کلدیپ نئیر—ایک امن کا پیمبر مرا بھارت میں لیکن اس کی روح پاکستان میں آزاد

113

جے پور سے واپسی پرہری پور سے دوست کی فون کال تھی۔ انہوں نے دہلی پہنچتے ہی ایک اہم شخصیت سے ملاقات کا مشورہ دیا۔ فون پر تعارف کے بعد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو اس شخصیت نے دہلی کی وسنت بہار کالونی والے گھر کا مکمل ایڈریس بتاکرکہنے لگے آپ جب مرضی آجائیں وہ دستیاب ہونگے۔

یہ 2011 دسمبر کی آخری شام تھی۔ دہلی سردی کی لپیٹ میں تھا۔ اس شہرمیں مکین برصغیر کی اہم شخصیت معروف بزرگ صحافی کلدیپ نئیر بخار میں مبتلا تھے۔ تغلق آباد دہلی سے آٹو رکشہ لیا اور دہلی کی خوبصورت ہاوسنگ کالونی کے اس گھر کے دروازے پر پہنچا جس کا پتا میری ڈائری میں درج تھا۔ کچھ دیر کلدیپ نئیر کے اسٹڈی روم میں ان کی آمد کا انتظار کیا۔ بزرگ صحافی آئے تو معذرت کرتے ہوئے بولے کہ بخار کی وجہ سے چل کر آنے میں دیر ہوئی۔

تعارف کے بعد گفتگو کےا بتداء میں نئیرصاحب نے دریافت کیا کہ کیا آپ پنجابی بول لیتے ہیں۔ میری ہاں پر اس قدر خوش نظر آئے کہ آنکھوں خوشی کے آںسو ایسے دوڑتے نظرآئے جیسے چاندی چمک رہی تھی۔

فوری طور پرپنجابی میں بات شروع کردی۔ میرے ساتھ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دوست طارق مرید بھی تھے۔ کلدیپ نئیر نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پنجابی بولنے کو جیسے زبان ترس گئی ہو۔ کلدیب نئیر لاہوریوں کی طرح ٹھٹھ پنجابی میں بات کررہے تھے۔ وہ پیدا تو سیالکوٹ میں ہوئے لیکن مزاج کے لہوری تھے۔ دو گھنٹے کی ملاقات میں لاہور بازی لے گیا۔ انہیں بچپن کے دوست بھی لاہور سے ہی ملے۔ اعتزاز احسن، مشاہد حسین سید، عارف نظامی اور حمید ہارون بہترین دوستوں کی فہرست میں شامل تھے۔

زندگی کے آخری دنوں میں کلدیپ نئیر 80 سے زائد اخبارات میں لکھ رہے تھے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر پوچھنے لگے کہ ایکسپریس ٹریبون میں کچھ کالم نہیں چھپے کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ پھر کہنے لگے چلیں ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیاءالدین صاحب سے خود ہی پوچھ لوںگا۔ میں نے عرض کی کہ آپ کو بھارت میں کیسے پتا چل جاتا ہے کہ کون سا کالم نہیں چھپ سکا؟ جواب دیا کہ جو بنک چیکس موصول ہوتے ہیں ان سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کون سا کالم چھپ سکا۔ کلدیپ نئیر نے دونوں ممالک کی دوستی کی راہ میں رکاوٹ سرحد کو قراردیا۔ ان کا موقف تھا کہ غلط فہمیاں زیادہ ہیں کیونکہ عوام کا آپس میں رابطہ نہ ہونے کے برابرہے جبکہ سرحد کے دونوں اطراف ایک ہی طرح کے لوگ بستے ہیں۔ انہوں نے اپنے پاکستان کے ایک دورے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ بھارتی پارلیمنٹ کے رکن تھے تو وہ اپنی سربراہی میں ایک پارلیمانی وفد پی سی ہوٹل راولپنڈی لے آئے۔

صبح جب وفد کے اراکین سڑک پر نکلے تو دنگ رہ گئے اورسوال پوچھا کہ کیا وہ واپس دہلی پہنچ گئے یا واقعی وہ راولپنڈی میں تھے؟ کلدیپ نیئر نے کہا پارلیمنٹ کے ارکان نے تسلیم کیا کہ وہ زمینی حقائق سے واقف نہیں۔ ان کا موقف تھا کہ یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ لوگ اتنے مہمان نواز ہیں اور کلچرکی اتنی مماثلت ہے۔

دہلی میں بھارتی پارلیمان کے اجلاس میں ایک بارکلدیپ نئیر کو ان کے ایک ساتھی پارلیمنٹیرین نے مسٹر ہاف پاکستانی کہہ کر پکارا جس پر ہنگامہ ہوا لیکن کلدیپ نئیر نے یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کرا دیا کہ ان کی زندگی پاکستان اور بھارت میں منقسم تھی۔

امن کا پیمبر کلدیپ نئیر وہ واحد صحافی تھے جنہوں نے بھارت اور پاکستان کے بانیان سے لے کر آج تک جتنے وزرائے اعظم اورسربراہ مملکت آئے ان سے ان کی کسی نہ کسی لحاظ سے علیک سلیک تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی باتیں ہوں یا ان کے اپنے ہی شہر کے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا ذکر ہو، بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو ہوں یا ان کے بعد آنے والے دونوں ممالک کے حکمران سب کلدیپ نئیر سے یاداللہ  رکھتے تھے۔ ایوب اور شاستری کے تاشقند میں مذاکرات ہوں یا پاکستان کا نیوکلئیر ملک بننا سب کلدیپ نئیر کی نظر سے پہلے ہو کر گزرا۔

مسلح گروپس ہوں یا انتہاء پسند ہندو تنظیمیں، پیپلز پارٹی اور کانگریس کی سیاست ہو یا بے جی پی اور پاکستانی کی مذہبی جماعتوں کا جارحانہ انداز ہو۔ ہر نکتے پر بات ہوئی۔ دنوں ممالک کی افواج اور حکومتوں کا رویہ اور دونوں ممالک میں غربت کی خطرناک صورتحال ہو۔ کلدیپ نیئر کی نظر سے کچھ پوشیدہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا پاکستان اور بنگلہ دیش کی کل آبادی سے بھی زیادہ لوگ بھارت میں بغیرکھانا کھائے سوجاتے ہیں۔ ان حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بزرگ صحافی کے چہرے پر غم عیاں تھا اور ایک بار پھر آنکھوں میں موتی تیرتے نظر آرہے تھے۔ ان کی توجہ ہٹانے کے لیے سوال پوچھا کیا بھارت میں مارشل لاء کا کوئی خطرہ موجود ہے؟ تھوڑا توقف کے بعد کہنے لگے یہ جو ہندوستان کا ذات پات کا نظام ہے اس کے نقصانات کے علاوہ بڑا فائدہ یہ ہے کہ فوج اس ملک کو اکھٹا نہیں رکھ سکتی اور ہندوستان میں مارشل لاء کا خطرہ موجود نہیں۔

لائبریری میں بیٹھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اصل لائیبریری سامنے نشست پر براجمان ہو۔ تاشقند کےایک دلچسپ واقع کا ذکر کرتے ہوئے بولے کہ وہ مذاکرات کے بعد بھارتی وزیر اعظم شاستری اور پاکستانی صدر ایوب خان کی پریس کانفرنسز میں موجود تھے۔ ان کے مطابق شاستری نے یہ دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی کامیابی کا اندازہ اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ہندی میں ہوئے جبکہ ایوب نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات اردو میں کیے اور یہ بھی ان کی پہلی جیت تھی۔ کلدیپ نئیر کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام کو اپنے حکمرانوں پر ذرہ برابر شک نہ ہوا کیونکہ دونوں زبانیں بولنے میں تو ایک جیسی ہیں۔

کلدیپ نیئر نے  متعدد کتابیں بھی لکھیں اور بہت سے واقعات کو زیب قرطاس کیا ۔  اس ملاقات میں ان کی تازہ سوانح عمری  پہ بھی بات چیت ہوئی ۔

جب ان کی بڑی خبر پاکستان کے نیوکلئیر ملک بننے سے متعلق سوال پوچھا تو اس کے تذکرے سے کچھ پریشان بھی نظرآئے اور کہا کہ ان کو مشاہد حسین سید کے ذریعے استعمال کیا گیا تھا۔ ‘اس کے بعد مشاہد حسین بھی میری وجہ سے مشکل میں پھنس گئے تھے اور ان کی جان خلاصی بھی مشکل سے ہوئی۔’ کلدیپ نئیر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ دہلی سے اسلام آباد مشاہد حسین سید کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ مشاہد حسین نے ان کو شادی کا تحفہ دینے کا وعدہ کیا اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور سیدھا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائش پر لے گئے۔ اس ملاقات کےدوران پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق نے بتایا کہ اب پاکستان ایک نیوکلیئر ملک بن چکا تھا۔ کلدیپ نئیر کے لیے یہ اپنے کیرئیر کی بہترین خبر تھی۔ دہلی پہنچتے ہی یہ خبر دی جو 80 کے قریب اخبارات کی ہیڈلائن بنی۔ صحافت کے اعتبار سے یہ ایک بڑی خبر تھی لیکن اس کے پیچھے مقاصد کو اس وقت کلدیپ نئیر نہ بھانپ سکے۔ اس پیشمانی کا اظہار انہوں نے کھل کر کیا۔

کلدیپ نئیر کے ساتھ اس ملاقات میں گھر کا کوئی اور فرد شریک نہ ہوا۔ کلدیپ نئیر کی لائبریری سے چائے کے ساتھ وافر مقدار میں ڈرائی فروٹ کھا کر واپس تغلق آباد پہنچا اور بزرگ صحافی کی زندگی اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے ان کی پریشانی دیکھ کر یہ سوچتا رہا کہ کلدیپ نئیر کی امن، دوستی اور محبت کا پیغام سرحدوں پر لگی رکاوٹوں کو کب پاش پاش کرے گا اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے قریب آسکیں گے۔ کلدیپ نئیرکے اس دار دارفانی سے چلے جانے سے انڈیا اور پاکستان ایک امن کے سفیر سے بھی محروم ہوگئے۔ کلدیپ نئیرمرا بھارت میں لیکن اس کی روح آج بھی پاکستان میں آزاد گھوم پھر رہی ہے۔ راوی اس کا گواہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...