کمپنی معزول بادشاہ اور پیادہ

10,806

یہ اس ریاست کی کہانی ہے جہاں کوئی دوسرا نہیں صرف کمپنی طاقتور ہے۔ اس کے سامنے کوئی ٹھہرسکا نہ ٹھہر پایا۔ ریاست میں کمپنی مال و دولت سے ہی نہیں بلکہ اپنے اثرورسوخ اور طاقت سے بھی جانی جاتی ہے ۔ اس کے بہت سے منصوبے ہیں اور اگر کوئی اس کے کسی منصوبے کی راہ میں حائل ہو تو اسکی خیر نہیں۔ کمپنی نے ہر صورت اپنا کام کرنا ہے ، مقصد صرف کمپنی کا مفاد ہے اور مفاد ہر صورت حاصل کیا جائے گا ، ایسے تیسے یا جیسے۔ قانون ،قاعدہ سب ردی۔

کمپنی کوئی رکاوٹ پسند نہیں کرتی ۔ اول تو رکاوٹ ڈالنے والوں کو سمجھا دیا جاتا ہے۔ جو سمجھ جائے تو ٹھیک۔ لیکن اگر رکاوٹ ڈالنے والا من مانی کی سوچ لے تو اس پر مذہبی ہتھیار سے وار کیا جاتا ہے ورنہ ، غداری اور کرپشن کا فیصلہ ہاتھ میں تھما کر ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے نتیجتا رکاوٹ ڈالنے والا پاوں میں گر جاتا ہے۔ اگر بات تب بھی نہ بنے تو ایسے شخص کو راستے سے ہی ہٹا دیا جاتاہے۔

تمام تر طاقت کے باوجود آجکل کمپنی مشکل کا شکار ہے کیونکہ کمپنی کے ایک پرانے پیادے نے اعلان بغاوت کردیا ہے ۔ کسی زمانے میں پیادہ سیاست کے نشےاور اقتدار کی خواہش میں کمپنی کے پاس آیا تھا۔ کمپنی نے اسے پالا پوسا، اسے انعام و اکرام اور اعلیِ۱عہدوں سے نوازا۔ مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پیادہ پیادہ نہ رہا بادشاہ بن گیا اورخود کمپنی کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے لگا۔ یہ بات کمپنی ڈائریکٹرز کو پسند نہیں۔

دراصل کمپنی اپنے ڈائریکٹرز کی مدد سے چل رہی ہے ۔ ڈائریکٹرز فیصلہ ساز ہیں۔ مگر سالہاسال سے کئی ڈائریکٹرز آئے اور کئی گئے ۔ مگر پیادہ وہیں رہا اورترقی کرتا کرتا بادشاہ بن گیا ۔ وقت کے ساتھ وہ کمپنی کے اندر کی خرابیوں سےآشنا بھی ہوگیا اور اتنا تجربہ کار ہوگیا کہ کمپنی کے ڈائریکٹرز کے کنٹرول سے باہرچلا گیا ۔ بادشاہ خود کو طاقتور سمجھنے لگا اور اس کے دماغ میں یہ بھوت سوار ہو گیا کہ دراصل وہ ہی کمپنی کو چلا سکتاہے کیونکہ بحثییت بادشاہ یہ اسکا ہی حق ہے۔ سوچ شائد اتنی بری بھی نہیں تھی مگر اسکی تیاری کے بغیر اس کا اخفا اسکو تباہی کے راستے پر لے گیا، جسے وہ اپنے بااعتماد افراد کی قربانی کے باوجود بھی روک نہ سکا۔

جب کمپنی اور بادشاہ کے اختلافات کا آغاز ہوا تو ایسا نہیں تھا کہ میدانبالکل خالی ہے۔ کمپنی ایک وقت میں کئی پیادے میدان میں رکھتی ہے ۔ کچھ کردار پیادے نہیں ہوتے مگر وہ پیادہ بننے کے لیے ہردم تیار پھرتے ہیں کیونکہ انہیں بھی اقتدار چاہیے اور وہ جانتے ہیں کہ صرف کمپنی بہادر کا راج ہو تو اقتدار پلیٹ میں رکھ کر مل سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک اور پیادہ بھی میدان میں تھا ، کمپنی نے بادشاہ کو نیچا دیکھانے کے لیے نئے پیادے کا ہاتھ تھام لیا۔

نیا غیر تجربہ کار پیادہ بظاہر تو کمپنی کے اشاروں پر کام کرتا مگر کمپنی اس پر بھی مکمل اعتماد کے لیے تیار نہیں ۔ وجہ یہ کہ نیا پیادہ کمپنی سے صرف اقتدار ہی نہیں بلکہ اس کا استعمال بھی مکمل آزادی کے ساتھ چاہتا ہے۔

ادھر بادشاہ کوبھی سارے گر آتے تھے کیونکہ وہ بھی کسی زمانے میں خود پیادہ تھا۔ وہ اکیلے میں کمپنی کی حرکتوں پر ہنستا۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اب وہ کمپنی کا لاڈلا نہیں لاڈلا کوئی اور ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بادشاہ اقتدار کے ایوانوں میں کمپنی کے بچھائے جال میں پھنس گیا۔ دراصل وہ چاپلوس درباریوں کی دی ہوئی خود اعتمادی میں سارے کھیل کو سمجھ نہ پایا۔ وہ اندازہ نہ لگا سکا کہ اس کے ایوان کے اندر بیٹھے افراد ہی اس کے اقتدار سےنکلنے کے منتظر تھے۔

کمپنی نے بادشاہ کو کڑی سزا دی۔ اسے معزول کیا اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ وہاں پر بھی ظلم یہ کہ نہ صرف وہ بلکہ اسکے مستقبل کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا۔ ماضی میں جب بادشاہ محض ایک طاقتور پیادہ تھا تو چھوٹی موٹی غلطی پر اسے کھٹی میٹھی سزا دی جاتی رہی ۔ عہدہ وآپس لے کر دھوپ میں کھڑا کردیا جاتا رہا۔ مگر وہ ہر بار کوئی نیا گر آزما کر کمپنی کے ڈائریکٹرز کو بےبس کردیتا اور وآپس آدھمکتا۔

مگر اس بار اس کے نام پر کراس لگا دیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس کے بچوں کو بھی کمپنی کے احاطے میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اس بار پیادےسے بنے بادشاہ کی سرعام توہین کی گئی ۔ اس کے سر سے پگڑی بھی اتارلی گئی جس پرمعزول بادشاہ نے بھی کھل کر کمپنی کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔ معزول بادشاہ نے کہا ہے کہ اب وہ کمپنی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ یہ ایک پریشان کن صورتحال ہے کیونکہ کمپنی بھی اسے خطے میں مقبول ہے جس خطے سے معزول بادشاہ کا تعلق ہے۔ مگر کیا کیجے لڑآئی کے سوا چارہ نہیں۔

کمپنی نے بادشاہ کو معزول کرنے سے قبل اس کے اقتدار کے دنوں میں ہی ایک دوسرے پیادے سے پیار کی پینگیں بڑھا لی تھیں تاکہ نئے پیادے کے ساتھ مل کر بادشاہ کو تگنی کا ناچ نچایا جاسکے۔ ہوا بھی یہی۔ کمپنی اور نِئے پیادے نے پہلے سازش کی اور پھر بادشاہ کو معزول۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ کمپنی کو نئے پیادے پر بھی مکمل اعتماد نہیں ۔ عدم اعتماد اس لیے کہ نیا پیادہ ابھی نوازا نہیں گیا مگر نجی محفلوں میں وہ بھی کمپنی کو آنکھیں دکھاتااور سمجھتا ہے کہ اسے اقتدار کی ضرورت ہے مگروہ کمپنی کی مشہوری کے علاوہ بھی عوام میں مقبول ہے ۔ کمپنی کو یہ بات بالکل پسند نہیں ۔ پیادے کو ابھی اقتدار ملا نہیں مگر نخرے عروج پر۔

کمپنی کے پاس وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔ لوگوں کو آہستہ آہستہ کمپنی کے داو پیچ سمجھ آنا شروع ہوگئے ہیں۔ نئے پیادے نے کمپنی کے ساتھ مل کر جو کھیل کھیلا تھا۔ وہ بے نقاب ہورہا ہے ۔ لوگوں میں غصہ پیدا ہورہا ہے ۔ کہتے ہیں کہ لوگ غصہ نکالتے ہیں مگر شور نہیں مچاتے ۔ شائد غصہ نکالنے کا وقت قریب آتا جارہاہے۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد معزول بادشاہ سے محبت میں گرفتار ہوگئی ہے اور معزول بادشاہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کربھی مقبولیت کے زینے چڑھ رہا ہے ۔ یہ کھیل تو آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہے گا۔ مگر کمپنی کو اس سارے کھیل میں ایک نِئے بحران کا سامنا ہے ۔ جواندر ہی اندر سے کمپنی کو کھائے جارہا ہے ۔ بحران یہ ہےکہ کمپنی خود تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔ کچھ ڈائریکٹرز نئے پیادے کے حامی تو کچھ خاموشی کے۔ نئے پیادے سے محبت کرنے والوں میں سے بعض کی محبت بھی ماند پڑرہی ہے کیونکہ جب ڈائریکٹرز سوچتے ہیں کہ پیادہ اقتدار میں آکر طاقتور بادشاہ بن جائے گا تو انہیں خوف آتا ہے کیونکہ بادشاہ ہمیشہ کمپنی کے مفاد کو چیلنج کرتا ہے ۔ اسے پتہ چل جاتا ہے کہ کمپنی آخر کرکیا رہی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کمپنی پیادے کو پیادہ دیکھنا چاہتی ہے طاقتور بادشاہ نہیں۔ لیکن اب اگر پیادے کو بھی ٹھینگا دکھا دیا گیا تو معزول بادشاہ کے ساتھ پیادہ بھی کمپنی کا مخالف ہو جائے گا۔ یہ بات بھی قابل قبول نہیں۔

اب کمپنی کے اندر کچھ کردار ایسےبھی سامنے آِئے ہیں جو معزول بادشاہ کو بھی پسند کرنے لگے ہیں۔ اس وقت عملی طور پر معزول بادشاہ جیل میں بیٹھ کر کمپنی سے آزاد ہوگیا ہے اورآزاد فضآوں میں گھومتا پیادہ کمپنی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے کہ اتنی خدمات کے باوجود کمپنی اسے بھی دھوکا دےدیدی گی۔ ماضی میں ایسی مثالیں موجودہیں۔

سچ یہ ہے کہ صرف معزول بادشاہ اور پیادہ ہی نہیں بلکہ اس بار کمپنی بھی پھنس چکی ہے ۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ کمپنی معزول بادشاہ اور اس کے مستقبل کو تہس نہس کرنا چاہتی تھی مگر رائے عامہ الٹا کمپنی کے خلاف ہورہی ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ سوچ رہے ہیں کہ ریاست میں ہر بار کمپنی کا ہی حکم چلے گا یہ کبھی ان کا دور بھی آئے گا۔ ایسا کیوں کہ کمپنی ہی پیادے بنائے ، بادشاہ بنائے اور پھر ان کو ختم کردے۔ معزول بادشاہ بھی سلاخوں کے پیچھے یہی سوچتا ہے اور اسی لیے وہ دوبارہ کمپنی سے معاہدے کے لیے تیار نہیں۔

پیادہ کمپنی پر شک کرتا ہے اور کمپنی پیادے پر۔ جو آنکھ جھپکے گا مارا جائے گا۔ کمپنی کے اندر بھی تقسیم ہے لگتا ہے حالات سدھارنے کے لیے چناو کے بعد کمپنی کو اپنے کچھ کرداروں کی قربانی دینا ہوگی، ان کا گلا کاٹ کر۔ تاکہ کمپنی دوبارہ نئی بساط بچھا سکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...