جنسی مسائل سے بے اعتنائی

400

ہمارے معاشرے میں ویسے تو بہت سے مسائل پر گفتگو ہوتی رہتی ہے اور بعض چھوٹے چھوٹے مسائل پر کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں لیکن جنسی مسائل سے بہت بے اعتنائی اور غفلت برتی جاتی ہے۔ ہمارے علمائے کرام بھی اپنے خطبات جمعہ میں سنجیدگی سے جنسی مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ بدکاری کے احکام بیان کر دینا کافی نہیں۔ بدکاری کی وجوہات کا جائزہ لینا اور ان کے حل کی طرف توجہ دینا بھی علماء اور سماجی مصلحین کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ جیسے انسان کو بھوک اور پیاس لگتی ہے اسی طرح اللہ نے اس میں جنسی طلب بھی رکھی ہے۔ ہم اپنے بچوں کی بھوک اور پیاس دور کرنے کے لیے جتنی بھاگ دوڑ اور جس قدر جتن کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ہم ان کے جنسی مسائل کے حل کے لیے نہیں کرتے۔
دوسری طرف آنکھ چرانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے، چنانچہ ہماری غفلت کی وجہ سے معاشرے میں اس حوالے سے بے اعتدالی اور افراط و تفریط نے جنم لے لیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے جوانوں میں معاشی بلوغت دن بدن تاخیر کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے، جب کہ جنسی بلوغت کے جلد پہنچ جانے کے لیے جبلی تقاضے ہی نہیں بلکہ غیر فطری دعوت بھی معاشرے میں عام ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ گناہ کی دعوت تو عام ہے لیکن دعوت قبول کرنے والے کے لیے تعزیر اور سزا مقرر ہے۔
نشہ بھی تمہی پلاؤ تمہی بے ہوش کہو
اہل انصاف کی نظروں میں یہ کردار نہیں
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگ ان پر غوروفکر کرکے ان کے حل کے لیے آواز اٹھائیں اور جن کے لیے میسر ہو وہ ان کے لیے قدم بھی اٹھائیں۔
اس مسئلے کا ایک اور پہلو شادی بیاہ کے راستے میں ہماری خود اختیاری مشکلات بھی ہیں۔ ہم نے شادی بیاہ کے لیے دن بدن تقریبات کا اضافہ کر لیا ہے اور ہر تقریب مہنگی سے مہنگی ہوتی چلی جارہی ہے۔ اس سلسلے کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ امراء ان مواقع پر اپنی دولت کی بے ہنگم نمائش کرتے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کے لیے طرح طرح کے پکوانوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں وہ ان تقریبات پر مختلف انداز سے بے تحاشا خرچ کرتے ہیں۔ بعض لوگ تو شادی کی تقریب کے لیے دعوتی کارڈ اتنے مہنگے شائع کرتے ہیں کہ غریب آدمی انھیں دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔
کم وسائل شخص بھی اپنی نام نہاد ساکھ یا عزت کے غلط مفہوم کے پیش نظر شادی بیاہ کے موقع پر اپنے آپ کو مقروض کرلیتے ہیں۔ پھر یہ قرض سالہا سال ادا ہوتا رہتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس عزت کے حصول کے لیے یہ قرض حاصل کیا جاتا ہے وہ تو قرض خواہوں کے اصرار و تکرار کی وجہ سے خاک میں مل جاتی ہے۔ بیٹے یا بیٹی کے سسرال والوں کو بھی جلد معلوم ہو جاتا ہے کہ سب دکھاوا اور ریاکاری تھی۔ اب اس کا عذاب اس نوبیاہتا جوڑے ہی کو بھگتنا ہوتا ہے یا پھر ان کے والدین کو۔
شادی کے لیے ایک لڑکے اور ایک لڑکی کا نکاح کے لیے رضا مند ہونا بشرطیکہ کوئی قانونی یا شرعی مسئلہ بیچ میں حائل نہ ہو، ابتدائی طور پر ناگزیر ہے جب کہ بعض علماء کے نزدیک اس کے لیے دو گواہ بھی ضروری ہیں۔ نکاح پڑھنے کے لیے بھی کسی مولوی صاحب کی ضرورت نہیں بلکہ لڑکا لڑکی یا کوئی غیر مولوی بھی یہ خدمت سرانجام دے سکتا ہے۔ اس کے لیے پاکستانی قوانین کے مطابق رجسٹریشن بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ رہ گیا کنواری لڑکی کے لیے والد کی ولی کی حیثیت سے رضا مندی تو یہ شرعی اعتبار سے اس درجے کی ضرورت نہیں ہے جیسی ہم عام طور پر سمجھتے ہیں۔ اگر شرعی ولی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتا ہو اور سہولت کار کا فریضہ جو اسے سونپا گیا ہے ،اسے مناسب طریقے سے ادا نہ کرتا ہو تو پھر لڑکی اپنے باپ کی اجازت کی پابند نہیں ہے۔ جہاں تک ولیمے کا تعلق ہے تو اسے ضرور مستحب قرار دیا گیا ہے لیکن مستحب کو واجب نہ سمجھا جائے بلکہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک طرح سے معاشرتی طور پر اعلان کا طریقہ ہے۔ کسی مسجد میں باجماعت نماز کے بعد نمازیوں کے سامنے نکاح کی سادہ سی تقریب کے ذریعے اس کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی اور آسان راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں خواہ مخواہ بعض چیزوں کو اپنی ناک کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ ماں باپ اپنی خواہش کو زبردستی اپنی اولاد پر ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں بعض خاندانوں میں یہ رواج موجود ہے کہ ان کی لڑکی کی شادی ان کے خاندان سے باہر نہیں ہو سکتی۔ اس رواج کی خلاف ورزی کے گاہے بہت ہولناک نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ مسئلہ سماجی تو ہے ہی لیکن قانونی بھی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور افراد اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور جائز طریقے سے ایک دوسرے کو اپنا شریک حیات بنا لینے والے افراد کا تحفظ کریں تو ایسے مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
ہمارے ڈراموں میں عام طور پر اس موضوع پر توجہ دی جاتی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ معاشرے کے اہل رائے افراد کو اور خاص طور پر سماجی امور میں فعال اداروں اور علماء کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کردار کی عدم موجودگی کی وجہ سے یا تو معاشرے میں تہ در تہ گناہ کا سلسلہ جاری ہے یا پھر ہمارے جوان مختلف طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہماری جوان نسل بروقت شادیاں نہ ہونے کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کے نکھار اور اظہار سے بھی محروم ہے۔ وہ خود اعتمادی کی دولت سے بھی محروم ہوتی چلی جارہی ہے۔ جنسی ضرورت بہت منہ زور ہوتی ہے۔ اسے مناسب طریقے سے معاشرے میں راستہ نہ ملے تو پھر غیر مناسب راستوں سے نہیں بچا جاسکتا۔
بعض لوگ شرم کے مارے اس موضوع پر بات نہیں کرتے۔ طرح طرح کے نفسیاتی مسائل کا شکار نوجوان اس بارے میں کچھ کہہ بھی نہیں پاتے۔ ہمارے ہاں ایسے سماجی ادارے بھی نہیں جو اس مسئلے کو دردمندی سے حل کرنے کے لیے اقدام کریں۔ مذہبی نقطۂ نظر سے اس وقت جس طرح کی قدغنیں شادی بیاہ کے امور میں موجود ہیں ان کا بھی ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور جوانوں کی جنسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مناسب تجاویز سامنے آنا چاہئیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس خواہش کو بے لگام کر دیا جائے لیکن اس خواہش کو اچھی، باوقار اور خوبصورت لگام دینے کا بھی اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک سے زیادہ شادی کی ہمارے مذہب میں اجازت سمجھی جاتی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ معاشرہ عموماً اس کے راستے میں حائل ہو جاتا ہے اور اس سلسلے میں بہت سی سماجی بلکہ اب تو قانونی مشکلات بھی موجود ہیں۔ ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ ہر مرد ضرور دوسری شادی کرے لیکن جس قدر اس کی اجازت موجود ہے اس قدر معاشرے میں اس کے لیے ہموار رائے موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے ہاں بیواؤں اور مطلقہ عورتوں کے لیے بھی شدید مشکلات ہیں۔ اگر مرد کو ضرورت ہو اور وہ دوسری شادی کرنا چاہے تو اس بات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ بیوہ یا مطلقہ خاتون سے شادی نسبتاً اس کے لیے آسان ہو۔
حکومت جہاں جوانوں کو مختلف انداز سے برسرروزگار کرنے کے لیے فکر مند رہتی ہے، اسے بھی ان کے جنسی مسائل اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماسٹر پلان بنانا چاہیے۔
یہ موضوع اس سے زیادہ وسیع اور پہلو دار ہے جس قدر ہم نے اس پر بات کی ہے البتہ یہ توجہ دلانے کے لیے ہماری ایک ابتدائی کوشش ہے۔ ہم سماجی مصلحین اور علماء سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اس کے لیے زیادہ غوروفکر کرنے اور مسائل کا جائزہ لینے کے لیے اجتماعی تدابیر اختیار کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...