عدم برداشت

224

آج ہمارے معاشرے کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک بڑا مسئلہ عدم برداشت ہے۔ ہم کسی بھی عنوان سے دوسرے فریق کو رائے کی آزادی دینے کے قائل نہیں۔ چاہے وہ مذہبی نظریہ ہو، سیاسی نقطہ نظر ہو ہو یا سماجی خیالات ہوں ۔ پچھلی دو دہائیوں میں یہ مسئلہ سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے۔ ہم اپنے نظریاتی مخالف کو کبھی کافر، کبھی غدار اور کبھی جاہل کے لقب سے نوازتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم دوسری بات سننے کو بھی تیار نہیں۔ حالانکہ یہ فکری اختلاف ہی ہوتا ہے جو معاشرے میں ایک صحت مند مکالمے کی بنیاد بنتا ہے اور فکر کے نئے دریچے وا کرتا ہے۔ عدم برداشت کے نتیجے میں معاشرہ نہ صرف فکری اور سماجی جمود کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات معاشرہ تنزلی کی طرف چل پڑتا ہے۔ ترقی یافتہ سماج ہمیشہ مکالمے کو بہت حد تک اہمیت دیتے رہے ہیں۔

تجزیات اس حوالے سے قارئین کی رائے جاننا چاہتا ہے کہ اس عدم برداشت کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟ اور معاشرے میں برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے عوام اور خواص کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ آپ اپنی رائے آن لائن دے سکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...