آگرہ ملاقات ایڈوانی نے طے کروائی تھی ۔

جاوید نقوی

189

 

دائیں بازو کے ہندو قوم پرست رہنما لال کشن ایڈوانی نے آگرہ میں پاک بھارت سربراہان  مشرف واجپائی  ملاقات کا انتظام کیا جس کے متعلق یہ شہرت ہے کہ انہوں نے اسے خفیہ طور پر ناکامی سے دوچار کیا تھا۔ یہ انکشاف بھارت کے معروف صحافی کرن تھاپر نے اپنی حالیہ کتاب میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بھارت میں اس وقت کے پاکستان کے ہائی کمشنر اشرف جہانگیر قاضی میرے قریبی دوست تھے، ان کی خواہش تھی  کہ دونوں کے ممالک کے تعلقات معمول پر آئیں ۔

کرن تھاپر کا یہ بیان حال ہی میں ان کی تحریرشدہ کتاب ” ڈیولز ایڈوکیٹ دا ان ٹولڈ سٹوری ” میں درج ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی جو کہ واجپائی کی نیشنل  ڈیموکریٹک الائنس حکومت کے ساتھ اپنےتعلقات بڑھانا چاہتے تھے، کرن تھاپر سے ملے اور اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی ۔انہوں نے انہیں وزیر دفاع جارج فرینیڈینس سے ملوایا ۔قاضی صاحب کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ وزیر دفاع اس معاملے میں زیادہ معاون نہیں ہوسکتے ۔اس وقت ایڈوانی سے بات چیت کا خیال ذہن میں آیا  جوان دنوں وزیر اعظم واجپائی کی کابینہ میں  طاقتور وزیر داخلہ تھے ۔سن 2000 کے شروع میں ایک روز قاضی صاحب نے اعلان کیا کہ ”میں مسڑ ایڈوانی سے ملنا چاہتا ہوں ”۔ جارج فریننڈینس جو کہ آگاہ تھے کہ یہ ملاقات بہت اہم ہے نے اس ملاقات کا اہتمام کیا ۔ کرن تھاپر لکھتے ہیں کہ انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ قاضی صاحب  کو پنڈارا پارک میں ایڈوانی کی رہائشگاہ تک رہنمائی کریں ۔رات دس بجے اس ملاقات کا وقت مقرر ہوا جبکہ اس کی خبر کسی اور کو نہیں دی گئی ۔ اگلے قریب ڈیڑھ سال تک  ایسی 20 یا 30 خفیہ ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ ملاقاتیں زیادہ تر رات ہی کے وقت ہوا کرتی تھیں ۔ میں خود گاڑی چلا کر جایا کرتا تھا جبکہ ایڈوانی صاحب کی رہائشگاہ کے باہر تعینات سنتریوں کو محض میرا نام ہی معلوم تھا ۔

یہ سب کچھ بالی ووڈ کی ایک گھٹیا فلم کہانی کا سا تھا ۔  مئی 2001  کے  آخری دن تھے جب بھارت نے اعلان کیا کہ اس نے جنرل مشرف کو آگرہ میں سربراہی  کانفرنس میں شرکت کی  دعوت دی ہے ۔ اعلان سے اگلے ہی روز صبح چھ بجے ایڈوانی کا فون آیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتنی سویرے فون کی معافی چاہتے ہیں لیکن وہ بتانا چاہتے ہیں  کہ میں ہمارے مشترکہ دوست تک یہ اطلاع پہنچاؤں کہ اس اہم پیش رفت کا سہرہ ان کے سر بھی ہے ۔ ہماری ملاقاتوں کے ہی سبب ایسا ممکن ہوا ہے ۔تھاپر کی کتاب میں یہ پہلا سنجید ہ دعویٰ ہے  کہ ایڈوانی  نے اس ملاقات کی نہ صرف  حمایت کی تھی بلکہ وہ اس آگرہ سربراہی کانفرنس کے اہم منتظم  تھے ۔  حقیقت یہی ہے کہ یہ ملاقات ناکام رہی تاہم اس کا کتاب میں زیادہ ذکر نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو خدشہ تھا کہ اگر اس قدر جلدی میں پاک بھارت تعلقات میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اترپردیش میں ہونے والے انتخابات پر کچھ منفی  اثرانداز  ہوسکتے ہیں  ۔آخرکار بی جے پی یہ انتخاب ہار گئی تو اس کے ناراض کارکن جو کہ اترپردیش میں اکٹھے ہوئے تھے  کو ایودھیا سے لوٹنے والے شکست خوردہ رضاکاروں کی ریل کے حادثے میں ملوث کیا گیا ۔  نتیجے کے طور پر فسادات بھڑک اٹھے اور یوں گجرات میں اترپردیش جیسے انتخابی نتائج سے بی جے پی کو بچا لیا گیا ۔

کتاب میں واپس پلٹئے کہ جہاں ایڈوانی  اور قاضی کی مشرف کے  دورے کے دوران آخری ملاقات ہوئی۔  یہ راشٹرپتی بھون کے ملاقاتی ہال کی 11 بجے ہوئی  بندش کے بعد ممکن ہوئی ۔اشرف قاضی نے جلدی سے اپنی اچکن بدلی اور سادہ لباس پہنے آ گئے تاکہ کوئی انہیں پہچان نہ سکے ۔  ایڈوانی ابھی تک اپنے   گرے سوٹ میں ہی تھے ۔آگرہ ملاقات صبح ہی تھی اور ہوا میں امید کی مہک تھی ۔  اگرچہ یہ ملاقات ناکام رہی تاہم ایڈوانی اور قاضی کا تعلق باقی رہا ۔ یہ دسمبر 2002 میں پارلیمنٹ حملے اور بعد ازاں  کالو چاک  دہشتگرد حملے تک باقی رہا مگر اس کے بعد قاضی کو بھارت چھوڑنے کا حکم مل گیا ۔ انہیں بھارت چھوڑنے کے لئے 7 روز دیئے گئے تھے ۔ ان کے جانے سے ایک روز پہلے مجھے مسز ایڈوانی کا فون موصول ہوا ۔ وہ پوچھ رہی تھیں کہ کیا میں اشرف جہانگیر قاضی او ر ان کی بیگم عابدہ کو ان کے ہاں چائے پر لا سکتا ہوں۔  ایڈوانیوں نے چاہا کہ وہ قاضیوں سے ایک بار مل لیں ۔ میرے لئے یہ ایک  خوشگوار لمحہ تھا کیونکہ ایک ایسی حکومت کا ڈپٹی وزیر اعظم اس سفارتکار کو چائے پر اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رہا تھا جسے وہ ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر اپنے ملک سے نکل جانے کا حکم دے چکا ہو۔

ترجمہ: شوذب عسکری، بشکریہ: ڈیلی ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...