نوجوان نسل : ہمارا سرمایہ

134

پاکستان کی اکثریت نوجوان نسل پہ مشتمل ہے۔ کسی بھی ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا نقصان دہ نوجوان نسل کو نظر انداز کرنا ہے۔ انسان میں اللہ تعالیٰ نے جہاں عقل و فکر کی صلاحیت ودیعت فرمائی ہے وہاں جذبات کا بھی ایک بحرِ بے کنار انسان کو عطا کیا ہے اور نوجوان انہی جذبات واحساسات سے بھرپور ہوتا ہے۔  عمل کا جذبہ اور جذبات کی قوت نوجوان کو بڑی سے بڑی طاقت سے لڑا دیتے ہیں۔

دنیا کی تحریکوں کا مطالعہ کریں تو اہل علم و دانش کے افکار کو عملی جامہ پہنانے والے نوجوان ہی تھے۔ اگر مزاحیہ پیرائے میں عرض کروں تو نوجوان ”زکوٹا جن” کی طرح ہوتا ہے۔ بچوں کے مشہور زمانہ ڈرامہ ”عینک والا جن” جس میں زکوٹا جن کا تکیہ کلام تھا ” مجھے کام بتاو میں کیا کروں میں کس کو کھاوں” یہ جملہ جہاں بے چینی اور اضطراب کا اظہار کرتا ہے وہاں اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو طاقت و جذبات سے مغلوب ہو تو اس کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں سے مصروف نہ کیا جائے تو وہ منفی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو اہل حل وعقد اور اہل علم و دانش کے لیے غور و فکر اور عملی اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔ جرائم اور تخریب کو روکنے کا ایک حل سزا کا تصور ہے لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔ اس سے مزید مجرم پیدا ہوتے اور مجرمانہ ذہنیت مزید پختہ ہوتی ہے اور ردعمل میں، مزید خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ اس کا بہتر اور مستقل حل وہی ہے جسے ”کام” کہا جاتا ہے۔ نوجوان نسل کیلیے زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کیے جائیں اور انہں خواب دئیے جائیں تاکہ اس کی تعبیر کیلئے وہ تگ ودو اور محنت کریں۔ سائنس ،ٹیکنالوجی ،معیشت سماجیات اور سیاسیات کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے بلا تفریق حوصلہ افزائی کی جائے۔

آج ہم جس مشکل میں گھرے ہوئے ہیں کل اس مشکل میں اضافہ ہوگا اور اس کے بعد مزید مشکلات بڑھیں گی کیونکہ ہمیں جس انداز سے نوجوان نسل کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا چاہیے وہ ہم نہیں کرپا رہے ،اگر ہم جلسہ ،جلوس، مظاہرہ اور دھرنا کا سروے کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں ان میں شرکاء کی اکثریت نوجوان پہ مشتمل ہوتی ہے اور وہ نوجوان 16 سال سے 26 سال کی عمر کے ہیں۔ ان میں اکثریت مدارس، کالجز اور یونیورسٹیز کے نوجوان ہیں۔ ان نوجوانوں کا سروے کریں تو معلوم ہوتا ہے، پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلباء ان سرگرمیوں میں نہ ہونے کے برابر شریک ہوتے ہیں ،زیادہ تر وہی تعلیمی ادارے ہیں جو تعلیم اورزندگی کے دیگر شعبوں میں کوئی خاطر خواہ حصہ شامل نہیں کررہے ۔ یا رینکنگ (Ranking) میں وہ اپنے ملک کے تعلیمی اداروں میں کوئی مقام نہیں رکھتے۔

ان نوجوانوں میں اکثریت مجموعی طور پر سرکاری اداروں سے آئے ہوئے ہوتے ہیں بہت ہی کم نوجوان ہیں جو پرائیویٹ اداروں سے تعلق رکھتے ہوں۔

جرائم پیشہ افراد کے لیے قانون حرکت میں آتا ہے اور اسے آنا بھی چاہیے لیکن ہم سب کو بھی سوچنا ہے کیا ہم نوجوان نسل کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں؟ والدین، اساتذہ اور دانشور طبقے پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کرے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع فراہم کرے۔ ایسا ماحول  تخلیق کرے جہاں میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پہ فیصلے ہوں۔ سفارشیں اور رشوت کے کلچر کا خاتمہ ہو۔ ورنہ نوجوان نسل کا انتقامی کرداراور ردعمل معاشرے کیلئے مسائل میں اضافے کا باعث بنتا رہے گا۔ یہ ٹیلنٹ (Talent) معاشرے کی بنیادوں کو کمزور ہی نہیں کرے گا بلکہ مستقبل کی تصویر کو بھی بگاڑ کر رکھ دے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...