نئی حکومت اور سلامتی پالیسی کے چیلنجز

164

پاکستان تحریک انصاف ماضی کی حکومتوں کی نسبت قدرے پرامن ماحول میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ گذشتہ حکومتوں کو دہشت گرد حملوں کا خوف تھا مگر اس کے باوجود بھی نئی حکومت کو دہشت گردی اور تشدد پسندانہ سوچ کے تدارک کے لیے سنگین اور حساس چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ نئی حکومت کو داخلی سلامتی کے حوالے سے واضح گائیڈ لائن تو ملے گی جو قومی اداروں ،جن میں نیکٹا بھی شامل ہے، نے مرتب کی ہے مگر تحریک انصاف کا اصل امتحان ان پالیسیوں پر عملدرآمد ہو گا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہو گی کہ تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو حکمت عملی وضع کی ہے، اس کو قومی اداروں کی پالیسی سے کس حد تک ہم آہنگ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے انسداد کے لیے چہار جہتی حکمت عملی مرتب کی ہے جسےای ایس 4کہا جاتا ہے جس کی پہلی جہت فعال اور غیر فعال دہشت گردوں کونمایاں کرنا اور موخر الذکر کے دل جیتنا ہے ۔دوسرا مرحلہ قومی ایکشن پلان کو عالمی معاہدوں کی روشنی میں لاگوکرنا ہے۔ تحریک انصاف کی دہشت گردی کی حکمت عملی میں تیسرا مرحلہ سخت گیر دہشت گردوں کو معتدل حلقوں سےالگ کرنا اور چوتھا عوام الناس میں دہشت گردی کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لیے متبادل نظریاتی بیانیہ کوفروغ دینا ہے۔ قومی داخلی سلامتی کی پالیسیوں کے حوالے سے بیانیہ کے بارے میں دارالحکومت اسلام آباد میں حکومتی اور غیر حکومتی حلقوں میں اکثر گونج سنائی دیتی رہی ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں بالخصوص مالی معاونین کے درمیان تعلق ختم کرنے کی حکمت عملی کا مظاہرہ قومی سلامتی کے ادارے کراچی میں کامیابی سے کر چکے ہیں، البتہ اسٹیبلشمنٹ اس حکمت عملی کوسندھ میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف بھی استعمال کر چکی ہے۔ اب جب کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا ملک سے صفایا کر چکی ہیں اور بچے کھچے دہشت گرد افغانستان فرار ہو چکے ہیں۔ اب نئی حکومت کے لیے اصل مسئلہ اندرون ملک اور بیرون ملک دہشت گردوں کے رابطے ختم کرنا ہو گا ۔ باوجود اس کے کہ تحریک انصاف نے اپنے منشور میں نیکٹا کی تنظیم کے لیے اصلاحات کا وعدہ کیا ہے تاکہ اس حوالے سے افسر شاہی کی کھینچا تانی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ عملی طور پر اس قسم کے اقدامات اس قدر آسان کام نہیں کیونکہ روایتی طور پر سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے یہ باریک لکیر تصور کی جاتی ہے۔ اس طرح نیشنل ایکشن پلان کی کچھ شقوں پر عملدرآمد بھی مسائل کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا کیونکہ اس میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کو چیک کرنا بھی شامل ہے، جس میں کالعدم تنظیموں کے وسائل ضبط کرنا، نفرت انگیز مواد پر پابندی ،ملک میں فرقہ وارانہ سرگرمیوں سے نمٹنے ایسے حساس معاملا ت شامل ہیں، جو پاکستان کی دہشت گردی کے چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں ۔گزشتہ دو دھائیوں سے ریاست کالعدم تنظیموں کے معاملات سلجھانے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتی ہے اور یہ کالعدم تنظیمیں اپنے سیاسی ونگز کے ذریعے عوام میں اپنی رسائی کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔ ماضی میں یہ مسئلہ سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنتا رہا ہے۔مستقبل میں تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کے لیے فوجی ایکشن پلان کے معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنا اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے سینگ پھنسانے سے بچنا ہی اصل امتحان ہو گا۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں بنیادی مسئلہ مرکزی سطح پر کسی قسم کے قابل عمل میکنزم کا نہ ہونا ہے۔اس حوالے سے سابق حکومتوں نے مانیٹرنگ کے جو لاتعداد میکنزم بنائے وہ باہم متصادم ہیں۔اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں  نے دہشت گردی کے خلاف براہ راست اقدامات سے بھی کئی گنا وسائل نیشنل ایکشن پلان کی مانیٹرنگ پر صرف کر دیے ہیں۔ نئی حکومت کے لیے ایک مسئلہ نیشنل ایکشن پلان پر شفاف طریقے سے عملدرآمد ہو گا۔ جہاں تک متبادل بیانیہ کا تعلق ہے تو گذشتہ حکومت اس حوالے سے دو دستاویز مرتب کر چکی ہے پہلا ’’پیغام پاکستان‘‘ ہے جو دراصل مختلف مسالک کے علما کے دہشت گردی کے حوالے سے اجتماعی فتوؤں پر مشتمل ہے۔ یہ دستاویز جاری ہو چکی ہے اور سکیورٹی ادارے اس حوالے سے اس  کو تعلیمی اداروں بالخصوص مدارس کا سلیبس بنانے میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ دوسری دستاویز قومی متبادل بیانیہ کی پالیسی تھی جو سوسائٹی کے مختلف طبقات، دفاعی ماہرین اور مذہبی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد مرتب کی گئی تھی۔ نیکٹا نے یہ دستاویز تیار کی تھی اور وزارت داخلہ میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان  کو پیش بھی کی گئی تھی۔ مگر اس کے بعد اس اہم قومی نوعیت کی دستاویز کے ساتھ کیا ہوا ؟یہ کسی کو معلوم نہیں کیونکہ یہ دستاویز کابینہ میں بھی پیش نہیں  کی جا سکی ۔ البتہ یہ دستاویز جامع انداز سے دہشت گردی سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی تھی۔ پی ٹی آئی ان دونوں دستاویزات کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہترین طریقہ سے استعمال کر سکتی ہے۔ نئی حکومت کو وراثت میں داخلی قومی سلامتی کی پالیسی بھی ملے گی جس کا زیادہ زور سکیورٹی سیکٹر میں اصلاحات پر ہے۔ پی ٹی آئی کا منشور بھی ان دستاویزات کے ہم آہنگ ہے۔ سکیورٹی سیکٹر میں انقلابی اصلاحات پولیس کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لا ئے بغیر ممکن نہیں ۔

پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا وعدہ کیا ہے اور خیبر پختونخواہ میں پولیس ایکٹ 1997کے نفاذ کی صورت میں عملی طور پر ایسا کیا بھی جا چکا ہے۔ اب تحریک انصاف باقی صوبوں میں بھی پیشہ ور اور اہل آئی جی حضرات کی تقرریاں کر کے ایسا کر سکتی ہے۔ ابھی تو یہ واضح نہیں ہے کہ پی ٹی آئی حکومت پولیس میں اوپر سے نیچے تک اصلاحات کو عملی جامہ کیسے پہنائے گی اور یہ کہ حکومت کو کس طرح تمام صوبوں میں دل جمعی سے کام کرنے والے پولیس کے سربراہ میسر ہوں گے۔ مسئلہ پولیس کو غیر سیاسی کرنے کے ساتھ متبادل سکیورٹی نظام مرتب کرنے کا بھی ہے ہر صوبے میں دہشت گردی کے انسداد کے لیے محکمہ پہلے ہی موجود ہے۔ پنجاب میں ایلیٹ فورس ہے جو 1997ء میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ مگر صوبے میں 2014ء میں ایک نئی فورس تشکیل دی گئی۔ پولیس اور دیگر سول اداروں کی موجودگی کے باوجود بھی اکثر ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پیرا ملٹری فورسز کو بلایا جاتا ہے جس سے سول قوانین میں دخل اندازی ہوتی ہے۔ اس طرح پیرا ملٹری فورسز کی صلاحیت کو بہتر اور اخلاقی برتری تو قائم ہو جاتی ہے مگر پولیس مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ پولیس حکام یہ بھی بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ پیرا ملٹری فورسز کی موجودگی میں اپنا کام انجام دینے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے منشور میں اس حوالے سے ایک جامع قومی سلامتی کی تنظیم این ایس او کی تعمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔جس کے بعد نیکٹا کا کام محض دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں میں باہمی تعاون بڑھانا رہ جائے گا۔ نیکٹا میں مشترکہ انٹیلی جنس کے شعبہ کے قیام کا کام بھی کافی عرصہ سے التوا کا شکار ہے۔ جب یہ شعبہ قائم ہو جائے گا تو سول انسداد دہشت گردی کا ادارہ بھی عسکری اداروں کے زیر اثر اور نگرانی میں فعال ہو جائے گا۔

نئی حکومت کے لیے ایک اور بنیادی چیلنج احتساب کا نظام متعارف کروانا ہو گا جس میں تمام ادارے میرٹ اور شفافیت کو ترجیح دیں۔ ماہرین کو امید ہے کہ ان اقدامات سے عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہوجائے گا۔ ان ایشوز پر توجہ دے کر حکومت قومی اداروں کی ساکھ بحال کرنے کے ساتھ ان کی صلاحیت اور استعداد کار میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...