سب کا پاکستان

606

گوجرہ ہنگاموں کے بعد ، جن میں مسیحی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا،چند مسلم علماء نے دستوری نظام  سے جڑے مسائل کو سمجھنے کی کوششیں شروع کیں۔یکے بعد دیگرے ایسے واقعات ملکی ساکھ کو خاطر خواہ نقصان پہنچا رہے تھے۔یہ2009   تھا جب ایک سال کے دوران  پاکستان سب سے زیادہ دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنا۔ یہ بات ان علماء کے لیےحیران کن تھی کہ ایک ایسا ملک ، جو تمام افراد کو بلا تفریق، رنگ و نسل اور مذہب یکساں حقوق مہیا کرنے پر یقین رکھنے والےآئین کا حامل ہو، اس قدر مذہبی منافرت میں کیسے گھر سکتا ہے۔

بعداز بحث کئی طرح کی توجیہات سامنے آئیں  کہ کس طرح ریاستی پالیسیوں نے ان مسائل کو مہمیزدی  اور کیسے خطے کی ابتر صورتِ حال نے اس تعصب کو نموبخشی۔بعض کے نزدیک انتہا پسندی کا نظریاتی پہلو اہم تھا اور کچھ اسے عوامی اور فوجی اداروں کی باہمی چپقلش کے نتیجے میں عدمِ توجہی  سے تعبیر کررہے تھے۔ تاہم  یہ بحث اس مسئلے کے تمام تر پہلوؤں کا احاطہ کرنے سے قاصر رہی کہ پاکستان کا سماج اس قدرکم آمیز کیوں ہے۔

بہرحال اس بحث کا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے ہمارے سماج میں موجود نفاق و تناقص کی ایک تصویر سامنے آئی۔ ریاست اور سماج، دونوں جدید و قدیم کی بھلبھلیوں میں بھٹک کر رہ گئے ہیں۔ ایک عام پاکستانی ترقی پسندہونا چاہتا ہے لیکن قدیم روایات پر کوئی  سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اسی طرح ریاست عالمی دنیا کے ہم دوش تو ہو نا چاہتی ہے مگر اپنے اداراتی نظام میں اصلاحات کی طرف کوئی میلان نہیں رکھتی۔

اس طرح کے تناقصات و تضادات ہمارے ہاں دوغلے رویوں کو جنم دیتے ہیں۔ کوئی بھی انسان اپنے دیرینہ و سابقہ موقف سے بغیر کسی قباحت کے روگردانی کر کے اس سے مخالف موقف اختیار کرسکتا ہے۔ حالیہ نئی حکومت کا عملی منشورملاحظہ کیجیے کہ اقتصادی مشاورتی کونسل میں بطوررکن ایک خاص فرد کی تعیناتی پرمضبوط موقف اپنایا گیا اور بعد ازاں جب اس کے احمدی ہونے کے سبب ملک بھر میں واویلاہواتو  اس  اقدام سے رجوع کر لیا گیا۔یہ فیصلہ حکومت کو لاحق جارح مذہبی قوتوں کے خوف کا  پردہ چاک کرتا ہے۔ اگرچہ ایسے اقدامات کو سیاسی  عملیت پسندی کے مظہر کے طور پر پیش کیا جاتا ہےلیکن اس طرح کے واقعات دراصل سماج اور ریاست کی کمزوری کا باعث بنتے ہیں۔

اپنی ہی حساسیت کے سبب بعض اوقات ریاست ایسے اقدامات اٹھاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماضی کے برعکس  ایک نئے آزادانہ معاشرے کی داغ بیل ڈال رہی ہے۔ اسی طرح کا ایک قدم پیغامِ پاکستان کی صورت میں امسال اوائل میں اٹھایا گیاتھا،  جس میں ملک کے اندر بڑھتے ہوئے مذہبی تشدد اور عدمِ برداشت کا رد کرنے کے لیے  ایک متبادل بیانیہ و فتویٰ پیش کیا گیا۔

قرآن و سنت اور آئینِ پاکستان کی روشنی میں ملک  بھر کے 1800 مذہبی علماء کے اتفاقِ رائے سے تیار کیے گئے  متفقہ فتوے’’پیغامِ پاکستان‘‘ کوریاست اور سماج کے مجموعی بیانیے کے ترجمان کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں ملکی سلامتی کے اداروں نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں  پیغامِ پاکستان سے متعلق، جسے ایک آزادانہ معاشرے کے دستور کے طور پر پیش کیا گیا تھا، بیداریِ شعور  مہم کا آغاز کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ایک کالعدم جماعتوں نے اس فتوے کو اپنے کھاتے ڈالنے کی کوششیں کیں۔ ان جماعتوں کی قیادت نہ صرف ایوانِ صدر میں منعقدہ اس فتوے کی مرکزی تقریب رونمائی میں موجود تھی بلکہ اس پیغام کو عام کرنے کے لیے منعقدہ سیمینارز میں بھی دکھائی دیتی رہی۔

بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت سمجھی جارہی تھی کہ کالعدم فرقہ پرست اور عسکری جماعتیں پیغامِ پاکستان  کی پاسداری کررہی ہیں۔  تاہم نتیجہ اس کے برعکس  نکلا  کہ دیگر مخالف مسالک کی  جماعتوں نے پیغامِ پاکستا ن کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ چند مخصوص کالعدم جماعتوں کو  اس دباؤ سے نکلنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہےجس کا  ماضی میں انہیں سامنا رہا۔ تحریکِ لبیک ان جماعتوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اس پیغام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اہلِ سنت والجماعت اور جماعۃ الدعوۃ جیسی کالعدم جماعتیں عوامی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کے لیے اس فتوے کو استعمال کررہی تھیں۔

ابھی تک  پیغامِ پاکستان خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم جہاں تک اس کے مندرجات کی بات ہے تو یہ ایک جامع اور  مدلل دستاویز ہے۔ جیسا کہ یہ پاکستانی سماج کی تعمیرِ نو کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستانی نہ تو دوسرے مذاہب کو کم تر سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کے مذہبی پیشواؤں کی اہانت کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ مذہبی آزادی پر  یقین رکھتے  ہوئے محض مدلل تبلیغ کے ذریعےدیگر مذاہب سے وابستہ افراد کو مسلمان ہونے کی دعوت دیں۔ اس دستاویز میں مذہبی آزادی سے متعلق آئینی شقوں پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ  یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے  مطابقت رکھتی ہیں۔ اس میں درج ہے کہ  تمام شہریوں کو قانونی و اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ حقوق یکساں مواقع و رتبے،  قانون کے سامنے برابری، سماجی و اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہار ِ رائے ، مذہب وعبادت اور  جماعت سازی جیسی آزادیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔

اسی طرح اس فتوے میں مسلکی نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم، اور بزورِ طاقت اپنی بات منوانے  کی مذمت کی گئی ہے۔ اس پر دستخط کرنے والے علما نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ جمہوریت، آزادی، مساوات،برداشت، یکجہتی،احترامِ باہمی،اور انصاف جیسے اصولوں پر مبنی  سماج کے لیےکام کریں گے تاکہ  پرامن بقائے باہمی  کے لیے سازگار ماحول قائم  کیا جا سکے۔

پیغامِ پاکستان اس فتوے کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان  میں تقریباً تمام قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق کی گئی ہے،تاہم مذہبی اشرافیہ ابھی بھی اس دستاویز کو اپنے مدارس و مساجد  کے لیے ضابطہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ چند مذہبی حلقوں کی جانب سے  فرقہ وارانہ سازشی نظریات کے پرچار نےپیغامِ پاکستان کی افادیت کو کم کردیا ہے۔ یہ سازشی نظریات مذہبی اشرافیہ کی تنگ نظری کا مظہر ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی ہے لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ بیشتر مذہبی رہنما اور گروہ اس جنگ کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے   ہوئے اس جنگ کو  مخصوص مسالک کے خلاف جنگ سے تعبیر کرتے ہیں۔اس بیانیےکے باعث ملک میں نئے بنیاد پرست عناصر کو سماجی و سیاسی مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ اسی کے سبب ملک میں مذہبی، مسلکی اور گروہی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر کو بھی مہمیز ملی ہے۔یہ گروہ اور رہنما ایک نئی شدت پسند کھیپ کی نمو کررہے ہیں جبکہ ملکی سلامتی کے ادارے اس حوالے سے انکار و گریز کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں اور صرف دہشت گردوں کے پاکستان مخالف بیانیے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

پاکستان اس وقت  انتہا پسندی کے گورکھ دھندے میں پھنس چکا ہے اور یہاں ریاستی ادارے اور مقتدر طبقات نفرت انگیز بیانیے کے ہاتھوں یرغمال ہو چکے ہیں۔مخصوص مذہبی رہنما اور افراد ملک کو افراتفری کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ریاست اسٹیٹس کو برقرار  رکھتے ہوئے اس افراتفری سے چھٹکار ے کی راہ تلاش کررہی ہے تاہم وہ اپنی اس حکمتِ عملی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

معاشرتی سطح پر صورتِ حال اس سے بھی ابتر ہے جہاں یہ اکثر کمزور  مذہبی گروہوں کے خلاف تشدد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ عسکری تشدد کی مذمت تو کی جاتی ہے تاہم اس کے پسِ پردہ ، بالخصوص مختلف مذاہب پر عمل  پیرا لوگوں سے متعلق نظریات وخیالات پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ یہ مذہبی تعصبات ہمارےمجموعی طرزِ فکر کے عکاس ہیں، جو کسی خاص  طبقے، نسل، تعلیمی پسِ منظر اور گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ ایسے مسائل کے لیے تجویز کیے گئے حل بھی کئی طرح سے تضادات سے پر ہوتے ہیں۔

ریاست مذہبی نفرت کے آگےبند باندھنے سے ہچکچاتی ہے۔بہت محنت سے بوئے گئے نفرت انگیز مذہبی بیانیےنے ایک مجموعی متشدد   زاویہِ فکر کوجنم دیا ہے جس سے چھوٹی مذہبی اقلیتیں خوف محسوس کرتی ہیں۔حتیٰ کہ ’’نیا پاکستان‘‘ بھی ابھی تک مذہبی نفرت کے اس گرداب  سے باہر آنے کا حوصلہ مجتمع نہیں کرپایا ہے۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...