عمران خان کا مقابلہ اپنے آپ سے ہے

173

عمران خان نے خوابوں کی سوداگری کی ہے۔ پاکستان کے نئے متوسط طبقے نے اپنی تمام سیاسی، سماجی، معاشی اور حتیٰ کہ روحانی توقعات عمران خان سے وابستہ کی ہیں۔ عران خان کیلئے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ جن خوابوں کی بنیاد پر اس نے سیاسی سرمایہ اکٹھا کیا ہے، انہیں کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ پاکستان کا نیا متوسط طبقہ چاہتا کیا ہے؟اس کی تفصیل میں جانے سے پیشتر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس نئے طبقے کی ساخت کیا ہے جس کے سیاسی تحرک نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ایک نئی کروٹ دی ہے۔ پاکستان کے شہری متوسط طبقے کو سمجھنے کے لیے ویسے تو کافی کام ہوا ہے اس میں عمارہ سعود، عدنان رفیق نئے محقق ہیں جنہوں نے اکبر ایس زیدی، قیصر بنگالی، عارف حسن اور ڈاکٹر محمد وسیم کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔

لمز سے وابستہ علی عثمان قاسمی نے اس میں دلچسپ اضافے کیے ہیں۔ حالیہ سیاسی تبدیلی اور اس میں متوسط طبقے کے کردار پر انہوں نے ایک دلچسپ مقالہ لکھا ہے اور اس تبدیلی کو متوسط طبقے کے بدلتے ہوئے مزاج کے تناظر میں دیکھا ہے۔علی عثمان قاسمی کا مشاہدہ ہے کہ نوے کی دہائی میں پرائیویٹ شعبے کی افزائش سے جہاں سرمائے کی گردش میں اضافہ ہوا، وہاں ایک خاص کارپوریٹ کلچر نے بھی جنم لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پرائیویٹ سکول ایک صنعت کا روپ دھار گئے۔بیشتر پرائیویٹ سکول طبقہ اشرافیہ کی بیگمات نے قائم کیے تھے۔ انہوں نے ایک خاص شہری مزاج پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور فیشن انڈسٹری اور بیوٹی پارلرز کے بڑھتے رجحان نے ماڈرن مڈل کلاس کی افزائش کی جو سروسز سیکٹر کی بڑھوتری میں بھی معاون ثابت ہوئی۔نوے کی دہائی میں ابھرنے والا متوسط طبقہ خودنمائی کا شوقین تھا لیکن اس کے لیے مواقع کم تھے اور 80ء کی دہائی کی اخلاقیات نے اسے محدود رکھا لیکن جنرل مشرف نے آ کر اس دائرے کو وسیع کردیا۔ میڈیا ایک سرکاری ٹی وی کے چنگل سے آزاد ہوا اور ملک بھر میں کیفے کلچر کا آغاز ہوا۔

ایک لبرل درآمدی پالیسی نے نیا کنزیومر کلچر بھی متعارف کروایا۔ اس متوسط طبقے کو ایک نئے سیاسی کلچر کی تلاش تھی جو ایک کارپوریٹ اور کنزیومر کلچر اور سماج کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ ایک ایسا سیاسی عمل جو معیشت کے ساتھ ساتھ روحانی ضروریات کو بھی مدنظر رکھے۔ایک انسان کی روحانی ضروریات کیا ہوتی ہیں اور وہ اس کی توقع سیاسی نظام سے کیوں رکھتا ہے؟ فی الوقت اس سے قطع نظر یہ نیا متوسط طبقہ ایک ایسے سماج کا خواب دیکھتا ہے جو اپنی انتظامی، طرز حکمرانی اور سوچ میں تو جدید ہو اور مغرب کے معیارات کے مطابق نہیں تو اس کے قریب تو ضرور ہو لیکن اس کی مذہب کے ساتھ بھی مناسبت ہو لیکن وہ مذہب نہیں جو اپنی بنا میں انقلابی ہے جس کی نقیب اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی طرز کی مذہبی جماعتیں ہیں۔

ان جماعتوں سے وہ خائف ہے اور اس کی وجہ شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں حالیہ تبدیلیاں، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور مغرب کے ان کے متعلق رویے نے اس نئے متوسط طبقے کے ذہن کو متاثر کیا ہے۔ وہ ایسی جماعتوں کو آزادی محدود کرنے والی تحریکیں سمجھتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں وہ ایک ایسا نیا سماج تشکیل دینا چاہتا ہے جہاں مذہب، کار ریاست اور اس کی ذاتی زندگی میں تومداخلت نہ کرے لیکن ریاست ایسا ماحول ضرور پیدا کرے کہ مذہب نہ صرف اس کی تشکیل کردہ نئی اخلاقیات کو سپورٹ کرے بلکہ ایک روحانی ضرورت بھی پوری کرے۔

اس تصور کی تشکیل میں بیرون ملک پاکستانی خصوصاً مغرب میں آباد پاکستانیوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور عمران خان نے ان کے سیاسی، سماجی اورمذہبی شعور سے نہ صرف استفادہ کیا ہے بلکہ اس سے وہ سیاسی خاکہ تشکیل دیا ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں اور پاکستان کے نئے کارپوریٹ متوسط طبقے کے آدرشوں کو جوڑ دیتا ہے۔یہ پورا نظام فکر آئیڈیل بنیادوں پر کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی مدنی ریاست کا تصور ہے جس کا انتظام ایک چھوٹی اور محدود میونسپل کارپوریشن کے ذریعے بھی چلایا جاسکتا ہے اور محدود آبادی اور رقبے کے باعث اپنے تمام وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔

عمران خان اور ان کی ٹیم کے وعدوں اور دعوؤں میں سنگاپور، سوئٹزرلینڈ کے حوالے اسی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان جیسے متنوع اور بڑے ملک کو اسی طرز حکمرانی سے چلائیں گے۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کے تجربے اور وژن میں وسعت آ سکتی ہے لیکن فوری چیلنج ان خوابوں اور آدرشوں کا ہے جن کی بنیاد پر نیا پاکستان بنانے کے دعوے ہیں۔ اس کے لیے ایک قلیل المدتی پالیسی تو یہ لگتی ہے کہ ایسے ظاہری اورپاپولر اقدامات کیے جائیں جن سے نئے متوسط طبقے کی توقعات نئے نظام سے وابستہ رہیں گی۔

سادگی، کفایت شعاری اور بچت کے نام پر کیے جانے والے اقدامات اسی کا حصہ ہیں جس کے پیچھے کوئی بڑا ایجنڈا یا مقصد نہیں ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانا اچھا خیال ہے لیکن وفاقی دارالحکومت میں پہلے سے ہی دس یونیورسٹیاں ہیں اور دنیا بھر میں تعلیمی اور صحت کے بڑے منصوبے دور دراز علاقوں میں لگائے جاتے ہیں تاکہ ان علاقوں کی پسماندگی دور ہو اور وہ مرکزی دھارے میں شامل ہوں۔وزیراعظم، گورنر ہائوسز اور دیگر بڑے اثاثہ جات کو کھپانے کے لیے کئی زیادہ مفید اور کارگر اقدامات کئے جا سکتے تھے۔ پاکستان کے کتنے وفاقی اور صوبائی ادارے کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں اور ان کے بھاری کرائے خزانے پر بوجھ ہیں، ان دفاتر کو ان عمارتوں میں منتقل کیا جاسکتا ہے یا اس نوع کے دیگر اقدامات۔ نمائشی اقدامات نئی حکومتوں کو وہ موقع اور وقت ضرور دیتے ہیں کہ وہ طویل المدتی خاکہ تشکیل دے سکیں۔

اس تناظر میں حکومت کی سادگی کی مہم کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن جو بڑے ساختیاتی مسائل ہیں جن میں معیشت سرفہرست ہے پھر علاقائی سیاست، سول ملٹری تعلقات اور اختیارات اور وسائل کی تقسیم وہ غوروفکر کے لیے زیادہ وقت مانگتے ہیں لیکن نئی متوسط کلاس کا سیاسی شعور نئی حکومت اور نئے پاکستان کے خواب پر اثرانداز ہوتا رہے گا۔

یہ نیا طبقہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے اور پختہ اور ناپختہ رجحانات کو ایک خاص سیاسی اور سماجی تناظر میں پروان چڑھاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ طبقہ ہی پاکستان کے تمام متوسط طبقے کا نمائندہ ہے۔ پیداواری شعبوں سے وابستہ، متوسط طبقہ کارپوریٹ طبقے سے متاثر ضرور ہے لیکن وہ اس سے تعداد میں بڑا ہے لیکن اس کا طرز معاشرت سیاسی، ثقافتی اور مذہبی نقطہ نظر اس سے قدرے مختلف ہے۔

پھر وہ متوسط طبقہ جو قبائلی اور نظر انداز شدہ طبقات سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنے سیاسی نقطہ نظر میں زیادہ واضح اور قدرے جارحانہ انداز رکھتا ہے اور عملی سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق مانگتا ہے جیسے منظور پشتین کی تحریک لیکن کارپوریٹ مڈل کلاس ایسی تحریکوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے کیونکہ یہ اس طرز کی جدوجہد نہیں کرسکتی اور اسکے طبقہ اشرافیہ اور طاقتور اداروں کے ساتھ مفادات میں کوئی براہ راست تصادم نہیں ہے بلکہ کارپوریٹ مڈل کلاس کی تشکیل میں ان ہی طبقات کا حصہ ہے۔

نئی اشرافیہ میں کارپوریٹ اورسروسز سیکٹر کا نیا اظہار ہوا ہے اور اگر کہا جائے کہ عسکری اور سول بیوروکریسی، نئے کارپوریٹ طبقے اور سروسز اور صنعتی پس منظر رکھنے والے سیاستدانوں کا نیا گٹھ جوڑ ہوا ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔

پوری دنیا میں کارپوریٹ سیکٹر اپنے منافع کو بڑھانے کیلئے طرح طرح کے طریقے ایجاد کرتا ہے اور اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اسے ساتھ ساتھ ایک قانونی دستاویزی صورت بھی دیتا جاتا ہے۔ کارپوریٹ کلچر میں زبانی معاہدوں اور ان سماجی، اخلاقی اقدار کی گنجائش نہیں ہوتی جو اس کے کاروباری مفاد سے ٹکراتی ہو۔ نیا متوسط طبقہ اسی کارپوریٹ اشرافیہ کے مفادات کا محافظ ہے۔

یہ بڑے زرعی اور صنعتی منصوبوں کے حق میں اس صورت میں ہوتا ہے جب اس کا حصہ ان منصوبوں میں شامل ہو۔ دوسری طرف یہ ان روایتی سماجی، اخلاقی اقدار کو آہستہ آہستہ اپنے ڈھب پر ڈھالتا ہے جس سے مذہبی، سماجی اور سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

رہا روحانیت کا معاملہ وہ ریاستی بندوبست میں ایسے عقلی صوفیانہ عمل کی افزائش چاہتا ہے جو نئی تبدیلی سے پیدا ہونے والے تضادات کو اگر حل نہیں بھی کرسکتا تو کم از کم اس سے اتنی مطابقت پیدا کردے کہ نفسیاتی مسائل سے دوچار نہ ہو۔

اسکے نزدیک ایسی مذہبی جماعت کی گنجائش نہیں ہے جو پورے نظام کو ہی مذہبی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتی ہو۔ عمران خان نے آئندہ پانچ سالوں میں اپنی پالیسیوں سے اس طبقے کے مفادات کا نہ صرف تحفظ کرنا ہے بلکہ ان کے خوابوں کو نئی معنویت بھی دینی ہے۔ عمران خان کا مقابلہ اپنے آپ سے ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...