اس بار کہیں قوم کا مورال ڈاون نہ ہو جائے

319

ہماری قوم کے جذبات تب کیوں ٹھنڈے رہتے ہیں جب ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کی فنڈنگ سے چلنے والی جہادی تنظمیوں کے کمانڈرز کی واپسی پر ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے

پاک فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے ، ماہ اپریل میں دو دہشت گردوں کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کر کے ایک نیا ٹرینڈ سیٹ کر دیا ہے جس میں یقینا ہماری پاک فوج کی کارکردگی عوام کو دکھایا جانا مقصود تھا حالانکہ ہماری عوام افواج پاکستان کی کارکردگی اور اس کی بہادری کی ہمشیہ سے داعی ہے ۔ یقیناً یہ ایک بڑی کامیابی بھی ہے کہ آپریشن رد الفساد کی کاررائیوں میں سیکورٹی فورسز نے جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کئے وہاں ان دہشت گردوں کو زندہ بھی پکڑ لیا جو دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے یا پھر آئندہ کارروائیوں کا حصئہ بننے جا رہے تھے ۔ ایسے دہشت گردوں کو گرفتار کیا جانا لازمی طور پر مزید شدت پسندوں یا ان افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مددگار ثابت ہو گا جو ریاست کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں کو دوران آپریشن پکڑا گیا یہ بات نورین لغاری تک تو تسلیم کی جا سکتی ہے تاہم تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو نہ ہی دوران آپریشن گرفتار کیا گیا بلکہ اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق احسان اللہ احسان نے خود کو سرنڈر بھی نہیں کیا اور وہ ایک ڈیل کے تحت منظر عام پر آیا ۔ بہرحال بات ہو رہی ہے ان ویڈیوز کی ، جنہیں آئی ۔ ایس ۔ پی ۔ آر کو جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ اس سے قبل تو یوں دیکھا گیا ہے کہ دہشت گرد خود اپنی کارروائیوں کا اعتراف کرنے کے لئے کسی سفید دیوار یا پھر سیاہ چادر کے سامنے بیٹھ کر ایسے ویڈیو پیغام جاری کر دیا کرتے تھے اب یہ پیغام آفیشل ویب سائٹس پر جاری کر کے ایسے عناصر کے پیغامات عوام تک پنہچا دئیے گئے ہیں جو جہادی تنظمیوں کے ان نمائندوں نے پنہچانے تھے جو اب تک آزاد ہیں ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آئی ۔ ایس ۔ آئی ۔ ایس میں شمولیت کرنے والی میڈیکل کی طالبہ ‘‘ نورین لغاری ’’  جو ویڈیو میں پہلے اپنا اور اپنے خاندان کا تعارف کرواتی ہے اور پھر وہ اس تنظیم میں اپنی شمولیت کا اعتراف کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اس تنظیم میں شامل ہوئی  ۔ نورین نے اس کے بعد اپنے دہشت گرد شوہر ‘‘علی طارق’’ کا تعارف ایسے کروایا جیسے گزشتہ کئی برسوں سے وہ اس کی زوجہ رہ چکی ہے  علی شروع سے ہی دہشت گردانا کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتا تھا جیسے کہ خود کش حملہ ، انٹیلی جنس اہلکاروں کو اغوا کرنا وغیرہ ، حالانکہ دونوں کی شادی کی مدت 2 ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی ۔ نورین لغاری اپنے بیان میں بتا بھی رہی ہے کہ اسے ایسٹر کے تہوار پر کسی گرجا گھر پر بطور خود کش بمبار استعمال کیا جانا تھا اگر واقعی ایسا تھا تو لازمی طور پر علی کا نورین کے ساتھ شادی کرنے کا مقصد صرف اتنا ہی تھا کہ وہ اسے خود کش حملہ میں استعمال کر سکے اس شادی میں نورین اس ذہنیت کی حامل تھی جو نکاح بالجہاد کر کے ثواب کمانے جیسے فعل کو درست سمجھتی ہیں ایسے نکاح میں شائد ہی روایتی میاں بیوی والا اعتماد اور تعلق ہو جو شوہر اسے اپنے ماضی کی کارروائیوں اور مستقبل کے ارادوں سے آگاہ کرتا ہو ۔ نورین کا یہ بیان ایسا تاثر دے رہا کہ نکاح بالجہاد کی شادی انتہائی کامیابی سے چل رہی تھی ۔  نورین اپنے ویڈیو اعتراف میں گھبرائی ہوئی محسوس ہوئی لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے اسے یہ اسکرپٹ پہلے یاد کروایا گیا ہے اور جیسے ہی ویڈیو شوٹ کا آغاز ہوا ۔ اپنے تعارف تک تو وہ درست بولی لیکن پھر اٹکتی رہی ، بعض جملوں پر اس کا حلق خشک بھی ہوا لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نورین لغاری کا داعش جیسی تنظیم سے تعلق ضرور رہا ہے ۔ نورین کا معاملہ جلد ہی میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہو گیا لیکن لیاقت علی عرف احسان اللہ احسان کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ۔ احسان اللہ احسان کی ویڈیو بھی نورین سے زیادہ مختلف نہیں ہے ویسے ہی آغاز میں تعارف ، پھر وہ اپنی پاکستان تحریک طالبان میں شمولیت کا بتا کر تعلیمی قابلیت سنا کر ناظرین کو متاثر کرتا ہے بالکل ویسے ، جیسے نورین لغاری بتاتی ہے کہ وہ میڈیکل سکینڈائیر کی طالبہ ہے ۔ نورین کیونکہ جلد پکڑی گئی لہذا اس کے کریڈٹ پر ابھی دہشت گردی کی کارروائیاں نہ تھیں لیکن احسان اللہ احسان پہلے تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کا ترجمان رہا اور پھر اعلیٰ کارکردگی پر اسے تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی ترجمان بھی بنایا گیا تاہم بعد میں اپنی تنظیم میں عہدہ سے ہٹائے جانے سمیت مناسب توجہ نہ ملنے پر احسان اللہ احسان اور اس جیسے دیگر ناراض اراکین نے مل کر نئی تنظیم جماعت الاحرار بنائی اور وہاں بھی احسان اللہ احسان ترجمان کے منصب پر قائم رہا اس تنظیم کے مقاصد ٹی ۔ ٹی ۔ پی سے الگ نہ تھے ۔ احسان اللہ احسان کا شمار اگر گڈ طالبان میں ہوتا ہے تو کیوں اسے ٹی ۔ ٹی ۔ پی جیسی تنظیم کے بعد جماعت الاحرار بنانے کی ضرورت پیش آئی ۔ اسے تو یہ احساس ہو چکا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان اسلام کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر کے بالخصوص نوجوان طبقہ کو اپنے ساتھ بھرتی کر رہی ہے ۔ اس ملک کے بے گناہ پیاروں کی قربانی دینے والے خاندانوں کی تذلیل ابھی مزید باقی تھی جس پر احسان اللہ احسان سے مزید مضحکہ خیز بیان بھی دلوایا گیا جس میں اسے ایک جمہوریت پسند کمانڈر دکھایا گیا ہے ۔ وہ طبقاتی تقسیم سے نفرت کرتا ہے اور امراء کے اقتدار پر قابض رہنے کے خلاف ہے ، غریب افراد سے بھتہ خوری پر بھی اس کا دل دکھتا ہے ، وہ پبلک مقامات پر قتل عام کا شدید مخالف ہے ۔ اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دھماکے ہونے پر اس کا دل بے حد حساس ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو قتل کر کے قوم کا مستقبل تاریک کیا جا رہا ہے ۔ 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر 145  سے زائد بچوں کے قتل کو درست قرار دینے والا ، لڑکیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا ممنوع ہے اس سوچ کے ساتھ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کروا کے اس کی ذمہ داری قبول کرنے والا احسان اللہ احسان ویڈیو پیغام میں ایک درد مند شخص ہے وہ درس اسلام پر یقین بھی رکھتا ہے اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نئے امیر کے انتخاب پر ریفرنڈم نما قرعہ اندازی پر شوریٰ کے فیصلہ پر تنقید کرتا ہے  ۔ احسان اللہ احسان کو 2002ء میں سابق جرنیل پرویز مشرف کو بذریعہ ریفرنڈم صدر پاکستان مدت بڑھانے پر بھی ضرور تحفظات ہوں گے جس کا تذکرہ وہ شائد پھر کھبی کرے گا ۔ ویڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان اعلیٰ ثقافتی اقدار کا حامل شخص بھی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ جبری شادی کو بھی ناپسند کرتا ہے اور وہ بھی استاد کی بیٹی کے ساتھ ، اس بات پر وہ زیادہ شرم محسوس کرتا ہے استاد بھی اس قدر محترم جس نے قتل کرنا سکھایا ہو کس طرح انارکی پھیلائی جاتی ہے اس کا طریقہ بتایا ہو ، بس یہی وہ ٹرنگ پوائنٹ تھا کہ اسے ایسے لوگوں سے اسلام کی خدمت کرنے کی کوئی امید باقی نہ رہی ۔ تحریک طالبان پاکستان سے مایوس احسان اللہ احسان کو جو اسکرپٹ پڑھایا گیا ، لکھنے والے کی کمال ہے اس نے سوا 2 منٹ کے ویڈیو ، اعترافی بیان کو جسے میں صرف ویڈیو پیغام سمجھتی ہوں میں کمال لفاظی کی ۔ زندگی کے بے شمار پہلو چند سو سیکنڈز میں سمو دئیے ۔ احسان اللہ احسان کو ہیرو بنانے والوں نے اس کی آسانی کے لئے پیغام کی ریکارڈنگ کے دوران اسکرپٹ کا صفحہ  کیمرے کے لینز کے نیچے رکھا جس کا عکس اس کی آنکھوں میں صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔  ایک دہشت گرد ، دہشت گرد ہی گردانا جائے گا ۔ اس نے خود سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے جن دہشت گرد کارروائیوں میں اس کی تنظیم شامل نہ تھی اس نے اسے درست قرار دینے کے پیغام بھی میڈیا تک پنہچائے ۔ ایسے سفاک شخص کو ہمارے سیکورٹی ادارے تو معاف کر دیں لیکن وہ گھرانے معاف نہیں کریں گے جو اپنے کسی نہ کسی پیارے کو کھونے پر تنگدستی کا شکار ہیں اور انہی سیکورٹی اداروں پر بھروسہ کر کے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ معصوم افراد کو ذبح کیا گیا ، ٹکڑوں میں پڑی لاشیں دیکھی نہیں جاتیں یہاں کتنے خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے رشتہ داروں کے جسم کے ٹکڑے چنے ۔ احسان اللہ احسان کے ہاتھوں پر جتنے افراد کا خون ہے وہ کھبی خشک نہیں ہو سکتا ، ہر خون بہنے پر اس نے جاری پیغام میں پہلے الحمد اللہ پڑھا اور پھر کہا کہ آج کی کارروائی کے لئے جو ہدف مقرر کیا گیا تھا کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔ فوجی عدالتیں کن دہشت گردوں کو سزا دینے کے لئے قائم کی گئی ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان عدالتوں کی مدت میں اضافہ کرنے پر وہ سیاسی جماعتیں بھی راضی ہوئیں جو پہلے دن سے ایسی عدالتوں کے مخالف رہیں ہیں ، اگر ان عدالتوں سے واقعی انصاف اور دہشت گردی کو مٹانا حصول تھا تو اس عدالت کا استعمال کیا جائے نہ کہ اسے ایسا عسکری مہمان تسلیم کیا جائے کہ یوں لگے ، ایک شاندار شخص 9 سال تک طالبان کے پاس دھکے کھاتا رہا ، اور آخر کار آج اصل مقام پر پنہچ گیا جہاں طالبان سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسے تادم مرگ اعلیٰ ترین افسر کی مراعات بھی فراہم کی جائیں گی ۔  ایسی ویڈیوز سے دہشت گردی مزید بڑھے گی ناپختہ ذہینت کے لوگ ، ریلیز کردہ اس فلم کے دولہا کو دیکھیں گے تو متاثر ہو کر وہ بھی اپنے حالات بدلنے کی ٹھانیں گے  ، سجن جندل کی وزیراعظم سے ملاقات پر پوری قوم بھڑکی ہوئی ہے ۔ ہماری قوم کے جذبات تب کیوں ٹھنڈے رہتے ہیں جب ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کی فنڈنگ سے چلنے والی جہادی تنظمیوں کے کمانڈرز کی واپسی پر ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے ، فیس سیونگ کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔ ایسا مت کریں ، کئی سالوں سے دہشت گردی سے نمنٹنے والی قوم کو نڈر ، بہادر کہہ کر ابھی ان سے مزید قربانیاں بھی لینی ہے ۔ احسان اللہ احسان کو یک طرفہ معافی کی ڈیل کرنے پر اس بار کہیں قوم کا مورال ڈاون نہ ہو جائے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...