میں چاند اور ستاروں کے گیت گاتا رہا

364

 

25 جولائی 2018 کو انتخابات کے نام پہ جو نتیجہ برآمد ہوا وہ متوقع بلکہ طے شدہ تھا البتہ حیرت انگیر بات صرف یہ ہے کہ جس طرح کیا گیا ہے اس کی توقع نہیں تھی ۔ شائد یہ اخلاقی اصو ل پسندی اس طرح کے اقدامات کا پیشگی اندازہ لگانے کی راہ میں آڑے آتی رہی ہوگی ۔ بہرطور انتخابی عمل میں  الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کے متعلق ان تمام مثالی  تصورات کو رد کردیا ہے جو غیر جانبدار شفاف انتخابات کے انعقاد کے تقاضو ں کی تکمیل کے لئے ان اداروں سے وابستہ کئے جاتے رہے ہیں. 1977 کے بعد حالیہ انتخابی نتائج کو ایک کے سوا ملک کی سبھی چھوٹی بڑی جماعتوں نے مسترد کردیا ہے ۔ وہ کھلی دھاندلی اور جارحانہ مداخلت کے الزامات عائد کررہی ہیں ۔ جبکہ قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے سربراہ عمران خان نے قبل از حلف اپنی فاتحانہ پالیسی تقریر بھی نشر کر دی ہے جس کے بیشتر نکات نواز حکومت سے مماثل بلکہ اس کے بیانئے کی نقل ہیں ۔ جبکہ منقسم شدہ ایوان میں ابھی تک حکومت سازی کے لئے درکار عددی قوت کسی کے پاس  بھی نہیں  ،  پی ٹی آئی سب سے آگے ضرور ہے لیکن کامیابی کی لکیر سے بہر حال پیچھے ہے ۔ تین بڑی جماعتوں  کا کردار مرکزی ہے ۔ لیکن چھوٹی عددی جماعتوں کے ہاتھوں میں وہ تاج  ہے جسے وہ کسی کے سر پربھی سجا سکتی ہیں ۔  ایم کیو ایم کے انکار کے بعد حکومت بنی ہوئی مشکل نظر آتی ہے ۔ اس صورت میں مسلم لیگ سے محب الوطن گروپ نکالا جائے گا ۔ اے پی سی نے انتخابی نتائج مسترد  کر دیئے مگر اپنے مسترد شدہ نتائج سے حاصل ہونے والے  منافع سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔  شائد مسلم لیگ (شہباز) اور پی پی پی  میسر مواقع کھونے اور دھاندلی کے کارپردازوں کے  خلاف منظم جدوجہد سے گریز پائی پر مجبور ہوں  لیکن وہ قومی اسمبلی میں اگر حز ب اختلاف کی  جانب مشترکہ پیش رفت  کریں تو سینٹ میں حکومت کے لئے مشکلات ہو جائیں گی ۔  عددی پوزیشن کے اعتبار سے دو  گروپ منظم ہو سکتے تھے ۔ پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی ،  مسلم لیگ ، پی پی پی اور اس کے ہم  خیال ، دونوں کی  حکومتیں عددی طور پر کمزور اور مسابقتی اعتبار سے مجہول ہوں گی ۔

پی پی  نے بالواسطہ طور پر متبادل گروہ بندی  کا حصہ بننے سے  انکار کرتے ہوئے بہت ہی اعلیٰ اخلاقی سیاسی موقف کا سہارا لیا ہے جسے اصول پسندی سمجھنا  غلط ہوگا کیونکہ یہ موقف اس جبر کا نتیجہ ہے  جو ایک جانب سندھ میں حکومت بنانے کی صورت ابھرا ہے اور دوسر ی طرف ان کی ہمشیرہ اور دیگر ساتھیو ں کے خلاف از سر نو ااور کچھ نئے مقدمات کے ذریعے ابھارا گیا ہے ۔  اسی طر ح مسلم لیگ بھی شائد پنجاب میں حکومت ملنے کی امید پر ایوان کج کلاں کے آخری فیصلے کی منتظر رہے گی ۔مگر اس نے  قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے بینچوں پر  بیٹھنے کا قبل از وقت اعلان کرکے تخت لاہور سے بھی دستبرداری  و  محرومی کا رستہ چن لیا ہے ۔  اگر وہ  قومی اسمبلی میں حلف اٹھانے کے فیصلے کو چند روز کے لئے  ملتوی رکھتی تو ممکن ہے  کہ فیصلہ سازوں کو  اپنی بچھائی ہو ئی بساط میں کچھ رد و بدل  کرنا پڑتا ۔ یہ قیاس آرائی بھی کچھ اصولی بنیا د پر استوار کی گئی ہے  جسے میں شعوری طو ر پر نظر انداز کررہا ہوں  کہ دریں حالات کیا کے پی اور مرکز میں پی ٹی آئی جبکہ جبکہ پنجاب کی راجدھانی مسلم لیگ کو دے کر عمران خان کو مفلوج وزیر اعظم بنانا یا بننا قابل قبول ہوتا ؟

ملکی سطح پر اب جو بحث چل رہی ہے اس کے دو نمایا ں پہلو ہیں ۔

انتخابات میں دھاندلی کے متعلق اکثر   سیاسی حلقوں میں  اتفاق رائے ہے ۔ جبکہ بعض حلقے جو  دھاندلی کے عمل کو تسلیم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں  گزشتہ انتخابات کو بھی دھاندلی زدہ قرار دے کر  حالیہ انتخابات میں دھاندلی کو باجواز بنا رہے ہیں ۔ گویا وہ اقرار کرتے ہیں کہ یہاں اقتدار کی منتقلی کے لئے ہونے والے عام انتخابات میں  ووٹ کے کردار کے برعکس صاحبان اختیار کے فیصلے کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ یہی ہمیشہ ماضی سے ہوتا رہا  ہے ۔ چنانچہ اس بار کی حکمت عملی ( دھاندلی )  کو بھی ماضی کی طرح قبول کرلیا جائے ۔ اس بحث میں جمہوریت کے حقیقی عمل کو پس پشت ڈالنے اور ناروا عمل کو قبول کرنے کی ترغیب دراصل صدیوں کی ذہنی غلامی  پر مبنی اطاعت گزار طرز عمل کی غمازی کرتی ہے ۔

جبکہ متحرک اور بدلتی دنیا میں رہتے ہوئے ہمارا ردعمل آئین کے تقاضوں کے عین مطابق ہونا چاہیئے تھا ۔ جو انتخابی نتائج کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے سے پہلے بڑے ٹھوس موثر اور پر از یقین  انداز میں اطمینان دلاتا ہے کہ ان کی رائے اور حق حکمرانی یا اپنے نمائندے منتخب کرنے کے   عمل میں قطعی طور پر کسی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت نہیں ہوگی نہ ہی سرکاری سطح پر اور نہ ہی غیر سرکاری سطح پر ۔

چنانچہ میرا استدلال یہ ہے کہ ا گر انتخابات میں عوامی رائے کو بدلا گیا ہے  یا اس پر اندازی کی گئی ہے  یا انتخابات  کے نتائج مرتب کرتے ہوئے جانبداری سے کام لیا گیا ہے تو پھر یہ کھلی آئین شکنی ہے  اس کو مسترد کرتے ہوئے اس کی ساکھ کو قبو ل کرنا ، مصلحت پسندی  وسیاسی  مفاد پرستی سے سوا کچھ نہیں ہے ۔ بلکہ اس طرز عمل کو اپنانے کے بعد آئین پسندی  کے مثالیت پرست دعوؤں سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا ۔

دھاندلی کے خلاف احتجاج سے گریز پائی کا درس دینے والے  بد امنی اور خلفشار سے عوا م کو خوفزدہ کر رہے ہیں ۔ اپنی دلیل میں  وہ دبے لفظوں میں 1977 کا حوالہ دیتے ہوئے بھیانک قسم کی آئین شکنی کا حوالہ دیتے ہیں تو کیا وہ تسلیم کرتے ہیں کہ طاقت آئین سے ماورا ء ہے ؟ جو ایک قدم آگے بھی بڑھ سکتی ہے ؟ جبکہ ملکی آئین اس کی اجازت نہیں دیتا تو پھر ہم کس خوف سے سہم کر اپنے ووٹ ، شہری و آئینی حقوق  و حق حکمرانی چرائے جانے پر خاموشی سے سر تسلیم خم کرلیں ؟

مجھے خدشہ ہے کہ اگر حالیہ انتخابی  نتائج کو بغیر مزاحمت کے قبول کرلیا گیا تو آئندہ انتخابات اس سے بھی زیادہ غیر شفاف اور جانبدارانہ  ہوں گے ۔ سیاسی مزاحمت کی موثر حکمت عملی وضع کی جائے جو دھاندلی زدہ  پارلیمان کی جگہ عوامی رائے پر مبنی حکومت بنائے ۔ ملکی سلامتی و استحکام کے تقاضے خلفشار و  بد امنی سے ہم آہنگ نہیں تو عوامی رائے کو بدلنے یا چرانے والے مذکورہ اقدامات بھی تو  ارفع مقاصد کے قطعی منافی ہیں ۔

مجھے شدت پسند نہ سمجھا جائے بلکہ میرے خیالات کو آئین پسند شہری  کی راسخ العقیدگی کا مظہر خیا ل کیا جائے۔ میرا یہ موقف واضح رہا ہے کہ آئین ہی پاکستان کی جغرافیائی وحدت اور  سالمیت کا محافظ اور تشکیل کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اس میں خط امتیاز خطرناک ہے ۔

مرکز اور پنجاب میں حکومت کس جماعت کی بنتی ہے یہ سوال اہم نہیں رہا ۔ سنجیدہ نکتہ یہ ہے کہ  حالیہ انتخابات کے نتائج اور قبل از انتخاب اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے طے کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں معاشرہ  سیاسی طور پر کس قدر متحد ہوا ہے   یا پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں گہرائی آئی ہے؟تما م مذکورہ اقدامات نے عوام  میں اپنی ریاست پر اعتماد مضبوط کیا ہے یا اس میں کمی  آئی ہے ؟نئی قائم ہونے والی حکومت  اور پارلیمان کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے ؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ  نئی حکومتوں کی مدت معیاد آئین میں درج عرصہ میں ہی رہیں گی یا حالات کے جبر میں انہیں قبل از وقت وسط المدتی انتخابات  کی طرف جانا پڑے گا اور  کیا حالیہ انتخابات ملک میں سیاسی استحکام کا  باعث بنے ہیں؟

میں نہیں سمجھتا کہ ملک سیاسی طور پر مستحکم پارلیمانی جمہوری عہد میں داخل ہوا ہے ۔ دریں حالات کیا عمران خان  صاحب  اپنی فاتحانہ تقریر میں بیان کردہ درست  اور قابل قبول خیالات کے مطابق درست سمت میں کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ سکیں گے ؟

شاعر نے تو کہہ دیا تھا ۔

؎ میں چاند اور ستارو ں کے گیت  گاتا رہا

میرے ہی گھر سے اندھیروں کے قافلے نہ گئے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...