اختلاف ختم کریں یا برداشت

127

’’اختلاف‘‘ کا لفظ اتنا منفی مفہوم اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہر قسم کا اختلاف ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں حالانکہ اختلاف کے بعض خوبصورت اور اچھے پہلو بھی ہیں۔ تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں ختم کرنا چاہیے یا پھر جنھیں برداشت کرنا چاہیے۔جس امر کے خلاف جدوجہد کرنا چاہیے اور آواز اٹھانا چاہیے وہ ’’افتراق‘‘ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے مابین اتحاد ووحدت کی تائید کے لیے قرآن حکیم کی جوآیت سب سے زیادہ پیش کی جاتی ہے اس میں افتراق سے منع کیا گیا ہے:
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا(آل عمران:۱۰۳)
دنیا بڑی رنگا رنگ ہے۔ اس کی یہی رنگا رنگی اور تنوع اس کا حسن ہے اور یہی اس کی بقا کا ضامن بھی ہے۔ مادی کائنات پر نظر ڈالیں تو ہماری اس بات کی تائید کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ پرندوں کی دنیا ہو یا چرندوں کی، نباتات کا جہان ہو یا آبی حیات، ہر جگہ تنوع آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پھولوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کی مہک مختلف ہے اور ان کا سائز بھی مختلف۔ موسموں کے تغیر سے پھل متغیر ہو جاتے ہیں۔ ہر موسم کی اپنی فصلیں ہیں۔ موسم اور جغرافیے بدلتے ہیں تو زمین پراگنے والی چیزوں کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں۔ زمین بھی کہیں سنگلاخ ہے تو کہیں ہموار، کہیں پہاڑ ہیں اور کہیں چٹیل میدان، ایک طرف دشت و صحرا ہیں تو دوسری طرف شاداب اور لہلہاتے کھیت۔
انسان بھی مختلف طرح کے ہیں، کسی علاقے کے لوگ پست قد ہیں تو کسی کے دراز قد۔ کہیں کے لوگ گھونگریالے بالوں والے ہیں اور کہیں کے سیدھے بالوں والے۔ کسی کی ناک اونچی ہے اور کسی کی ستواں، کسی کی رنگت بھوری ہے، کسی کی کالی، کسی کی سرخ، کسی کی گندمی، کسی کی گلابی اور کسی کی کچھ اور، زبانیں بھی مختلف ہیں۔ دنیا میں سینکڑوں طرح کی زبانیں ہیں، لوگ قسم قسم کی بولیاں بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں رنگوں اور زبانوں کے اختلاف کو اپنی آیات اور نشانیاں قرار دیا ہے۔
لوگوں کے مزاج بھی مختلف ہیں، کہیں ملائمت زیادہ ہے اور کہیں درشتی، کسی کا لہجہ نرم ہے اور کسی کا سخت، کوئی بلند آہنگ ہے اور کوئی دھیرے اور دھیمے لہجے میں بولتا ہے۔ کہیں کے لوگ غصیلے ہیں اور کہیں کے آداب و تکلفات میں زیادہ پڑے دکھائی دیتے ہیں۔
بیماریاں بھی مختلف علاقوں میں لوگوں کو مختلف طرح کی ہوتی ہیں۔ جغرافیے اور موسموں کے بدلنے سے بیماریاں بھی بدل جاتی ہیں۔ عمروں پر بھی ان کے اثرات ہوتے ہیں۔ میووں اوراناج کے بھی مختلف جسموں پر مختلف طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایسے میں افکار کا مختلف ہونا اور سوچنے کے انداز مختلف ہونا بالکل فطری ہے۔ انسانوں کے تجربات، معلومات اور مشاہدات کے فرق سے افکار مختلف ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کم لوگ ہیں جو سوچ سمجھ کر کوئی نظریہ اختیار کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے گھر والوں سے، اپنے بزرگوں سے اور اپنے ماحول سے نظریات اخذ کرتے ہیں۔ یہی نظریات پھر ثقافت اور روایات میں ڈھلنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں ثقافت کے مظاہر بھی بدل جاتے ہیں۔ رسم و رواج مختلف ہو جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مختلف کھیل پسند کیے جاتے ہیں۔ کھیلوں کے رواج میں بھی موسموں اور جغرافیے کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہم چاہیں تو ان اختلافات پر کڑھتے رہیں اور چاہیں تو انھیں فطرت کی رنگا رنگی قرار دے کر دل کو خوش کرلیں۔
افکار و نظریات کی دنیا میں مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب ہم اپنے افکار و نظریات کو مقدس اور اپنے مقابلے میں دوسرے کے افکار و نظریات کوغیر مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ یہیں سے اختلاف افتراق کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ فیصلہ اسی موقع پرکرنا ہے کہ اگر ہم اپنے افکار و نظریات کو درست جانتے ہیں اور ان پر قائم رہنے کا حق رکھتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری طرح سوچتے ہیں، وہ بھی اپنے افکار ونظریات کو درست جانتے ہیں اور ان پر قائم رہنے کا اپنے لیے حق سمجھتے ہیں۔ جب کوئی یہ حق اپنے لیے تو قرار دیتا ہے لیکن یہی حق دوسرے کے لیے تسلیم نہیں کرتا تو بزم آرائی سے بات نکل کر معرکہ آرائی تک جا پہنچتی ہے۔ مسئلہ اس وقت اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے جب خاص طرح کے افکار، اعتقادات اور نظریات بعض لوگوں کی شناخت سے بڑھ کر ان کے روزگار کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح جب کچھ اعتقادات و نظریات کسی سیاستدان کی سیاست چمکانے کے لیے ضروری ہو جاتے ہیں تو وہ نہایت خطرناک بن جاتے ہیں۔ اس موقع پر معاشی مفادات یا سیاسی منافع کا تقاضا ہوتا ہے کہ دوسروں کے اعتقادات و نظریات پر حملہ کیا جائے۔ دوسرے نظریات رکھنے والوں کے خلاف اپنے ماننے والوں کو ابھارا جائے، یہاں تک کہ مخالف یا مختلف نظریات کے حامل لوگوں کو معاشرے میں نفرت کا عنوان بنا دیا جائے۔ اگر ہم دنیائے اعتقادات میں برپا جنگ آزمائی کا مشاہدہ کریں تو اس کے پیچھے ہمیں زیادہ تر یہی مقاصد کارفرما دکھائی دیں گے۔ افسوس کہ تاریخ ایسی جنگوں اور معرکوں سے خون آلود ہے۔ مذہبی اعتقادات اور دینی اختلافات کے عنوان سے ہر دور میں لاکھوں انسانوں کا خون بہایا گیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
ایسے میں وسیع النظر لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اپنے آپ کو حقائق کی دنیا میں رکھتے ہیں اور دوسروں کو حقائق کی دنیا میں لانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ جس دور میں اختلاف و افتراق وجہ شہرت و عزت بن جائے اور جس دور میں مذہبی تفرقہ حصول معاش کا ذریعہ ہو جائے اس دور میں جو لوگ انسانیت کا درد لیے ہوئے معاشرے میں نکلتے ہیں اور انسانوں کو مل جل کر رہنے کی دعوت دیتے ہیں، اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا سبق دیتے ہیں اور مختلف افکار کو انسانی فطرت کے ایک اظہار پر محمول کرتے ہیں، واقعاً وہ بڑے لوگ ہوتے ہیں، ایسے لوگ آپ کو ہر دور میں مل جائیں گے۔ ہمارے دور میں بھی اور ہماری سرزمین پر بھی بشریت کے یہ لائق فرزند اس عظیم جہاد میں مصروف ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں میں جب مذہبی آویزش اور معرکہ آرائی زوروں پر تھی تو کئی ایک اداروں اور بہت سے افراد نے یہ خدمت انجام دی ہے، ہم اپنی محبتیں ان پر نچھاور کرتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...