قلعہ روات ایک بھولی بسری تاریخ کی کہانی

154

روات کا قلعہ اسلام آباد سے کبھی ۲۵ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا مگر شہر کی توسیع کے بعد اب یہ ڈی ایچ اے کے درمیان آ چکا ہے ۔روات جس کا ماخذ عربی لفظ رباط تصور کیا جاتا ہے چاردیواری میں محصور محفوظ مقام کو کہتے ہیں ۔عزیز ملک کی معروف کتاب ’’پوٹھوہار ‘‘مطبوعہ ۱۹۷۸ میں لکھا ہے کہ ’’اس کو ہم قلعہ سے زیادہ دیکھ بھال کی ایک چوکی کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس کے صرف دو دروازے ہیں ایک مشرق کی سمت کھلتا ہے اور دوسرا مغرب کی طرف ، اس کو قدرے بلندی پر تعمیر کیا گیا تھا تاکہ آس پاس کی آبادی پر نظر رکھی جا سکے ۔علاوہ ازیں ملک کے مختلف حصوں میں ڈاک لے جانے والے ہرکارے اس چوکی پر گھوڑے بدلنے کے لئے ٹھہرا کرتے تھے اس کی دیواریں تیس فٹ بلند رکھی گئی تھیں اس میں فوجیوں کے لئے چند رہائشی مکانات بھی بنوائے گئے اور ایک مسجد بھی ،درمیان میں خوبصورت اور کشادہ اسلامی طرز کا دیوان خانہ بھی ہے ۔‘‘

آج بھی جب آپ روات قلعہ کے بلند ترین مقام پر کھڑے ہوتے ہیں تو آپ مارگلہ سے گزرتی سڑک کو دیکھ سکتے ہیں اور دوسری جانب سوہاوہ تک نظر جاتی ہے ۔اس قلعہ کو کب بنایا گیا اس بارے میں تاریخ میں کوئی ذکر  موجود نہیں ہے تاہم قلعے کے دروازے پر لگے معلوماتی کتبے میں درج ہے کہ یہ قلعہ سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود نے تعمیر کروایا جس کا زمانہ ۱۰۳۹ کا ہے جوبعد ازاں اسی قلعے میں اپنے باغی سپاہیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا جنہوں نے اسے ٹیکسلا کے قریب گڑھی کے قلعے میں جا کر قتل کر دیا ۔ بعد میں یہ قلعہ  گکھڑ قبیلے کے قبضے میں آ گیا ۔راولپنڈی کے گزیٹیئر ۱۹۱۰ کے صفحہ ۲۵۶ پر درج ہے کہ ’’گکھڑوں کا اثر رورسوخ مشرق میں دریائے جہلم اور شمال میں مارگلہ کے درے ،مغرب میں کھیڑی مورت اور جنوب میں ضلع جہلم کے کچھ حصے کے درمیان تھا ‘‘۔

اس علاقے میں گکھڑوں کے تین قلعے مشہور تھے ایک  ڈڈیال آزاد کشمیر کے ساتھ دان گلی ، دوسرا پھروالہ اور تیسرا روات ۔یہ گکھڑ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے ؟ تاریخ میں ان کے متعلق مختلف روایتیں بیان کی جاتی ہیں ۔خود گکھڑوں کا ماننا ہے کہ وہ فارسی الاصل اور سلطان کید بن گوہر یا کیگوہر کہ اولاد ہیں جو اصفہان میں کیان کا رہنے والا تھا ۔جبکہ تاریخ ِ فرشتہ کے مطابق گکھڑوں نے تیرہویں صدی میں اسلام قبول کیا وہ پنجاب میں ۶۸۲ سے آباد ہیں ۔اور سیالکوٹ کے راجہ رسالو کا شدید دشمن راجہ ہڈی (جو پنجاب کی لوک روایا ت میں ہیرو کا درجہ رکھتا ہے ) وہ بھی گکھڑ تھا ۔اسی گزیٹیئر کی ایک روایات یو ں  ہے کہ ’’گکھڑ ایک فارسی بادشاہ جرد کی اولاد ہیں اس بادشاہ کی شکست اور موت پر انہیں اپنا علاقہ چھوڑ کر چین کی طرف جانا پڑا جہاں ان کے قائد فیروز شاہ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ  شہنشاہ کے محافظ دستے کے طور پر ملازمت اختیار کر لی ۔ وہاں سے وہ تبت گئے اور ساتویں صدی کے آغاز میں مسلمان ہوئے ،بعد ازاں وہ محمود غزنوی کے ہمراہ ہندوستان آئے ان کا رہنما کیگوہر محمود غزنوی کے ہمراہ آیا‘‘۔ شاید اسی دوران انہیں  جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے اس علاقے میں آباد کیا گیا ۔ کیونکہ پھروالہ کے قلعے کی تعمیر بھی ۱۰۱۲ سے ا۱۰۸ کے درمیان بیان کی جاتی ہے ۔

راولپنڈی کے گزیٹیئر کے صفحہ ۶۴ پر درج ہے کہ ۱۲۰۵ میں گکھڑوں کو شہاب الدین غوری نے شکست دی اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیا بعد ازاں یہی شہاب الدین غوری جب ہندوستان سے واپس جا رہا تھا تو گکھڑوں کے ایک ٹولے نے اسے خیمے  میں گھس کر قتل کر دیا ۔

قلعہ روات میں گکھڑ سردار سارنگ خان اپنے سولہ بیٹوں کے ساتھ دفن ہے ۔وہ ایک خون ریز معرکے میں مارے گئے تھے جس کی تفصیل ’’وادی پوٹھوہار ‘‘مرتب رشید نثار ۱۹۹۷ میں دی گئی ہے ۔کرنل محمد خان کے مضمون قلعہ روات صفحہ ۲۴۶ میں درج ہے کہ جب شیر شاہ سوری کی فوجیں ہمایوں کا تعاقب کررہی تھیں توشیر شاہ سوری نے اپنا ایک ایلچی گکھڑسرادر سارنگ خان کے پاس بھیجا اور مدد چاہی مگر سارنگ خان چونکہ ہمایوں سے مدد کا وعدہ کر چکا تھا اس لئے اس نے ایلچی کے ہاتھ شیر کے دو بچے اور تیروں سے بھرا ہو ا ترکش بھیجا جس کا مطلب تھا کہ وہ شیر شاہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے  ۔جس پر شیر شاہ سوری بہت سیخ پا ہوا اور ا س نے گکھڑوں پر چڑھائی کر دی۔ یہ معرکہ ۱۵۴۲ میں  روات کے مقام پر ہوا جسے اس وقت رباط سرائے کہا جاتا تھا ۔ سلطان سارنگ اور ا س کی فوج کو نہ صرف شکست ہوئی بلکہ وہ اپنے سولہ بیٹوں کے ساتھ مارا گیا ۔مگر شیر شاہ نے مستقبل میں گکھڑوں کی شورش کی پیش نظر روہتاس میں ایک قلعہ بنانے کو حکم جاری کیا ۔سلطان سارنگ خان کے بعد سلطان آدم خان پوٹھوہار کا حکمران بنا تو ا س نے رباط سرائے میں بھائی کی یاد میں ایک مقبرہ بنایا ۔ جو آج بھی ا س قلعہ میں سلامت کھڑا ہے لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ قبریں مقبرے سے باہر رکھی گئی ہیں ۔ اس کی کوئی وجہ ابھی تک سمجھ نہیں آسکی کیونکہ اس طرز کے جتنے بھی مقبرے پنجاب اور سندھ میں موجود ہیں قبریں ان کے اندر ہیں مگر یہ واحد مقبرہ ہے جس کے اندر کسی قبر کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہے ۔

روات میں بظاہر گکھڑوں کو شکست ہوئی لیکن جب ہمایوں نے شاہ ایران کی فوجی مدد سے دوبارہ ہندوستان کو رخ کیا تو اس نے دریائے سندھ کو عبور کر کے گکھڑوں کے قلعہ پھروالہ میں قیام کیا یہاں ا س کے ساتھ شہزادہ اکبر بھی تھا جس کی عمر اس وقت چودہ سال تھی ۔گکھڑوں نے ہمایوں کی بھرپور مدد کی اوراسے اپنی کھوئی ہوئی سلطنت واپس دلائی ۔جب اکبر بادشاہ بنا تو اس نے سلطان سارنگ خان کے بیٹے سلطان کمال خان کو پوٹھوہار کا علاقہ دینے کے ساتھ مغل فوج میں پنج ہزاری کا خطاب دیا ۔

راج موہن گاندھی  اپنی کتاب  ’’پنجاب ۔اے ہسٹری فرام اورنگ زیب ٹو ماؤنٹ بیٹن ‘‘    کے صفحہ ۱۳۹ میں لکھتے ہیں ’’گکھڑ سردار مقرب خان نے ۱۷۳۹ میں مغلوں کے خلاف  ایرانی حملہ آور نادر شاہ    کاساتھ دیا۔جس پر نادر شاہ نے انہیں نواب کا خطاب دیا ۔مقرب خان نے مغرب میں یوسفزئی اور خٹک قبلیوں کو شکست دے کر اپنی ریاست سندھ سے چناب تک پھیلا دی ‘‘۔

بعد ازاں مقرب خان سکھوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے آگے نہ ٹھہر سکا اوربھنگی مثل کے گوجر سنگھ کے ہاتھوں ۱۷۶۵ میں گجرات میں مارا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی پوٹھوہار پر گکھڑوں کے ساڑھے سات سو سالہ اقتدار کا سورج غروب ہو گیا ۔اس تاریخی قلعے کی بحالی کا کام جاری ہے ۔

روات کا قلعہ اور اس علاقے کے گکھڑوں نے کئی مقامات پر ہندوستان کی تاریخ کا دھارا موڑا ۔ ہمایوں ان کی مدد کی بدولت اپنا تخت دوبارہ حاصل کر سکا ۔شہاب الدین غوری گکھڑوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔نادر شاہ کو مغلوں کے خلاف کرنال کے معرکے میں گکھڑوں کی مدد نہ ملی ہوتی تو بعد کے ہندوستان کی تاریخ بہت مختلف  ہوتی ۔مگر آج کی تاریخ گکھڑوں کو اورتاریخ میں ان کے مقام کو فراموش کر چکی ہے ۔تاریخ کے صفحات پر بڑے بڑے  جنگجو، سپہ سالاراور فاتحین مدفون ہیں ۔قلعہ روات میں سلطان سارنگ خان اپنے سولہ بیٹوں کے ساتھ دفن ہیں ایک پر شکوہ مقبرہ بھی ایستادہ ہے مگر یہاں آنے والے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ سلطان سارنگ خان کون تھا ؟جبکہ یہاں سے ۳۰ کلومیٹر دور محبت ، رواداری اور امن کا درس دینے والے بری امام کے مزار پر گزشتہ چار سو سال سے   امیدوں اور آدرشوں کے چراغ جل رہے ہیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...