معیشت کو فوری توجہ کی ضرورت ہے

محی الدین عازم

230

پاکستان میں زرِ مبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہوتے جارہے ہیں۔اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ پاکستانی حکومت  جلد از جلدملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کی  ممکنہ تدابیر کرے۔بنک دولت پاکستان کے ذخائر  ۲۸ ستمبرکو جاری کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق ۸ اعشاریہ ۴۱ بلین ڈالرتک رہ گئےتھے جو کہ محض آئندہ ۵۳ روز کی درآمدات کی قیمت ہے۔جبکہ جون کے اواخر میں ان کی مالیت ۹ اعشاریہ ۷۹ بلین ڈالرتھی۔ رواں مالی سال کی پہلی ہی چوتھائی میں نقد ذخائر  میں۱ ۱عشاریہ۳۸ بلین ڈالر ، یعنی ۱۴ اعشاریہ چار فیصد کمی   پریشان کن ہے۔جب ذخائر اگلے دو ماہ کی درآمدات کی قیمت سے کم رہ جائیں تو یہ خطرناک حد تک کم تصور کیے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنک دولت پاکستان بیرونی  قرضوں کی ادائیگی کے لیےزرِ مبادلہ کے ذخائر استعمال کرتا رہا ہے۔تاہم خطرناک حد تک کمی کا شکارذخائر اس بات کے بالکل متحمل نہیں ہو سکتے کہ ماضی کی طرح رواں مالی سال کی پہلی چوتھائی میں  بھی اس عمل کو جاری رکھا جائے۔

جب تک زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ نہیں ہوتا  اس وقت تک روپے کی قدر  پریہ دباؤمسلسل بڑھتا رہے گا۔ درآمدات میں ایک فیصد فی سال اضافے کے ساتھ جولائی۔ اگست میں درآمدات کی کل مالیت ۹ اعشاریہ۳۷ بلین ڈالر تھی۔بنکوں کے خزانہ داروں اور زرِ مبادلہ کمپنیوں  کے افسران نے اس خطرے سے آگاہ کیا  ہے کہ بنک دولت پاکستان ان ذخائر کو مستحکم کرنے میں  اگرناکام رہتا ہے تو یہ بحران تجارتی منڈی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ کھلی منڈی میں روپے کی قیمت۴ اکتوبر ،یعنی  زرِ مبادلہ کے اعداد وشمار  سامنےآنے سے پہلے ہی تنزلی کی جانب مائل تھی۔ یکم اکتوبر کو اخبارات میں آئی ایم ایف کی اس خواہش  سے متعلق خبر کی اشاعت ہوئی کہ پاکستان میں روپے کی قدر میں مزید کمی کی جائے۔ اسی ایک دن میں روپے کی قدر ایک فیصد تک کم ہوگئی۔ تاہم بنکوں کے مابین تجارت میں روپے کی قدر ۴ اکتوبر تک مستحکم رہی۔بنک خزانہ داروں کا کہنا ہے کہ بڑے درآمداتی بلوں کی ادائیگیاں معطل کر دی گئی تھیں جبکہ بہتر زرِ مبادلہ کے حامل بنک ڈالر  دوسری کمپنیوں کو فروخت کر رہے تھے ۔

وفاقی حکومت نے بجلی محصولات میں اضافے کا فیصلہ دو بار ملتوی کیا ہے، غالباً سیاسی مخالفت اور حزبِ اختلاف  کے شدید ردِ عمل سے بچا سکے۔لیکن اگر متعلقہ اداروں کی سفارشات کو مکمل طور پر مان لیا جاتا ہے تو بجلی محصولات میں ۱۴ سے ۶۱ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ نئی قیمتوں کے تعین سے مختلف  النوع صارفین  کے لیے گیس کی قیمت ۱۰ سے ۱۴۳ فیصد تک بڑھ جائے گی۔ اس صورتِ حال  سےکوئی بھی فرد آئندہ  دنوں میں ملک کی داخلی معیشت پرگیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جنم  لینے والےافراطِ زر  کی ممکنہ حدکا اندازہ لگا سکتا ہے ۔

اسی پسِ منظر میں بنک دولت کی جانب سے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ قابلِ فہم ہے ، مزید یہ بھی کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور  اس مالی سال کے پہلے تین ماہ میں کنزیمومر پرائس انڈیکس (CPI) کی اوسط شرح ۵ اعشاریہ ۸ فیصد ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال ۱۸۔ ۲۰۱۷ء  میں یہی شرح ۳ ااعشاریہ ۹ فیصد تھی۔رواں مالی سال کےآئندہ نو ماہ میں شرح سود میں مزید اضافے کے نہ صرف امکانات ہیں بلکہ ایسا کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ رواں سال کےمالی خسارے کو مطلوبہ حد تک برقرار رکھنا موجودہ حکومت کے لیے انتہائی کٹھن ہے۔تیل کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہیں۔روپے کی قیمت میں مزیدکمی ایک امکان نہیں بلکہ حقیقت ہے،تمام تر کوششوں کے باوجودمتوازی معیشت  کے جلد سکڑنےکے امکانات  نہیں ہیں اور افراطِ زر کی توقعات برقرار ہیں۔

روپے کی قدر بھی کئی ناگزیر وجوہات کی بنا پر دباؤ کا شکار ہے۔ مثلاًچالو کھاتوں میں حد درجے خسارہ، برآمدات کی انتہائی کم شرح نمو،درآمداتی بلوں کی زیادتی، ترسیلِ زر میں اضافے کی ناکافی شرح، بیرونی سرمایہ کاروں کی ملک کے اندر  بلا واسطہ سرمایہ کاری میں عدمِ دلچسپی اور سرکاری سطح پر زرِ مبادلہ کی بڑے پیمانے پر وطن واپسی ایسی کئی وجوہات اس دباؤ میں اضافے کا باعث ہیں۔

ادائیگیوں میں تواز ن کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب رجوع میں شش و پنج اور تاخیر بیرونی شعبوں کے انتظامات کے لیے غیر یقینیت کا باعث بن رہی ہے۔پالیسی سازی میں حکومت کا اضطراری رویہ  اور اپنے فیصلوں پر قائم نہ رہنے کی روش تجارتی منڈی کو گوموگوں کی کیفیت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ماہرینِ اقتصادیات کی ٹیم نے موجودہ وزیرِاعظم عمران خان سے باقاعدہ طور پر کہا ہے کہ ان حالات میں عالمی مالیاتی ادارے کی جانب رجوع کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ابھی تک یہ  معلوم نہیں ہو سکا کہ عمران خان اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور وہ کب اپنے وزیرِ خزانہ اسد عمر کوآئی ایم ایف سے قرضوں کی درخواست پر پیش رفت کے لیے کہیں گے۔

تجارتی و مالیاتی منڈیوں  کی بہتری اورمعیشت کے استحکام کے لیے  یقینی اقدامات  اٹھانے اور  بروقت فیصلہ سازی کی صلاحیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم حکومت میں دونوں صلاحیتوں کا فقدان ہے۔

بنک خزانہ داروں کا کہنا ہے کہ بیرونی کھاتے شدید دباؤ کا شکار ہیں جبکہ بنک دولت ِپاکستان  روپے کی قیمت میں مزید کمی نہیں کرنا چاہ رہا بلکہ اس کے برعکس وہ بنکوں کے مابین تجارت و کاروبار میں کسی حدتک اس کی قدر مستحکم کرنے کی تگ ودو کررہا ہے۔تاہم مرکزی بنک کی جانب سے شرح سود میں یک جست ایک فیصد تک اضافے نےروپے کے بارے میں کاروباری افراد کے خدشات اور روپے کی قدر میں قریب المتوقع کمی پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔موجودہ حکومت نےاگرچہ  نان ٹیکس فائلرز کے جائیداد و گاڑیوں کی خرید پر سے پابندی اٹھا لی ہے لیکن  سیاسی دباؤ  پرمخصوص استثنیٰ کے ساتھ  اس کودوبارہ متعارف کروایا ہے۔

عوام اس طرح کی غیر یقینت کو برداشت کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں لیکن کاروباری افراد کا اس طرح کی صورتِ حال کو برداشت کرنا جی گردے کا کام ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حکومتی خزانہ  بلوں کی نیلامی  میں تمام بنک ایک سال یا چھے ماہ کے لیے سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ سب نے محض تین ماہ کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس کا مطلب دو چیزیں ہیں: ۱۔ ایک بڑے مقامی  بنک کے خزانہ دار  کا کہنا تھا کہ پہلے نیلام  کیے گئے سہ ماہی خزانہ بل ابھی واجب الادا تھے اور اسی دوران دوسری نیلامی کا مقصد پہلی ادائیگیوں  کو لپیٹنے کے مترادف ہے اور ۲۔  یہ کہ بنکوں کو تین ماہ بعد کی شرح سود سے متعلق کوئی اندازہ نہیں ہے۔وہ شرح سود میں کمی زیادتی کی اچانک افتاد سر پر لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اور انہیں خوف ہے کہ آئی ایم ایف قرضوں کے حصول کی مطلوبہ اہلیت حاصل کرنے کے لیے یہاں کی شرح سود بنکوں کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھائی جا سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے نزدیک ہماری معیشت کی زبوں حالی کا کامل علاج بنیادی شرح سود کوموجودہ  یک عددی شرح ، یعنی ۸ اعشاریہ ۵ فیصد سے دو عددی شرح تک بڑھا دینےاور رواں مالی سال میں گرتی ہوئی روپے کی قدر کو مزید کم کردینے میں پنہاں  ہے۔بنک دولت پاکستان اور وزارتِ خزانہ پسِ پردہ منطق کی تحدی نہیں کرتے بلکہ مرکزی بنکاروں اور حکومتی افسران کا کہنا ہے کہ  انہیں روپے کی قدر میں مزید کمی اور  شرح سود میں مزیدسختی کی مقررہ حد  کے تعین  پر اختلاف ہیں۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ :ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...