قابلِ قبول معاشرہ

92

ہر ملک کی تعمیر میں غیر ملکیوں (تارکین وطن) کا بنیادی اور اہم کردار ہوتا ہے۔ یورپی اورخلیجی ممالک یا ملائشیا و ترکی کی تعمیر میں صرف وہاں کے رہنے والوں کا ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے افراد کا بھی کردار ہے۔ اس طرح پاکستانی جو لاکھوں کی تعداد میں مختلف ممالک میں سال ہا سال سے رہ رہے ہیں وہ بھی اپنی محنت اور شبانہ روز کوششوں سے ان ممالک کی ترقی میں شریک ہیں۔
یہ بات اُن ممالک کی عوام اور حکومتیں بھی تسلیم کرتیں اور مانتی ہیں۔
یہی حقیقت ہے دنیا میں موجود خوبصورت ممالک یا اُن کے شہروں کی خوبصورتی فقط عمارات کی تعمیر کی حد تک ہی نہیں بلکہ اُن بلند و بالا عمارتوں میں جو نظام زندگی رواں دواں ہے، اُس میں بھی تارکین وطن کی بڑی خدمات ہیں۔ تجارت،معیشت،سیاست اور معاشرت الغرض ہر شعبہ زندگی میں وہ شامل ہیں۔۔ یہ جانبدارانہ طرز عمل ہوگا، اگر میں صرف اور صرف تارکین وطن کی خدمات کا ذکر کروں اور ان ممالک کے معاشرہ کی ”قبولیت” کا ذکر نہ کروں کہ انہوں نے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کو ہر شعبے اور ہر پلیٹ فارم پہ قبول کیا اور انہیں آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع فراہم کئے۔ یہ سب کچھ راتوں رات نہیں ہوا، ایسے گلشن کی آبیاری اور زرخیزی کیلئے سال ہا سال کی ریاضت ،عرق ریزی اور درست سمت پہ محنت ضروری ہے۔ سب سے پہلا کام معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔ افرادِ معاشرہ کو ذہنی پختگی کے اُس معیار پہ لانا ہے جہاں پہنچ کر اختلاف اور مختلف رائے کے باوجود پُرامن انداز میں مِل جُل کر رہنے کا کلچر وجود میں آتا ہے۔ اس میں تعلیم کا بہت ہی اہم کردار ہوتا ہے۔ ایسے عناصر جو افراد کو جذبات کے ذریعے Exploit کرتے اور انہیں اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں، ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی اور انہیں بے قوت بنا دینا بھی شامل ہے۔ آپ باہر سے آنے والے کو مکان میں جگہ اُس وقت دیں گے جب آپ آسودہ حال اور کچھ خدمت کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ اُس کے لئے معاشی استحکام ضروری ہوتا ہے۔ تارکین وطن تب ہی آتے، خوشی سے کام اور محنت کرتے ہیں جب انہیں اُن کا حق ملنے کی امید ہی نہیں یقین ہوتا ہے۔۔یہ اعتماد ویقین اُس ملک کی ریاست، حکومت اور عوام مل کر دیتے ہیں، پاکستان سے عرصہ دراز سے Brain Drain کا سلسلہ جاری ہے۔ تارکین وطن کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں یورپ، خلیجی ممالک ملائشیا وترکی کے لوگ سکونت پذیر ہوں گے۔ ملکوں کی تعمیر ،خوشحال اور مستحکم ہونے میں تارکین کا بھی بہت اہم کردار ہوتا ہے۔
بد قسمتی سے، ہم اِس نعمت سے محروم ہیں۔ ہمیں اس رُخ اور سمت پہ کام کرنا چاہیے کہ ہمارا معاشرہ بھی دیگر اقوام، مذاہب اور ممالک کے افراد کیلئے قابل قبول معاشرہ بنے، وہ ہماری سڑکوں، دفتروں، اداروں اور پبلک مقامات پہ خود کو محفوظ تصور کریں۔ وہ پارکوں میں سیر وتفریح کریں، تاریخی مقامات کا دورہ کریں۔ وہ ہم سے رابطہ و تعلق رکھنے میں خوشی محسوس کریں۔ اُن کے بچے ہمارے سکولوں میں تعلیم حاصل کریں، ہمارے بچوں کے ساتھ کھیل اور تعمیری مصروفیات میں شریک ہوں۔ اُس کے لئے از حد ضروری ہے کہ ہم بلاتفریق مذہب، ملک اور قوم سب کے ساتھ مساوی سلوک کا کلچر پیدا کریں۔ اس حقیقت کوقبول کریں کہ ہم تمام دنیا کو اپنے نظریہ اور عقیدہ پہ نہیں لاسکتے اور نہ ہمیں اس کا پابند کیا گیا ہے۔ اختلاف زندگی بلکہ انسانی زندگی کی علامت اوراس کا شرف ہے۔ اگر ایسا معاشرہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اقوام عالَم میں ہماری شناخت بہتر ہوگی۔ اس کے لئے اسلامی ممالک میں عمدہ مثال متحدہ عرب امارات، ترکی اور ملائشیا کی ہے۔ اِن ممالک نے جب اپنے داخلی مسائل کو حل کیا اور اپنے معاشرے کو دوسرے معاشروں کے افراد کیلئے قابل قبول بنایا ہے تو وہاں داخلی استحکام کے ساتھ خارجی اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ وہ مسلم معاشرہ ہونے کے ساتھ کثیر القومی معاشرہ بھی بنا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...