اجتہاد اور آج کا مسلم معاشرہ

اسلامی نظریاتی کونسل اور امنقلاب کے اشتراک سے معروف سکالر ڈاکٹر محمد خالد مسعود کی کتاب (اقبال کا تصور اجتہاد) پر ایک نشست کا احوال

163

۲۲  اکتوبر کو اسلامی نظریاتی کونسل نے  امنقلاب کے  اشتراک سے ایک علمی و فکری  مذاکرے کا اہتمام کیا  جس میں  معروف سکالر ڈاکٹر محمد خالد مسعود   کی کتاب (اقبال کا تصور اجتہاد)  کی روشنی میں  اجتہاد اور آج کا مسلم معاشرہ  کے عنوان سے  گفت و شنید ہوئی۔نشست کی صدارت ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی جبکہ کلیدی خطبہ ڈاکٹر خالد مسعود نے  دیا۔ممتاز دانشور خورشید احمد ندیم   نے مہمان مقرر کی حیثیت سے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔

نظامت کے فرائض  سید علی حمید نے سرانجام دیے،انہوں نے اپنے استقبالئے میں  کہا کہ ہمارے معاشرے سے تنقیدی فکر  ختم ہوتی جا رہی ہے اور اجتہاد جیسے موضوعات سے راہ فرار اختیار کی جاتی ہے،اس لیے ضرورت محسوس کی گئی   کہ اس فکری کمزوری کو دور کرنے اور ایسے  موضوعات کو آسان بنا کر پیش کرنے  کی کوشش  کی جائے،آج  کی مجلس کا انعقاد بھی اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر خالد مسعود نے  اپنے کلیدی  خطبے میں اجتہاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اجتہاد کا دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکتا،مسئلہ یہ ہوا کہ مجتہد کا  لفظ  بانی مذہب کے لیے  خاص ہو گیا اور اجتہاد کے سات  مدارج طے  کر دیے گئے یہاں تک کہ آخر میں مقلد کو بھی اس زمرے   میں شامل کر دیا گیا  جیسا کہ ابن الکمال الوزیر نے طبقات الفقہاء میں بیان کیا ہے۔

پہلے خلیفہ کے  لیےبھی  مجتہد ہونا ضروری تھا لیکن پھر ان پڑھ خلفاء آئے جن کی وجہ سے یہ شرط ختم کر دی گئی،اسی طرح  مفتی و قاضی کے لیے بھی  مجتہد ہونا ضروری تھا ،اس لیے کہ مسئلے کی جڑ تک پہنچے بغیر اس کا حل بتانا  ناممکن ہوتا ہے، کہا یہ جاتا ہے کہ  اجتہاد  اس لیے ناممکن ہے کہ اس کی شرائط بہت سخت ہیں جن پر پورا اترنا ناممکن ہے،ایسا ہر گز نہیں ہے،اجتہاد کے لیے وہی شرائط ہیں جو پی ایچ  ڈی کے لیے کسی محقق کے لیے ضروری ہوتی ہیں،کیا ہمارے مدارس اور یونیورسٹیاں  یہ ضروری سکلز بھی ہمیں نہیں دینا چاہتے؟  یا ہم خود یہ ذمہ داری لینا نہیں چاہتے؟

دو دن پہلے سپریم کورٹ میں  پانی کے مسئلے پر بحث  تھی جس کا مجھ پر گہرا اثر ہے،مغربی دوستوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ  جس چیز کو آپ  ناپ اور گن نہیں سکتے اسے کنٹرول بھی نہیں کر سکتے،جب آپ کو معلوم ہی نہیں کہ کتنا پانی استعمال ہو رہا ہے اور کتنے کی ضرورت ہے تو اس کا حل کیسے نکالیں گے؟ہم اسی ناپ تول کے سبجیکٹ یعنی ریاضی میں زیادہ فیل ہوتے ہیں،جب تک یہ کمزوری رہے گی ہم آئی ایم ایف کے محتاج بھی  رہیں گے۔اجتہاد کے لیے وہی شرائط ہیں جو تحقیق کے لیے ضروری ہیں،اگر آپ یہ شرائط نہیں رکھتے تو آپ کا تحقیقی مقالہ بھی تقلیدی ہی ہو گا۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد  اقبال کے تصور اجتہاد پر  گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اقبال نے یہ مقالہ  اس دور میں لکھا جب معاشرے میں  ایسی بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں جن کی  موجودگی میں مذہبی  شخصیت کا مذہبی سوچ کے ساتھ رہنا مشکل تھا۔سرسید نے توجہ دلائی تھی کہ  ہم جس علم الکلام کی بنیاد پر  مسائل حل کرنا چاہتے ہیں وہ پرانا ہے،وہ یہ کہتے تھے کہ سائنسی چیزیں اگر اسلام کے خلاف ہیں  تو اسلام کیا کہتا ہے؟ کیا ہم ان  سے بے پرواہ ہو کر رہ سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں  جو ہمارا اس وقت رویہ تھا آج بھی وہی ہے کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔

اقبال سمجھتے تھے کہ مذہب کو سائنسی طریقے پر سمجھا جا سکتا ہے اسی لیے ان کے تشکیل نو کے چھ خطبات میں سے پہلا خطبہ علمیات پر ہی ہے جس میں فکر کے دینامی ہونے کا ذکر کیا ہے،علامہ  میکانکی تصور کے سخت مخالف تھے اور دینامی تصور کے قائل تھے،ان کے نزدیک مذہب کا فلسفیانہ تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور اسے عقلی طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور یہ کہ مذہبی تجربہ سائنسی تجربے سے زیادہ یقینی ہوتا ہے۔دوسرے خطبے میں کائنات کی دینامیت جبکہ تیسرے  خطبے میں خدا کے تصور اور دعا کے تعلق کا ذکر ہے،چوتھے خطبے میں خودی کے دینامی ہونے   کا بیان ہے خودی ہر انسان کے اندر اپنے ہونے کے احساس کا نام ہے،وہ اس لیے کہ دیگر حیوانات میں یہ تصور اللہ نے نہیں رکھا،انسان اپنا عمل اور رہن سہن خود تخلیق کرتا ہے۔

پانچویں خطبے میں  اسلامی ثقافت کی روح کی دینامیت کا تذکرہ ہے کہ اسلام کا تصور حرکت کے تصور پر ہے نہ کہ سکون کے تصور پر،اور پھر یہی حرکت کا اصول اجتہاد میں کام آتا ہے اسی لیے آخری خطبے میں اجتہاد کے دینامی ہونے سے بحث کرتے ہیں،کوئی چیز اتنی ہی کامل ہوتی ہے جتنا اس میں حرکت کا تصور ہوتا ہے، ہر انسان اور ادارہ اسی اصول حرکت کے تحت کام کرتا ہے،وہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے کام کر رہا ہے لیکن درحقیقت وہ نظام کائنات کا حصہ بن رہا ہوتا ہے۔

خطبہ اجتہاد کا محرک  یہ واقعہ تھا کہ ۱۹۲۰ تک  فقہ حنفی میں عورتوں کے لیے طلاق یا تنسیخ نکاح کی کوئی صورت نہیں تھی جب تک کہ شوہر کی موت کا گمان نہ ہو جائے۔حنفی  فقہ میں عموما اس بات پر اتفاق تھا کہ  اگر  بیوی  مرتد ہو جائے تو اس کا نکاح فورا ٹوٹ جاتا ہے اور خاوند کے ظلم و ستم سے تنگ خواتین کے لیے صرف یہی راستہ باقی بچا تھا جس کے ذریعے وہ خاوندوں سے فوری  علیحدگی اختیار کر سکتی تھیں،چنانچہ  ۱۹۲۴ ء میں بہت سے ایسے واقعات ہوئے کہ مسلمان عورتوں نے ترک مذہب کا اعلان  کر کے تنسیخ نکاح کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس موقع پر  فتویٰ دیا تھا کہ عورت مذہب تبدیل کر لے تب بھی نکاح نہیں ٹوٹتا،صرف شوہر کے نامرد ہونے کی صورت میں عورت طلاق لے سکتی ہے۔

علامہ اقبال قانون دان تھے،انہوں نے عورتوں کے عدالتوں کی طرف رجوع کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ  یہ کیسا مذہب ہے جس میں اپنے  حقوق کے حصول کے لیے مذہب سے نکلنا پڑتا ہے؟انہوں نے مقاصد شریعت کی طرف توجہ  دینے پر زور دیا جو کہ پانچ ہیں: عقل،نسب،آبرو،جان اور دین کی حفاظت۔مولانا اشرف علی تھانوی نے  اس مسئلے پر غور کے لیے ایک  کمیٹی بنائی جس میں مالکی علماء سے بھی مشاورت کی اور  الحیلۃ الناجزۃ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں مالکی فقہ میں شامل  تنسیخ نکاح کے حق کو شامل کیا۔

اقبال نے  دو چیزیں پیش کیں،ایک یہ کہ اجتہاد کا دروازہ بند کرنے والی بات درست نہیں،اجتہاد ضروری  ہے،اور دوسری یہ کہ فتویٰ دینا کسی ایک مفتی کے بس کی بات نہیں بلکہ اجتماعی اجتہاد کے ذریعہ فتویٰ دیا جائے اور اجماع و اجتہاد کو ملا دیا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی تاریخ میں یہ بات شامل ہے کہ  اس کی بنیاد اقبال کی یہی فکر ہے،کونسل  اپنا کام مکمل کر چکی ہے،اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ  اس کی سفارشات کو منظور کرتی لیکن ایسا نہیں ہو سکا،اس میں دونوں گروہ شامل ہیں،اہل سیاست بھی نہیں چاہتے کہ اس طرح کی سفارشات پارلیمنٹ میں آئیں   اور دوسری طرف علما بھی نہیں چاہتے کہ  یہ کام پارلیمنٹ سے لیا جائے،وہ چاہتے ہیں کہ  آخری فیصلہ بھی مفتی اور کونسل سے لیا جائے۔ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ قانون کا جدید نظام  فقہ سے بالکل مختلف ہے،اس کے لیے ضروری ہے کہ  خطبہ  اقبال   مدارس و جامعات کی سطح پر شامل نصاب کیا جائے۔

خورشید  ندیم نے اپنی گفتگو میں کہا کہ   پہلے یہ سمجھا جاتا تھا  ابوالکلام آزاد پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے لیکن میرا یہ تاثر ہے کہ اب اقبال ان لوگوں میں سے ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا،پھر اس میں بھی اقبال کے تصور اجتہاد  پر بہت زیادہ لکھا گیا،میرا مطالعہ یہ کہتا ہے کہ اس موضوع پر لکھے جانے والے مواد میں ڈاکٹر خالد مسعود کی کتاب سب سے وقیع ہے۔تصور اجتہا کیا ہے؟ اسلاف میں یہ تصور کیسا رہا؟ مصادر اجتہاد کیا ہیں؟ اور پھر عصری مسائل میں  خود علامہ کس طرح پریکٹس کرتے رہے؟ یہ سارے مباحث اس کتاب میں بیان کیے گئے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اقبال کے اس تصور پر کیا پیش رفت ہوئی؟ ہم کس حد تک آگے بڑھے ہیں؟اقبال  کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ ان کا کوئی فکری جانشین پیدا نہیں ہوا،وہ لاوارث ہیں۔جنہوں نے وارث ہونے کا دعویٰ کیا  ان میں سے کوئی انکار حدیث کی طرف چلا گیا اور کچھ نے  ان کے چند شعروں کو  اپنا لیا،ان کا نام لینے والے بہت ہیں لیکن ان کے کام کو روح کے ساتھ آگے لے جانے والا کوئی نہیں۔

اجتہاد کے چار مصادر میں سے پہلا قرآن ہے،اقبال کہتے ہیں  کہ قرآن کی طرف  یہ سوچ کر رجوع کرنا چاہیے کہ یہ قانون کی کتاب نہیں،اس میں کچھ احکام ضرور بیا ن ہوئے ہیں لیکن جیسے قانون کی کتاب ہوتی ہے یہ ویسی نہیں۔دوسرا مصدر سنت ہے،اقبال  سنت کی مروجہ تفہیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور نئے زاویے سے اس پر نظر ڈالتے ہیں۔تیسرا مصدر اجماع ہے،اس بارے میں بھی ان کا نقطہ نظر وہ نہیں جو رائج ہے،انہوں نے اجماع اور اجتہاد کو ایک ہی جملے میں ادا کیا ہے اور اسے اجتماعی اجتہاد سے تعبیر کیا ہے۔

اقبال کے زمانے میں خواتین کے لیے طلاق لینا بہت مشکل بن گیا تھا،اقبال نے ہی ۱۹۳۰ ء میں یہ مسئلہ اٹھایا اور اس کے ٹھیک ایک سال بعد ۱۹۳۰ میں مولانا اشرف علی تھانوی کی  کتاب الحیلۃ الناجزہ   آئی،خالد مسعود صاحب کی کتاب میں تھانوی صاحب کی اس کتاب کا خلاصہ بھی آ گیا ہے۔۱۹۳۵ میں  اسی موضوع پر مولانا مودودی نے  حقوق الزوجین لکھی اور شاید  یہ وہ کتاب ہے جس میں مولانا مودودی کی   سب سے مجتہدانہ آراء ہیں۔

خورشید ندیم نے کہا اقبال کی جانشینی کا تقاضا ہے کہ  آج کے دور میں جو سوالات اٹھ رہے ہیں  ہم ان کا سامنا کریں،یہ بحثیں بہت آگے  چلی گئی ہیں،ہمیں آج کے نوجوانوں کو بتانا ہوں گی،اصول فقہ  و اصول تفسیر پر بھی نئے سرے سے غور کی ضرورت ہے،اقبال کا فلسفہ تھا کہ غور و فکر کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ہمارے لیے قبلہ ایاز صاحب اور خالد مسعود صاحب کا وجود غنیمت ہے جنہیں روایت بھی عزیز ہے اور اپنے عہد میں جینا بھی عزیز ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر  نے  خورشید ندیم سے  اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ واقعی علامہ اقبال فکری طور پر لاوارث ہیں،انہوں نے  اپنے صدارتی خطبے میں  اجتہاد  پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اجتہاد کا عمل غیر محسوس طریقے سے جاری ہے لیکن  بڑی سطح پر اجتہاد کی ضرورت بہرحال ہے۔جب کرنسی کا مسئلہ چلا تو سوالات پیدا ہوئے کہ یہ مال ہے یا نہیں؟ اس سے زکوٰۃ اور فطرانہ ادا ہوتا ہے یا نہیں؟ مشہور ہے کہ کسی عالم سے کاغذی نوٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا تھا: میرا فتویٰ نہیں چلے گا لیکن نوٹ چل جائے گا،لاوڈسپیکر کا مسئلہ آیا کہ یہ آواز اصل ہے  یا نہیں؟ اس سے سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح جب معاشرہ جمہوریت کی طرف آیا  تو علما نے اجتہاد کیا،اقلیتوں کا کوٹہ جب مشرف نے متعارف کروایا تو  جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام جیسی مذہبی جماعتوں نے بھی اقلیتی ونگ بنایا۔

عورت کے طلاق   دینے کے اختیار سے متعلق  کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ہم نے  عورت کے طلاق لینے کے اختیار کی بات کی ہے، میرے الفاظ یہ تھے کہ عورت طلاق  لے سکتی ہے،جسے اخبارات نے  دے سکتی ہے بنا دیا۔

آخر میں  امنقلاب کی جانب سے مقررین میں یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں اور  شرکاء کی مفرحات سے تواضع کی گئی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...