کُفرٹوٹا خدا خدا کرکے

152

گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کی منسوخی کے اعلان سے مسلمانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی اور حکومت نے بھی سُکھ کا سانس لیا ۔سال ہا سال سے مسلمان ملکوں میں اِن واقعات کے ظاہر ہونے کے بعد سارا ملبہ حکمرانوں پہ آ گرتا ہے۔شاید پاکستان کی یہ پہلی حکومت ہے جس کے ابتدائی دور میں ہی یہ مسئلہ ختم ہو گیا ورنہ جلوس، مظاہرے اور احتجاج نے اس حکومت کی سیاسی  بنیادیں ہلا کر رکھ دینی تھیں۔حکومت  اسے اپنی کا میاب سفارت کاری کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔اللہ کر ے حکومت پاکستان کی کا میاب سفارت کاری دیگر مسائل میں بھی اپنا اثر دکھائے، ورنہ یہ مقابلہ منعقد کرانے وا لے نے اِس کی وجہ قتل و دہشت کی دھمکیاں قرار دیں اس کے بقول ان دھمکیوں سے ”اسلام کا حقیقی چہرہ سامنے آ گیا ہے ”اب سوال یہ ہے کہ کیا ہماری کوششیں یہاں تک رہیں گی یا  اس مسئلے کو عالمی سطح پر مستقل بنیادوں پر حل کروانے کی کوشش کی جائے گی۔میرا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مغرب کی اس بنیاد کو سمجھنا چاہیئے جس سے یہ رویّہ وجود میں آ تا ہے ۔اگر وہ اس قبیح فعل کو سر انجام دیتا ہے اس کا سبب کیا ہے ؟

وہ اسے جرم خیال کیوں نہیں کرتا؟ ۔مغرب کے کسی ملک میں ایک پاکستانی نژاد مذہبی سکالر سے کسی صاحب نے توہین مذہب اور آزادئ اظہار سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب میں مکا مارنے کی مثال دی  “کیا مجھے آزادی حاصل ہے کہ میں آپ کو مُکّا رسید کروں؟” جب کہ مغربی قانون کے مطابق مُکّامارناجرم ہے کیونکہ اِس سے آپ دوسرے کو نقصان پہنچارہے ہیں جب کہ توہینِ مذہب جُرم نہیں کیونکہ ایک تو وہ اُن کے نزدیک قانوناً جرم نہیں ہے دوسرا اُس سے کسی کا جانی،مالی نقصان نہیں ہے ۔اِس مثال سے بتانا یہ مقصود ہے کہ ہم میں اور مغرب کے درمیان  کمیونیکیشن گیپ ہے۔

اس کمیونیکیشن گیپ کو کم کرنے کا ایک انداز نومسلموں کا ہے۔جب بھی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہےتو وہ قرآن مجید،سیرت رسول اور اسلام کے تعارف پہ مبنی کتب غیر مسلموں کو تحفے میں پیش کرتے ہیں۔یوم ولادت رسول کے موقع پر لوگوں  کو پھول اور چاکلیٹ پیش کرتے ہیں ۔ہمارے نزدیک ہمارے پیرا ڈائم میں جو فعل ممنوع اور قبیح ہے،اُن کےہاں اُن کے پیرا ڈائم میں وہ ممنوع اور جرم نہیں ہے ۔یہ مثال اس سکالر کی ہے جو مغرب میں رہتے اور عالمی سطح پہ دعوتِ دین کا کام کر رہے ہیں ۔اگر وہ اس فرق کو نہیں سمجھ پائے تو پاکستان میں علمائے کرام اس فرق کو کیسے سمجھیں گے؟ایک مسلمان  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی محبت کر تا ہے ؟۔وہ اِن پاکیزہ جذبات سے محروم ہیں ۔سال ہا سال کی مذہب بیزاری اور اہل مذہب کے “کارناموں” نے انہیں اس مقام پہ لا کھڑا کیا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ و دیگر انبیاء علیہم السلام کے مقام سے لا علم اور بے بہرہ ہیں۔وہ حضرت عیسیٰؑ کےحوالے سے مہنگے بجٹ کی فلمیں تیار کر تے ہیں جن میں حضرت عیسیٰؑ کی شخصیت کو اپنے خیالات  اور خوابوں کے مطابق پیش کر تے ہیں۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ جب تک ہم حضرت عیسیؑ اور حضرت مو سیٰؑ پہ ایمان نہ رکھیں ہم مسلمان نہیں لیکن عملی صورت میں ہماری حسّاسیت صرف اور صرف رسول اللہ ؐکی ذات اقدس کیلئے ہے(یہ حسّاسیت ایمان کا تقاضا بھی ہے)۔دیگر انبیاء کرام کی گستاخی پہ بھی ہمیں حسّاس ہونا چاہئے۔

مسیحی،یہودی ودیگر اہل مذہب ہم مسلمانوں کے متعلق یہی خیال کرتے ہیں کہ مسلمان صرف ”اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم”کی نا موس اور حرمت کے لئے احتجاج کر تے اور مطالبہ کر تے ہیں اُن کے ذہنوں میں یہ فرق ہمارے اِسی رویّے نے پیدا کیا ہے۔

پہلا کام اِس تاثر کو زائل کر نا چاہئیے۔تمام اہل مذہب اس نکتہ پہ جمع ہوں کہ تمام مقدس ومحترم شخصیات کی توہین قانوناً جرم قرار دی جائے۔انہیں مشترکہ پلیٹ فارم سے آواز بلند کرنی چا ہیئے تا کہ تمام طبقات اور مذاہب کی مقدّس شخصیات کا احترام کیا جائے۔دوسرا کام مسلمان کا اپنا کردار  اورمعاشرے میں زندگی گزارنے کا سلیقہ ہے ۔دعوت و خطاب سے پہلے کردارواخلاق کی قوت ہے جوآپ کے مذہب کامثبت یا منفی تاثر دوسرے کے ذہنوں میں قائم کرتا ہے۔۔ تیسرا کام مغرب کی تیار کردہ پروڈکٹس کا بائیکاٹ کر نے کے بجائے اس کے مقابل خالص اور ملاوٹ سے پاک پروڈکٹ تیار کر نے کا عزم اور پلان کہ ٹوتھ پیسٹ ،بے بی فوڈ اور دوائیاں وغیرہ کی تیاری ہمارے ملک میں ہو۔

چوتھا کام کامیاب سفارت کاری پُرامن مذاکرات اور عالمی پلیٹ فارمز پہ اپنا مقدمہ پیش کرتے رہنے کی کوشش جاری ر کھنا ۔پانچواں کام اگر ایسا ناپسندیدہ میسج اور ویڈیو دیکھیں،اسے فوراً ڈیلیٹ کردیں،اسے فارورڈ نہ کریں۔آپ کا دوسروں کو بھیجنا ہی دراصل میسج یا ویڈیو کو ٹاپ ٹرینڈ بنادیتا ہے۔

یہ پانچ کام ہیں جو ہمیں ہر صورت میں جاری رکھنے ہیں تا کہ آئندہ ایسی صورتِ حال پیدا نہ ہو اگر ہو تو ہم اس کا پہلے سے ہی سدِّ باب کرچکے ہوں ورنہ جلاوگھیراؤ،احتجاج ،جلوس اور مظاہرے  قبیح اور مذموم حرکات کرنے والوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے، ہمیں بحیثیت امّت نقصانِ عظیم پہنچانے کا سبب بنتے رہیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...