اقتصادی راہداری منصوبہ اورتزویراتی مسائل

193

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت طے نہیں کرپا رہی کہ پاک ۔چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے صحیح قدم کیا ہوسکتا ہے۔ ابھی تک اس راہداری منصوبے  کی جغرافیائی و معاشی اہمیت کا ادراک کیا جا سکاہے اور نہ ہی ایک جامع پالیسی بیانیے کی صورت گری کی کوئی حکمتِ عملی مرتب کی جا سکی ہے۔ دوسری طرف خطے میں اس منصوبے کی سیاسی ، جغرافیائی اور تزویراتی جہات پر پالیسی ساز حلقوں کےبے جا اصرار سےنہ صرف ملک کے اندر بلکہ باہر بھی اقتصادی راہداری  کےحوالے سے بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔

یہ ابہام و غیر یقینیت کا ہی ثبوت ہے  کہ حکومتی نمائندگان  کی طرف سے چین کو اعتماد میں لیے بغیر سی پیک پر نظرِ ثانی (سعودی عرب کی ممکنہ شراکت) کے متعلق بیانات سامنے آئے۔اس طویل المدتی منصوبے سے زرعی شعبے کی وابستگی پر  چند شراکت داروں کے تحفظات کےباوجود سی پیک کو زرعی شعبہ تک وسعت دینے کے بیانات جاری کیے گئے ۔تاہم اس غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کے جواب میں  چین کے محتاط رویے نے نہ صرف حکومت کو محفوظ راستہ فراہم کیا  بلکہ اس منصوبے کو متنازع ہونے سے بھی بچا لیا ہے۔

پاکستانی حکومت کا غیر یقینی جوابی طرزِ عمل اور منصوبے کے تزویراتی مضمرات پر پالیسی ساز حلقوں کا بہت زیادہ زور  اس منصوبے کے دوررس نتائج  و اثرات کوبری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا دوسرا اور کلیدی مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے۔اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آئندہ ماہ وزیرِ اعظم عمران خان کا دورہ چین اس مرحلے کی شروعات  کا پیش خیمہ ہو گا۔

پہلے مرحلے میں ملکی  ڈھانچے کی تعمیرو ترقی اور پاکستان میں توانائی کی کمی  کے مسئلے پر توجہ مرکوز رکھی گئی  کیونکہ  یہ دونوں مسائل ملک کی اقتصادی نمو میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔ دوسرے مرحلے میں مخصوص اقتصادی مراکز کے قیام  کے ذریعے ملک  کی صنعتی بنیادوں  کے استحکام و ارتقا اور ان کی توسیع   کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔ پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اقتصادی مراکزکی تعمیر سے نہ صرف چین بلکہ دیگر تجارتی شراکت دار ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی  ترغیب ملے گی کہ وہ ہمارے ہاں سرمایہ کاری کریں۔ تاہم بیرونی سرمایہ کار ایک ایسے نو خیز اقتصادی و  تجارتی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں جسے علاقائی سیاسی تناظر میں ایک  تزویراتی  منصوبے کے طور پر  پیش کیا گیا ہو۔

مختلف ممالک  سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے راقم الحروف  کے ساتھ گفتگو میں  اس  بات کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کی تزویراتی اہمیت کے منصوبے ایک تو کم شفاف، سیاست زدہ اور ہمہ وقت  کسی انہونی کے دہانے پر ہوتے ہیں ، دوسرا یہ کہ ان منصوبوں سے متعلق سیاسی خدشات و مسائل سرمائے کو غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔ جب سرمایہ کاروں کو خطے اور دیگر دنیا میں سرمایہ کاری کے اس سے کہیں زیادہ سود مندمواقع میسر ہوں گے تو وہ  اس منصوبےمیں سرمایہ کاری کیوں کرنا چاہیں گے؟

عالمی معاشی طاقتوں کے خدشات  کے باوجود  تزویراتی اہمیت کے حامل  منصوبوں کے لیے  ضروری ہے کہ  ممکنہ سرمایہ کاروں کی متعلقہ حکومتیں ان منصوبہ جات کی تائید و توثیق کریں۔ بعض  اوقات کچھ ریاستیں متعلقہ ملک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر انحصار کرتے ہوئے ایسی سرمایہ کاری کی اجازت دے دیتی ہیں۔ تاہم  یورپ اور شمال امریکی سرمایہ کاروں کے لیے چین کی زیرِ سرپرستی  شروع کیے گئے تزویراتی نوعیت کے اقتصادی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ممکن ہے جاپان اور کوریا کو اس منصوبے کے تزویراتی مقاصد سے زیادہ سروکار نہ ہو تاہم وہ ایسی جگہ سرمایہ کاری  کرنے سے گریز کریں گے جہاں چینی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو زیادہ اہمیت دی جائے ، ٹھیکوں کی نیلامی میں چینی  کمپنیوں  کو خصوصی مراعات  حاصل ہوں اور اقتصادی مراکز  میں چینی کمپنیوں  کے ساتھ ترجیحی سلوک روا رکھا جائے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے حوالے سے چینی کمپنیوں کی بھی اپنی شرائط ہیں۔ بعض چینی کمپنیوں کی طرف سے دفتری امورمیں غیر ضروری التو او تاخیراور مقامی منڈی میں فاضل پیداوار کی کم کھپت کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں۔ یہ کمپنیاں بھی غیر محفوظ منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔جہاں تک ملکی سرمایہ کاروں کی بات ہے تو وہ تاحال ان اقتصادی مراکز کے بارے میں لاعلم ہیں اور ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ا ن مراکز کومحض چینی کمپنیوں کے لیے مخصوص رکھا گیا ہے۔ چین بھی چند ایشیائی ممالک کو اس منصوبے، بالخصوص اقتصادی مراکز میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کرنے کی تگ و دو کرہا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس منصوبے کی تزویراتی اہمیت ایک کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بظاہر چین بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی تو کر رہا ہے لیکن وہ دوسرے ممالک کی آزادانہ شراکت  کو قبول کرنے میں پس و پیش سے کام لیتا نظر آتا ہے۔ یہ چین کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے شروع کردہ اس منصوبے پر اپنا اختیار برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی تعاون کے اس  منصوبے کو سب کے لیے قابلِ قبول کیسے بنا پاتا ہے۔

عالمی سرمایہ کاروں کے تحفظات  اور ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے پیشِ نظر چین اس منصوبے کو  علاقائی  اقتصادیات اور تجارت میں بہتری  کی ایک کوشش  کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔اس نے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق مخصوص تصورات پر  سمجھوتا کیا اور ان سے جڑے تنازعات  سے دور رہنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ نہیں چاہتا کہ عالمی سطح پر یہ تاثر جائے کہ یہ منصوبہ عالمی تزویرات میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور نہ وہ اس منصوبے کو علاقائی تنازعات کو ہلہ شیری دینے کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے میں سعودی عرب کی شمولیت  کے بیان کو بھی  چین کے اندراسی تناظر میں  دیکھا گیا،  کیوں کہ وہ نہیں چاہتا کہ یہ منصوبہ سعودی ایران مخاصمت کی نذرہو جائے۔

آئی ایم ایف سے قرض کی پاکستانی استدعا  کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ماسوائے چند ایک حقیقی تحفظات کے، مثلاً شرح سود میں اضافہ اور اس سے متعلقہ معاملات کے بارے میں واضح پالیسی سازی کافقدان ،  یہ بات سیاسی پُرکاری اور  مبالغہ آرائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ اسی بیان بازی کی بدولت  ہمسایہ علاقوں  کے کارپوریٹ حلقوں  میں یہ منصوبہ متنازع بن چکا ہے۔  پاکستانی پالیسی ساز حلقے راہداری منصوبے کی اقتصادی و  کاروباری قوت کا صحیح تخمینہ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ اس منصوبے کو علاقائی رابطے کی ایک صورت کے طور پر پیش کررہےہیں  جس سے سامانِ تجارت کے بین العلاقائی  تبادلے کے امکانات پیدا ہوں گے اور ملک کو اپنے ہمسایہ ممالک  پر تزویراتی برتری حاصل ہو جائے گی۔اس طرح  بطور تجارتی گزرگاہ پاکستان کو معاشی حوالے سے بھی چند ایک  فوائد میسر رہیں گے۔ حالانکہ پاکستان کو محض ایک تجارتی گزرگاہ کےمحدود تناظر میں دیکھنا بجائے خود ملک  کی حقیقی اقتصادی قوت و صلاحیت  کی جڑ کاٹنے کے مترادف ہے۔

طُرفہ تماشا یہ کہ موجودہ حکومت کئی اہم معاملات کے حوالے سے انتہائی  خطرناک  نقطہِ نظر کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس کی مقبولیتِ عامہ اور  سیاسی سرمایہ اس قدر قوی ہے کہ وہ  ان کے بل پربیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مالی امداد و سرمایہ کاری پر  مائل کرلےگی۔ حالانکہ ملک کے لیے کچھ قابلِ ذکر کام کیے بغیر ملک و قوم  کی نیک نامی کے لیےبڑے پیمانے پرعوامی مدد و حمایت  کی  حکومتی توقع ہی عبث ہے۔

حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ اقتصادی راہداری منصوبے کو سیاست زدہ ہونے سے بچائے اور  اس کی تزویراتی چھاپ کومندمل کرنے کا سامان کرے۔ حکومت ایسی نمائشوں کا اہتمام کر سکتی ہے جن میں پاک چین اقتصادی منصوبے  کے علاوہ دیگر معاشی و تجارتی میدانوں میں پاکستان کی قدرت و صلاحیت کی نمود کی جائے۔ لیکن ذہن میں رہے کہ یہ اقدامات پختہ ، غیر مبہم اورسنجیدہ کوششوں کے متقاضی ہیں۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...