سعودی عرب اور ایران کے بیچ

327

اخباری اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے سعودی حمایت یافتہ اسلامک ڈویلپمنٹ بنک سے 4بلین ڈالر قرض لینے کا فیصلہ کر لیاہے۔ شنید ہے کہ پاکستان کو اس قرضے کے لیے چٹھی ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی اسلامک بنک خود ہی حکومت پاکستان سے درخواست گزار ہو گا کہ آپ کا چیک تیار ہے وہ آ کر لے جائیں۔ وزیر اعظم نے حلف اٹھا لیا ہے، اس ہفتے سعودی عرب میں عید ہے، جس کے بعد یہ پیسے خزانے میں آ جائیں گے اور پھر پاکستان میں بھی عید ہو گی۔ چین پہلے ہی دو ارب ڈالر کا وعدہ کر چکا ہے جس میں سے ایک ارب تو خزانے میں آ بھی چکے ہیں۔ چین سے جو بیل آؤٹ  پیکیج آ رہا ہے اس کی سمجھ آتی ہے کہ دوستی سے ہٹ کر بھی چین کی کاروباری اور اس کے ’’روڈ اینڈ بیلٹ‘‘ منصوبے کی ساکھ سی پیک اور پاکستان سے جڑی ہوئی ہے، وہ کسی صورت نہیں چاہے گا کہ وہ ملک دیوالیہ ہو جہاں وہ تیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے ہی کر چکا ہے اور اتنی ہی سرمایہ کاری اگلے دو سے تین برس میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اگرچہ مغربی معاشی ماہرین یہ کہتے آ رہے ہیں کہ پاکستان پر یہ معاشی دباؤ سی پیک کی وجہ سے بڑھا ہے اور یہ کہ پاکستان نے اپنی استعداد سے زیادہ قرضے لے لیے ہیں جس کے باعث اسے آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرضے لے کر چین کے قرضے اتارنا پڑ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں کئی اہم رہنما اور کابینہ کے وزیر بشمول وزیر خزانہ اسد عمر بھی اسی رائے کے حامی ہیں۔ ان کی اس رائے پر بیجنگ میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور خاص طور پر ان کے اس بیان کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔ چین کی رائے ہے کہ اس نے پاکستان کو بیشتر منصوبے کم لاگت میں فراہم کیے ہیں۔ اسی نوعیت کے دنیا میں کئی منصوبوں پر چین نے زیادہ نرخ سے سرمایہ کاری کی ہے اگر یہ تفصیلات سامنے آتی ہیں تو اس سے چین کے بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور دنیا میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ سابق حکومت کا منصوبہ تھا کہ سی پیک سے معیشت پر جو دباؤ آئے گا، اسے وہ چائنا سے مزید قرضے یا مزید منصوبے حاصل کر کے پورے کرے گی اور درآمدات کو کنٹرول کر کے اور نج کاری کے ذریعے صورتحال پر قابو پا لے گی، معیشت پر یہ دباؤ چار سے پانچ سال کے عرصے کے لیے متوقع تھا اور سی پیک سے معیشت کے پہیے میں جو تیزی آنا تھی، اسے گھمانے میں اتنا وقت بہرصورت درکار تھا۔ سابق حکومت کے دور میں ہی ریاستی مشینری کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہو گئے تھے اور نگران دور میں یہ دباؤ مزید بڑھ گیا ،نئی حکومت اور چین کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ چین مزید سرمایہ کاری خاص طور پر صنعتی زون میں سرمایہ کاری حالات کو دیکھتے ہوئے ہی کرے گا۔

نئی حکومت کی معاشی حکمت عملی کیا ہو گی؟ یہ ابھی طے ہونا باقی ہے، فی الوقت اسے سامنے کھڑے چیلنج کو دیکھنا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت وہ نہیں ہے کہ آئی ایم ایف جیسے آسان شرائط پر پاکستان کو قرضے دے دیں، اس صورتحال میں سعودی عرب کے چار ارب ڈالر (اگر یہ آ جاتے ہیں) بڑے معنی رکھتے ہیں، لیکن سعودی ڈالر بہت سا دباؤ اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان کا مزید عسکری تعاون درکار ہے، یمن اور قطر کے ساتھ سعودیہ کے تعلقات، اس کے لیے مضبوط عسکری قوت کا تقاضاکرتے ہیں۔ ایران کو کیسے بھولا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کو ممنون احسان رکھ کراسے ایران کے دائرہ اثر سے باہر رکھنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کا قرض تزویراتی مقاصد کے لیے ہے۔ دوسری طرف ایران بھی پاکستان سے بہتر سفارتی اور معاشی تعلقات چاہتا ہے۔ نئے وزیر اعظم ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے علاقائی معاشی حالات بھی ایران کے ساتھ بہتر اور مضبوط تعلقات کا تقاضا کرتے ہیں ۔گوادر کو بجلی کی فراہمی، جہاں آنے والے سالوں میں بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے اور سی پیک سے حاصل ہونے والے فوائد اور زائد پیداوار کی وسط ایشیا اور یورپ تک ترسیل کے لیے بھی ایران کے ساتھ تعلقات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ سادہ لفظوں میں پاکستان کی معاشی فعالیت میں ایران کا بڑا کردار ہو سکتا ہے جو ابھی تک پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اور سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عرصے میں چین اور بھارت نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ٹھیک رکھے بلکہ بھارت نے تو امریکی دباؤ بھی مسترد کر دیا اور امریکہ کو مجبور کر دیا کہ وہ بھارت اور ایران کے تجارتی اور معاشی تعلقات کو اپنے باہمی عسکری اور اقتصادی تعلقات کی حدود سے باہر ہی رکھے۔ لامحالہ بھارت نے ایران کے ساتھ تعلقات کو تزویراتی وسعت دی ہے اور چاہ بہار کی بندر گاہ کو وہ افغانستان اور وسط ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال کرے گا۔ یہ منصوبہ سی پیک کو دباؤ میں لانے کا بھارتی حربہ ہے اور چین اس صورت حال سے خوش نہیں ہے ۔اسی لیے وہ پاکستان پر واضح کرتا آ رہا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے اگر مثالی تعلقات نہیں رکھ سکتا تو کم از کم انہیں اس سطح پر ضرور رکھے کہ ان کے ساتھ کاروبار ہو سکے اور پاکستان اور چین کے مشترکہ کاروباری مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔

پاکستان کے لیے یہ ہمیشہ سے مخمصہ رہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں کیسے توازن پیدا کرے، سعودی عرب پاکستان کی فوری مالی امداد کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے شرائط کڑی ہیں۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ اس کے طویل المدتی معاشی مفادات وابستہ ہیں۔ جنہیں وہ فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے ملتوی کر دیتا ہے۔ کبیر نے کہا تھا۔ دو پاٹن کے بیچ میں ثابت گیا نہ کو  نئی حکومت کے لیے بھی یہ چیلنج ہو گا۔

 

سابقہ حکومت نے عسکری قیادت کے ساتھ مل کر سعودی عرب اور ایران میں اعتماد کی بحالی کے لیے کوشش کی تھی لیکن یہ میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کی یہ کوشش بری طرح ناکام ہوئی اور فریقین نے پاکستان کی ثالثی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس ناکام سفارتی کوششوں کے بعد جنرل راحیل شریف سعودی عرب سدھار گئے جس کے باعث پاکستان کے سفارتی امیج کو زک پہنچی۔ ہماری فوری ضرورتیں بیشتر اوقات قومی وقار کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔ ویسے تو پوری دنیا میں معیشت اس کی سفارت کاری اور خاص طور پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات سے جڑی ہوتی ہے لیکن پاکستان کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس کی ایک وجہ ہمارے معاشی مفاد اور سفارتی ترجیحات میں تال میل نہیں ہے اور حکومتیں یہ توازن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ دیکھیے نئی حکومت اس میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...