وہ مزدور جو کانوں میں کوئلہ ہو گئے

422

حکومتی اداروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث اگر ایک طرف درہ آدم خیل کے کوئلہ کانوں میں حادثات روزمرہ کے معمول بن رہے ہیں بلکہ اس سے سرکاری خزانے کو اب ماہوار کروڑوں روپے کانقصان بھی ہوتا ہے۔ ویسے تو کوئلہ کی کانوں میں چاہے وہ بلوچستان کی ہوں یا نوشہرہ کے علاقے چراٹ میں، حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ مگرپشاور کو جنوبی اضلاع سے ملانے والی قبائلی پٹی درہ آدم خیل کی کانوں میں حادثات تواتر سے رُونما ہوتے ہیں ۔

حالیہ مہینوں میں درہ آدم خیل میں کوئلہ کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں لگ بھگ 40 افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔ دراصل درہ آدم خیل کی کوئلہ کان صرف ایف آر کوہاٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ ھنگو،اور اورکزئی کے اضلاع تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ماضی قریب میں قبائلی اضلاع میں معدنیات کی ترقی اور ان وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے ایک ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیاہے مگر اس ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی کچھ بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔

مختلف سابق قبائلی اضلاع کی کوئلہ کانوں میں لگ بھگ 9 ہزار مزدورکام کررہے ہیں جبکہ کوئلہ کی تجارت اور مختلف شہروں اور قصبوں تک لے جانے میں شامل ٹرک ڈرائیوروں، دکانداروں اور دیگر افراد کی تعداد بھی 4 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق کوئلہ اور معدنیات کی دیگر کانوں سے سال 2017-18ء میں رائلٹی کے مد میں 12.5 کروڑروپے سرکاری خزانے کو مل چکے ہیں جبکہ 2018-19ء میں یہ آمدنی 22 کروڑ روپے تک بڑھنے کا امکان ہے۔ مگر اس آمدنی کے باوجود ان کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر کارکنوں کی حفاظت یا ان کی فلاح وبہبود کیلئے کسی قسم کے انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔

درہ آدم خیل میں کوئلہ کے مالکان میں شامل ظفر خان آفریدی نے کہا کہ کوئلہ کی کانوں میں زیادہ تر ٹھیکدار حفاظتی انتظامات کو مکمل نظرانداز کردیتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھی حفاظتی انتظامات کی یقینی بنانے پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جاتی

فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کوئلہ کی کانوں میں مزدوروں کی حفاظت کیلئے تین ریسکیو مراکز قائم کردیئے گئے ہیں۔ یہ مراکز درہ آدم خیل، ھنگو اور اورکزئی کے علاقوں میں قائم ہیں۔ ان مراکز میں 62 افراد خدمات سرانجام دے رہے ہیں مگر عملے کے زیادہ تر افراد غیرتربیت یافتہ ہیں اور حادثات کے وقت یہ اہلکار نہ صرف دیر سے پہنچنے کیلئے مشہورہیں بلکہ تربیت اور آلات نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ حادثات کا شکار ہونے والوں کی زندگیاں بچانے میں ناکام ہوتے ہیں۔

درہ آدم خیل میں کوئلہ کے مالکان میں شامل ظفر خان آفریدی نے کہا کہ کوئلہ کی کانوں میں زیادہ تر ٹھیکدار حفاظتی انتظامات کو مکمل نظرانداز کردیتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھی حفاظتی انتظامات کی یقینی بنانے پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جاتی۔ معدنیا ت کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کیلئے حکومت کے جانب سے محکمہ معدنیات کے اعلیٰ افسران کی موجودگی لازمی ہوتی ہے، مگریہاں کوئلہ کی کانوں میں حکومتی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہاہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ درہ آدم خیل ،ھنگو ،اورکزئی اور پشاور کے زیر انتظام نیم قبائلی علاقوں میں کوئلہ ودیگر معدنیات کے شعبوں کو ابھی تک صوبائی حکومت کے سپرد نہیں کیاگیاہے جس کے نتیجے میں اگر ایک طرف ان کانوں میں ہلاکت خیز حادثات تواترسے ہوتے رہتے ہیں تو دوسری طرف ان کانوں میں غیرقانونی طریقے سے کھدائی اور کمائی بھی کی جارہی ہے ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت با لخصوص وزیر اعظم عمران خان سے رابطہ قائم کیاہے تاکہ کوئلہ کی کانوں کو بھی صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ معدنیات کے پاس اہل، تجربہ کار اور تعلیم یافتہ انجینئرز کافی تعداد میں موجود ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف کوئلہ کے کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگیاں محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی بلکہ ان کانوں سے صوبے کے آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کوئلہ کی کانوں کے قریب نہ صرف ریسکیو اہلکاروں کے مراکز بلکہ ہسپتال بھی قائم کئے جائینگے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئلہ کی کانوں میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدوروں کا تعلق شمالی پہاڑی ضلع شانگلہ سے ہے ابھی تک کوئلہ کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں اسی ضلع کے 100 سے زیادہ افراد مرچکے ہیں جن میں 35 افراد کا تعلق درہ آدم خیل کی کانوں میں پیش آنے حادثات سے ہے۔ شانگلہ سے رکن صوبائی اسمبلی فیصل زیب نے چند روز قبل اسمبلی اجلاس میں بھی میں ہونے والے حادثات پر اظہارخیال کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مزدوروں کیلئے حفاظتی اقدامات اٹھانے اور یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حادثات میں ضلع شانگلہ کے سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات کیلئے حکومت فوری طور پر ایک فنڈ قائم کرے۔ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے متاثرہ خاندانوں کی فلاح وبہود کیلئے بھی اپنی مدد آپ کے تحت ایک ادارہ بھی قائم کررکھاہے۔ اس ادارے سے بھی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ وقتاًبوقتاًمالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم یہ امداد نہایت قلیل ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...