چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

445

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

یہ شعرہے تو جناب اختر انصاری  کا لیکن عذاب ہمارے لیے بنا  ہوا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ  ہر سال اگست میں یہ شعربہت یاد آتا ہے۔ اتنا کہ دھڑکا لگنے لگتا ہے کہ یہ ہماری دعا بن کر قبول نہ ہو جائے۔ ہر سال پاکستان کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ اس لیے بنا اور اس لیے نہیں بنا۔ سال بہ سال نئی کہانیاں سننے میں آتی ہیں۔ ماضی کی یادیں دہرائی جاتی ہیں۔ کہانی کی کہانیاں بنتی جا رہی ہیں۔ پہلے پہلے کہانی سیدھی سادی ہوتی تھی۔ پاکستان بنانے والے اپنے حافظے سے سناتے تھے۔ کہانی مختصر ہوتی تھی۔ زیادہ بات مستقبل کی ہوتی تھی تاکہ سب کو یاد رہے کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ ان لوگوں کی تعداد کم ہوتی گئی اور کہانی  ان کے ہاتھ  آئی جنہوں نے پاکستان بنتے تو دیکھا تھا،لیکن پاکستان بنانے والوں میں سے بھی نہیں تھے۔

آپ بیتی میں مستقبل نہیں ہوتا، لوگوں نے داستان گوئی کی طرز اپنائی۔ کہانی داستان بنتی گئی۔ ماضی کے سائے لمبے ہوتے گئے ۔ داستان گو رخصت ہوے تو فرقہ آئیڈیولوجیہ کے ’ہم بھی دیکھیں گے‘ گلوکار اورفرقہ ملامتیہ کے’ ہم نہ کہتے تھے‘ نجومی آگئے۔ بات مستقبل کی کرتے لیکن حوالے ماضی کے ہوتے۔ لسی کی طرح  اس ماضی  میں پانی کی مقدار بڑھتی گئی۔ جھاگ تو بہت ہوتی لیکن کچھ تو پانی کی فراوانی اور کچھ صحت کے تقاضوں کی وجہ سے لسی کی مانگ میں اضافہ ہوتا گیا اور ہرسال ماضی کا حال پتلا ہوتا گیا۔ ۔ لسی کے شوقین قارئین سے معذرت لیکن جب خالص دودھ ہضم نہ ہو تو پانی ملانا پڑتا ہے۔ جب ماضی کا حال  بہت ہی پتلا ہوگیا تو فرقہ انصافیہ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کی ٹھانی۔ دودھ  اور پانی تو الگ ہوگئے لیکن ماضی اور بھی بوجھل ہو گیا۔ یاد ماضی میں غمزدہ کی بھوک قابو میں نہیں رہتی۔ ہر چیز ہڑپ کرنے کو جی چاہتا ہے۔کاہلی بڑھ  جاتی ہے۔ دھرنوں، مارچوں اور مظاہروں سے الجھن ہوتی ہے۔ بیٹھے بیٹھے احتجاج کو جی چاہتا ہے۔ ماضی  بہت یاد آتا ہے لیکن یاد ماضی کچھ  نیا کرنے نہیں دیتی۔

اس برس تو ماضی گھنے بادلوں کی طرح برس رہا ہے اتنا کہ یاد ماضی عذاب لگتی ہے۔ اس ڈر سے جان جاتی ہے کہ ماضی سے آزادی کے لئے ہم حافظہ چھن جانے کی دعا نہ مانگ بیٹھیں۔

ہمیں اختر انصاری پر شدید غصہ ہے کہ یہ سارا کیا دھرا ان کے شعر کا ہے۔ ساری مایوسی اس کی پھیلائی ہے۔ ان کے اس  شعر کی وجہ سے  لوگ یاد ماضی کے لطف سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ اب تو یہ حالت ہے کہ اخترانصاری کی طرح جنت کے لیے خود کشی کی دعا مانگتے ہیں۔ تاہم ہمیں اپنی غصے کی کہانی میں جھول محسوس ہوتا تھا۔بھلا ہو عامر رانا کا کہ ان کے بقول سٹوری اور کہانی میں فرق ہوتا ہے۔ ہم نے سوچا بہت ہو گیا اب ہم اس کم بخت شعر کی کھوج لگائیں گے۔ ہو سکتا ہے اسٹوری کی کہانی کچھ اور ہو۔ اگر آپ ابھی تک ہمارا یہ فن پارہ پڑھ  رہے ہیں تو ہم آپ کی طلب صادق کی داد دیتے ہیں۔ آپ خود کو بھی اس کھوج میں شامل سمجھیے۔

ہاں تو معمہ یہ ہے کہ اس  بے چارے اختر انصاری پریہ کیا افتاد پڑی کہ دعا کی صورت میں  حافظہ چھننے کی بد دعا مانگی۔  انتظار کر لیتے تو بڑھاپے میں حافظہ ویسے ہی ساتھ چھوڑ  دیتا۔  ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ جناب انصاری غزل کے شاعر تھے۔ غزل  ویسے ہی شاعری کی وہ صنف ہے جس میں  شاعر ہر شعر کے بعد بھول جاتا ہے کہ وہ پہلے کیا کہہ رہا تھا یوں وہ  کوئی اور کہانی سنانے لگتا ہے۔ یہی نہیں وہ ہر شعر میں نئی کہانی چھیڑ دیتا ہے۔ اکثر شاعر تو مقطع میں اپنا نام  پاس ورڈ کے طور پر شامل کر دیتے ہیں، ورنہ یہ بھی یاد نہ رہے کہ غزل اسی کی ہے۔ اختر انصاری مقطع میں اپنا نام ڈاالنا نہیں بھولے۔

ہے بڑا شغل زندگی اختر

پوچھتے کیا ہو مشغلہ میرا

اس لیے اس غزل میں اشعار کی بے ربطی غزل کا صنفی تقاضا تو نہیں ہو سکتا۔ مقطع سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ  یاد ماضی سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے تھے۔ کاہلی کی زندگی گذار رہے تھے۔ اس لیے یہ تو واضح ہے کہ وہ مقطع لکھتے تک یاد ماضی کو عذاب نہیں سمجھتے تھے۔  تاہم مطلع میں بے ربطی سے گمان غالب ہے کہ ان کا حافظہ  چھننے کا عمل شروع ہو چکا ہوگا تاہم شعر سے پتا نہیں چلتا کہ ان کو اس بات کا احساس تھا۔ ارشاد ہوا

سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا

اف یہ بد مست میکدہ میرا

سینے کو مے کدہ  سمجھنے سے  جہاں ان کے حافظہ کی شکست و ریخت کا پتا چلتا ہے وہاں اس کے اسباب کا علم بھی ہوتا ہے۔  ان استعاروں سے ان کے لبرل خیالات اور فکری فحاشی میں دلچسپیوں کے آغاز کا اشارا ملتا ہے۔  خون کو مے سمجھنے سے  تو ان کے سرخے ہونے میں شک نہیں رہتا۔ ہمیں یقین واثق ہے کہ یہ  بے ربطی ملامتی ہے۔ جس میں ان کا حال ماضی پر شرمندہ اور افسردہ بلکہ جھنجلایا دکھائی دیتا ہے۔

اب ہمیں اس شخص کی تلاش تھی جس کی وجہ سے جناب   اختر انصاری کی یہ حالت ہوئی ہوگی۔ کھوج رنگ لائی۔  ہم یقین سے تو نہیں کہہ سکتے لیکن شواہد یہی کہتے ہیں کہ یہ شعرابتدا سے غزل کا حصہ نہیں تھا۔   یہ فی البدیہ ہے اور غزل خواندگی کے درمیان بے ساختہ کہا گیا۔ یہ سارے شواہد جناب دلاورفگارکی ایک غزل سے ملے۔ یوں جناب اختر انصاری کی افتاد کا دوسرا رخ دیکھنے کو ملا۔  جناب دلفگار کے کلام سے معلوم ہوا کہ یہ افتاد کسی مشاعرے کی یاد سے وابستہ ہے جہاں دلاور دلفگار کا اختر انصاری سے سامنا بلکہ آمنا سامنا ہوا ہوگا۔

آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کہانی ہمارے حافظے کی درفطنی ہے اور اختر انصاری  کا دلفگار سےآمنا سامنا ممکن نہیں تو ہمیں بھی اصرار نہیں۔ حافظہ جب ساتھ نہیں دے سکتا تو شیخ گوگل کی طرح بہت سے متبادل تُکّے لگاتا ہے۔ ہمارے دماغ نے  بھی شاید تکہ لگا یا ہو لیکن صفحہ چھوڑ کے نہ جائیے۔ اسٹوری اب کہانی کی طرف چل نکلی ہے۔

جناب دلفگار کی غزل سے نہ صرف یہ پتا چلتا ہے کہ وہ اس مشاعرے میں موجود تھے جہاں جناب انصاری نے یہ غزل پڑھی بلکہ جب مطلع ارشاد ہوا تو یہ آگے کرسیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ ورنہ وہ یہ شعر نہ کہتے۔

غزل پڑھنا جو منہ میں پان رکھ کر

مرے کپڑوں پہ گل کاری نہ کرنا

یہ محض اتفاق نہیں کہ اس شعر میں اور اختر انصاری کے مطلع میں ایک ہی مضمون باندھا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جناب دلفگار سینے میں خون کو پان کی گلکاری سمجھے  اور مطلع کا پہلا مصرعہ سنتے ہی شور مچا دیا۔ شعر کے تیور بتا رہے ہیں  کہ  جناب گل کاری سے بچ نہیں پائے ہوں گے اور خوب توتکار ہوئی ہوگی۔ اس کا نقشہ ذہن میں یوں آتا ہے کہ جناب دلاورفگار اپنے کپڑوں پر گلکاری دیکھ کر اور مطلع میں سینہ، خون، مےکدہ اور بد مستی کا ذکر سن کر سمجھ گئے ہوں گے کہ اختر انصاری نے ان کی غیرت کو للکارا ہے۔ ان کا  یہ شعر ترکی بہ ترکی کی برجستہ مثال ہے

ادب کو جنس بازاری نہ کرنا

غزل کے ساتھ بدکاری نہ کرنا

غزل کے ساتھ بدکاری کا الزام  اختر کو دلفگار کرگیا ہوگا۔  وہ اپنی صفائی میں یہ شعر کہہ کر بیٹھ گئے ہوں گے کہ

نارسائی پہ ناز ہے جس کو

ہائے وہ شوق نا رسا میرا

یہ سن کر کہ وہ تو ترقی پسند نا رسا پارسا ہیں۔ بدکاری کے مرتکب کیسے ہو سکتے ہیں اور وہ بھی غزل کے ساتھ! دلاور فگار نے نے بھنّا کر بد دعا دی ہوگی

جو اختر ہیں یہاں ان میں خدایا

کسی کو اختر انصاری نہ کرنا

ہم یقین سے نہیں کہ رہے،  لیکن ان کے اگلے شعر سے گمان ہوتا ہے کہ اس تو تو میں میں سے اختر انصاری کا دل بہت دکھا ہوگا۔

دل غم دیدہ پر خدا کی مار

سینہ آہوں سے چھل گیا میرا

اور تبھی انہوں نے خدا سے التجا کی ہوگی کہ

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ہمیں خوشی ہے کہ آپ ابھی تک ہمارا یہ فن پارہ پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ یہ شعر اور اس کی شرح تو بطور مطلع پیش کی گئی ہے۔ امید ہے کہ آپ مقطع  کی سخن گسترانہ بات سننے تک ساتھ رہیں گے۔

بات یہ  ہو رہی تھی ہے کہ ہر سال اگست میں  ہمیں ماضی بہت یاد دلایا جاتا ہے۔ پاکستانی ہونے کے ناتے ہمیں نہ تو تاریخ سے کوئی لینا دینا رہا نہ حساب کتاب میں دلچسپی رہی۔ حافظے کے لیے موبائل فون اور شیخ گوگل ہیں اور حساب کے لیے کیلکو لیٹر۔ حافظے کی عادت نہیں رہی۔ یاد ماضی اس وقت عذاب بن جاتی ہے جب ماضی کا نام لے کر حال اور مستقبل سے ڈرایا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ حال ،ماضی کی یاد دلا کر چِڑا رہا ہے۔ ہر مرتبہ ہم سوچتے کاش حافظہ ساتھ  نہ ہوتا۔  نہ چھینے جانے کی دعا کی ضرورت ہوتی نہ چھن جانے کا خوف ۔ نہ یاد ماضی  عذاب ہوتا نہ حال پر ہنسی آتی۔ بلکہ ہنسی یوں لا پتا ہوتی کہ لگتا کسی بات پر نہیں آتی۔ تیرہ سال بعد کہیں عزیز ہم وطنوں سے خطاب ہوتا ۔ ضرورت پڑتی تو صرف  افتتا ح کرکے تختی بدل دی جاتی تھی۔

اگست میں  ماضی کی یادیں مون سون کی بارش کی طرح برستی ہیں۔ اور ذہنوں میں طوفانی ریلے کی طرح  تباہی مچاتی ہیں۔ سب کچھ بہا لے جاتی ہیں۔  اگلی اگست تک سکون رہتا ہے۔ یوں ستر اگستوں میں بہت سی یادیں ریلوں میں بہ گئیں۔

اس اگست میں ہمیں اختر انصاری بہت زیادہ یاد آرہے ہیں کہ  اب پاکستان  ماشاء اللہ ستر سال کا ہوجائےگا۔  ماضی کا حال اسی طرح پتلا ہے۔ یادیں سیلاب کی طرح آتی ہیں اور  ماضی کی  وہ کہانیاں جو حافظے کے کونے کھدروں میں بچا کر رکھی ہوتی ہیں بہا لے جاتی ہیں، کنکر، پتھر، ریت چھوڑ جاتی ہییں۔ ماضی موہن جو ڈرو کی طرح ماحولیات کی ان ستیزہ کاریوں کا شاکی ہے۔ دھڑکا یہ ہے کہ  ستر سال کی عمر میں حافظے نے جواب  دے دیا تو اختر انصاری کی دعا تو قبول ہو جائے گی۔ لیکن ہمارا کیا ہوگا۔ سنا ہے حافظے سے  ہی قومیں زندہ رہتی ہیں۔

یاد ماضی کے حوالے سے جناب اختر انصاری کے بارے میں  تو ہماری کھوج ختم ہوئی۔ لیکن ہمارے سامنے اب بھی  وہی تین سوال ہیں جن کے جواب ہر کہانی میں شہزادے کو تلاش کرنے ہوتے تھے۔

  1. ۔ ماضی کے اس دیو کی تلاش جس نے  ہماری مستقبل کی شہزادی کو قید  کر رکھا ہے
  2. ۔ دیو کی جان کس چیز میں ہے؟ یہ جان ہمارے حافظے کی ہی دی ہوئی تو نہیں؟
  3. ۔ چوتھی کھونٹ کیا ہے؟ اس طرف جانے سے منع کس نے کیا ہے؟ کیوں کیا ہے؟ چوتھی کھونٹ میں جا کر لوگ پتھر کے کیوں ہو جاتے ہیں؟  کہیں چوتھی کھونٹ  اس ماضی کا استعارہ تو نہیں جو ہر انسانی دماغ میں پتھر کے مقبرے میں مدفون ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...