25 جولائی۔۔۔الیکشن کا دن

138

صبح سے ہی فوج کے جوانوں نے ملک بھر میں پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر نظام سنبھال لیا تھا۔ اندر کس نے آنا ہے اور کوریج کی اجازت کسے دینی ہے، یہ سب فیصلے بھی ڈیوٹی پر موجود فوجی افسران ہی کرتے تھے۔ ڈیوٹی پر مامور ان جوانوں کا رویہ اچھا تھا۔ یہ بات چیت میں بہت محتاط تھے۔ پولنگ کا یہ عمل دن بھر بلا تعطل جاری رہا۔ البتہ کچھ پہلوؤں سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور نہ کیے جاسکے۔ الیکشن کمیشن کو متعدد شکایات موصول ہوئیں کہ میڈیا کے نمائندوں کوکوریج کی اجازت نہیں دی جارہی ، لیکن اس حوالے سے کوئی ازالہ نہ کیا جاسکا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیمرے پولنگ اسٹیشن کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ خلاف واقع بیان اس اعتبار سے بھی تھا کہ ماضی میں بھی کبھی میڈیا کوریج پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ اس بیان سے کمیشن کی ساکھ کواس طرح بھی نقصان پہنچا کہ متعدد پولنگ اسٹیشن پر میڈیا کو کیمروں سمیت اندر جانے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس حوالے سے ڈیوٹی پر مامور جوان اپنی دانست کے مطابق ہی فیصلہ کررہے تھے۔ الیکشن کمیشن اس سارے عمل میں محض تماشائی تھا اور انتخابی عمل پر اس انتخابی ادارے کا کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا تھا۔

پولنگ صبح آٹھ بجے شروع نہیں ہوسکی تھی۔ تحریک انصاف کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے اس عمل کی سست روی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وقت بڑھانے کی درخواست کی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا۔ تحریک انصاف کو سب شفاف نظر آرہا تھا جبکہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں مختلف مراحل پر سوالات اٹھا رہی تھیں۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے کئی گھنٹے بعد بھی نتائج جاری نہ کیے جاسکے جس سے یہ تحفظات مزید بڑھ گئے۔ اب کھل کر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تحریک انصاف کے علاوہ دیگر جماعتوں کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی جبکہ عمران خان اپنے ساتھیوں سمیت جشن کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔ الیکشن کمیشن نے رات گئے وضاحت کی کہ نادرہ کی طرف سے تیار کی گئی موبائل ایپ رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم  میں خرابی کی وجہ سے نتائج جاری نہیں کیے جاسکے۔ نادرہ ترجمان نے اس پریس کانفرنس سے پہلے اس خبر کی تردید کی تھی البتہ بعد میں خاموشی اختیار کرلی۔ چیف الیکشن کمیشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے پہلے نتیجے کا اعلان اگلی صبح  4 بجے کیا۔

تحریک انصاف کی فتح کا جشن ایسے وقت شروع ہو چکا تھا جب ابھی دیگر جماعتوں کے قائدین نتائج نہ ملنے کی شکایت کررہے تھے۔ یوں تمام امیداروں کے نتائج سے پہلے ہی تحریک انصاف کے ترجمان سیاسی جماعتوں کو نتائج تسلیم کرنے کا مشورہ بھی دے رہے تھے۔ اپنے ٹویٹ میں بلاول بھٹو نے کہا کئی گھنٹے گزر گئے لیکن  ان کا نتیجہ نہیں بتایا جارہا ہے۔ یہی صورتحال تمام ملک میں درپیش تھی۔

 

انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن کی بے بسی

الیکشن کمیشن صبح 8 بجے پولنگ شروع کرنے میں ناکام نظرآیا۔ دن بھرپولنگ کا عمل انتہائی سستی کا شکاررہا جس کے سدباب کے لیے الیکشن کمیشن کوئی اقدامات نہیں اٹھاسکا۔ الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت بڑھانے سے متعلق نوازشریف کی مسلم لیگ سمیت سیاسی جماعتوں کی درخواست مسترد کردی۔ الیکشن کمیشن میڈیا کوریج بھی یقینی  نہیں بناسکا۔ الیکشن کمیشن کی پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر کوئی عملداری نظر نہیں آئی۔ آرمی کے جوانوں کو پبلک ڈیلنگ کا ٹاسک بھی دے دیا گیا تھا جس کا وہ بہت کم تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پولیس کی مدد سے عوام کو اچھے انداز میں ہی ڈیل کیا۔ آرمی کے یہ جوان معذور، بوڑھے اور بیمار ووٹرز کی مدد کرتے نظر آئے۔ ان کی ایسی تصاویر بھی سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی تھیں۔ تاہم کچھ مقامات پر ان جوانوں کی اپنی بلٹ سے زیادہ بیلٹ پر نظرتھی۔ ان کی پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر موجودگی کے باوجود ایسی شکایات نہیں موصول ہوئیں کہ انہوں نے ووٹرز کویا انتخابی عملے کو کوئی ہدایات دی ہوں۔ ووٹرز کو موبائل فون پولنگ اسٹیشن کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ سیکیورٹی اہلکار تلاشی کے بعد ووٹر کو اندر جانے کی اجازت دیتے تھے۔

ووٹ گنتی کے عمل سے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں نے اس پر واویلا مچایا لیکن الیکشن کمیشن کوئی کردار ادا نہیں کرسکا اور نہ ہی اس حوالے سے تحقیقات کی کوئی  یقین دہانی کرائی گئی۔ گنتی کا یہ عمل انتہائی متنازع بنا۔ نتائج میں تاخیر نے رہی سہی کسر نکال دی۔ تحریک انصاف کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات کو غیر شفاف قراردیا۔ اس موقف کو آزادانہ کام کرنے والے آبزورز کی رپورٹس نے بھی تقویت پہنچائی۔ انتہائی محتاط رپورٹ جاری کرتے ہوئے غیرسرکاری تنظیموں کے اتحاد فافن نے کہا کہ 35 سے زائد حلقوں میں مسترد ہونے والے ووٹوں کی تعداد جیت کے مارجن والے ووٹوں کے فرق سے زیادہ ہے۔ یورپی یونین مشن کی دو آبزورو ٹیموں نے بھی بے قاعدگیوں پر کھل کر لکھا اور یہ قرار دیا کہ انتخابات سے قبل مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے خلاف ایسے اقدامات اٹھائے گئے جس سے ان انتخابات کی شفافیت پر اثر پڑا۔ اس آزادانہ مشن نے عدالتی اقدامات، کرپشن کے نام پر پکڑ دھکڑ اور دیگر اداروں کی طرف سے امیدواروں پر دباؤ کا ذکر بھی کیا۔ ایک خاص ادارے کے ترجمان میڈیا کو اپنی مرضی کی خبریں تجویز کررہے تھے جس سے اندازہورہا تھا کہ انتخابات کونتائج کے اعتبار سے شفافیت حاصل نہیں ہوسکی تو اس کی کوئی وجہ بھی تھی۔ ان کے مطابق قبل ازانتخابات کچھ جماعتوں کے رہنماوں پر خود کش حملے ہوئے اور انہیں مہم چلانے سے باز رکھنے سے متعلق خوف پھیلایا گیا۔ اس کے علاوہ شدت پسند مذہبی جماعتوں کا انتخابی عمل کا حصہ بننے اورخیبر پختونخواہ کے کچھ علاقوں میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے جیسے واقعات سے متعلق بھی مشن نے نشاندہی کی۔ یورپین مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بھی اعتراف کیا کہ ڈیوٹی پر مامور پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوجی اہلکارانتخابی عمل پر اثرانداز نہیں ہوئے۔ گہلر نے نتائج مرتب کرنے سے متعلق ہونے والی باقاعدگیوں کے بارے میں بتایا۔

الیکشن کمیشن کا رویہ شکوک و شبہات کو مزید تقویت دے رہا تھا۔ الیکشن کمیشن نےدوبارہ گنتی سے متعلق بھی امتیازی رویہ اختیار کیا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے امیدوران کے  جن حلقوں میں دوبارہ گنتی ہوئی وہاں سے مسلم لیگ نوازکے امیدوار  جیت گئے۔ کمیشن کے سربراہ نے سیاسی رہنماؤں سےملنے تک سے انکار کردیا۔اس کا بہتر حل الیکشن کمیشن نے یہ نکالا کہ اب دوبارہ گنتی سے متعلق تحریک انصاف کے امیدواران کی درخواستیں منظور کرلی جاتی ہیں، البتہ کمیشن نے مسلم   لیگ نوازسمیت دیگر جماعتوں کے لیے یہ سہولت بھی انکار میں بدل دی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہبازشریف کی بھی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستیں مسترد کردیں۔

انتخابات میں مبینہ دھاندلی اورسیاسی جماعتوں میں آئندہ کی حکمت عملی پر اختلافات

عمران خان کی تحریک انصاف کے علاوہ تمام ہی سیاسی جاعتوں نے انتخابات کو غیرشفاف اور بدترین دھاندلی زدہ قرار دیا۔ اس دفعہ براہ راست الزامات فوج اور آئی ایس آئی پر لگائے جارہے ہیں۔ یہ رہنما قبل ازوقت انتخابات دھاندلی سے متعلق بھی بات کرتے نظر آئے۔ انتخابات کے بعد جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پانچ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ کے طو پر پہلا مشترکہ  اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کے گھر اس اجلاس میں تحریک انصاف کے علاوہ تقریبا تمام ہی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا مدعو کیا گیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اس اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ دھاندلی والے انتخابات کے خلاف تحریک چلائی جائے گی، البتہ حلف اٹھانے سے متعلق تجویز پرمزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی سے اپنے رابطوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے اجلاس کو یہ تجویز دی کہ آصف علی زرداری سے اس معاملے میں تعاون کی امید نہ لگائی جائے۔ محمود خان اچکزئی نے اجلاس کو بتایا کہ دھاندلی کا ایک پہلو یہ بھا تھا کہ پشتون قیادت کو مکمل طور پر اسمبلیوں سے باہر کردیاگیا ہے۔ انہوں نے اپنے علاوہ اجلاس میں شریک عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، جے یوآئی  ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آپ خود بتائیں کیا پشتون قیادت کے ساتھ جان بوجھ کر یہ سازش نہیں ہوئی؟ محمود اچکزئی کی بات سب کے دلوں میں گھر کر گئی۔ اسفند یار ولی نے کراچی اور پشاور بند کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں جبکہ شہباز شریف  کو جو اپنی جماعت کے اہم رہنماؤں کے ساتھ اس اجلاس میں شریک تھے کو یہ مشورہ دیا کہ وہ لاہور اوراسلام آباد کو مفلوج کردیں۔ اسفند یار نے کہا اگر عمران خان قانون ہاتھ میں لے سکتا ہے تو پھر وہ بھی احتجاج کا آئینی حق رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان جومذاکرات، سیاسی حل اور متعدل رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں ،آج ہر انتہاء پر جانے کے لیے تیار نظر آئے۔ انہوں نے شہر بند کرنے سے لے کراسمبلیوں کے بائیکاٹ تک کی تجاویزسے اتفاق کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا کہ یہ انتخابات نہیں ہورہے ہیں کچھ اور ہورہا ہے لیکن اس حوالے سے بروقت فیصلہ نہ کرکے غلطی کی۔ اجلاس میں سب نے براہ راست فوج کودھاندلی کا ذمہ دار قراردیا۔ سراج الحق کی بات سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کو جن دو حلقوں میں شکست ہوئی وہاں آراوز نے انتہائی جانبدارانہ رویہ اختیار کیے رکھا اور گنتی بھی درست نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی دوبارہ گنتی کی درخواست بھی منظور نہیں کی جارہی ہے۔ پاکستان سرزمین پارٹی کے سربراہ اور سابق مئیر کراچی مصطفیٰ کمال نے اجلاس میں دل کا احوال کچھ اس طرح بتایا کہ ان کے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ انتخابات میں ان کی جماعت کا تحریک انصاف کے ساتھ الائنس بنایا جائے گا اور اس طرح انہیں کچھ نشستیں مل جائیں گے۔ سابق مئیر کے مطابق یہ وعدہ نبھایا نہیں گیا اورکراچی کا بڑا حصہ تحریک انصاف کو دے دیا گیا۔ انہوں نے کراچی سے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واڈا کے ایک ویڈیو بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں وہ انتخابات سے قبل یہ دعویٰ کررہے تھے کہ کراچی عمران خان کے حوالے کر دیا جائے گا۔

جس وقت سیاسی جماعتوں کا یہ اجلاس اسلام آباد میں ہورہا تھا ،اس وقت بلاول بھٹو کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کا اجلاس کراچی میں جاری تھا۔ پیپلز پارٹی نے اسلام آباد کے اجلاس میں اپنا کوئی نمائندہ تک نہیں بھیجا۔ جس سے صاف ظاہر تھا کہ پیپلزپارٹی کسی طرف سے بھی مذاکرات کے راستے بند نہیں کرنا چاہتی  اور ساتھ ہی مذہبی جماعتوں کے اتحاد اور مسلم لیگ نواز کی طرف سے بلائے گئے اس اجلاس پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کردیا۔ پارٹی اجلاس کے بعد بلاول بھٹو نے آصف علی زرداری اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں کے ہمراہ اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی انتخابی نتائج کو مسترد کرتی ہے۔ البتہ بلاول نے دیگر جماعتوں کو  یہ مشورہ  بھی دیا کہ وہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ نہ کریں اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے نظام میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں۔ مسلم لیگ نواز کے صدر شہبازشریف بھی پیپلز پارٹی کی اس حکمت عملی سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ احتجاج جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن  اسمبلیوں کے مکمل بائیکاٹ کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ بات وہ اپنے پارٹی رہنماؤں کو بھی سمجھانے میں مصروف ہیں کہ انتخابی عمل سے ہی سابق وزیراعظم نوازشریف کی بھی مشکلات کم کی جاسکتی ہیں۔ اس حوالے سے اپنے بڑے بھائی نوازشریف کے علاوہ وہ دیگر اہم شخصیات سے بھی رابطے میں ہیں۔ شہبازشریف براہ راست فوج پر کوئی الزام عائد نہیں کرتے لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آئینی ادارے بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ضرور ہیں۔ ان کو اس وقت سخت موقف اخیتار کرنے کے حوالےسے پارٹی کے اندر سے  بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

اجلاس کے شرکاء سے گفتگو

اجلاس سے پہلے مولانا فضل الرحمان سے پوچھا کہ آپ کو شکست ہوئی لیکن پھر بھی آپ اس شکست کو تسلیم نہیں کرتے تو مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا شکست ہمیں نہیں فتح کا دعویٰ کرنےوالوں کو ہوئی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام نے انہیں ووٹ دیا لیکن وہ گنا ہی نہیں گیا۔ دھاندلی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے علاوہ وہ براہ راست فوج کا بھی نام لیتے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ آفتاب احمد شیرپاو سے جب پوچھا کہ ان انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹ گئے تو انہوں نے کہا ان میں سے ایک وہ خود بھی ہیں۔ شیرپاو کا نکتہ نظرمولانا سے قدرے مختلف ہے۔ انہوں نے موقف اخیتار کیا کہ ایک جماعت کے حق میں ہوا تیار کی گئی جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو ووٹ زیادہ ملے۔ جب ان سے سوال کیا کہ آپ ان میں سے بھی ایک ہیں جنہوں نے 2002 کے انتخابات کے بعد کنگ پارٹی کا حصہ بن کروزارت داخلہ کے منصب سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے تو پھراگر 2018 کے انتخابات میں یہی موقع عمران خان کو ملا ہے تو شکوہ کیسا؟ اس پرشیرپاو نے کہا کہ آج کے اجلاس میں تمام صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے۔ بلوچ رہنما حاصل بزنجو اورقوم پرست پشتون رہنما محمود خان اچکزئی کا موقف زیادہ سخت تھا اور ان کے لہجے میں تلخی خیبر پختونخواہ کے پشتون قوم پرست اسفند یار ولی سے بھی زیادہ تھی۔ اپنے مخصوص انداز میں ان رہنماؤں نے براہ راست فوج کوہی انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آر او کے آفس چلے جائیں تو سب معلوم ہوجائے گا کہ ان کو شکست کیوں دی گئی اور کیسے دلائی گئی؟ شہبازشریف گفتگو میں شریک نہیں ہوئے توسابق اسپیکرایازصادق نے کہا کہ ان کی ہرانے کہ بھرپور کوشش کی گئی لیکن ان کے ووٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ لاہور سے تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان سے جیتنے والے سردارایاز صادق کے مطابق وہ اب بھی اسپیکر ہیں اور قومی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کرسکتےہیں۔ ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے میں سگریٹ تھامے ایاز صادق اجلاس سے کچھ دیر کے لیے باہرنکل کر آئے تو ان کے چہرے پراضطرابی کیفیت واضح تھی۔ ان سے کچھ گفتگوہوئی تو انہوں نے صاف بتایا کہ ان کے حلقے میں ہونے والی پراسرارگنتی پر ان کو تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق ان کے حلقے میں ریٹرنگ آفیسر کو کرپشن کی وجہ سے 2012 میں نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور اب ان کا ایسے افسر پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ  ان کے نتائج بدلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے پاس ثبوت ویڈیوز اور فوٹوز کی شکل میں موجود ہیں جن میں ایسے افراد کے چہرے دیکھے جاسکتے ہیں جو ووٹوں کی بوریوں میں کچھ ڈال رہے ہیں اور یہ واضح stuffing کی جارہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وجہ ہے کہ گنتی کے لیے کئی دن لیے جارہے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...