انتہا پسندی کے سدِ باب کا ریاستی عزم

188

انتہا پسندی کا خاتمہ ایک آسان عمل نہیں ہے تاہم حکومتی عزم کی کمزوری اس عمل کو مزید گمبھیر اور مشکل  بنا دیتی ہے۔ اس کے سدِ باب کے ارادے کو عمل شکل معاشرے اور ریاست کی سماجی و نظریاتی ساختیات  اور آئین کی مدد سے ہی دی جا سکتی ہے۔ محض ایک گرج دار تقریر ،جیسا کہ بدھ کے روز وزیرِ اعظم عمران خان نے کی ، انتہا پسندی کے اس نا سور کے تدارک کے لیے ناکافی ہے الا یکہ ریاست  عمرانی معاہدے پر نظرِ ثانی  کا عزم کرلے۔

انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پالیسی سازی سے متعلق  حالیہ ریاستی  و غیر ریاستی مباحث مذہب، جو  پاکستان  میں پہچان  کے مسئلے کا لازمی جزو  ہے، کے حوالے سے کئی سوالات پر اصرار کرتےہیں۔ ریاست نے بذاتِ خود مذہبی و قومی شناخت کے بیانیوں کو مختلف مذہبی عناصر کے سپرد کیاجس کی بنا پر وہ  سماج میں اپنااثرو رسوخ بڑھانے لگے۔

ریاست یقین رکھتی ہے کہ مذہب  قوم کو متحد رکھ سکتا ہے اور ایک ہم آہنگ سماج کی تشکیل میں ممد و معاون ہو سکتا ہے۔ تاہم مذہبی عناصرمذہب کو اپنے  مقاصد اور ارادوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں جو زیادہ تر مسلکی یا اعتقادی تصورات سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  مذہبی حوالے سے متحرک گروہ اور ان کے سیاسی  بازو نہ صرف اس ریاستی  نظریاتی منصوبے  کی ناکامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ سماجی کی مجموعی بھلائی میں بھی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ سماج کی مجموعی بھلائی سے مراد  معاشرتی استحکام وبقا ہے جو سب سے کمزور اور غیر محفوظ  ارکان سمیت مکمل سماج کی بہتری کے تصور پر محیط ہو۔

مختلف مذہبی گروہوں کی جانب سے ریاست کی نظریاتی اساس کے غلط استعمال  سے زیادہ اس صورتِ حال  کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے جو اپنے مفادات کے لیے ان گروہوں کو ایسا کرنے کی کھلی چھوٹ دیے رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ  ریاست اپنا نظریاتی بیانیہ  ایسے فرقہ وارانہ گروہوں کے سپرد کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتی جو اپنے تباہ کن ایجنڈے کے لیے کام کرر ہے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے ریاستی رویے کے سبب سیاسی جماعتوں اورقومی سلامتی کے اداروں سمیت معاشرے میں متشدد مذہبی گروہوں سے متعلق رواداری کے جذبات پنپنا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دیگر مسلم ممالک یعنی  انڈونیشیا، بنگلہ دیش، وسط ایشیائی ریاستوں اور ترکی کی نسبت ہمارے ہاں انتہا پسندی  اور انتہا پسندوں سے متعلق نسبتاً روادارانہ رویہ دکھائی دیتا ہے۔ ان ممالک میں ریاست انتہا پسند گروہوں کو پناہ دیتی ہے اور نہ ہی وہ ریاستی نظریاتی بیانیے کے محافظ کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ ریاستیں  مذہبی گروہوں کو نمو دینے کی بجائے مذہبی تحقیق کے میدانوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں ۔

ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود پاکستانی ریاست اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ انتہا پسند گروہوںکو قابو  کیا جا سکتا ہے۔ انتہا پسندی کو ایک مخصوص سطح پر کسی طور برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

تاریخی شواہد اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ریاست کا لچکدارانہ رویہ ہمیشہ انتہا پسند گروہوں کو زندگی بخشتا  اور ان کو سماج میں اثرور رسوخ کی قوت فراہم کرتا ہے۔ کالعدم فرقہ وارانہ تنظیم ، سپاہِ صحابہ ؓ کی مثال لیجیے، خطے کی بدلتی ہوئی مسلکی صورتِ حال اور ریاستی انتظامیہ کی داخلی سیاسی ساختیات کے پیشِ نظر   ایک وقت میں مذکورہ تنظیم ریاستی   نرمی سے استفادہ کرتی رہی۔ یہ تنظیم سیاسی عزائم رکھتی تھی ،90کی دہائی کے اوائل میں پنجاب حکومت کی اتحادی رہی اور  2002ء میں اسی جماعت کے  سربراہ کے ووٹ کے نتیجے میں مشرف دور میں ق لیگ کی  حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا۔سپاہِ صحابہؓ کے بانی اراکین اپنی سخت گیر فرقہ وارانہ تقاریر کے سبب شہرت رکھتے تھے۔ اسی تنظیم نے بعد ازاں کئی ایک دہشت گرد گروہوں کو جنم دیا جن  میں لشکرِ جھنگوی نمایا ں ہےاورہنوز ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

تحریکِ لبیک پاکستان کی اٹھان سپاہِ صحابہؓ سے کئی طرح مماثلت رکھتی ہے۔ دونوں نے اپنے مسلک کی مساجد و مدار س سے افرادی قوت حاصل کی،  ان کی قیادت مسلکی نعروں اور بیانیوں کو عوام میں لائے اور خاطر خواہ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

حکمتِ عملی  کے حوالے سے دیگر کئی مماثلتوں کے علاوہ  تحریک ِلبیک نے زیادہ حساس مسئلے کو موضوع بناتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت  کی انتہائی بلندیوں کوچھوا ہے۔ 90 کی دہائی میں سپاہِ صحابہ کے ناراض عناصر کے جذبات کی تسکین کے لیے کشمیر اور افغانستان کی عسکریت پسند تنظیمیں موجود تھیں تاہم تحریکِ لبیک سے منسلک  متحرک اور جذباتی نوجوانوں کے لیے ایسا کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں ہے جس کے سبب ملک کے اندر گروہی تشدد اور  سماجی عدمِ استحکام کا خطرہ دو چند ہوجاتا ہے۔

تحریکِ لبیک کی اٹھان کے اولین مرحلے پر کئی تجزیہ کاروں کی رائے تھی کہ اس تنظیم کو سپاہِ صحابہ اور دیگر بنیاد پرست دیوبندی جماعتوں  کے اثرو رسوخ  کوتوڑنے کے لیے سامنے لایا جارہاہے۔ تاہم تحریکِ لبیک کے قیام میں کئی دیگر  عوامل کا دخل رہا ہے ،مثلاً جہاد  کے  ریاستی  منصوبے سے بریلوی مکتبِ فکر کا اخراج اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا بزعم خود معتدل چہرہ وغیرہ۔  اگر اس گروہ کی نمو کے پیچھےیہی سوچ کارفرما تھی جیسا کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے تو  اس کے نتائج اس کے برعکس سامنے آئے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ  ان کی اٹھان کے بعد ملکی سلامتی کو  زیادہ سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں۔

کسی ایک خطرے کے سدباب کے لیے کسی دوسرے خطرے کو شہہ دینا عقل مندی کی بات نہیں ہے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انتہا پسندی ایک مسلسل عمل ہے، جو ایک بار جنم لے لیتا ہے تو اس کے آگے بند باندھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ 2018 ء کے عام انتخابات میں تحریکِ لبیک اور دیگر بنیاد پرست مذہبی گروہوں کی شمولیت نے انہیں مزید اعتماد دیا ہے۔ یہ بات یقینی تھی کہ ایسے  گروہ ایک خاص وقت کے بعد   ملکی و سماجی معاملات پراپنا حق جتانے لگ جائیں گے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ ان تمام نفرت انگیز اور انتہا پسند گروہوں کے خلاف واضح پالیسی اپنائے اور  ان کے سدِ باب  کے لیے قانونی اور انتظامی حوالے سے اقدامات اٹھائے۔حکومت گزشتہ چند برسوں کے دوران اس مسئلے سے متعلق تیار شدہ  تمام تر دستاویزات سے استفادہ کر سکتی ہے تاکہ پالیسی سازی کا عمل صحیح بنیادوں پر اٹھایا جاسکے۔ گزشتہ حکومت ان پالیسیوں کو لاگو کرنے سے ہچکچا رہی تھی تاہم یہ وقت ہے کہ ان خطرات  کے پیشِ نظر فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

پاکستان نے دنیا بھر میں اپنی پہچان ایک مسلم قوم کے طور پر کروائی ہے اور اسے شناخت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔تمام ریاستی اداروں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ یہ انتہا پسند گروہ سماج اورریاست  کے باہمی تعلق میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔پاکستان پہلے ہی آئین کی صورت میں ایک جامع عمرانی معاہدے کا حامل ہے جسے محض سماجی و ریاستی سطح پر فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ریاست  کومخصوص مذہبی گروہوں کی سرپرستی کرنے کی بجائے مذہبی علم و تحقیق کے میدان میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ:  ڈان )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...