گداگری میں اضافہ رو کنے کے لئے معاشرتی رویہ بدلنا ہوگا

114

پاکستان میں مانگنے والا زیادہ کماتا  ہے اور کمانے والا کم کماتا ہے۔ ہم کسی کو اس کا حق دینے سے گھبراتے اور مانگنے والے کو خیرات دے کر روحانی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے اس تضاد نے معاشرے میں گدا گری کے کلچر کی حوصلہ افزائی اور محنت و مزدوری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ ایک این جی او نے دو بچوں میں سے ایک کو مانگنے کیلئے اور دوسرے بچے کومزدوری کیلئے بھیجا۔ مزدور بچہ شام کو 500 روپےکما کر لایا اور مانگنے والا بچہ 5000 روپے لے کر آیا، اسی سروے اور مثال سے ہمارے Mindset کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک فروٹ کی ریڑھی کے ساتھ فقیر چادر بچھا کر زمین پہ بیٹھا ہوا ہے۔ جب ہم فروٹ لیں گے توقیمت کم کروانے کیلئے اس غریب سے لڑیں گے اور صبح سویرے اٹھ کر منڈی جا کر فروٹ لانے والے اور سارا دن کھڑے ہو کر محنت کرنے والے اس محنت کش کی ریڑھی پہ اپنی مرضی کے پیسے پھینک کر فروٹ اٹھا کر لے آئیں گے اور گزرتے ہوئے فقیر کی جھولی میں اپنے بچوں کا صدقہ بھی ڈال دیں گے جبکہ پھل فروش بوڑھا انسان ہماری توجہ کا زیادہ حقدار ہے اگر ہم اسے دو پیسے زیادہ بھی دیں گے اس سے بھی اللہ خوش ہوگا اور وہ عمل ہماری آخرت میں زیادہ اجروثواب کا باعث ہوگا۔

میں صبح اپنے بیٹے کو کالج چھوڑنے کے بعد اشارے پہ اکثر رُکتا ہوں، وہاں ایک فقیر گردن کے گرد کالر لگائے، عرصہ دراز سے ہاتھ میں تسبیح لے کر مانگ رہا ہے ،ایک جوان خاتون اسی اشارے پہ مانگتی ہے۔ آج تک اس کا کالر نہیں اترا اور وہ صحت یاب نہیں ہوا۔ اس سے اگلے اشارے پہ ایک خاتون بڑا سا اشتہار پکڑے نظر آتی ہے جس پہ لکھا ہوتا ہے ”میں بیوہ ہوں میرے دو بچے ہیں ان کی روٹی کیلئے مدد کریں”۔ اگر آپ غور کریں تو آپ کو اشاروں، چوکوں اور خاص سڑکوں پہ کوئی نیا گدا گر دکھائی نہیں دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حقیقی ضرورت مند نہیں ہیں یہ مافیا اور قبضہ گروپ ہیں۔ انہوں نے مقامات تقسیم کر رکھے ہیں جہاں کوئی نیا گداگر نہیں آ سکتا اگر آنا چاہے تو پہلے اسے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اگر اجازت کے بغیر یا ضد سے کھڑا ہو گا تو اس کا حشر بُرا کر دیا جائے گا۔

ہمارے محلّے میں ہر جمعرات کو مانگنے والی خاتون سے میں نے کہا ہمیں ایک ملازمہ کی ضرورت ہے اگر تم ملازمت کرو تو اس ذلت کی زندگی سے تمہیں چھٹکارا مل جائے گا اس روز کے بعد اس نے مجھ سے بھیک مانگنا چھوڑ دیا۔ ایسی اجتماعی برائی پر قابو پانے اور ختم کرنے کیلئے افرادِ معاشرہ کا بیدار ہونا اور عملی اقدام کرنا از حد ضروری ہے۔ جب ہم کسی بھکاری کو بھیک دیتے ہیں گویا ہم گداگری کی حوصلہ افزائی کر رہے ہوتے ہیں اور محنت کش کی حوصلہ شکنی۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا۔ مذہب نے کبھی گداگری کی حوصلہ افزائی نہیں کی، مذہب نے محنت سے کمانے کو پسند کیاہے۔ حدیث پاک ہے ”کمانے والا اللہ کا دوست ہے”۔ تاجر کے متعلق فرمایا :”ایماندار تاجر روز قیامت انبیاء وصدیقین کے ساتھ ہوگا”۔ رسول اللہ نے مانگنے والے کو اسی کے سامان کی فروخت کے بعد ملنے والی رقم سے اسے رَسی اور کلہاڑا خریدنے کی تلقین فرمائی تاکہ وہ لکڑیاں کاٹ کر حلال روزی کمائے۔ علماء کرام نے پروفیشنل گداگرکو بھیک دینا حرام اور ناجائز لکھا ہے کیونکہ جب آپ کسی ایسے شخص کو بھیک دیتے ہیں جو مستحق نہیں ہے گویا آپ نے کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم کر دیا اس لئیے یہ بات ذہن میں رکھئیے کہ آپ کے اس عمل سے ضروری نہیں ہے کہ آپ اجروثواب کے مستحق ٹھہریں ممکن ہے غیر حقدار کو دینے کی وجہ سے کل روز قیامت آپ کا مواخذہ ہو کہ اللہ کی اس نعمت کو آپ نے ایک ایسے شخص کو دے کر ضائع کیا جو اس کا حقدار نہیں تھا۔انفاق، صدقہ اور خیرات کی قبولیت کا مقام اتنا ہی بلند ہوتا ہے جتنا اسے اعلیٰ مقام و مقاصد کیلئے خرچ کیا جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...