سماجی ہم آہنگی کے فوائد و ثمرات

289

سماجی اشارات ایسے  کلیدی متغیرات کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں جنہیں سماجی و سیاسی استحکام اور  کسی بھی سماج یا گروہ کی خوشحالی کےجائزے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔بالخصوص ترقی یافتہ اقوام میں جہاں تعلیمی و تحقیقی کوششوں میں سماجی رجحانات اورمتعلقہ مسائل کی تفہیم کے لیےسماجی اشارات  کا استعمال زیادہ ہوا ہے وہاں کارپوریٹ حلقوں اور سرمایہ کاروں میں بھی ان متغیرات  کے استعمال میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

مثال کے طور پر دوررس سیاسی استحکام، داخلی سلامتی،اور اقتصادی نمو کی اہلیت و طاقت کی پیشین گوئی  کے لیے سماجی و اقتصادی مساوات و ہم آہنگی ( جومذہبی،مسلکی اور نسل پرست سیاسی جہتوں پر مشتمل ہو) کا اشارہ انتہائی سود مند ہو سکتا ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں سماجی ہم آہنگی  پر بہت کم توجہ دیتی ہیں اور  ان کی پالیسیوں کا محور و مرکز  زیادہ تر اقتصادی، دفاعی اور خارجی امور رہتے ہیں۔

پاکستان مذہبی حوالے سے سب سے زیادہ منقسم سماجی خدو خال کا حامل ہے جہاں بہت کم سماجی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ The Fund for Peace نے ریاستی عدمِ استحکام کو جانچنے کا ایک عالمی اشاریہ متعارف کروایا ہے جو 12اشارات پر مشتمل ہے۔ انہی میں سے ایک سماجی اشارہ ہے جس کے ذریعے کسی بھی قوم کے داخلی استحکام کی پیمائش کی جا تی ہے۔اشاریہ برائے  ریاستی عدمِ استحکام کے مطابق  گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان  کی صورتِ حال بہترہوئی ہے او ر اس نے مجموعی طور پر 13 ویں سے 20 ویں درجے تک  ترقی پائی ہے لیکن اس کے سماجی اشارات’’گروہی شکایت‘‘میں خاطر خواہ اضافے کے سبب ہنوز تنزلی کی جانب مائل ہیں۔ اس اشارے کی مدد سےمخصوص مذہبی ، نسلی یا ثقافتی گروہوں  پر جبر و تشدد کے حوالے سے ریاستی  اداروں اور غالب سماجی قوتوں کے رویےکا جائزہ لیا جاتا ہے۔

یہ سماجی اشارہ گروہی تشدد، مذہبی عدمِ برداشت، تاریخ، نظام ہائے عدل، اور مذہبی آزادی جیسے عوامل کا عمیق مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ بعد از تصادم حقیقت تک رسائی  کی کوششوں ،مصالحانہ عمل  کی موجودگی ،جبر کا شکار گروہوں کی از سرِ نو بحالی  اور  ان کے نقصان کی تلافی کے طریقِ کار کو بھی مدِ نظر رکھتا ہے۔ایک اور پہلوجو کسی بھی قوم کی سماجی و اقتصادی صلاحیت کو جانچنے کے عمل میں کلیدی عامل کی حیثیت رکھتا ہے، وہ مختلف ثقافتوں یا مذاہب کے مابین روابط کا ہے۔

تاہم اقتصادی، سیاسی اور سماجی عوامل نہ صرف ممالک کے داخلی اتصال و یکجہتی  پر اثر انداز ہوتے ہیں  بلکہ خارجی تعلقات کی صورت گری بھی انہی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔اگرچہ خارجی عوامل بھی ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر اپنے اثرات مرتب کر تے ہیں تاہم  مضبوط داخلی ہم آہنگی ان  بیرونی اثرات  کےسامنے سینہ سپر ہو نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بظاہر پاکستان کی نئی حکومت ملک کے سماجی اشارات میں بہتری کے تصور سے محروم نظر آتی ہے۔اس مقصد کی آبیاری کے لیے  اسے انتہا پسندی ، نفرت انگیز بیانات، اور مختلف گروہوں اور  افراد کی جانب سے پھیلائے گئے  منافرت  انگیز بیانیے سے جڑے  مسائل  سے نمٹنے کے لیےواضح نصب العین تخلیق کرنے  کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مذہبی آزادی کے بارے میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک روداد اس حقیقیت کو آشکار کرتی ہے کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی سے جنم لینے والا جبر وتشدد  ایک  مجموعی رجحان کا عکا س ہے  اوریہ کسی ایک گروہ یا طبقے تک محدود نہیں ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے ایک جامع نقطہِ نظر درکار ہے  جو مذہبی ہم آہنگی اور پر امن بقائے باہمی کے تصور پر مشتمل ہو۔ جبر وتشدد کا شکار گروہوں میں بالخصوص ہزارہ قبیلے  کے اہلِ تشیع  اور ان کے ساتھ مسیحی، ہندو اور احمدی بھی شامل  ہیں۔ عاطف میاں کی تعیناتی پر موجودہ حکومت کی جانب سے مذہبی حلقوں  کے  دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ  نفرت انگیز بیانیوں کا قلع قمع کرنا حکومتی ترجیحات میں  شامل نہیں ہے۔

مذہبی اقلیتیں ریاستی  جبر کا شکار رہتی ہیں جبکہ مخصوص مسلکی گروہوں کو براہِ راست خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے مظالم کے انسدادکا نظام تصادم کے بعد حرکت میں آتا ہے اور دھیرے دھیرے کمزور پڑ نے لگتا ہے۔ بعد از تصادم کمزور،  منتشر  اور جانبدارانہ  جوابی طرزِ عمل  ایک نئے  تصادم کو جنم دینے کا باعث ہو سکتا ہے۔ پشتون تحفظ تحریک  کی اٹھان  کو  اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اشاریہ برائے ریاستی عدمِ استحکام   اقتدار کی کشمکش اور سیاسی مسابقت و انتقال کی جانچ کے لیے ذیلی اشارے استعمال کرتاہے۔ علاوہ ازیں یہ کلیدی عوامل کے طور پر  درج ذیل مختلف النوع سوالات کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ جیسا کہ  کیا یہاں کی قیادت کا انتخاب شفاف طریقے سے ہوا ہے؟ کیا یہاں گروہی اشرافیہ، قبائلی قیادت یا / اور اقلیتی گروہ موجود  ہیں؟ وہ کس قدر طاقت ور ہیں؟کیا یہاں کسی سیاسی مصالحتی عمل کا وجود ہے؟ اور کیا فوج عوام کی نمائندہ قوت ہے؟

یہی اشارہ  شناخت اور ریاستی انتشار یا عدمِ استحکام سے متعلق سوالات  پر بھی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔مثلاً کیا یہاں مضبوط قومیتی احساسات کا وجود ہے؟ کیا یہاں علیحدگی پسند آوازیں اٹھ رہی ہیں؟کیا یہاں نفرت انگیز ذرائع ابلاغ  موجود ہیں؟کیا یہاں مذہبی، نسلی یا  دیگر تعصبات  غالب ہیں اور باہمی الزام تراشی کس حد تک عام ہے؟ کیا کوئی گروہ  یا فرد  اکثریتی وسائل  پر قابض ہے؟ اور  یہ کہ کیا وسائل کی تقسیم  برابری کی بنیاد پر  عمل میں لائی گئی ہے؟

ایک تنظیم دی فنڈ فارمیشن نے ریاستوں کی کمزوری جانچنے کے لیے 12مختلف سوشل انڈیکیٹرز پر مشتمل ایک گلوبل انڈیکس مرتب کیا ہے۔ جس کے ذریعے اقوام کا داخلی استحکام ماپا جا سکتا ہے۔ کمزور ریاستوں کی فہرست میں پاکستان کی رینکنگ میں گزشتہ چند برسوں سے بہتری آئی ہے اور پاکستان کا شمار کمزور ترین ممالک میں 13کے بجائے 2018ء میں 20ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ البتہ پاکستان کے سماجی اشاریے تاحال کافی کمزور ہیں۔ معاشرہ میں اجتماعی تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس انڈیکیٹرز کے ذریعے ریاست اتھارٹی کا تجزیہ کیا جاتا ہے کہ معاشرے میں کسی مخصوص مذہبی یا نسلی گروہ کو ایذارسانی سے بچانے کے لیے ریاست کس قدر متحرک ہے۔

کوئی بھی فرد دیکھ سکتا ہے کہ درج بالا سوالات پاکستانی تناظر میں کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔یہ تمام  مسائل  ریاست کی قانونی حیثیت، خدماتِ عامہ،  حکومتی انتظام و انصرام، قانونی بالادستی اور انسانی حقوق سے براہِ راست متعلق ہیں۔ تاہم ایک اشارہ جسے اس اشاریے میں الگ سے نہیں شامل کیا گیا وہ  آزادیِ اظہار ہے۔ اشاریے میں جن سوالات کاذکر کیا گیا ہے  انہیں بیداریِ احساس اور جمہوری حق کے طور پرمتواتر اٹھانے کی ضرورت ہے۔خود ساختہ  سنسر شپ ذرائع ابلاغ اور آزادیِ اظہار پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کررہی ہے۔ اظہار پر پابندیاں مسائل کا حل ہیں نہ ہی وہ ان جائز سوالات کا راستہ روک سکتی ہیں۔

کمزور سماجی اشارات یقینی طور پر کئی طرح سے اقتصادی نمو  پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پرسماجی ساکھ میں کمی،  تجارت و معیشت پرسیاسی و تزویراتی  خواہشات کے اثرات،  تعلیمی  اداروں میں تخلیقی  صلاحیتوں کی حوصلہ شکنی اور تقلیدی تعلیمی ماحول کی حوصلہ افزائی، کسی بھی وقت  انتہا پسندانہ تشدد  میں  ناگہانی  اضافہ اورتیزی سے تعلیم یافتہ افرادکے ملک چھوڑ جانے کےسبب باصلاحیت افرادی قوت میں کمی جیسے عوامل اقتصادی نمو میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔

اس طرح کا ماحول  نہ صرف مقامی  سرمایہ کاروں  کے اعتماد اور حوصلے پست کرتا ہے بلکہ  بیرونی سرمایہ کاری کی راہ محدود کرنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ کیوں کہ کوئی سرمایہ کارکبھی بھی مذہبی، نسلی اور سیاسی  حوالے سے حساس خطے میں اپنے کاروبار کی  شروعات  اورلمبے عرصے کے لیےسرمایہ کاری کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔

پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے  کے  تحت  ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے  نہ صرف چائنہ بلکہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں  کی جانب سے بھی ملک میں سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔تاہم یہ ممالک ابھی بھی سیاسی عدمِ  استحکام اور غیر محفوظ حالات کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔ سیاسی عدمِ استحکام اور غیر محفوظ حالات ملک کے کمزورسماجی اشارات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ہم ایک بڑ اخواب نہیں دیکھتے،  بس ایک ایساپاکستان متصورکرتے ہیں جہاں عسکریت پسند اور متشدد گروہوں کا کوئی نام و نشاں نہیں ہے، جہاں مذہبی اقلیتیں  بلا خوف و خطر  زندگی سے لطف اندوز ہورہی ہیں اور وہ قومی دھارے کا فعال جز ہیں۔ تصور کیجیے اور سوچیے!  اس سے دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ اوربالخصوص سرمایہ کار اس سے کیا اخذ کریں گے؟ محض چند ایک سماجی اشارات کی بہتری سے ہم ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی صلاحیتیں ملکی ساکھ بہتر کرنےمیں صرف کرنا ہوں گی تاکہ ہم وسائل اور سرمائے کا رخ اپنے ملک کی جانب  موڑ سکیں ۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ:ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...