وہ مزدور جو کانوں میں کوئلہ ہو گئے

83

حکومتی اداروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث اگر ایک طرف درہ آد م خیل کے کوئلہ کانوں میں حادثات روزمرہ کے معمول بن رہے ہیں بلکہ اس سے سرکاری خزانے کو اب ماہوار کروڑوں روپے کانقصان بھی ہوتا ہے۔ویسے تو کوئلہ کی کانوں میں چاہیے وہ بلوچستان یا نوشہرہ کے علاقے چراٹ میں ہیں حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔مگرپشاور کو جنوبی اضلاع سے ملانے والی قبائلی پٹی درہ آدم خیل کی کانوںمیں حادثات اب تواتر سے ہوتے رہتے ہیں ۔

 

حالیہ مہینوں میں درہ آدم خیل میں کوئلہ کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں لگ بھگ 40افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔دراصل درہ آدم خیل کی کوئلہ کان صرف ایف آر کوہاٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ کان ھنگو،اور اورکزئی کے اضلاع تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ماضی قریب میں قبائلی اضلاع میں معدنیات کی ترقی اور اُسے بروئے کار لانے کیلئے ایک ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیاہے مگر اس ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی کچھ بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔

 

مختلف سابق قبائلی اضلاع کی کوئلہ کانوں میں لگ بھگ 9ہزار مزدورکا م کررہے ہیںجبکہ کوئلہ کی تجارت اور مختلف شہروں اور قصبوںتک لے جانے میں شامل ٹرک ڈرائیوروں ،دکانداروں اور دیگر افراد کی تعداد بھی 4ہزار سے تجاوز کرچکی ہے ۔اعدادوشمار کے مطابق کوئلہ اور معدنیات کی دیگر کانوں سے سال 2017-18ء میں رائلٹی کے مد میں 12.5 کروڑروپے سرکاری خزانے کو مل چکے ہیں جبکہ 2018-19ء میں یہ آمدنی 22کروڑ روپے تک بڑھنے کا امکان ہے۔مگر اس آمدنی کے باوجود ان کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر کارکنوں کی حفاظت یا ان کی فلاح وبہبود کیلئے کسی قسم کے انتظامات نہیں کئے گئے ہیں ۔

 

فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کوئلہ کی کانوں میں مزدوروں کی حفاظت کیلئے تین ریسکیو مراکز قائم کردیئے گئے ہیں۔یہ مراکز درہ آدم خیل ،ھنگو اور اورکزئی کے علاقوں میں قائم ہیں۔ان مراکز میں 62افراد خدمات سرانجام دے رہے ہیںمگر عملے کے زیادہ تر افراد غیرتربیت یافتہ ہیںاور حادثات کے وقت یہ اہلکار نہ صرف دیر سے پہنچنے کیلئے مشہورہیں بلکہ تربیت اور آلات نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ حادثات کا شکار ہونے والوں کی زندگیاں بچانے میں ناکام ہوتے ہیں۔

 

درہ آدم خیل میں کوئلہ کے مالکان میں شامل ظفر خان آفریدی نے کہا کہ کوئلہ کی کانوں میں زیادہ تر ٹھیکدار حفاظتی انتظامات کو مکمل نظرانداز کردیتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھی حفاظتی انتظامات کی یقینی بنانے پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جاتی۔معدنیا ت کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کیلئے حکومت کے جانب سے محکمہ معدنیات کے اعلیٰ افسران کی موجودگی لازمی ہوتی ہے، مگریہاں کوئلہ کی کانوں میں حکومتی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہاہے۔

 

خیبر پختونخوا کے وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کیا کہ درہ آدم خیل ،ھنگو ،اورکزئی اور پشاور کے زیر انتظام نیم قبائلی علاقوںمیں کوئلہ ودیگر معدنیات کے شعبوں کو ابھی تک صوبائی حکومت کے سپرد نہیں کیاگیاہے جس کے نتیجے میں اگر ایک طرف ان کانوں میں ہلاکت خیز حادثات تواترسے ہوتے رہتے ہیں تو دوسری طرف ان کانوں میں غیرقانونی طریقے سے کھدائی اور کمائی بھی کی جارہی ہے ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت بلخصوص وزیر اعظم عمران خان سے رابطہ قائم کیاہے تاکہ کوئلہ کی کانوں کو بھی صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ معدنیات کے پاس اہل ،تجربہ کار اور تعلیم یافتہ انجینئرز کافی تعداد میں موجود ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف کوئلہ کے کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگیاں محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی بلکہ ان کانوں سے صوبے کے آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کوئلہ کی  کانوں کے قریب نہ صرف ریسکیو اہلکاروں کے مراکز بلکہ ہسپتال بھی قائم کئے جائینگے ۔

 

یہ بات قابل ذکر ہیں کہ کوئلہ کی کانوں میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدوروں کا تعلق شمالی پہاڑی ضلع شانگلہ سے ہے ابھی تک کوئلہ کی کانوں میں ہونے والے حادثات میں اسی ضلع کے 100سے زیادہ افراد مرچکے ہیں جن میں 35افراد کا تعلق درہ آدم خیل کی کانوں میں پیش آنے حادثات سے ہے شانگلہ سے رکن صوبائی اسمبلی فیصل زیب نے چند روز قبل اسمبلی اجلاس میں بھی میں ہونے والے حادثات پر اظہارخیال کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مزدوروں کیلئے حفاظتی اقدامات اٹھانے اور یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ان حادثات میں ضلع شانگلہ کے سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات کیلئے حکومت فوری طور پر ایک فنڈ قائم کرے۔شانگلہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے متاثرہ خاندانوں کی فلاح وبہود کیلئے بھی اپنی مدد آپ کے تحت ایک ادارہ بھی قائم کررکھاہے۔اس ادارے سے بھی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ وقتاًبوقتاًمالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔تاہم یہ امداد نہایت قلیل ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...