حکومت اور این جی اوز کی ساجھے داری : چند معروضات

132

حکومتی ادارے جو کام کرتے ہیں‘ اس کا تو ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا آسان نہیں ہے‘ لیکن جس رفتار سے کرتے ہیں‘ اس سے ہم میں سے کم ہی نا واقف ہوں گے۔ سرکاری اداروں کی سست رفتاری اب ایک مثال کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ جاننے کے لیے یہ دو امور پیش نظر رکھے جا سکتے ہیں۔
1۔ سٹرکچر کا پھیلاؤ
2۔ پوچھ پڑتیت کا فقدان
ادارہ جب پھیلتا ہے تو اس کا نظام پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ناگزیر بات ہے۔ دنیا بھر میں وسیع پھیلاؤ والے اداروں کے داخلی نظام کی سادگی برقرار رکھنے کے لیے بڑے جتن کئے جاتے ہیں۔ حتی کہ پھیلاؤ کے حصے بخرے کر دیئے جاتے ہیں۔ لیکن سادگی اس نازک مزاج چڑیا جیسی ہے کہ ایک بار اس کے انڈے کوئی دوسرا چھولے تو پھر وہ انہیں اپنے گھونسلے میں نہیں رکھتی۔
بڑا ادارہ سٹیفن ہاکنگ کے بیان کردہ بڑے ستارے کی مانند ہوتا ہے جو اپنی طاقتور کشش ثقل کے باعث اپنی روشنی خود ہی کھا جاتا ہے۔ اسی سے بلیک ہول وجود میں آتے ہیں۔ غور کی نگاہ سے دیکھئے تو حکومت کا آسمان ایسے بلیک ہولز سے اٹا پڑا ہے۔
دوسری وجہ پوچھ پڑتیت کا نہ ہونا ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ایسی کسی شے کا سرکاری اداروں میں سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ نظام پیچیدہ اور بھاری بھرکم ہو تو اس کا طویل اور سست رفتار ہونا ناگزیر ہے۔ پوچھ پڑتیت کا نظام بھی اس کاہلی کا شکار ہوتا ہے۔یعنی ایسا شکاری چاقو جو کند ہوچکا اور پھل کاٹنے لائق بھی  نہیں رہا۔
یہی وجہ ہے کہ سرکاری اداروں کے عالیشان جسم تو ہیں لیکن ا ن میں رو ح نہیں ہے۔ کام تو یہاں ہر وقت کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا ہے لیکن نتیجہ ندارد۔ ساری کاوش پیچیدہ نظام کے ہاتھی کی سیوا میں ہی صرف ہوتی ہے۔ ہاتھی البتہ خوش رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ دنیا بھر میں یہ نکالا گیا کہ غیر سرکاری ریاستوں یعنی این جی اوز جیسے چھوٹے چھوٹے یونٹوں کو فروغ دیا جائے جو زیادہ مستعد‘ چست اور فعال ہوں۔
لیکن ہوا یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ یونٹ بھی ناگزیر طورپر چھوٹے نہ رہے۔ ان کا سٹرکچر پھیلا تو قدرتی طور پر یہ انہی عوارض کا شکار ہوگئے جو سرکاری اداروں کو لاحق ہیں اور جن کے علاج کے لیے ہی ان یونٹوں کی سرپرستی کی گئی۔ زیادہ آسودہ ملکوں میں یہ صورت حال زیادہ جلد سامنے آئی۔ بڑے بڑے غیر سرکاری ادارے فائل زدہ اوربھاری بھرکم نوکر شاہی نظام کے بوجھ تلے دبے پڑے سسک رہے ہیں۔
تو اس مسئلے کا ہی ایک حل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی صورت میں نکالا گیا ہے۔ یہ فارمولہ نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی طرح کے ادارے ایک دوسرے سے خائف ہیں۔ سرکاری ادارے انھیں اپنا رقیب تصور کرتے ہیں جو ان کے حصے کے پورے فنڈز میں سے کچھ لے اڑتے ہیں۔جب کہ غیر سرکاری اداروں کی نظر میں سرکاری اداروں کو فنڈز دینا انھیں اندھے کنویں میں پھینک دینے کے مترادف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فنڈز دینے والے ادارے بھی کچھ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔
اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کی نگرانی میں دے دیا جائے۔ دونوں ایک دوسرے پر نظر رکھیں گے۔ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشان دہی کریں گے۔
یہاں فارمولہ بنانے والوں نے ایک امکان پر شاید غور نہیں کیا۔ کیا ہوگا اگر دونوں نے آپس میں لڑنے بھڑنے کے بجائے مفاہمت کر لی کہ تم بھی کھاؤ ‘ ہم بھی کھاتے ہیں۔ نہ تم ہم پر اعتراض کرو‘ نہ ہم تم پر اعتراض کرتے ہیں۔ باہر ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ جائے گی۔ اللہ اللہ خیر سلّا۔
اس معاملے کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھنا بنتا ہے۔ فارمولا ساز وں کا بھی تو یہی روزگار ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ والا فارمولہ ابھی معروف ہے۔ یہ اپنا وقت گزار لے پھر ہی اگلی بات ہوگی۔ سارے فارمولے ایک ہی بار بتادیں تو ہو چکی دکانداری۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...