اردو ناول میں فنتاسیا کی روایت اور آمنہ مفتی

110

حیرت، فنتاسیا اور خوف جیسے عناصر کو، جو کہانی میں دلچسپی کو مہمیز کرنے کی ضمانت دیتے ہیں،اردو کے سنجیدہ فکشن لکھنے والوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے کہانی کو دلچسپ بنانے کی ضرورت کو اہم سمجھنے کا تردد ہی سرے سے نہیں کیا یا اسے اپنی ذمہ داری سمجھنے سے اجتناب برتا کہ وہ قاری کی تفریح طبع کا بھی اہتمام کریں۔جرم کی آمیزش سے البتہ اداس نسلیں سے لے کر غلام باغ تک اردو کے چند لکھنے والوں نے دلچسپی کے اہتمام پر توجہ دی اور کہانیوں کو ان عناصر کے گرد بنا۔ لیکن عمومی طورپر ہمارے ناول کی روایت ان عناصر کی افادیت کا اقرار کرنے سے محترز دکھائی دیتی ہے۔
حال ہی میں شائع ہونے والا آمنہ مفتی کا نیا ناول ’پانی مر رہا ہے‘حیرت اور فنتاسیا جیسے عناصر سے بُنی ہوئی کہانی پر مشتمل ہے اور اردو کے قارئین کے لیے ہوا کے ایک تازہ جھونکے جیسی تاثیر رکھتا ہے ۔اس کی قرات آپ کو ایک طرح کے نئے پن سے بھردیتی ہے۔ حیرت اور فنتاسیا میں خوف کی آمیزش نے اسے اور بھی رنگین بنادیا ہے جب کہ دیہات کے سادہ لوح لوگوں اور لوکیل نے اس منظرنامے کو وسعت اور قدرتی پن عطا کیا ہے۔ آمنہ مفتی نے اس ناول میں ایک بستی بسائی ہے اور ریتلی بھوری کا نقشہ کھینچا ہے جس میں سانپوں کا راج ہے اور جوگیوں کے اسرار نے حقیقت پر دھند کا پردہ تان رکھاہے۔
مارکیز کی طلسماتی حقیقت نگاری اور کافکا کے خواب کی حقیقت پر اصرار نے دنیا کو حقیقت کو دیکھنے اور سمجھے کا ایک سے زائد پہلو اور زاویے دیے۔ لیکن اردو ان نئے آفاق سے احتراز کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ خاص کر ہمارے سنجیدہ فکشن نگار۔ آمنہ مفتی اس گروہ میں اپنی انفرادیت قائم کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے موجودہ ناول ’پانی مر رہا ہے‘ کے مطالعے کے دوران جو شے فوری طورپر آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے، وہ اس کی قرات کی سہولت ہے۔ رواں اور ہموار نثر قرات کو دلچسپ بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے جب کہ ماحول میں رچا ہوا اسرار اور فضا میں گندھی ہوئی فنتاسیا کی لہر اسے جاذب توجہ بنادیتی ہے۔ یوں ناول کی قرات آپ کو اپنے ساتھ باندھ لیتی ہے۔ آپ خود کو اس بستی میں محسوس کرتے ہیں جب کہ آپ کے گردا گر مینا، باؤ اسرار، شاماں، میاں اللہ یار، جوگی جیسے دلچسپ اور زندگی سے بھرے ہوئے کرداراپنے تمام تر انوکھے پن کے ساتھ موجود ہیں، اور دریاؤں کے سوکھ جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والے زندگی کے آلائم کا شکار ہیں۔ ان سادہ مزاج لوگوں کی زندگی میں محیرالعقول واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ قاری بھی ورطہ حیرت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ آمنہ مفتی لفظوں کے جادو سے پڑھنے والے پر اثر کرتی ہے اور اسے اپنی تحریر کا اسیر بنالیتی ہے۔اس کے پاس زبان کا طاقت ور منتر موجود ہے اور وہ اپنے نثر میں غیر مانوس مگر موزوں الفاظ پرونے پر خصوصی توجہ دیتی ہیں۔ان کی اس کاوش کی داد نہ دینا، ناسپاسی ہوگی۔
آمنہ مفتی کے ہاں جرم نہیں ہے، لیکن اس کی جگہ گناہ، احساس گناہ اور کفارہ ہے۔یہ کیفیات جرم سے کہیں زیادہ گھمبیر ہوتی ہیں۔ اور انسانی رویوں کے نئے سے نئے رنگ اور لہریں پیدا کرتی ہیں۔ آمنہ مفتی چوں کہ ڈرامہ نگاری کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں اور اس حوالے سے اپنا نام بنا چکی ہیں، انھوں نے ڈرامہ نگاری کے تجربے کو ناول میں بروئے کار لاتے ہوئے اس میں ڈرامائیت کا خاص طورپر اہتمام کیا ہے۔یہ ڈرامائیت کہیں محیر العقول واقعات کی صورت میں موجود ہے تو کہیں کرداروں کے رویوں کے غیر یقینی پن سے پیدا ہوتی ہے۔ آسمان سے مینڈک برستے ہیں، میمنے گوشت خور درندے بن جاتے ہیں اور سانپ چوہوں سے ڈر کر بھاگتے ہیں۔ مائیں جل پریوں کو جنم دیتی ہیں اور مکانوں پر جنوں اور پریوں کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ ایک دادی ہے جو موت کو چکمہ دے چکی ہے اور مسلسل زندہ ہے۔ بچے ہیں جو گھوڑے کے کھُروں کے ساتھ اور مینڈکوں کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں۔
یہ ڈرامائیت چاہے منظرنگاری میں ہو، یا کردار وں کے رویوں اور واقعات کی تفصیلات میں، قاری بار بار چونک اٹھتا اور سانس روکے انھیں پڑھنے کے عمل میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ ایک صورت حال سے گزر کر خود کو کسی دوسری جذب کرلینے والی صورت حال میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ یوں ایک سے دوسری غیر متوقع صورت میں سفر کرتا ہوا وہ ناول کے اختتام تک بڑھتا ہے۔
ناول کا اصل موضوع جیسا کہ اس کے عنوان سے صاف ظاہر ہے، دریاؤں اور ان کے پانیوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور ان کے سوکھنے کے عمل سے پیدا ہونے والی ہولناکی ہے۔ اس پھیلے ہوئے معاملے کو ناول میں ایک جگہ ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے’’وہ جان گئے تھے کہ دریا بے جان نہیں ہوتے۔ انسانوں کی طرح وہ بھی ذہن رکھتے ہیں۔ ان کی ایک سوچ ہے۔ ایک پورا نظام فکر ہے۔ وہ دیوتاؤں کی طرح اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور ان کے فیصلوں سے جہاں بہت سے لوگوں کو نقصانا پہنچتا ہے، وہیں بہت سی مخلوقات کا فائدہ بھی ہوتا ہے۔ انھیں معلوم ہوگیا تھا کہ دریا پہ بند باندھنے اور اس کا رخ موڑنے کا نتیجہ کتنا بھیانک نکلے گا۔ ایک سیلاب جو اتنا بڑا ہوگا کہ اس کی زد سے کوئی بھی نہیں نہ بچ پائے گا۔ انھوں نے سالوں بھوریوں اور ٹبوں اور ٹیکریوں پہ کھڑے ہوکے آسمان کی طرف دیکھا تھا۔ شاید کوئی اشارہ کوئی غیبی مدد کچھ تو آئے۔ لیکن آسمان کے دربند رہے۔ خالق اپنی مخلوق کو بار ہا تنبیہ کر چکا تھا۔ ہر ہر زمانے میں بتا چکا تھا اور اب بشارتوں کے زمانے گزر چکے تھے۔ فقط عذاب کا دور تھا۔‘‘
دریاؤں اور ان کے پانیوں کی تقسیم سیاسی بنیادوں پر کی جائے اور دریاؤں کی اپنی فطرف اور ضرورت کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو اس بے انصافی پر دریاؤں کا ردعمل بہت شدید بھی ہوسکتا ہے۔ اس شدید ردعمل کو سہارنا پھر انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ ایک طرح کی تنبیہ بھی اس ناول میں دریاؤں کی غلط تقسیم کے حوالے سے ہمیں ملتی ہے۔ اور اس کا حل بھی ان الفاظ میں پیش کیا گیا ہے،’’بھلا دو بڑے ملکوں کے باشندوں کو بلکہ پوری دنیا کو یہ کیسے باور کرایا جاسکتا تھا کہ دریاؤں کے ساتھ جو چھیڑ چھاڑ وہ کرچکے ہیں، وہ بہت خطرناک ہے اور اس سے بچت کا صرف ایک طریقہ ہے، رول بیک ، دریاؤں کو ان کی اصل شکل میں لے جا کر پیچھے ہٹ جاؤ۔ اپنی آبادیاں جو ان کی گزرگاہوں اور بستیوں میں بنالی تھیں، ہٹا دو۔ ان کے راستے سے ایسے ہی ہٹ جاؤں جیسے ایک بڑی طاقت کے راستے سے چھوٹی طاقتیں ہٹ جاتی ہیں۔ جھک جاؤ، دریاؤں کے آگے جھک جاو؟‘‘
آمنہ مفتی کا ناول پانی مر رہا ہے،دریاؤں کے مرجانے اور ان کے انتقامی ہوجانے سے متعلق ایک تنبیہ ہے، ایک پیشین گوئی ہے جس پر اگر کان نہ دھرا گیا تو عظیم سیلابوں یا قحط اور سوکھے کے عذاب نازل ہوں گے۔ یہ ناول ایک گھمبیر قومی اور انسانی مسئلے کی طرف ہماری اور ہمارے پالیسی سازوں کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کرتا ہے جسے ہم اپنے عمومی سوچ بچار کے دوران درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ موجودہ صورت میں بھلے ہی گھمبیر نہ ہو لیکن آنے والے دنوں میں پوری دنیا میں اس بات کا چرچا ہوا رہا ہے کہ پانی کی موت عالمگیر تباہی کے سلسلے کا باعث بن سکتی ہے۔ کاش کہ دیگر بہت سی ایسی تنبیہوں کی طرح اس تنبیہ کا مقدر بھی خلا میں گم ہوجانا نہ ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...