شمالی وزیرستان میں جنگ اور مذہبی اقلیتیں

246

 

جب آپ بابا خیل سے میران شاہ کی طرف ایف آر (فرنٹیئر ریجن) بنوں میں نئی تعمیر شدہ سڑک پہ سفرکرتے ہوئے اپنی کار کی کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھیں تو آپ کو منہدم مکانوں ، دکانوں اور عمارتوں کی قطاریں دکھائی دیں گی۔ ایف آرکا یہ علاقہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع بنوں اور سابقہ فاٹا کی شمالی وزیرستان ایجنسی کی سرحدوں پہ واقع ہے ۔

مذہبی عسکریت پسندوں کےخلاف پاکستانی ریاست کی جنگ سے قبل فاٹا کی ساتوں ایجنسیز اور خیبر پختونخواہ سے ملحقہ چھ فرنٹیئر علاقوں(جو اب صوبائی عملداری میں شامل ہیں) میں حکومتی رٹ بہت کمزور تھی ۔ فاٹا اور دیگر علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعد تاج برطانیہ کے نافذ شدہ ایف سی آر کا کالاقانون ختم ہوگیا ہے جسے تاج برطانیہ نے  پشتون بیلٹ کے پختونوں کی مزاحمت کچلنے کی غرض سے ایک صدی سے زائد پہلے نافذ کیا تھا ۔ ایف سی آر کا قانون مختلف مقاصد کی تکمیل اور باغیوں کو سزا دینے کی غرض کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن بعدازاں سوویت یونین اور برطانوی ہند کے درمیان کے درمیان بفرزون کے قیام کی غرض سے نافذ کیا گیا تھا۔

1980  کی دہائی میں خیبر پختونخواہ کے قصبوں نے افغان جنگ اپنے آس پاس دیکھی جس میں پیٹرو ڈالر اورامریکی ہتھیاروں سے لیس جہادی افغانستان  میں داخل ہورہے تھے ۔حالیہ عرصے کے پچھلےدس سالوںمیں اس علاقے نے ایک بار پھر تحریک طالبان پاکستان کی شکل میں خوف ودہشت دیکھی ہے۔ اس دوران تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جنگجو سابقہ فاٹا کی تمام ایجنسیوں میں انتظامی امور کے مالک بن بیٹھے تھے۔

جیسا کہ دیگر تمام علاقے بھی ایک مرتبہ طالبان کی بربریت سے متاثرتھے شمالی وزیرستان کے باسیوں نے اس عفریت سے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہے ۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ ہر طرح کی ترقیاتی تعمیر مثلاََ سکولز ، صحت مراکزاور عوامی جائیدادوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا تھا ۔

جن دنوں شمالی وزیرستان ایجنسی میں اغواء کاری ، گردن زنی  اور لوٹ مار و خوف ہراس روزمرہ کا معمول تھا برخلاف قیاس یہاں کی چند درجن غیر مسلم آبادی نے عام لوگوں کی نسبت کچھ زیادہ تکالیف نہیں سہیں  حالانکہ توقعات ایسی نہیں تھیں۔ البتہ تحریک طالبان وزیرستان نے غیر مسلم آبادیوں پر قرون وسطیٰ کے اسلامی دور سے متاثر ہوکر جزیہ ٹیکس ضرور نافذ کیا ۔

میران شاہ کینٹ میں واقع سول کالونی میں انگریز دور سے 70 کے قریب مسیحی اور ہندو خاندان آباد ہیں ۔

“ہم خود کو قبائلی رہن سہن کا اٹوٹ حصہ تصور کرتے ہیں ۔” خالد اقبال صدر اقلیتی ایسوسی ایشن نے مجھے بتایا ۔ خالد اپنی بیوی دو بچوں اور والدین کے ہمراہ دوکمروں کے ایک تنگ سے گھر میں رہتے ہیں ۔ “ہمارے آباؤ اجداد برطانوی دور میں بر صغیر کے دوردراز علاقوں سے نقل مکانی کرکے شمالی وزیر ستان میں آباد ہوئے تھے ۔”انہوں نے وضاحت کی اور مزید بتایا کہ ”ہم لوگ خدمت کرنے والے ہیں اور اس سرزمین کے خادم ہیں۔”ہمارے کام کے لئے لازم ہے کہ آس پاس امن و امان اور رواداری ہو۔

اس زمانے میں پشاور سے ملحقہ خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والا لشکر اسلام نامی عسکریت پسند گروہ آزاد قبائلی علاقہ جات پہ راج کررہا تھا ۔ اگرچہ اس گروہ نے غیر مسلم برادری پہ جزیہ نافذ کیا تھا تاہم شمالی وزیرستان کے لوگوں نے ایسی کوئی ہدایات وصول نہیں کی تھیں۔ تاحال جیسا کہ ہم تصور بھی کرسکتے ہیں خالد نے بتایا کہ” عسکریت پسندی کے سبب مسلمانوں اور غیرمسلموں نے ایک جیسی تکالیف برداشت کیں۔”

دو اقلیتی افراد گلفام مسیح اور اندراس مسیح کو اغواء کیا گیا ۔ اس زمانے میں اس علاقے میں ایک جیسا بے رحم ماحول تھا۔ خالد نے بتایا کہ اس سب کا مقصد یہاں کے رہنے والوں خوفزدہ کرنا تھا ۔

”عسکریت پسند سبھی لوگوں سے بلاتعصب ان کے رنگ نسل مذہب یا قبیلے کے ایک جیسا ظالمانہ سلوک کررہے تھے ۔ نہ صرف اقلیتوں نے بلکہ اکثریت نے بھی اس پہاڑی علاقے میں شدید ترین خوف سے وقت گزارا۔ ”رسول داوڑ جو کہ ایک مقامی صحافی ہیں انہو ں نے مجھے بتایا ۔ داوڑ اس علاقے میں جیو ٹی وی نیٹ ورک سے وابستہ ہیں اورجب سے مسلح عسکریت پسندی نے اس علاقے کو لپیٹ میں لیا ہے وہ  اس کے رپورٹر ہیں۔

اقلیتی برادری میں سے گلفام مسیح کا خاندان ایسا ہے جس نے عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئےدور میں گہری تکلیف سہی۔ گلفام مسیح وہ واحد غیر مسلم مغوی ہیں جنہیں شمالی وزیر ستان سے اغواء کیا گیا اور وہ لوٹ کر نہیں آئے ۔ سالوں سے ان کی اہلیہ اور بیٹا ان کی باحفاظت واپسی کے منتظر ہیں ۔ اندازہ یہی ہے کہ سیاسی انتظامیہ اس ساری صورتحال سے آگاہ ہے کہ یہ شخص تاحال لاپتہ ہے۔

جن دنوں یہ بے رحم عسکریت پسند ظالمانہ کاروائیاں کررہے تھے انہی دنوں میں اعجاز ساگر کا بھائی اندراس مسیح اغواء ہوا تھا ۔ اندراس کے اغواء کے بعد مقامی مسیحی اقلیت نے قبائلی بزرگان کو اس کی واپسی کے لئے کوشش کرنے کو کہا۔ اعجاز ساگر کے خاندان کا تکلیف سے بھرا ایک سال اس وقت ختم ہوا جب اس کا بھائی باحفاظت گھر آگیا ۔

” بہت سے مہینوں کی مسلسل محنت کے بعد قبائلی ملکان اور مقامی علماء کی مداخلت کے سبب میرے بھائی کی واپسی ممکن ہوئی۔” اعجاز ساگر نے بیان کیا ۔

اعجاز ساگر نے مزید بتایا کہ اس کے بھائی کے اغواء کا وقت بہت حساس تھا کیونکہ ان دنوں میں اغواء ہونے والوں میں سے بہت کم باحفاظت واپس آئے تھے ۔  اغواء کاروں کا اصول بہت سادہ تھا یا تو آپ انہیں ان کا مانگا ہوا تاوان ادا کریں یا اپنے پیارے کی لاش کے لئے تیار ہوجائیں ۔

داوڑ بیان کرتے ہیں کہ اقلیتی برادری کے لئے اس علاقے میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں ہونے والی ترقی میں انہیں شریک نہیں کیا گیا ۔

اقلیتی برادری سول کالونی کے تنگ مکانوں میں رہتی ہے ۔ لوگ دو کمروں کے مکان کے متعلق شکایت کرتے ہیں کہ دو کمروں کے مکان میں 5 یا 6 افراد کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے ۔ وید کمار دکھ سے بتاتے ہیں کہ حکومت بڑے بڑے بنگلوں اور پارکوں کے لئے کروڑوں روپے خرچ کررہی ہے مگر اس کے پاس ہم کمزور لوگوں کے لئے کچھ نہیں ہے ۔

مسیحی آبادی نے مزید  مصیبت کا یہ ذکر کیا کہ لینڈ مافیا میران شاہ میں  موجود وہ قبرستان جہاں اقلیتیں اپنے لوگوں کو دفن کرتی ہیں اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انہیں یہ بھی شکایت تھی کہ اس علاقے میں کوئی چرچ بھی موجود نہیں ہے ۔ اگرچہ ٹوچی ہاؤس میں ایک چرچ موجود ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برادری کے لوگوں کے باہمی اختلاف کے سبب وہاں رسائی آسان نہیں ہے ۔

سابقہ پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی نے اس صورتحال کے متعلق بتایا کہ کالونی میں رہائشی مکان ملازمین کے سکیل کے مدنظر تعمیر کئےگئے تھے نایہ کہ انہیں تعمیر کرتے وقت ملازمین کے خاندانوں کے افراد کی تعداد کا لحاظ رکھا گیا تھا۔انتظامیہ نے قبرستان کے معاملے پر بھی مقامی مسیحی برادری کی شکایت کو مسترد کردیا ہے ان کے بقول ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مقامی مسیحیوں نے کبھی میران شاہ کے قبرستان میں اپنے لوگوں کو دفن کیا ہو اور یہ بھی ایسا کوئی لینڈ مافیا موجود نہیں جو اس قبرستان پہ قابض ہونا چاہتا ہے ۔ انتظامیہ کے بقول ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈز کو دیکھا گیا ہے اور اس علاقے میں ایک چرچ اور ایک کیمونٹی سنٹر کی تعمیر آئندہ سال کے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہے جسے وقت پر مکمل کردیا جائے گا ۔ کامران آفریدی نے وضاحت کی ۔

البتہ ہندو برادری کے لئے مندر اور شمشان گھاٹ ان ترقیاتی منصوبوں میں شامل نہیں ہیں۔ ویدکمار نے شکایت کی کہ مرنے والوں کا کریا کرم ہمارے دھرم میں اتنا ہی ضروری ہے جتنا مسلمانوں کے لئے کفن دفن ، انہوں نے درخواست کی کہ حکومت کو مقامی ہندوؤں کے لئے ایک مندر اور شمشان گھاٹ تعمیر کرنا چاہیئے۔ ابھی ان کی برادری اپنے مرنے والوں کو آخری رسومات کے لئے کوہاٹ یا اٹک لے کر جاتے ہیں جس پر بہت خرچ آتا ہے ۔

یہاں کے مقامی مسیحیوں اور ہندوؤں کے ملک کےدیگر علاقوں میں رہنے والے اقلیتی برادریوں کے افراد سے گہرے رابطے ہیں۔ لیکن جب بھی مقامی علاقے کے ڈومیسائل کی بات ہوتی ہے خاص طور پر ان دلہنوں کی جو اس علاقے میں بیاہی گئی ہیں تو انہیں بہت مشکل پیش آتی ہے کیونکہ ان کے شناخت کارڈز پہ ان کے پتے بڑے شہروں جیسے گوجرانوالہ ، لاہور اور پشاورکے درج ہیں ۔

اقلیتی برادری کے زیادہ تر لوگ خاکروب ہیں مگر گذشتہ تین سال سے انہیں تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ انتظامیہ نے بتایا کہ  انہیں اس علاقے کی مارکیٹ سے 20 لاکھ روپے وصول کرنے ہیں مگر چونکہ مارکیٹس تباہ ہیں اور انتظامیہ کے پاس فنڈز نہیں ہیں لہذا عملے کو تنخواہ نہیں دی گئی ۔ مقامی انتظامیہ نے خیبر پختونخواہ صوبائی حکومت کو اس معاملے پہ خط بھیجا ہے مزید یہ صوبائی محکمہ خزانہ اس صورت حال سے آگاہ ہے ۔

مقامی اقلیتی برادری کو سرکاری امداد بھی نہیں دی گئی جو کہ دیگر آئی ڈی پیز کو دی جا سکتی تھی ۔ 90 فیصد سے زائد مقامی اقلیتی افراد کے پاس شمالی وزیرستان کے علاوہ دیگر شہروں کے ڈومیسائل ہیں اور امدادی سامان پہ حق صرف زدہ متاثرہ علاقے کے رہنے والوں کا ہے اگر ان کے پاس ڈومیسائل موجود ہوں ۔

(عبدالروف یوسف زئی پشاور میں مقیم فری لانس جرنلسٹ ہیں ۔ ان کی یہ تحریر انگریزی شمارے فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہوئی )

مترجم : شوذب عسکری

سب ایڈیٹر تجزیات

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...