیں۔
ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تاجر اپنے مسائل کے حل کیلئے دونوں ممالک کے حکمرانوں کی توجہ کے طلب گار ہیں، تجارت کے فروغ سے دونوں ممالک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے، اس کے لئے پاکستان کو اپنے موجودہ قوانین میں نرمی لانا ہوگی تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو پاک افغان بارڈر پر غیرقانونی کاروبار یعنی اسمگلنگ روکنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔ٹرانسپورٹرز یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ موجودہ نظام میں کچھ نرمی برتی گئی ہے جگہ جگہ چیک پوسٹس ختم کرکے ایک مقام پر چیکنگ کی جاتی ہے جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے۔ لیکن اگر حکومت تجارت کو بڑھانے میں سنجیدہ ہے تو پرانا سسٹم واپس لانا ہوگا یا اس نظام میں مزید نرمی لانا ہوگی اور شفافیت لاناہوگی۔تجارتی سرگرمیوں جزوی طور تعطل سے جہاں ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے تو دوسری جانب کاروبار ختم ہونے سے معاشرتی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ طورخم سمیت پاک افغان شاہراہ لنڈی کوتل اور دیگر علاقوں میں بھی بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ لنڈی کوتل میں موجود انتظامیہ سے رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرراقم کو  بتایا کہ پہلے نئے سسٹم  میں موجود اور اسے چلانے والوں  لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں تو تبھی وہ دوسروں کو سہولیات فراہم کر پائیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کا پائیدار امن و استحکام اور خوشحالی ایک دوسرے سے وابستہ ہے لہذا دونوں ممالک  کو چاہیے کہ اپنے   سیاسی و سفارتی تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران پیدا ہونے والے تناؤ کو ختم کرکے اپنی باہمی تجارت بڑھانے   کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ اس تجارت سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان اس ایشو پر اعلیٰ سطح کے رابطے ضروری ہیں  تاکہ  دونوں ممالک  کے اقتصادی تعلقات پر مثبت اثر پڑے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...