ہمارا سوشل میڈیا اور الزامات کا کلچر

221

الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا ہماری زندگی میں بہت سی تبدیلیوں کا باعث بنا ہے لیکن خبر کی تیز رفتاری نے لو گو ں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے ۔ابھی واقعہ تحقیق و تفتیش کے مراحل میں سے گزر رہا ہو تا ہے اور لو گو ں کی فیصلہ کن آراء سامنے آنے لگ جاتی ہیں۔ہر شخص اس پہ تبصرہ و تنقید ایسے کر رہا ہو تا ہے جیسے وہ خود اس کا چشم دید گواہ ہے ۔یہ مشکل صرف اُس شخص کیلئے پیدا ہو جاتی ہے جس کے متعلق یہ خبر پھیلتی ہے ۔وہ شخص اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کر نے کے بجائے ،اس الزام و تہمت کے ساتھ زندگی بسر کر نے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہو تا ۔
ذات اور شخص کیخلاف خاندانی، معاشرتی یا معاشی سکینڈل ہو تو یہ صورت حال اتنی سنگین نہیں ہوتی، سنگین صورت حال اس وقت بنتی ہے جب مذہب کے نام پہ الزام لگا دیا جا تا ہے اور پھر اسے سوشل میڈیا پہ پھیلا دیا جا تا ہے ایسے الزام پہ ہر شخص تبصرہ ہی نہیں کر تا بلکہ لعنت و ملامت پہ بھی اتر آ تا ہے صرف لعنت وملامت ہی نہیں بلکہ دائرہ اسلام سے ہی خارج کردیتا ہے جب کہ معتوب شخص کی اسلام پسندی اور وابستگی پہ زمانہ گواہ ہو تا ہے ۔ان حا لات میں معاشرے کا سنجیدہ اور اخلاقی اقدار سے وابستہ طبقہ بے حس نہیں، بے بس دکھائی دیتا ہے ۔وہ آواز بلند کر تا ہے لیکن اس کی آواز صدا بصحراء ثابت ہوتی ہے یا اس کی آواز کو یہ کہہ کر بے اثر کردیا جا تا ہے کہ اس کا تعلق بھی اسی گروہ سے ہے یا سیاسی عصبیت کے زہر سے اس آواز کوخاموش کرا دیا جا تا ہے ۔
حکومت کوئی بھی ہو اس کے حکمران ،وزراء مشیر اور ممبرز اکثر سکینڈلز کی زد میں رہتے ہیں۔رائی کے دانے کو پہاڑ بنا کر پیش کیا جا تا ہے ۔ایسے الزامات حکمرانوں کا تمام زندگی تعاقب کر تے ہیں جب کبھی اُن کا ذکر ہوگا ،اِن الزامات کی تکرار ضروری ہو گی۔ایوب خان سے ذو الفقار علی بھٹو اورنواز شریف تک کوئی حکمران ایسا نہیں ہے جو الزامات کی زد میں نہ آیا ہو۔
مو جو دہ حکومت کو اقتدار سنبھالے دو ہفتے نہیں ہوئے اس کے خلاف بہت سے سکینڈلز سوشل میڈیا پہ گردش کر رہے ہیں ۔ واقعات میں کسی حد تک حقیقت کا میں انکار نہیں کر تا لیکن جس طرح حقیقت کا چہرہ مسخ کر کے واقعہ نقل کیا جا تا ہے یہ سر ا سر زیادتی کا عمل ہے ۔آپ ایک تازہ سکینڈل پہ اس تبصرے سے اندازہ لگا ئیں کہ تبصرہ نگار نے کیسے کڑی سے کڑی ملائی ہے وہ لکھتا ہے ’’ڈی پی او پاکپتن نے عمران خان کی اہلیہ کے سابقہ شو ہر کو ناکے پر روکا جسکا انہوں نے برا منا یا ،انہوں نے سابقہ بیوی کو کال لگائی سابقہ بیوی نے سابقہ شو ہر کی توہین پر وزیراعلی بزدار کوکال لگائی ،بزدار نے آئی جی پنجاب کو کال لگائی اور آئی جی نے ڈی پی او پاکپتن کا ٹرانسفر کروا دیا کیو نکہ اس نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا‘‘۔
تبصرہ نگار اس خبر کو اس طرح بیان کر رہا ہے جیسے وہ اس کا عینی گواہ ہویا با وثوق ذرائع سے اس تک یہ خبر پہنچی ہو۔مجھ جیسا کوئی شخص اس سے اختلاف کر نے کی جسارت نہیں کر سکتا کیونکہ میں بھی ان تمام کڑیوں کا عینی گواہ نہیں ہوں لیکن یہ سو چنا ضروربنتا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ کو سابقہ شوہر اس سلسلے میں سابقہ بیوی کو فون کرے اور سابقہ بیوی جو خاتون اوّل ہو اور پردہ کی سخت پابندہو ،وہ کارِ سر کار میں مداخلت کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ کو فون کرے۔اس تبصرے سے اندازہ لگائیں ۔۔۔۔تبصرہ نگار کس چا لاکی سے یہ باور کر ا رہا ہے کہ عمران خان اس واقعہ میں ملوث نہیں ہیں جوکچھ کر رہی ہے وہ اُن کی اہلیہ ہے ،اس کے ساتھ یہ بھی بتا یا جا رہا ہے کہ سابقہ شو ہر سے اِس خاتون کی سلام دعا ابھی تک قائم ہے ۔ میں اس واقعہ کے وقوع کا انکاری نہیں ہوں لیکن سوال اس پہ اٹھتا ہے یہ جو کچھ بیان کیا گیا کیا یہ سب حقیقت اور سچ ہے؟
ایسے حا لات میں ذمہ داری ہمارے کندھوں پہ آن پڑتی ہے کہ ہم ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے ہوئے افواہوں، جھوٹی خبروں اور تبصروں پہ کان نہ دھریں اور نہ ہی ایسی سرگرمی کا حصہ بنیں جس سے کسی بے گناہ کی عزت نیلام ہو یا کوئی گناہ گار اپنے گناہ سے زیادہ سزا پائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...