فہم عرب اور فہم مغرب: اہل مغرب عربوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

166

امریکی مصنفہ مارگریٹ نایدل(Margaret K. Nydell)عربی لسانیات  اور عرب ثقافت کی سپیشلسٹ ہیں ،انہوں نے عرب معاشرے کی  تفہیم کے  لیے اہل مغرب کے لیے بطور گائیڈ (فہم عرب )کے نام سے  سے 1994 میں  ایک کتاب لکھی تھی  جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی،حال ہی میں  بعض ترامیم و اضافات کے ساتھ اس کا چھٹا ایڈیشن شائع ہوا ہے،کتاب کے مندرجات اور  اضافات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان کو عام کیا جائے تاکہ اہل مشرق کے سامنے اہل مغرب کی تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آئے جیسا کہ اس کتاب نے  مسلمانوں اور بالخصوص عربوں  کا دوسرا رخ جسے ہم صحیح رخ یا درست تصویر  بھی کہہ سکتے ہیں اہل مغرب کے سامنے پیش کیا۔

مارگریٹ نایدل لکھتی ہیں کہ  اب وقت آ گیا ہے کہ اہل مغرب عربوں کے بارے میں اپنی رائے تبدیل  کریں،کیونکہ عرب دنیا میں اس وقت بہت بڑی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہے اور یہ لوگ دہشتگردی سے نفرت کرتے ہیں،اس لیے  عربوں  کے بارے میں ہمارے میڈیا  اور رسائل و کتب میں ان کے ان پڑھ اور انتہاپسند ہونے کی جو نقشہ کشی کی جاتی ہے وہ حقائق کے منافی ہے۔

کتاب کے مقدمہ میں مصنفہ لکھتی ہیں کہ 18 عرب ممالک کی اپنی اپنی روایات  ہیں اور اگرچہ اکثریت مسلمانوں کی ہے تاہم  مصر،اردن،شام اور لبنان میں  مسیحی  کمیونٹی بھی پائی جاتی ہے۔ان عربوں کا تعلق  خواہ اسلام سے ہے یا مسیحیت سے حقیقت یہ ہے کہ اکثریت دہشتگردی  اور بے گناہوں  کو قتل کرنےکی مخالف ہے۔

مسئلہ فلسطین سے متعلق مارگریٹ کا ماننا ہے کہ یہ دو  قوموں کی آپس کی لڑائی ہے نہ کہ  دو مذاہب  کی، یہودیوں نے 1948ء میں فلسطینیوں کی  زمین پر قبضہ کیا تھا اور یہ قبضہ  دونوں قوموں کے درمیان وجہ نزاع ہے،ایسا نہیں ہے کہ یہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان  کوئی مسئلہ ہے جیسا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے۔

مارگریٹ اس تاثر کی بھی نفی کرتی ہیں کہ عرب امریکہ سے نفرت کرتے ہیں،وہ کہتی ہیں کہ عربوں کو امریکہ کی خارجہ پالیسی  سے شکایت ہے کہ وہ ہمیشہ اسرائیل کے حق میں ہوتی ہے اور  کسی بھی معاملے میں امریکی پالیسی ان کے خلاف ہی ہوتی ہے،اور نائن الیون کے بعد  تو امریکہ  کا عربوں کے خلاف رویہ جارحانہ ہی رہا جس کی وجہ سے عرب امریکی حکومت کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ امریکہ سے نفرت کرتے ہوں،عرب امریکی کھانے کھاتے ہیں ،امریکی ماحول  کو پسند کرتے ہیں اور امریکہ کے وزٹ کا شوق رکھتے ہیں۔وہ امریکی حکومت کو مشورہ دیتی ہیں کہ اسے مسلمانوں اور بالخصوص عربوں  کے ذہنوں میں امریکہ کی جانبداری کا جو تصور بیٹھ گیا ہے اس کا ازالہ کرنا چاہیے اور ریاستی دہشتگردی کرنے والے عرب مخالف ملک کی پشت پناہی چھوڑ دینی چاہیے۔

مصنفہ نے  کتاب کی تصنیف کے دوران متعدد عربی و خلیجی ممالک کا دورہ کیا ،عام شہریوں اور حکومتی افسران سے ملاقاتیں کیں،تیونس میں امریکی  این جی اوز کو عربی زبان کی ٹریننگ دی اور عربوں کو قریب سے دیکھا،انٹرویوز لیے تاکہ وہ خود عربوں کو اچھی طرح سمجھیں اور عرب ممالک کی طرف سفر کرنے والوں یا عربوں سے متعلق کسی بھی قسم کی رائے رکھنے والوں کی درست رہنمائی کرسکیں۔

 

(Understanding Arabs) کے نئے ایڈیشن میں  مصنفہ نے ابتدا میں  نیا مقدمہ لکھا،عرب عورت کے نام سے پانچویں باب  کا اضافہ کیا،گیارہویں سے چودہویں باب  تک سیاسی اسلام،امریکہ دشمنی،اور عربوں کے مغرب میں قیام پر بحث کی اور ہر عرب ملک کا الگ سے جائزہ پیش کیا۔

گیارہویں باب میں شدت پسند مسلمانوں اور عام مسلمانوں کا فرق واضح کیا اور  لکھا کہ ہر مذہب میں ایسے شدت پسند پائے جاتے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں میں  بھی ان کی تعداد ایک فیصد سے زائد نہیں ہے۔مارگریٹ  کا کہنا ہے کہ سموئیل ہنٹنگٹن،برنارڈ لویس اور ڈینیال بایبس وغیرہ نے  خودساختہ  تحقیقات  میں عربوں کو  شدت پسند،دہشتگرد اور مغرب سے نفرت رکھنے والا بنا کر پیش کیا اور دلیل کے طور پر ان عرب رہنماوں کے بیانات پیش کیے جو امریکی رہنماوں کی اس پالیسی کے خلاف دیے گئے تھے جو وہ اسرائیل کے حق میں اپنائے ہوئے ہے،حالانکہ  اسرائیل بار بار فلسطین پر چڑھائی کرتا ہے۔

مارگریٹ اس تاثر کی بھی تردید کرتی ہیں کہ مسلمان اپنے علاوہ تمام یہودیوں اور مسیحیوں کو کافر سمجھتے ہیں،انہوں نے لکھا کہ  یہ بات صرف جہادی مسلمانوں میں ہے،عام مسلمان  دوسرے مذاہب کے پیرو کاروں کے لیے غیرمسلم کا لفظ بولتے ہیں نہ کہ کافر کا۔

مسلمانوں کے طرز زندگی سے متعلق  صفحہ 98 پر مصنفہ لکھتی ہیں:

پوری دنیا کے  مسلمان  بھی دیگر لوگوں کی طرح طبعی طریقے سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں،وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں،ملازمتیں کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتے ہیں،یہ کوئی ایسا گروہ نہیں ہیں جن کو سمجھنا کوئی پیچیدہ امر ہو اور دوسرے افراد سے الگ تھلگ زندگی گزارتے ہوں،یا غیرمسلموں کو تکلیف پہنچاتے ہوں۔

انہوں نے دعوت دی کہ عربوں کو سمجھنے کے لیے مکالمے کی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے،اور یہ بات تو بالکل دل سے نکال دینی چاہیے کہ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ ایک سروے کا حوالے دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ امریکہ کی نصف آبادی ایسی ہے جس کی کبھی بھی کسی مسلمان سے ملاقات نہیں ہوئی اور اعتراف کرتی ہیں کہ امریکی میڈیا عربوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاتا ہے،وہ معروف اخوانی رہنما طارق رمضان  جن کے حال ہی میں کچھ سکینڈلز سامنے آئے ہیں کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ان کا شمار ایسے مفکرین میں ہوتا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ  اسلام اور مغربی معاشرہ ایک ساتھ چل سکتے ہیں،لیکن بجائے ان کی حوصلہ افزائی کے ان کی کردار کشی کی مہم چلائی جارہی ہے تاکہ ان کی فکر کے اثرات معاشرہ قبول نہ کرے۔

قطر خلیج بحران سے متعلق لکھتی ہیں کہ قطری قیادت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور قطر نے  بعض عرب ایشوز کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جن میں سرفہرست مسئلہ فلسطین ہے،لیکن خطے میں حماس اور اخوان  جیسی مزاحمتی تحریکوں اور ایران  و ترکی سے روابط کی بنا پر اسے دہشتگردوں کا معاون قرار دیا گیا ہے۔

مصنفہ یہ سمجھتی ہیں کہ قطر اس بحران سے گزر گیا ہے اور بھرپور مخالفانہ مہم اور مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ روابط کے باوجود اس کے امریکہ سے تعلقات بھی بہتر ہوئے ہیں،قطر نے یمنی باغیوں کے خلاف جنگ میں بھی حصہ لیا تھا لیکن  وہاں انسانی حقوق کی پامالی کو دیکھتے ہوئے  پیچھے ہٹ گیا تھا۔

352 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے چند مقامات پر اختلاف کی گنجائش بھی ہے لیکن مجموعی طور پر اس میں  مسلمانوں اور بالخصوص عربوں کی مثبت تصویر پیش کی گئی ہے ،اس طرح کی تصنیفات  جانبین میں قائم فاصلوں کو سمیٹنے میں مدد دے سکتی ہیں ،امید ہے کہ یہ کتاب نہ صرف فہم عرب بلکہ فہم مغرب میں بھی ممد و معاون ثابت ہو گی اورمشرق مغرب کو جوڑنے میں پل کا کردار ادا کرے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...