قانون کا نون غُنّہ

آج کل ہمارے ذہن میں بار بار ایک ہی سوال آرہا ہے کہ پاکستان میں قانون کا نون غنہ کیوں بنایا جاتا ہے۔

311

اس کی  ایک وجہ تو یہی سمجھ میں  آتی ہے کہ پاکستان میں   ہی نہیں دنیا  بھرمیں قانون اور اخلاق میں فرق کیا جاتا ہے۔   لیکن الفاظ اس فرق کا ساتھ نہیں دیتے۔ ہم کہتے ہیں جب تک جرم ثابت نہ ہو    اس وقت تک ہر شخص معصوم ہے۔ حالانکہ معصوم   اسے کہتے ہیں جس نے کبھی کوئی غلطی نہ کی ہو  اور عقیدے کی زبان میں معصوم  وہ  ہے جس سے غلطی کا امکان ہی نہ ہو۔ سنی اور شیعہ میں بڑا اختلاف  اسی بات پر ہے کہ معصوم کون ہے اور کتنے ہیں؟  اختلاف کو بھول بھی جائیں تو  معصومین کی کل تعداد چودہ بنتی ہے۔ لیکن  قانون کے تصور  کے  اعتبار سے پاکستان میں  معصومین کی تعداد کروڑوں میں ہے اور ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔ اور یوں  پاکستان میں  اخلاق کا نون غنہ کرکے  قانون  کو  نون غنہ بنا دیا گیا ہے۔

اس کی دوسری وجہ  وہ الفاظ لگتے  ہیں جو ہم  قانون کی پکڑ کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں۔  جیسا کہ ہم نے کہابڑی تعداد تو ان لوگوں کی ہے  جو جرم تو کرتے ہیں لیکن قانون کی پکڑ میں نہیں      آتے۔ان سب کو انگریزی میں انوسنٹ اور پاکستان میں معصوم   کہا جاتا ہے۔ جو پکڑے جاتے ہیں وہ بھی دفعہ لگنے تک معصوم  رہتے ہیں ۔   دفعہ لگنے کے بعد    انہیں ملزم  کہا جاتا ہے۔  یہ اور بات ہے کہ گھریلو ملازمین کے معاملے میں  ملازم  اور ملزم میں فرق نہیں کیا  جاتا۔  انہیں شک کی بنا پر دفعہ لگا کر فوری طور پر ملزم  ٹھہرا دیا جاتا ہے۔اور ان کو احتیاطاً سزا بھی فوری دے دی جاتی ہے۔ عدالت اور بلوغت  کا انتظار بھی نہیں کیا جاتا۔ کیا پتا عدالت سزا دے ، نہ دے۔ عدالت بجلی کی ننگی تاروں  اور استری سے جلانے کا تو حوصلہ کر ہی نہیں  سکتی۔عدالت میں ملزم  پر جرم ثابت نہ ہو تو اسے بری کر دیا جاتاہے۔معصوم کی طرح بری   کا لفظ بھی اخلاقیات  اور عقائد میں  بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ بری  ایسے نیک لوگوں کو کہا جاتا  ہے  جو دنیا میں ہی جنت کے حقدار ہوجاتے ہیں۔ اگر پاکستان میں معصوم اور بری   لوگوں کو شمار کریں  تو  پاکستان  واقعی  پاکستان  ہے، نیک اور  معصوم اور جرم سے  پاک  اور بری لوگوں سے آباد سرزمین ۔

اس پاک سرزمین میں اگر نون غنہ ہے تو قانون۔ وہ یوں کہ    مجرم تو بری ہوگیا  لیکن  یہ سوال باقی ہے کہ کیا جرم بھی بری ہوگیا؟۔ انگریزی کی حد تک تو کہا جاسکتا ہے کہ جب ثابت نہیں تو   جرم  کو  بری یعنی  دفن سمجھو ۔ اس پر مٹی ڈالیں۔ روٹی شوٹی کھائیں اور گھر جا کر آرام سے سوئیں۔ پاکستان میں  کوئی نہیں پوچھتا  کہ مقتول اور مال مسروقہ  کا کیا   ہوا۔   چوری ثابت نہیں ہوئی تو کیا اب مال مسروقہ کو بھول جائیں۔قتل ثابت نہیں تو مقتول  کا کیا کریں۔    اب  سوال در اصل  یہ  ہے کہ بری  سے مراد بری الذمہ تو نہیں؟ اگر ایسا ہے تو بری الذمہ کون ہوا؟چور اور قاتل یا   عدالت  اور ریاست؟  جب یہ سوال اٹھے تو قانون تو غنہ ہو کر رہ گیا نا۔

تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے  کہ لفظ قانون میں   ق اور ن دو اہم لفظ ہیں ۔ ایک شروع میں آتا ہے اور دوسرا آخر میں۔   دونوں  کے بیچ میں   آئین ہے  جسے ہم سب پیار سے انّو کہتے ہیں ق اور ن   دونوں کو بی انّو سے بہت پیار ہے۔       مشکل یہ ہے کہ  نادان  لوگ ق اور ن  کو سیاسی پارٹیوں سے منسوب کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ ق اور ن صادق اور امین کے علامتی حروف ہیں۔ صادق کا ق دائیں جانب پہرا دے رہا ہے اور امین کا  بائیں جانب۔ دونوں دائیں اور بائیں سے آئین پر حملہ آوروں کو روکتے رہے ہیں۔  لیکن اب  حملے  دائیں اور بائیں کی بجائے سامنے سے اور پیچھے سے ہونے لگے ہیں۔صادق اور امین  اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتے اگر ہلے  تو بی انو  غیر محفوظ ہو جائیں گی۔ حملوں کا یہ حال ہے کہ پانی پت کی چوتھی لڑائی کا گمان ہوتا ہے ۔ قاف اور نون     پر سے اعتبار  اٹھتا جارہاہے۔لوگ شک کر رہے ہیں کہ کہیں  انہوں نے بھی مفاہمت کا راستہ  تو اختیار  نہیں کر لیا   ؟

ہمارے خیال میں  ہمیں چوتھی وجہ  کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ وہ یہ  کہ جرم  ثابت نہ بھی ہو جس نے جرم کیا ہے اس کو تو پتا ہوتا ہے۔ جھوٹی گواہیوں،  دستاویزات، اور مال مسروقہ اور دیگر شہادتوں  کے بارے سچائی کیا ہے  اس کے بارے میں  پورا علم  اگر کسی کو ہے تو  انہی  صاحب کو ہوتا ہے۔ اس علم کے باوجود ہم معصومیت کا دعویٰ کرکے قانون کا نون غنہ بناتے ہیں۔

پرانے زمانے میں  کسی کو راستے میں پڑی چیز مل جائے تو  اس کا اعلان کرتا تھا۔ جب تک مال  مالک  تک  پہنچ نہ جائے کسی کو چین نہیں آتا تھا۔پھر لطیفے بنے۔ اس کوشش کا مذاق اڑایا گیا۔ مختلف لوگوں       کے نام سے کہانی سنائی گئی کہ وہ تین دفعہ  آواز دیتے کہ جس کسی کی انگوٹھی گم ہوئی ہو وہ نشانی بتا کر لے جائے۔ پھر وقت آیا کہ لوگوں کی اخلاقیات کا اندازہ کرکے  انگوٹھی کا ذکر چھوڑ کر اعلان کیا  جانے لگا۔ اس کے بعد اپنی اخلاقی حالت پر ترس کھا کر اعلان    کی آواز ہلکی ہوتی گئی۔ اب تو  یہ کوشش بھی نہیں کی جاتی۔ تلاش گمشدہ  کا رواج ہی ختم ہو گیا۔  اس یقین کے باوجود کہ ہم  راستے میں پڑے  ملے مال کے مالک  نہیں ہیں  ہم اسے  غیبی مدد سمجھ کرجیب میں ڈال لیتے ہیں۔ضمیر کی خلش کو مٹانے کے لئے   اس شخص کی بے وقوفی،  لا پروائی یا  بدقسمتی   پر ہنستے ہیں جس کا مال گم ہواہے۔

ہم اس لمحے کا انتظار کیوں کرتےہیں جب ہمارے ضمیر کے ساتھ  ہمارے  ہاتھ، پاوں، کان ،ناک اور آنکھیں  بھی ہمارے خلاف   پکار پکار کرگواہی دینے  لگیں ۔جب ساری رشوتیں اور سفارشیں بے اثر ہوجائیں اور ضمیر کی ملامت  کے سامنے  ہماری انا نون غنہ ہو کر رہ جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...