درست سمت پہ درست فیصلے ضروری ہیں

286

سب سے اچھا کام یہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور آمریت کے بعد یہ تیسری جمہوری حکومت ہے جو عوامی رائے سے منتخب ہوئی ہے۔اگر چہ ہمارے ہاں کوئی الیکشن بھی ایسا نہیں ہوا جس پہ دھاندلی کا الزام نہ ہو ۔دھاندلی سے پاک الیکشن تک پہنچنے کے لیئے بہر حال اس جمہوری عمل کا جاری رہنا از حد ضروری ہے جمہوریت میں ہی عوام کا سیاسی شعود پروان چڑھتا ہے ،لو گو ں کو آزادی اظہار کا حق ملتا ہے ۔
بہت کچھ ایسا ہے جسے بہتر کر نے کی ضرورت ہے اس بہتری میں حکومت ہی نہیں عوام پہ بھی لازم ہے کہ وہ اس میں اپنا حصہ شامل کرے۔
تعلیم، صحت ،پانی اور کرپشن جیسے اہم مسائل کو حل کر نے کے لیئے کچھ بنیادی اور درست سمت پہ فیصلے کر نے کی ضرورت ہے ۔
سب سے پہلا نکتہ مستحکم منصوبہ بندی اور پا لیسیوں کا تسلسل ہے۔ تخلیق پاکستان سے مو جو دہ حکومتوں تک ہمیں استحکام اور تسلسل دکھائی نہیں دیتا۔ایک حکومت جس منصوبے کو شروع کر تی ہے آنے والی حکومت اسے روک کر ایک نیا منصوبہ شروع کر دیتی ہے ۔پہلے منصوبے پہ کروڑوں اربوں کا سرمایہ ضائع ہو جا تا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ منصوبے کو مستحکم بنیادوں پر شروع نہیں کیا جا تا ۔اس کی سب سے بڑی مثال گزشتہ دور حکومت کی معاشی پا لیسی ہے جیسے ہی وزیر خزانہ اور وزیر اعظم گئے ملک معاشی بحران کا شکار ہو گیااورحکومت کے جانے سے ہی ڈالر مہنگا ہو گیا۔
مو جو دہ حکومت کے لیئے بھی یہ امتحان ہے کہ وہ گزشتہ حکومت کے منصوبوں کو جاری رکھتی ہے یا بند کر دیتی ہے ۔اگر جاری رکھتی ہے تو اس کے لیئے کیا پروگرام تشکیل دیتی ہے اگر وہ بند کر دیتی ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں تو اس کے متعلق عوام کو مطلع کیا جا نا چا ہیئے ۔
فی الحال مو جو دہ حکومت کا امتحان عظیم یہ ہے کہ اس کی ٹیم وفاق اور صوبوں میں کیا کر دار دکھاتی ہے؟عوام کو اِن سے توقعات گزشتہ حکو متوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
دوسرا نکتہ خود انحصاری اور سادگی کی پالیسی ہے ۔بد قسمتی سے ایسی پالیسی گزشتہ حکو متوں میں کہیں دکھائی نہیں دی۔انہوں نے اعلان تو کیے لیکن ان پہ پورا نہ اتریں۔جناب عمران حان صاحب نے بھی پرو ٹو کول نہ لینے کا اعلان کیااور اپنی کا بینہ کو بھی اس سے منع کیا ہے ۔اب وقت فیصلہ کر ے گا کہ وہ مجبوریو ں کے سامنے مجبور ہو تے ہیں یا اپنے وعدے پہ قائم رہتے ہیں۔
عمران خان صاحب نے وزیر اعظم ہاؤس میں بھی نہ رہنے کا اعلان کیا ہے ۔مسئلہ یہ نہیں ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ سادگی اور قناعت کی عادت اختیار نہیں کی جاتی اگر گورنر ہاؤس،وزیر اعلی ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کو استعمال نہیں کیا جا تا اور اخراجات ان سے بھی بڑھ جاتے ہیں تو پھر ان میں رہائش اختیار نہ کر نے کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔اِن میں رہائش اختیار کی جائے اور اخراجات کو کنٹرول کیا جائے یہ سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔فی الحال فوج ظفر موج کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اس میں وقت کے ساتھ ہی کمی لائی جا سکتی ہے ۔
تیسرا نکتہ سماجی ارتقاء کا ہے ہمیں بحیثیت عوام اس بات کو سمجھنا چا ہیئے سیاست دان عوامی اجتماع میں بلند بانگ دعوے کر تے رہتے ہیں ہمیں چا ہیئے کہ ہم انہیں ان کے دعوے یاد کراتے رہیں لیکن وعدے یکدم پورے نہیں ہوتے ۔یورپ اور امریکہ کی مثالیں صرف لو گو ں کو خواب بیچنے کے لیئے دی جاتی ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یورپ اورامریکہ کو اس ترقی کے مقام تک پہنچتے ہوئے دو تین صدیاں لگی ہے۔ارتقائی عوامل کو کبھی بھو لنا نہیں چا ہیئے ۔معاشرے ارتقائی عمل سے آگے بڑھتے ہیں۔
آئین ،قانون اور عوام کی با لا دستی کا سفر ایک دن کا سفر نہیں ہے ۔اس کیلئے پُر امن انداز میں کوشش جاری رکھنی چا ہیئے ۔یہ تین نکات ہیں اگر حکومت اور عوام انہیں مدّ نظر رکھیں تو تعلیم ،صحت ،کرپشن اور آبادی جیسے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...