تعلیمی سرگرمیوں کو فروع دینے کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے

285
باوجود اس کے کہ مملکت عزیز میں عرصہ دراز سے حکمران تعلیم کو فروع دینے کیلئے بلند بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں۔ ہر سال تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ نت نئے تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں مگر اس کے باوجود بھی تعلیمی میدان میں آگے جانے کے بجائے پیچھے ملنے کے رحجان میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔
 دراصل تعلیمی سرگرمیوں کو فروع یا ترقی دینے کیلئے پالیسوں کو تسلسل نہ دینے سے معاملات میں گڑبڑہوجاتاہے، حکومتی اداروں کی تمام ترکاوشیں کامیابی کے بجائے ناکامی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک غیر سرکاری ادارے نے تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں اسکولوں سے باہر بچوں کے حیران کن اعدادوشمار سامنے ائے ہیں ۔ ان اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دوکروڑ چالیس لاکھ، تیس ہزار سات پچیس بتایا گیا ہے جو مجموعی طور پر 47 فیصد ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد پنجاب میں ایک کروڑ چودہ لاکھ پندرہ ہزار ہے جو پنجاب میں بچوں کی آبادی کے تناسب میں 44 فیصد بتایا گیا ہے۔ چونکہ پنجاب کی آبادی میں ملک بھر کے آبادی میں زیادہ ہے اس وجہ سے اس صوبے میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔آبادی کے تناسب سے سندھ میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد چیاسٹھ لاکھ چوون ہزار چیاسی بلوچستان میں اٹھارہ لاکھ سینتالیس ہزار پچاسی ، وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقوں میں سات لاکھ چوالیس لاکھ اکتیس ہزار سات سو ترتیر جبکہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اتیس ہزار پانچ سو اُنتیس ہیں۔
 اگر موجودہ حالات کے تناظر سے دیکھا جائے تو رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے سکول نہ جانے والے بچوں کی زیادہ تر تعداد خیبر پختونخوا ہی سے ہے۔ ایک طرف یہ خطہ جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے دنیا بھر کے پسماندہ ترین علاقوں میں سرفہرست ہیں تو دوسری طرف افغانستان میں پچھلے چار دھائیوں سے جاری لڑائیوں میں آپس کی محاذ آرائیوں اور بیرونی مداخلتوں کے منفی اثرات خیبر پختونخوا بالخصوص پاک افغان سرحد پر واقع تمام سابق قبائلی علاقوں پر مرتب ہورہے ہیں۔
 1979 سے لیکر اب تک یہ قبائلی علاقے افغانستان کے سرزمین پرمخصوص مفادات کی خاطر الجھے ہوئے عالمی طاقتوں ، جاسوسی اداروں اور ان کے کرایہ دار جنگووں کی محاذ آرائی کے باعث زیادہ متاثر ہورہے ہیں ۔ 9/11 کے بعد جب افغانستان سے القاعدہ اور اس کے ذیلی تنظمو ں سے منسلک جنگجوں پاکستان اُمڈ آئے تو ان جنگجوں کے آمد کے ساتھ سابق قبائلی علاقے بھی میدان جنگ میں تبدیل ہوگئے۔ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف کی جانیوالی فوجی کاروائیوں کے باعث لاکھ کی تعداد میں قبائلی نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ تمام تر قبائلی علاقے ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے ٹھکانو ں میں تبدیل ہوئے اور حکام کے دعوؤں کے باوجود ابھی تک ان علاقوں میں امن وامان کافقدان ہیں زندگی کو خطرات اور متاثرہ علاقوں میں زندگی کے ضروریات نہ ہونے کی وجہ سے اب تھ لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجرین جیسی زندگیاں گزارنے پر مجبورہیں۔
 حکومت اور حکمرانوں کے دعوؤں کے باوجود صرف شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پندرہ ہزار سے زائد خاندان ابھی تک گھروں کو واپس نہیں گئے ہیں جبکہ لگ بھگ تین ہزار خاندان سرحد پار افغانستان کے صوبہ خوست میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کے واپسی کیلئے حکومتی اداروں کے شرائط کچھ عجیب سی ہے۔ اسی طرح نہ صرف سابق قبائلی علاقوں بلکہ وادی سوات اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کے تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فورسز کے کیمپ اور بیرک بنے ہوئے ہیں۔
 ان حالات سے نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کے ترجیحات کے مطابق سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد جب پاکستان تحریک انصازف کی حکومت قائم ہوئی تو توقع تھی کہ اس صوبے کے معاشی اور سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ تعلیمی ترقی بھی ہوگی مگر پچھلی حکومت کے نتائج تجربوں کے باعث سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ 2008 سے لیکر 2012 کے اواخر تک فراہم کی جانیوالی اعدادو شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 13 لاکھ تھی مگر 2013 سے 2018 تک یہ تعداد اٹھارہ لاکھ سے بھی تجاویز کرگیا۔ سابق حکومت نے مناسب تعداد نہ ہونے کی بنیاد پر صوبے بھر میں 804 اسکولوں کو دیگر قریبی سکولوں میں ضم کردیا ہے۔ا ن اسکولوں کے ختم ہونے سے بھی اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔
 ماہرین کا موقف ہے کہ بین الاقوامی اداروں کے ترجیحات کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کو فروع دینے بالخصوص تمام بچوں کو ان کی تعلیمی حق دلوانے کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کو کم از کم تعلیمی پالیسوں کو تسلسل دلوانا چاہیے۔ ٹھیک ہے کہ کو ئی بھی پالیسی مکمل نہیں ہوگئی ۔اس میں اصلاحات کرنی چاہئے نہ کہ اس پالیسی کو بیک جنبش قلم ردی کے ٹوکری نذر کی جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...