دفعہ ایک سو چوالیس، موبائل فون اور جنازہ و نکاح

سوشل میڈیا پر شرک و بدعت، کون کس کا نکاح پڑھا سکتا ہے اور کون کس کا جنازہ!؟ ایسے موضوعات لے کے بیٹھے رہتے ہیں ۔ شاید ایک دن نوبت اس سے آگے بھی جائے۔

کسی بھی جگہ جہاں دفعہ ایک سو چوالیس کا اطلاق ہوتا ہے وہاں چار یا چار سے زیادہ افراد بلاتخصیص جنس و عمر موبائل فون میں مصروف نظر آتے ہیں اور اردگرد سے بے خبر رہتے ہیں جو بظاہر دنیا سے آگاہی اورملک میں آئی ہوئی تبدیلی کی خبروں کا شوق فرما رہے ہوتے ہیں۔بیچ بیچ میں کوئی لطیفہ اور خبر ایک دوسرے کو سنا بھی رہے ہوتے ہیں اور ہوں ہاں اورچھوٹے موٹے تبصروں پر بالعموم اکتفا کیا جاتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ پرانے پاکستانی اور نئے پاکستانی آپس میں الجھ پڑے تو ڈالر کی قیمتوں پر ہی جاکر بات ختم ہوسکتی ہے۔نقصان صرف انٹرنیت مہیا کرنے والی کمپنیوں کا ہی ہوتا ہے کہ اس دوران ا ن کا انٹرنیٹ اسٹینڈ بائی پر چلا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں کا المیہ ہی یہ بن چکا ہے کہ وہ اب مزید سوشل نہیں رہے اور نہ عمیق نظر رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات اپنے نظریات ، خیالات اور تعصبات کے گھمنڈ میں بلا تحقیق ماسی مصیبتے بن جاتے ہیں اور ادھر کی ادھر پہنچاتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں بگاڑ اور الجھاؤ بڑھتا جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ایسے ایسے میڈیا پیغامات بنائے گئے ہیں کہ دنیا کی لوک داستانوں کی طرح نام بدل جاتے ہیں لیکن کردار وہی رہتے ہیں۔کاش بہت سے سیاسی سماجی مسائل کے کردار بھی لوک داستانوں کی طرح ہوتے لیکن ایسا نہیں اور نہ سوشل میڈیا کے شہسواروں کا رویہ ان کے ساتھ ایسا ہے۔ محض تنافر اور تفاخر کی پستیاں اور بلندیاں ہیں۔دل پر ہاتھ رکھ کر کہیئے کہ کبھی سوشل میڈیا کی کسی ویڈیو، تصویر ، آواز ، تحریر اور صوتی پیغام سے آپ کی دل آزاری نہیں ہوئی ہے؟
سوشل میڈیا پر موجود ہمارے بہت سے دوست زخمی ہیں اور کچھ تو بری طرح سے مارے بھی جاچکے ہیں کہ یہ جنگ سب کے لیے بالکل نئی ہے اور ہم سب اناڑی۔ ہم میں سے شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ انٹرنیٹ کا استعمال جس کا چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کا شعور ہے۔ محض چند سو روپے سے شروع ہونے والی ماہانہ پیکیجز سے یہ سہولت ایک مالی سال میں اچھی خاصی سرمایہ کاری بھی ہے۔جس کا ادراک ہونا لازمی ہے کہ پیسوں کے عوض میں ہم کیا خرید رہے ہیں اور کیا کررہے ہیں؟مجھے یقین ہے بعض لوگ ابھی اپنے آپ کو یہ تسلی دے رہے ہیں کہ وہ تو آفس یا پبلک مقامات کی وائی فائی استعمال کررہے ہیں لیکن عرض ہے کہ اس وقت دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں مل رہا۔
سوشل میڈیا کے استعمال کے نتائج اخذ کئے جائیں تو یہ واضح ہوجا تا ہے کہ ہر ایک اپنی تعریف خود کررہا ہوتا ہے جبکہ مختلف گروہوں اور نوٹ ایبل شخصیات کی تضحیک اور توہین بھی فی سبیل اللہ ہوتی رہتی ہے۔ نظریات کے مجسمے تو ہم نے سوویت تحلیل سے پہلے گرادیئے تھے لیکن عقائد کی سولی پر پیارے ملک کو لٹکتا چھوڑ گئے۔ اب صورت یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے معاملات میں برابر شریک نظر آتا ہے اور پوری آزادی کے ساتھ دشنام اور تحقیر کے سلسلہ کو صدقہ ء جاریہ کے طور پر فرض عین سمجھتا ہے۔ نہ کوئی قانون اور نہ کوئی سماجی و سیاسی روک ٹوک ۔ بڑے پڑھے لکھے سوشل میڈیا پر شرک و بدعت، کون کس کا نکاح پڑھا سکتا ہے اور کون کس کا جنازہ!؟ ایسے موضوعات لے کے بیٹھے رہتے ہیں ۔ شاید ایک دن نوبت اس سے آگے بھی جائے۔
پوری دنیا ایک حساس دور سے گزر رہا ہے اور پاکستان کے حالات و واقعات بھی ہمارے سامنے ہیں۔سوشل میڈیا کے استعمال پر عدم شعور کے سبب منافرت اور تعصبات کو فروغ بھی مل رہا ہے تو اس کے لیے مناسب اور قابل عمل قانون سازی جس سے بنیادی انسانی حق بھی سلب نہ ہوتا ہو ضروری ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ معاشرے میں حکومتی اور غیرحکومتی ادارے لوگوں کے اس کے استعمال کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہی پروگرام دے تاکہ پیش آمدہ اور آئندہ صورت حال کے نقصان عظیم سے بچا جاسکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...